وجود

... loading ...

وجود

نریندر مودی کا 2022 ء کا ’’نیو انڈیا‘‘

بدھ 07 مارچ 2018 نریندر مودی کا 2022 ء کا ’’نیو انڈیا‘‘

1925ء میں جب بھارتی شہر ناگپور میں مسلم دشمن تنظیم آر ایس ایس کی بنیاد پڑی تو اسی وقت سے مسلمانوں کو بے بس و لاچار کرنے کے لیے 100 سالہ منصوبہ بنا لیاگیا تھا جس کے مطابق وہ عمل کررہے ہیں۔ مسلمانوں کی بھارت سے پہچان مٹانے کے لیے سازشیں جاری ہیں اور سازشی ان کے حقوق سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سنگھ پریوار کی کوششیں صرف بی جے پی جیسی فرقہ پرست سیاسی جماعت کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی ہر سیاسی جماعت میں اپنے نمائندوں کو شامل کرکے کی گئی ہیں۔

اس سے مسلمانوں کی ہمدرد کہلوانے والی کانگریس بھی الگ نہیں ہے۔ سال 2017ء میں بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا گیا اور انہیں مٹانے، تباہ وبرباد کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے 2022ء کے نیو انڈیا کا نعرہ لگادیا ہے جس میں نہ مسلمان ہونگے اور نہ ہی مسلم حکمرانوں کی بنائی ہوئی نشانیاں، بابری مسجد کے بعد اب اگلا ہدف تاج محل ہے جس کو لٹیروں کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔

یہاں فرقہ پرست وزیراعظم مودی سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ دارلحکومت دہلی میں واقع لال قلعہ جہاں بھارت کا پرچم نصب ہے اور ہر سال بھارتی وزیراعظم قومی دن کے موقع پر وہاں پرچم کشائی کرتے ہیں کیا اسے مہاتما گاندھی نے تعمیر کروایا تھا۔ وہ بھی مسلم عہد حکمرانی کی یاد دلاتا ہے۔ اسے بھی ختم کردیں۔ صرف تاج محل کو شیومندر قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ 2022ء کے نیو انڈیا میں بھارت ایک ہندو راشٹربن کر سامنے آئے گا، اس کا نام نہاد سیکولر کردار بھی ختم کردیا جائے گا، یہ ڈھونگ محض دنیا کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کے لیے رچایا گیا تھا۔

سنگھ پریوار کی خفیہ دستاویزات کے سرورق پر درج ہے کہ ہندو دھرم سنسددوار ، الو مودیت دستاویز‘‘ اس کے آخری صفحے پر لکھا ہے کہ اس کی صرف دس ہزار کاپیاں ہی چھاپی گئی ہیں۔ خفیہ دستاویزات میں بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف سازشوں کا وسیع پلان بنایا گیا ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ ہندو اکثریتی طبقے میں مسلم مخالف زہر گھولا جائے گا کہ2022ء تک از خود عام ہندو بھی مسلمانوںکا نام ونشان مٹانے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

موجودہ حالات وواقعات بتاتے ہیں کہ اس مذموم مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ سنگھ پریوار کے دعویٰ کے مطابق آر ایس ایس کے پرچار کوں کی تعداد پانچ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ خفیہ دستاویزات کی ابتداء جے شری رام سے کی گئی ہے اور لکھا ہے کہ ’’ہندو توکی پوتر نگر پریاگ‘‘ میں ہم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ، وشو اہندوپریشد، بحرنگ دل اور اکھل بھارتیہ براہمن جیاسبھا‘‘ایک اجتماعی دھرم سلسلہ کی شکل میں متحد ہو کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہماری واحد منظم کوشش اور مقصد ریزرویشن کا خاتمہ، بھارتیہ سمودھان کونشٹ کرنا، بودھ دھرم ، عیسائی دھرم اور مسلم دھرم کے بڑھتے ہوئے اثرات کا خاتمہ اور دلتوں میں پھوٹ ڈال کر ان کی ابھرتی قوت کا کچلنا ہوگا۔

اس کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
1۔ ریزرویشن برائے نام ہوگا اور ریزرویشن کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ میں نت نئی دلیلوں کے ساتھ عرضداشتیں قائم کی جارہی ہیں تاکہ ہندوفرقہ پرست جج ان کے حق میں فیصلہ دے سکیں۔
2۔ ناگپور میں موجود بودھ مذہب قبول کرانے کے واحد مرکز کو کمزور اور غیر موثر بنانے کے لیے آر ایس ایس کے صدر دفتر کو زیادہ وسعت دی جارہی ہے اور ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
15 اگست 2022ء تک وہاں بھگوا جھنڈا لہرادیا جائے گا۔
3۔ پورے ہندوستان میں امبیڈ کرکے بنائے گئے دستوع کی وجہ سے ہی دلت طاقتور ہورہے ہیں لہٰذا بی جے پی حکومت میں آئین پر نظر ثانی کی آڑ میں سیکولر دستور کو ہی بدل دیا جائے گا۔
4۔ بھارت میں رام راج کے قیام کے لیے ابودھیا میں رام مندر بنادیا جائے گا ، اس کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جائے گا اور ایک بار ’’شیلا نیاس‘‘ ہونے کے بعدآگے کی ذمہ داری کٹرو متعصب یوگی سرکار اور دھرم سنسد کی ہوگی۔
بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے بعد ہر ریاست میں ایودھیا کے رام مندر جیسا ایک مندر لازمی بنایا جائے گا۔ ایودھیا میں رام مندر کا شیلا نیاس ہی بھارت میں رام راجیہ کے قیام کی بنیاد ہوگا۔
5۔ ہندو توا کی تعلیم پر زور دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں جیوتش شاستر پڑھائے جائیں گے۔ آچاریائی طریقہ تعلیم لازمی ہو گا ۔ ’’گائتری منتر اور سرسوتی وندنا‘‘ نصاب کا حصہ ہونگے اورسنسکرت کو قومی زبان یعنی راج بھاشا کا درجہ حاصل ہوگا۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور وزارت تعلیم نے منظوری بھی دیدی ہے۔
6۔ ہندوراشٹریہ کے نفاذ کے لیے ہندو دھرم کا پروپیگنڈہ جاری ہے اور اس کے لیے ہندودیوی دیوتا?ں کی کہانیوں پر مشتمل زیادہ سے زیادہ ٹی وی سریلز دکھائے جارہے ہیں اور جن میں برہمنوں کو پرماتما کا نمائندہ دکھایا جاتا ہے کہ برہمن کے ذریعے ہی ایشور تک پہنچا جا سکتا ہے۔

انہی مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے بھارتی ٹی وی چینلوں پر روزانہ صبح کے وقت ہندو مت کے کٹر لیڈر اور سادھو سنت کے پروچن نشر کیے جاتے ہیں۔ رامائن مہا بھارت کو نئے ڈھنگ سے دکھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
دہشت گردی کی ساری ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال کر انہیں کمزور کیا جائے گا۔ ملک میں غیر ہندو علاقوں میں مندر کثرت سے بنائے جائیں گے۔ بہرحال بھگوا حکومت سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے تحت تاج محل کو سیاحتی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔
تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔ اردو میڈیم سکول بند کردو اور اردو زبان پر پابندی لگادی جائے، وندے ماترم نہ پرھنے والے کو ملک دشمن قرار دیا جائے ، ہندو فرقہ پرست ناتھورام گوڈ سے کے نام سے یادگار کا قیام، ایودھیا کے متنازعہ مقام پر 300 ملین امیرکی ڈالرز کے مصارف سے رام کا 300 فٹ بلند مجسمہ اور ممبئی کے قریب مراٹھا سردار شیوا جی کے 200 فٹ بلند مجسمے کی تنصیب سرفہرست ہیں۔

مودی حکومت میں مسلمانوں میں خوف کا یہ عالم ہے کہ شریعت میں مداخلت پر بھی مسلمان خاموش ہیں۔ دستوری عہدوں ، عدلیہ اور پالیسی سازاداروں سے بھی مسلمانوں کا صفایا کردیا گیا ہے۔مسلمانوں کی علیحدہ شناخت کو ختم کرکے انہیں ہندو ثابت کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی حالت برما کے مسلمانوں جیسی کردی جائے گی۔ اگرچہ برما کی طرح ان پر حملے نہیں کیے گئے لیکن ذہنی طو ر پر غلام بنانے کی تیاری ہے۔

پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی برائے نام کردی گئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مسلم کردار چھین لیا گیا، مودی ، امبیت شاہ کے بعد یوگی کو بھی قومی سطح پر ابھارنے کا منصوبہ ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی نے اتر پردیش کو چند ماہ کے اندر ہندو توا رنگ میں رنگ دیا ہے کہ اب سیکولر طاقتوں کو سنبھلنے میں وقت لگ جائے گا۔ تاریخ سے مسلم مجاہدین آزادی کے کارناموں کو خذف کرنے کا سلسلہ جاری ہے اورسنگھ پریوار کے م?رخین نئی تاریخ لکھ رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہندو ، مسلم فسادات کی تیاری بھی کی جاچکی ہے۔

یعنی 2022ء تک گجرات فسادات کی طرز پرمسلم نسل کشی کی ہولناک منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اور سارے ہندوستان کو مسلمانوں کے لیے گجرات بنادیا جائے گا۔ اگر اگجرات میں تین ہزار مسلمانوں کی نسل کشی سے 15 سال مودی کا اقتدار برقراررہ سکتا ہے تو پورے ہندوستان میں ہزاروں کیا ایک لاکھ دولاکھ مسلمانوں کی جانیں لے کر ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے میں بھلا کیا مضائقہ ہوسکتا ہے؟ معیشت بگڑ چکی ہے ، اس لیے مودی کی سیاست بھی بگڑ چکی ہے اور ایسے میں 2022 ء کے انیوانڈیا کا نعرہ ہندو فرقہ پرستی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

2019ء تک ہندوستان کو درجنوں گجرات فسادات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ ہر فساد کے بعد بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے۔ مثلاََ بابری مسجد کی شہادت کے بعد لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی نشستیں بڑھ گئیں۔ اسی طرح 1993ء میں ممبئی فساد کے بعد 1995ء میں بی جے پی اور شیوسینا پہلی بار اقتدار میں آئے۔ یہی صورتحال 2002ء کے گجرات فسادات کے بعد نریندر مودی کے ساتھ ہوئی۔

گجرات مسلم کش فسادات کے بعد مودی نہ صرف مسلسل تین بار گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے بلکہ وہ سارے ہندوستان کے ہندو دیوتا سمراٹ بن کر 2014ءمیں بھارت کے وزیراعظم بن گئے۔ یعنی مسلم کش فسادات بی جے پی کے لیے اقتدار حاصل کرنے کا سب سے اہم ہتھیار ہیں۔ بھارتی منصف خوشونت سنگھ نے 2003ء میں اپنی مشہور کتاب’’دی اینڈ آف انڈیا‘‘ میں چودہ سال قبل اس کے ایک باب ’’سنگھ اور اس کے عفریت ‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’ہر فاشٹ حکومت اپنی بقا کے لیے کچھ ایسے لوگوں یا گروہوں کی محتاج ہوتی ہے جنہیں وہ عوام میں عفریت بناکے پیش کرسکے پھر ان کے خلاف خوف وہراس اور نفرت پھیلانے کی ایک منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کی جاتی ہے۔

سنگھ پریوار بائیں بازو کے مو?رخوں ، دانشوروں کو مغرب زدہ قرار دیکر ان کے خلاف بھی نفرت انگیزی پھیلا چکا ہے۔ کل ان خواتین کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو ساڑھی نہیں پہنتیں۔ وہ لوگ بھی ان کے شر کا شکار ہوسکتے ہیں جو یاترا?ں کی زیارت کے لیے نہیں جاتے۔ آیوروید کے نجائے ایلوپیتھک طریقہ علاج سے اپنی بیماریوں کا علاج کرواتے ہیں اور مصافحہ کرتے وقت جے شری رام نہیں کہتے، ان میں سے کوئی ہوچاہے وہ ہندو ہی کیوں نہ ہو اب بھارت میں محفوظ نہیں۔

مذکورہ میگزین نے ایک اہم نقطے کی جانب اشارہ کیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ اب ہندوستانی مسلمانوں کی انتخابات کے حوالے سے بھی اہمیت ختم ہورہی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’ اب یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت خود کو تمام معاملات میں حاشیے پر محسوس کررہی ہے اور یہ تبدیلی 2014ء میں مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہوئی ہے۔

اس کا ثبوت یوپی کے الیکشن کے نتائج اور بی جے پی کے ذریعہ کسی مسلمان کو امیدوار نہ بنائے جانے سے بھی ملا ہے ممکن ہے کہ آنے والے الیکشن میں بے جے پی یہ بھی اعلان کردے کہ مجھے مسلمانوں کے ووٹ کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو خوف ودہشت کے احساسات کے تحت زندگی گزارنا پڑرہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں مودی حکومت خفیہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ یوگی حکومت ہندو راشٹر کی ریہرسل کررہی ہے اس طرح مسلمانوں کو نہ صرف ذہنی اذیت پہنچائی جارہی ہے بلکہ اس کا یہ اشارہ ہے کہ ہندو راشٹر میں رہنے کاذہن بنالو۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر