ناقص ویکسین سے بچوں کی اموات ملزمہ لیڈی ہیلتھ ورکر

واٹرکمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر)امیرہانی مسلم نے کہاہے کہ” محکمہ صحت سندھ کوتباہ کردیا گیاہے بدقسمتی ہے جس افسر کوکمیشن کوئی کام سونپتا ہے دوسرے دن اس کا تبادلہ کردیا جاتاہے کیا کمیشن سے کھیل کھیلا جارہا ہے“ جی ہاں جناب جسٹس صاحب سندھ میں گزشتہ تیس سال سے پہلے محکمہ صحت میں پاکستان پیپلزپارٹی اورایم کیوایم عوام سے صحت چھیننے کا کھیل کھیلتے رہے ہیں اوراب یہ سپریم کورٹ آف پاکستان سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں سے کھیل کھیلنے کے بعدواٹرکمیشن سے اس لئے کھیل رہے ہیں کہ یہاں کے خود ساختہ حکمران صوبے کے عام آدمی کوپینے کے صاف پانی کی فراہمی میں مخلص نہیں ہیں ورنہ گزشتہ حکومت میں صوبے میں اربوں روپے کے آراوپلانٹس کی تنصیب کا میگااسکینڈل رونما نہیں ہوتا جی ہاں عالمی ادارہ صحت اورقومی ماہرین طب کی یہی متفقہ رائے ہے کہ 70فیصد بیماریوں کی بنیادی وجہ آلودہ پانی ہے خود عدالت عظمیٰ نے اس کا عملی مشاہدہ کرنے کے بعداس انسانیت سوز عمل کوروکنے اوراسے درست کرنے کے کام کاآغاز کیاہے تویہ اقدام اس مافیا سے ہضم نہیں ہورہاہے اورپھرسندھ کے سیکریٹری صحت ڈاکٹرفضل اﷲ پیچوہوجوسندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق سندھ ایڈز کنٹرول پروجیکٹ کے تقریباً چالیس عارضی ملازمین کوسالوں گزرنے کے باوجود مستقل نہیں کرکسے اورباربار عدالت عظمیٰ سے وقت لینے کے باوجود تاحال محکمہ صحت سندھ کے ڈاکٹروں کی ترقیوں کے عمل کوشفاف طریقے سے مکمل نہیں کرسکے ہیں وہ واٹرکمیشن کوکس منہ اورکارکردگی کی بنیاد پر یہ یقین دلارہے ہیں کہ اپنے آبائی ضلع لاڑکانہ میں اسپتال کی وہتین ماہ میں گندگی ختم کرواکر6مہینے میں صحت کے اداروں میں صاف پانی فراہم کردیں گے موجودہ سیکریٹری صحت سے کوئی یہ معلوم کرے کہ انہوں نے سیکریٹری تعلیم کی حیثیت سے محکمہ میںکروڑوں روپے بائیو میٹرک سسٹم پرخرچ کئے اس کے نتیجے میں کتنے گھوسٹ ملازمین دریافت ہوئے اورکیا محکمہ تعلیم میں مذکورہ سسٹم کی وجہ سے اوقات کار کی پابندی کا کلچر رائج ہوگیا؟ اس کا جواب نفی میں ہے پھرانہوں نے سیکریٹری صحت کی حیثیت سے محکمہ صحت میں اپنی مذکورہ واردات کودہرایا کیا بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے دریافت ہونے والے گھوسٹ ملازمین کے خلاف انہوں نے کوئی کارروائی کی یا محکمہ صحت کے ملازمین کی حاضری کے نظام میں کوئی بہتری نظرآئی بلکہ سسٹم ناقص ہونے کی وجہ سے سندھ کے بیشتر علاقوں میں غیرفعال ہے۔ یہ بات کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ سیکریٹری صحت ڈاکٹرفضل اﷲ پیچوہو کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر عذرا پیچوہو سندھ میں انسداد پولیو مہم کی سیاہ سفید کی مالک ہیں لیکن پولیو فری سندھ کے آثار ولی دوراست کے مانند ہے حدتویہ ہے کہ گزشتہ دنوں نوابشاہ میں انسداد خسرہ کے ٹیکوں سے تین بچے جان کی بازی ہارگئے خبر آتے ہی تحقیق کے بغیر خسرہ ٹیکہ لگانے والی لیڈی ہیلتھ ورکرکی گرفتاری کے لئے پولیس کومتحرک کردیاگیا لیڈی ہیلتھ ورکرنہ ملی تو بغیر کسی جرم کے خلاف قانون پولیس نے لیڈی ہیلتھ ورکرکی بہن کوحراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا لیکن خسرے سے مرنے والے بچوں کا شور مچانے والے میڈیا کوبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ یہ تو معلوم کرے کہ مذکورہ ویکسین کی فراہمی اورترسیل کی ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے یقینا اس کی براہ راست ذمہ دارڈاکٹرعذرا پیچوہوہیں صوبے کی کولڈ چین اورکولڈ چین کی ائیرکنڈیشنڈ گاڑیاں براہ راست ان کی نگرانی اوراختیارمیں ہیں اب تک کسی نے ڈاکٹر عذرا پیچوہو سے یہ پوچھاکہ یہ ناقص ویکسین آپ تک کیسے پہنچی اورآپ نے یہ ویکسین جانچے بغیر اس لیڈی ہیلتھ ورکرکواستعمال کرنے کے لئے کیوں دے دی؟ یہ ہمارا قومی بالخصوص شعبہ صحت کا المیہ ہے کہ طبی غفلت کے ہرواقعہ کونیم طبی عملے کوقربانی کا بکرا بناکر اپنے آپ کو بچالیا جاتاہے سندھ میں اپوزیشن ہوتی تومذکورہ واقعہ کے بعد ڈاکٹرعذرا پیچوہودومنٹ بھی انسداد پولیو حفاظتی ٹیکہ جات مہم کی کلیدی پرنہیں کہیں اور ہی ہوتیں یہ صوبے کی بدقسمتی ہے کہ سندھ اسمبلی کئی عشروں سے نمائشی اپوزیشن سے چلائی جارہی ہے۔

Electrolux