وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 11 مارچ 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

گزشتہ دنوں معرو ف شاعر ہ و ادیبہ شگفتہ شفیق نے ایک نئی بز م، بز مِ شگفتہ شفیق کی بنیا د ر کھی جس کے تحت شگفتہ شفیق صا حبہ نے اپنے ہا ں گلستا نِ جوہر ، کراچی میں ایک عمدہ شعر ی نشست کا ا ہتما م کیا ۔ جس میں چنیدہ ادبی شخصیا ت اور شعرا نے شر کت کی، معرو ف شاعر و اد یب جنا ب فیروز ناطق خسرو نے صدارت کی جنا ب ا کر م کنجا ہی کو مہما نِ ا عزازی بنا یا گیا۔ اکا د می ا د بیا ت سند ھ کے ر یجنل ڈا ئر یکٹر جنا ب قادر بخش سو مرو مہما نِ اعزازی تھے ۔ تقریب کی نظا مت کا فر یضہ قادرالکلا م شاعر جنا ب ا لحا ج نجمی نے سر ا نجا م دیا ۔ اس شعر ی نشست میں سا معین نے شعرا کو تو جہ سے جی بھر کے سنا ۔ جناب فیروز ناطق خسرو ، جنا ب ا کر م کنجا ہی ، جنا ب قادر بخش سو مرو ، محتر مہ صبیحہ صبا ، جنا ب صغیر ا حمد جعفر ی ، جنا ب شاعر علی شاعر ، جنا ب وقار ز یدی ، محتر مہ شگفتہ شفیق ( میز با ن ) اور الحا ج نجمی نے کلا م پیش کیا ۔ تقر یب میں مشاعر ے کے علاوہ معا صر اردو ادب پر بھر پو ر گفتگو ہو ئی کہ ادبی تنظیمو ں کو غیر سیا سی ہو نا چا ہیے ۔ کہا گیا کہ تخلیق کار کے مقا م کا تعین اس کی تخلیقات سے ہو تا ہے ۔ صدارت اور مہما نِ خصو صی کی کر سیا ں رسمی ہو تی ہیں جس کے لئے کئی ادبی تنظیمو ں نے ریٹ متعین کیے ہوئے ہیں لہٰذ ا بے لو ث ا نداز میں ادب کی خد مت کر نے والی تنظیمو ں کے کا م اور ان کے ہا ں صدارت اور مہما ن خصو صی کی نشستو ں کو متنا ز عہ نہیں بنا نا چاہیے۔آ خر میں شگفتہ شفیق نے بھی شکریہ کے کلما ت میں کہا کہ میں بز م شگفتہ کے ذریعے ادب کی ترو یج میں اپنا حصہ ڈا لو ں گی او ر اپنی ساری کو ششیں ادب کی ترقی کے لیے کرو ں گی ، میرے کو ئی سیا سی عزائم نہیں ہیں اور نہ ہی کسی سے کو ئی مقابلہ ہے یہ سب کر کے میرے دل کو تسلی ملتی ہے سو میں ادب کی خد مت کرتی رہو ں گی۔
اس موقعے پر شاعرعلی شاعر نے اپنے اشاعتی ادارے رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی کی مطبوعہ کتاب’’شاعرات ارضِ پاک‘‘ تمام شعرکائے محفل کو تحفے میں پیش کیں۔
٭٭٭
اکادمی ادبیات پاکستان کہ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید اور کراچی کے ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے سندھی زبان اور ملک کے نامور دانشور جام ساقی کی وفات پر دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جام ساقی پاکستانی ادب کا بڑا سرمایا تھے ان کی رحلت سے ادب میں خلا پیدا ہو گیا ہے جس کو پر کرنے میں بڑی مدت لگے گی ۔ اس موقعے پر اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے اراکین نے کہا کہ ہم مرحوم کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
٭٭٭
اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تخلیق ادب اور معاشرے پر مذاکرے اور مشاعرے کا انعقادکیا گیا جس کی صدارت کینیڈا سے آئی ہوئی معروف شاعرہ گلنار آفرین نے کی۔ مہمانان خاص کینیڈا سے آئے ہوئی شاعرہ صبیحہ خان ، سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی راحیلہ ٹوانہ ، ڈاکٹر پروفیسر نزہت عباسی ، ہما بیگ تھی، اس موقع پر گلنار آفرین نے صدارتی خطاب میںکہاکہ میرے نزدیک بین الاقوامی سطح پر خاتون قلمکار وں کی تخلیق اہمیت کا پیمانہ اور اس میں جاری وساری ایک مشترکہ احساساتی تجربہ جو تمام نسائی دنیا کو ہمدم بناتا ہے اور ایک ناقابل شکستہ رشتہ میں پروتا ہے ۔ یوں تو ادب ہے ہی انسانی یگانگت کا فورم اس میں تذکیر و تانیث کی تقسیم محض ایک مفروضہ ہے، دیکھا جائے تو مرد بھی وہ ہی اعلیٰ ادب تخلیق کررہے ہیں جن میں کچھ نسائی ظہور کرتی ہے۔ مسئلہ تحریر کی ادبی قدرو قیمت کا ہے اور یہ کھانیاںمضامین اور شاعری آگاہ متحرک ذہن اور اعلیٰ تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہیںجو تقریبا ً نصف صدی کا منظر نامہ بناتی ہیں ۔ ڈاکٹرنزہت عباسی نے اپنے مقالے میں کہا کہ عالمی یومِ خواتین کے دن خواتین کو ان کی علمی ، ادبی،سماجی، سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ادب کے میدان میں خواتین نے ہر صنف میں اپنے نسانی شعور کا بھرپور اظہار کیااپنے احساسات ، جذبات خیالات کو زبان دی معاشرے میںخواتین کے مسائل اوران پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی عہد حاضر میںشاعرات بدلتے ہوئے ادبی ، فکری ، معاشرتی رجحانات کو بیان کررہی ہیں ، وہ جوکچھ تخلیق کررہی ہیں وہ ان کے آزاد ذہن کی تخلیق ہے۔راحیلہ ٹوانہ سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ معاشرہ کو ادب اور قلم نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ جرأت مندماں کی صورت میںعورت نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جس کوآج کے دن سلام پیش کریں گے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ عورت کی ایک اپنی دنیا ہے انسان کے عمومی مسائل کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے مسائل بھی ہیں جو صرف وہ ہی جانتی ہیں، خون میں رچاتی اور انکے فنی اظہار کیلئے مضطرب رہتی ہے نسائی حسیت کوئی فارمولانہیں ہے کہ سامنے رکھ کے وہ ادب تخلیق کردے یہ تو اس کے زندگی کے منفرد تجربے اور طرز احساس ہی کا نام ہے۔لیکن ابھی تک عورت کے بارے میںعورت کے لئے مرد کا نقطہ نظرہی بیان ہورہا تھا۔ عورت کو نہ تو اس قابل سمجھاجاتا ہے ۔کہ وہ اپنی رائے دے اور نہ ہی صدیوں کی محکومی اور تعلیم سے دوری کے سبب وہ اس قابل تھی کہ اپنا نقطۂ نظر بیان کرسکے تاہم یہ صورت حال اب زیادہ دیر قائم نہیںرہ سکتی تھی۔ آخر میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تھے جن شعرا ئے کرام نے کلام سنایا۔ ان میں گلنار آفرین ، صبیحہ خان، ہمابیگ، راحیلہ ٹونہ ، عرفان علی عابدی، ڈاکٹر نزہت عباسی، ڈاکٹر زینت کوثرلاکھانی، ظفر محمد خان ظفر، نصیر سومرو، اظہر بابنھن، ڈاکٹر حسین کھٹی، اقبال افسر غوری، عشرت حبیب، اوسط علی جعفری، عامرحسین راھو، صغیر احمد جعفری،دلشاد احمد دہلوی، صدیق راز، طاہر سلیم سوز، سیماناز، نیل امجد،فرح دیبا،نجیب عمر،محمد علی زیدی، نشاط غوری، اختر علی خان ، عارف شیخ، امیدطئی وفا ،پروین حیدر، تنویر حسین سخن، اقبال سہیوانی،الطاف احمدنے اپنا پیش کیا۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر