احمد خان نیازی

شاعر مشرق نے فطرت کے مقاصد کی نگہبانی ’’ بندہ ِ صحرائی ‘‘ اور ’’ مردِ کہستانی‘کے نام کر دی ہے۔ مُرشدِ اقبالؒ کے اس فلسفے کی صداقت کی شہادتیں افغانستان کے بلندو بالا کہساروں سے لے کر میانوالی کے چٹیل اور معدنیات سے بھرے ہوئے پہاڑوں اور یہاں کے تھل کے ریگزاروں میں قدم قدم پر موجود ہیں ۔ جرات وجسارت سے لبریز ان شہادتوں کے امانتداربجا طور پر اپنے اسلاف کی خدمات اور کارناموں پر فخر کرتے ہیں ۔ نیازی قبائل کی موجودہ نسل اپنے بزرگوں کے کارناموں سے انسپائریشن حاصل کرتی ہے۔ گذشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں لوک موسیقی کے شہنشاہ لیجنڈ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی شہنشاہ ہند شہر شاہ سوری کے جرنیلوں اپنے جدِ امجد عیسیٰ خان اور خانزمان خان کا ذکر کرتے سُنے گئے ۔ سندھ کنارے آباد ’’ جہانِ غیرت ‘‘ کی فصیل پر شکستہ قلعہ کافرکوٹ کے آثار، کنڈل جیسا آریاؤں کا قدیم مسکن، بابر بادشاہ کی گذر گاہ عیسیٰ خیل جسے تزک ِ بابری کا ایک دلچسپ باب تاریخ میں اس کی زندگی کو تابندگی عطاء کر رہا ہے۔اس خطے میں قدم قدم پر تاریخ کے جھروکے ہیں جن سے اس مٹی کے فرزندوں کو ہمیشہ صبا کے جھونکوں کا بہار آفرین پیغام ملا ہے ۔

اس جہانِ افتخار کو ہمیشہ آباد رکھنے والوں میں ایک نام ڈاکٹر نورمحمد خان نیازی مرحوم کا بھی ہے۔ نیازیوں کے خنکی خیل قبیلے کے اس ’’شہابِ ثاقب ‘‘ نے خیر اور بھلائی کی ایسی روایات چھوڑی ہیں، جن سے انسانیت کی بھلائی کی آشنائی کا سفر رواں ندیوں کے ترنم اور خرام ہواؤں کا رفیق ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ نادار اور غریب لوگوں میں مسیحائی بانٹنے کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی معاملات کو بھی وہ اس انداز سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتے تھے جیسے یہ اُن کے اپنے گھر اور خاندان کے مسائل ہوں ۔ جتنا عرصہ زندہ رہے چاہتوں کا آستاں اور برکتوں کی کہکشاں بنے رہے ۔اِس دنیا سے رُخصت ہوئے تو پورے ضلع کے لوگ اِس بلند آہنگ شخص کو رُخصت کرنے کے لیے اُمڈ آئے تھے ۔

جو لوگ میانوالی کے اس مسیحا سے واقف نہیں لیکن جب بھی وہ ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ ملتے ہیں تو بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ
’’ ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں ‘‘

سعید اختر خان نیازی مرحوم ( سابقہ ممبر پاور واپڈا ) کی یادیں میرے دل پر نقش رہتی ہیں ۔ اس شخص کے دل میںموجود ظاہری چمک دمک اور شان وشوکت سے جو بیزاری اور بے نیازی میں نے دیکھی اور محسوس کی وہ ہمیشہ رسمی اظہار سے ماورا محسوس ہوئی ۔ عمران خان اپنی پارٹی تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے اور میانوالی سے سیاست کا آغاز کرنے کے بعد جب بھی میانوالی آتے تو ان کا قیام اپنے پھوپھی زاد سعید اختر خان کے ہاں ہوا کرتا تھا۔ دوردراز اور دشوارگذار حلقے کے دورے کے بعد جب کپتان سعید اختر خان خنکی خیل کے ہاں لوٹتے تھے تو رات گئے تک محفل آباد رہتی اور اس محفل کا حُسن سلیم فطرت شخصیت کے مالک سعید ا ختر خان کی خاموشی ہوا کرتی تھی ۔

عمران خان کی سیاست میں مصروفیات بڑھتی چلی گئیں اور وہ ملک کے مقبول لیڈر ہوئے تو ان کی سیکورٹی کی کٹھن ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے عمران خان کے پھوپھا ڈاکٹر نور محمد خان کے پوتے احمد خان نیازی آگے بڑھے ۔ کپتان گھر سے نکلتا ہے جلسے جُلوسوں میںلاکھوں لوگوں کے درمیان قسمت اور تقدیر کے رحم و کرم پر ہوتا ہے تو احمد خان نیازی سائے کی طرح اُن سے چِپکے ہوئے ہوتے ہیں ان لمحات میں ناجانے احمد خان نیازی میں کہاں سے چیتے جیسی تیزی اور بلا کی لپک آجاتی ہے، کپتان کی طرح احمد خان نیازی کو بھی اس بات پر کامل یقین ہے کہ زندگی اور موت کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اور اسی طرح عزت اور ذلت پر قادر بھی وہی ذات ہے ۔ احمد خان نیازی اپنے یہ فرائض ایک رشتہ دار کی حیثیت سے نہیں ایک عاشق کی طرح انجام دے رہا ہے۔ اپنے ساتھ اُس نے کپتان پر جان چھڑکنے والے رعنا اور ایثار پیشہ نوجوانوں کا ایک ایسا گروپ تیار کر لیا ہے۔ جو پروانے کی سی دیوانگی کے عالم میں اپنے محبوب کے گرد نظر آتے ہیں ۔ ایک روز قبل فیصل آباد میں عمران خان کی طرف جوتا اُچھالنے والے ایک شخص کو بروقت بھانپ کر احمد خان نیازی نے آسمانی بجلی کی سی کڑک اور گرج کے ساتھ اُسے قابو کر لیا ۔

اس واقعہ یا اُس کی پیشہ ورانہ خدمات کو ایک طرف رکھتے ہوئے عمران خان کے بھتیجوںاحمد خان نیازی اور ان کے کزن امیر حمزہ خان سے ملا جائے تو ان دونوں کی کلاسیکل شخصیت اپنے دادا کی خدمات کے حُسن میں ملفوف نظر آتی ہیں ۔ سیاسی مصروفیات کے باعث عمران خان نمل نالج سٹی کے عظیم الشان منصوبے کے لیے مناسب وقت نہیں نکال پا رہے تو ان کی عدم موجودگی میں محترمہ علیمہ خانم کے ساتھ ان کے خاندان کے یہ سعادت مند بچے سرگرم عمل ہیں ۔ ان لوگوں نے ڈاکٹر نور محمد خان مرحوم کے ساتھ ساتھ اپنے ماموں اکرام اللہ خان نیازی مرحوم کی جانب سے اپنی والدہ شاکرہ عظیم کے نام پر جاری کیے جانے والے سکالر شپ کے معاملات کو نمل شہر علم کی صورت میں زندہ رکھنے کی کاوشوں میں اپنا وافر حصہ ڈالا ہوا ہے ۔

فیصل آباد کے متذکرہ واقعہ کے بعد عمران خان سے محبت کرنے والے احمد خان نیازی کے لیے تہنیتی جذبات کے اظہار میں مصروف ہیں ۔ بلا شُبہ ان کا تازہ عمل ان کے لیے محبتوں کے خزینے سمیٹ رہا ہے ۔ اوریہی اس کالم کے لیے مہمیز کا درجہ رکھتا ہے۔

بر صغیر کے نامور شاعر اور ادیب ڈاکٹر جگن ناتھا آزاد نے اپنے آبائی علاقے میانوالی کے حوالے سے کئی مرتبہ کہا تھا کہ ’’ دریائے سندھ کے کنارے کی رومانوی فضا کی یاد ہمیشہ ایک تخلیقی محرک کے طور پر اس کے فرزندوں میں موجود رہتی ہے۔

یہی افتخار ڈاکٹر نورمحمد خان مرحوم کے گھرانے کے ہر فرد کا ہے ۔محمد محمود احمد نے اس کیفیت کو کچھ انداز میں سمویا ہے کہ

پھر ایک بار مصر کا بازار گرم ہے
تُلنے لگا ہے پھر کوئی لعل و گُہر کے ساتھ
نکلے گا ایک چاند ابھی اس مکان سے
بیٹھے ہیں انتظار میں دیوارو در کے ساتھ
دُکھ درد نے بنائے میرے دل میں گھونسلے
چڑیو ں کا پیار ہوتا ہے جیسے شجر کے ساتھ

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔