وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نریندر مودی کا 2022 ء کا ’’نیو انڈیا‘‘

بدھ 07 مارچ 2018 نریندر مودی کا 2022 ء کا ’’نیو انڈیا‘‘

1925ء میں جب بھارتی شہر ناگپور میں مسلم دشمن تنظیم آر ایس ایس کی بنیاد پڑی تو اسی وقت سے مسلمانوں کو بے بس و لاچار کرنے کے لیے 100 سالہ منصوبہ بنا لیاگیا تھا جس کے مطابق وہ عمل کررہے ہیں۔ مسلمانوں کی بھارت سے پہچان مٹانے کے لیے سازشیں جاری ہیں اور سازشی ان کے حقوق سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سنگھ پریوار کی کوششیں صرف بی جے پی جیسی فرقہ پرست سیاسی جماعت کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی ہر سیاسی جماعت میں اپنے نمائندوں کو شامل کرکے کی گئی ہیں۔

اس سے مسلمانوں کی ہمدرد کہلوانے والی کانگریس بھی الگ نہیں ہے۔ سال 2017ء میں بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا گیا اور انہیں مٹانے، تباہ وبرباد کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے 2022ء کے نیو انڈیا کا نعرہ لگادیا ہے جس میں نہ مسلمان ہونگے اور نہ ہی مسلم حکمرانوں کی بنائی ہوئی نشانیاں، بابری مسجد کے بعد اب اگلا ہدف تاج محل ہے جس کو لٹیروں کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔

یہاں فرقہ پرست وزیراعظم مودی سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ دارلحکومت دہلی میں واقع لال قلعہ جہاں بھارت کا پرچم نصب ہے اور ہر سال بھارتی وزیراعظم قومی دن کے موقع پر وہاں پرچم کشائی کرتے ہیں کیا اسے مہاتما گاندھی نے تعمیر کروایا تھا۔ وہ بھی مسلم عہد حکمرانی کی یاد دلاتا ہے۔ اسے بھی ختم کردیں۔ صرف تاج محل کو شیومندر قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ 2022ء کے نیو انڈیا میں بھارت ایک ہندو راشٹربن کر سامنے آئے گا، اس کا نام نہاد سیکولر کردار بھی ختم کردیا جائے گا، یہ ڈھونگ محض دنیا کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کے لیے رچایا گیا تھا۔

سنگھ پریوار کی خفیہ دستاویزات کے سرورق پر درج ہے کہ ہندو دھرم سنسددوار ، الو مودیت دستاویز‘‘ اس کے آخری صفحے پر لکھا ہے کہ اس کی صرف دس ہزار کاپیاں ہی چھاپی گئی ہیں۔ خفیہ دستاویزات میں بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف سازشوں کا وسیع پلان بنایا گیا ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ ہندو اکثریتی طبقے میں مسلم مخالف زہر گھولا جائے گا کہ2022ء تک از خود عام ہندو بھی مسلمانوںکا نام ونشان مٹانے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

موجودہ حالات وواقعات بتاتے ہیں کہ اس مذموم مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ سنگھ پریوار کے دعویٰ کے مطابق آر ایس ایس کے پرچار کوں کی تعداد پانچ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ خفیہ دستاویزات کی ابتداء جے شری رام سے کی گئی ہے اور لکھا ہے کہ ’’ہندو توکی پوتر نگر پریاگ‘‘ میں ہم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ، وشو اہندوپریشد، بحرنگ دل اور اکھل بھارتیہ براہمن جیاسبھا‘‘ایک اجتماعی دھرم سلسلہ کی شکل میں متحد ہو کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہماری واحد منظم کوشش اور مقصد ریزرویشن کا خاتمہ، بھارتیہ سمودھان کونشٹ کرنا، بودھ دھرم ، عیسائی دھرم اور مسلم دھرم کے بڑھتے ہوئے اثرات کا خاتمہ اور دلتوں میں پھوٹ ڈال کر ان کی ابھرتی قوت کا کچلنا ہوگا۔

اس کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
1۔ ریزرویشن برائے نام ہوگا اور ریزرویشن کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ میں نت نئی دلیلوں کے ساتھ عرضداشتیں قائم کی جارہی ہیں تاکہ ہندوفرقہ پرست جج ان کے حق میں فیصلہ دے سکیں۔
2۔ ناگپور میں موجود بودھ مذہب قبول کرانے کے واحد مرکز کو کمزور اور غیر موثر بنانے کے لیے آر ایس ایس کے صدر دفتر کو زیادہ وسعت دی جارہی ہے اور ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
15 اگست 2022ء تک وہاں بھگوا جھنڈا لہرادیا جائے گا۔
3۔ پورے ہندوستان میں امبیڈ کرکے بنائے گئے دستوع کی وجہ سے ہی دلت طاقتور ہورہے ہیں لہٰذا بی جے پی حکومت میں آئین پر نظر ثانی کی آڑ میں سیکولر دستور کو ہی بدل دیا جائے گا۔
4۔ بھارت میں رام راج کے قیام کے لیے ابودھیا میں رام مندر بنادیا جائے گا ، اس کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جائے گا اور ایک بار ’’شیلا نیاس‘‘ ہونے کے بعدآگے کی ذمہ داری کٹرو متعصب یوگی سرکار اور دھرم سنسد کی ہوگی۔
بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے بعد ہر ریاست میں ایودھیا کے رام مندر جیسا ایک مندر لازمی بنایا جائے گا۔ ایودھیا میں رام مندر کا شیلا نیاس ہی بھارت میں رام راجیہ کے قیام کی بنیاد ہوگا۔
5۔ ہندو توا کی تعلیم پر زور دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں جیوتش شاستر پڑھائے جائیں گے۔ آچاریائی طریقہ تعلیم لازمی ہو گا ۔ ’’گائتری منتر اور سرسوتی وندنا‘‘ نصاب کا حصہ ہونگے اورسنسکرت کو قومی زبان یعنی راج بھاشا کا درجہ حاصل ہوگا۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور وزارت تعلیم نے منظوری بھی دیدی ہے۔
6۔ ہندوراشٹریہ کے نفاذ کے لیے ہندو دھرم کا پروپیگنڈہ جاری ہے اور اس کے لیے ہندودیوی دیوتا?ں کی کہانیوں پر مشتمل زیادہ سے زیادہ ٹی وی سریلز دکھائے جارہے ہیں اور جن میں برہمنوں کو پرماتما کا نمائندہ دکھایا جاتا ہے کہ برہمن کے ذریعے ہی ایشور تک پہنچا جا سکتا ہے۔

انہی مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے بھارتی ٹی وی چینلوں پر روزانہ صبح کے وقت ہندو مت کے کٹر لیڈر اور سادھو سنت کے پروچن نشر کیے جاتے ہیں۔ رامائن مہا بھارت کو نئے ڈھنگ سے دکھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
دہشت گردی کی ساری ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال کر انہیں کمزور کیا جائے گا۔ ملک میں غیر ہندو علاقوں میں مندر کثرت سے بنائے جائیں گے۔ بہرحال بھگوا حکومت سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے تحت تاج محل کو سیاحتی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔
تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔ اردو میڈیم سکول بند کردو اور اردو زبان پر پابندی لگادی جائے، وندے ماترم نہ پرھنے والے کو ملک دشمن قرار دیا جائے ، ہندو فرقہ پرست ناتھورام گوڈ سے کے نام سے یادگار کا قیام، ایودھیا کے متنازعہ مقام پر 300 ملین امیرکی ڈالرز کے مصارف سے رام کا 300 فٹ بلند مجسمہ اور ممبئی کے قریب مراٹھا سردار شیوا جی کے 200 فٹ بلند مجسمے کی تنصیب سرفہرست ہیں۔

مودی حکومت میں مسلمانوں میں خوف کا یہ عالم ہے کہ شریعت میں مداخلت پر بھی مسلمان خاموش ہیں۔ دستوری عہدوں ، عدلیہ اور پالیسی سازاداروں سے بھی مسلمانوں کا صفایا کردیا گیا ہے۔مسلمانوں کی علیحدہ شناخت کو ختم کرکے انہیں ہندو ثابت کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی حالت برما کے مسلمانوں جیسی کردی جائے گی۔ اگرچہ برما کی طرح ان پر حملے نہیں کیے گئے لیکن ذہنی طو ر پر غلام بنانے کی تیاری ہے۔

پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی برائے نام کردی گئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مسلم کردار چھین لیا گیا، مودی ، امبیت شاہ کے بعد یوگی کو بھی قومی سطح پر ابھارنے کا منصوبہ ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی نے اتر پردیش کو چند ماہ کے اندر ہندو توا رنگ میں رنگ دیا ہے کہ اب سیکولر طاقتوں کو سنبھلنے میں وقت لگ جائے گا۔ تاریخ سے مسلم مجاہدین آزادی کے کارناموں کو خذف کرنے کا سلسلہ جاری ہے اورسنگھ پریوار کے م?رخین نئی تاریخ لکھ رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہندو ، مسلم فسادات کی تیاری بھی کی جاچکی ہے۔

یعنی 2022ء تک گجرات فسادات کی طرز پرمسلم نسل کشی کی ہولناک منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اور سارے ہندوستان کو مسلمانوں کے لیے گجرات بنادیا جائے گا۔ اگر اگجرات میں تین ہزار مسلمانوں کی نسل کشی سے 15 سال مودی کا اقتدار برقراررہ سکتا ہے تو پورے ہندوستان میں ہزاروں کیا ایک لاکھ دولاکھ مسلمانوں کی جانیں لے کر ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے میں بھلا کیا مضائقہ ہوسکتا ہے؟ معیشت بگڑ چکی ہے ، اس لیے مودی کی سیاست بھی بگڑ چکی ہے اور ایسے میں 2022 ء کے انیوانڈیا کا نعرہ ہندو فرقہ پرستی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

2019ء تک ہندوستان کو درجنوں گجرات فسادات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ ہر فساد کے بعد بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے۔ مثلاََ بابری مسجد کی شہادت کے بعد لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی نشستیں بڑھ گئیں۔ اسی طرح 1993ء میں ممبئی فساد کے بعد 1995ء میں بی جے پی اور شیوسینا پہلی بار اقتدار میں آئے۔ یہی صورتحال 2002ء کے گجرات فسادات کے بعد نریندر مودی کے ساتھ ہوئی۔

گجرات مسلم کش فسادات کے بعد مودی نہ صرف مسلسل تین بار گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے بلکہ وہ سارے ہندوستان کے ہندو دیوتا سمراٹ بن کر 2014ءمیں بھارت کے وزیراعظم بن گئے۔ یعنی مسلم کش فسادات بی جے پی کے لیے اقتدار حاصل کرنے کا سب سے اہم ہتھیار ہیں۔ بھارتی منصف خوشونت سنگھ نے 2003ء میں اپنی مشہور کتاب’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ میں چودہ سال قبل اس کے ایک باب ’’سنگھ اور اس کے عفریت ‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’ہر فاشٹ حکومت اپنی بقا کے لیے کچھ ایسے لوگوں یا گروہوں کی محتاج ہوتی ہے جنہیں وہ عوام میں عفریت بناکے پیش کرسکے پھر ان کے خلاف خوف وہراس اور نفرت پھیلانے کی ایک منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کی جاتی ہے۔

سنگھ پریوار بائیں بازو کے مو?رخوں ، دانشوروں کو مغرب زدہ قرار دیکر ان کے خلاف بھی نفرت انگیزی پھیلا چکا ہے۔ کل ان خواتین کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو ساڑھی نہیں پہنتیں۔ وہ لوگ بھی ان کے شر کا شکار ہوسکتے ہیں جو یاترا?ں کی زیارت کے لیے نہیں جاتے۔ آیوروید کے نجائے ایلوپیتھک طریقہ علاج سے اپنی بیماریوں کا علاج کرواتے ہیں اور مصافحہ کرتے وقت جے شری رام نہیں کہتے، ان میں سے کوئی ہوچاہے وہ ہندو ہی کیوں نہ ہو اب بھارت میں محفوظ نہیں۔

مذکورہ میگزین نے ایک اہم نقطے کی جانب اشارہ کیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ اب ہندوستانی مسلمانوں کی انتخابات کے حوالے سے بھی اہمیت ختم ہورہی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’ اب یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت خود کو تمام معاملات میں حاشیے پر محسوس کررہی ہے اور یہ تبدیلی 2014ء میں مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہوئی ہے۔

اس کا ثبوت یوپی کے الیکشن کے نتائج اور بی جے پی کے ذریعہ کسی مسلمان کو امیدوار نہ بنائے جانے سے بھی ملا ہے ممکن ہے کہ آنے والے الیکشن میں بے جے پی یہ بھی اعلان کردے کہ مجھے مسلمانوں کے ووٹ کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو خوف ودہشت کے احساسات کے تحت زندگی گزارنا پڑرہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں مودی حکومت خفیہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ یوگی حکومت ہندو راشٹر کی ریہرسل کررہی ہے اس طرح مسلمانوں کو نہ صرف ذہنی اذیت پہنچائی جارہی ہے بلکہ اس کا یہ اشارہ ہے کہ ہندو راشٹر میں رہنے کاذہن بنالو۔


متعلقہ خبریں


دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز وجود - هفته 04 اپریل 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار 172 ہوگئی، 10 لاکھ 98 ہزار 762افراد عالمی وبا کا شکار ہوگئے ، چین میں کورونا سے ہلاک افراد کی یاد میں ایک دن کا سوگ منایا گیا ۔اٹلی میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 14 ہزار 681 ہوگئی۔ ایک لاکھ 19 ہزار 827افراد عالمی وبا کی لپیٹ میں ہیں۔ سپین میں کورونا سے 11 ہزار 198 افراد موت کے منہ میں چلے گئے ۔ فرانس میں اب تک 6 ہزار 507 افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔برطانیہ میں 3 ہزار 605 افراد جان سے گئے ۔ جرمنی میں 1275، چین م...

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز

کورونا کے بعد آنے والی وبائیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہیں،بل گیٹس وجود - هفته 04 اپریل 2020

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے بعد آنے والی وبائیں کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہے ۔ انہوں بیان میں نے کہا کہ کورونا قدرتی وبا ہے اور خوش قسمتی سے اموات کی شرح بھی کم ہے ۔ ا نہوں نے کہا کہ اگلی وبائیں قدرت کے ساتھ حیاتیاتی دہشت گردی سے بھی آسکتی ہیں۔خیال رہے کہ بل گیٹس نے 2015 میں بھی ایک عالمی وبا کے متعلق پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا دنیا اگلی وبا کیلئے تیار نہیں۔بل گیٹس نے پانچ سال قبل کہا تھا کہ وبا پوری دنیا پھیل سکتی ہے کیوں کہ تمام ممالک آپس می...

کورونا کے بعد آنے والی وبائیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہیں،بل گیٹس

اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتے ہیں ،حماس وجود - هفته 04 اپریل 2020

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جماعت کے سیاسی شعبے کے سربراہ یحییٰ السنوار نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے لیے جو فارمولہ پیش کیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے لیے سنجیدہ ہے ۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حماس اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتی ہے ۔ یحییٰ السنوار کا فارمولہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔خیال رہے کہ گذشتہ روز غزہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے صدر یحی...

اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتے ہیں ،حماس

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی بھارتی سازش، پاکستان کی شدید مذمت وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

ترجمان دفتر خاجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی حکومت کی تازہ ترین غیرقانونی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتا ہے ۔ جموں وکشمیر تشکیل نو آرڈر2020ایک اور غیرقانونی بھارتی اقدام ہے جس کا مقصد بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے ڈومیسائل قوانین کو تبدیل کرنا ہے ۔ یہ بین الاقوامی قانون اور چوتھے جینیوا کنونشن کی صریحا خلاف ورزی ہے ۔ انہوںنے جاری بیان میں کہا کہ تازہ ترین بھارتی قدام بھی 5 اگست 2019کے بھارت کے ...

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی بھارتی سازش، پاکستان کی شدید مذمت

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوپر تشویش ہے ، ڈبلیوایچ او وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھانوم نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئو پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے سب کو ملکر کوشش کرنا ہوگی۔ڈبلیو ایچ او کے ڈی جی تیدروس ادھا نوم نے جنیوا میں پریس بریفنگ کے دوران کہاکہ پچھلے ہفتے کورونا کے پھیلا میں تیزی دیکھی گئی جو ایک تشویشناک صورتحال ہے ۔اس مہلک وبا کو فوری طور پر سب کو مل کر روکنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر بڑا جانی نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مہلک وبا کے باعث ایک ہ...

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوپر تشویش ہے ، ڈبلیوایچ او

کورونا وائرس، چین سے امدادی سامان لے کر طیارہ پاکستان پہنچ گیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

کا خصوصی طیارہ چین سے امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچ گیا۔پی آئی اے کی پرواز پی کے 8552 چین سے کورونا وائرس سے متعلق امدادی سامان لے کر اسلام آباد پہنچا۔ جہاز میں 20 کنٹینرز پر مشتمل امدادی سامان لایا گیا جس میں ٹیسٹنگ کٹس، گلوز اور ماسک شامل ہیں۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق کسٹمز کلیئرنس کے بعد سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے )حکام کے حوالے کر دیا گیا۔واضح رہے کہ پی آئی اے کا خصوصی طیارہ گذشتہ روز امدادی سامان لینے چین گیا تھا۔

کورونا وائرس، چین سے امدادی سامان لے کر طیارہ پاکستان پہنچ گیا

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم وجود - بدھ 01 اپریل 2020

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزرا اعلی کو حاصل خصوصی مراعات والے قانون کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت اختیارات کے ذریعے منسوخ کر دیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی حکومت نے سٹیٹ لیجسلیٹر ممبرز پنشن ایکٹ 1984 کے سیکشن 3 کو منسوخ کر دیا ہے جس سے اب سابق وزرا اعلی کو ملنے والی مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔اس سیکشن کے تحت سابق وزرا اعلی کو بغیر کرایہ سرکاری رہائش گاہ، مفت ٹیلیفون سروس، مفت بجلی، گاڑی، پٹرول اور طبی سہولیات ملتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کو سرکار...

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی وجود - بدھ 01 اپریل 2020

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی ،کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے جدید ترین ممالک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے وہیں سپرپاور امریکا کی فوج بھی اس وائرس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔کورونا وائرس کے باعث اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد کیسز امریکا سے سامنے آ چکے ہیں جب کہ امریکا میں اموات بھی چین اور اسپین سے زیادہ ہو گئی ہیں جہاں اب تک 4 ہزار سے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں وبا سے دو لاکھ...

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق وجود - بدھ 01 اپریل 2020

امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس میں مبتلا دو پاکستانی جان کی بازی ہار گئے ۔ یک میڈیا رپورٹ کے مطابق انتقال ہونے والے سید عطاالرحمان کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے تھے جن کا تعلق کراچی سے تھا۔ان کے علاوہ کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی امریکن روحیل خان بھی نیویارک میں دم توڑ گئے ۔ ریاست ٹیکساس میں بھی ایک پاکستانی ڈاکٹر اور تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص میں بھی کورونا کی علامات پائی گئی ہیں اور دونوں کا تعلق بھی کراچی سے ہے ۔واضح رہے کہ امریکی ریاست نیو یارک کورونا...

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہاں طبی آلات کی قلت پیدا ہوگئی ہے ، وہیں طبی عملہ بھی کم پڑ گیا ہے جب کہ ہسپتالوں سمیت کئی دیگر جگہوں کو عارضی آئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے لیکن اس باوجود کئی ممالک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ۔عام ہسپتالوں میں قرنطینہ سینٹرز بنانے اور وہاں پر دیگر مریضوں کے علاوہ زیادہ تر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے سمیت دنیا بھر میں دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض پریشانیوں کا شکار ہیں، یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے مما...

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس نے 202ممالک میں پنجے گاڑ لئے ، دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 42 ہزار 156 ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی مہلک وبا نے 202ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اٹلی میں صورتحال سب سے خوفناک ہے جہاں 12448 افراد ہلاک اور 1 لاکھ 5 ہزار 7 سو92 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔اسپین میں کورونا سے 8 ہزار چار سو چونسٹھ افراد ہلاک ہو گئے ۔ چین میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 3 ہزار تین سو پانچ ہے ۔ جرمنی میں کورونا سے سات سو پچھتر افراد ہلاک، فرانس میں...

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دے دیا۔ترجمان اقوام متحدہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے دنیا کے ہر ملک کو عدم استحکام، بدامنی اور تنازعات کھڑے ہونے کا خطرہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کے ثرات سے دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد بیروزگار ہو جائیں گے ۔ا نہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک غریب ملکوں کی مدد کریں ورنہ وبا جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا