وجود

... loading ...

وجود

شام میں خون کی ہولی ایک المیہ،عالمی امن کے ٹھیکیدارخاموش

منگل 06 مارچ 2018 شام میں خون کی ہولی ایک المیہ،عالمی امن کے ٹھیکیدارخاموش

شام میں باغیوں یابشارالاسدکے مخالفین کے زیر تسلط مغربی علاقے غوطہ میں مسلسل فورسز کی فضائی کارروائیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں شہری جاں بحق اورلاتعدادزخمی ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعدادخواتین اوربچوں کی ہے ۔جن کی تصدیق عالمی میڈیاوخبررساں ادارے کرتھے رہے ہیں ۔یاد رہے کہ مغربی غوطہ کا علاقہ 2012 سے باغیوں کے قبضے میں ہے جو دمشق کے قریب اپوزیشن کا آخری مورچہ ہے جبکہ صدر بشارالاسد اس علاقے کا قبضہ شدید کارروائی کے بعد دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے کوارڈی نیٹر پانوس مومتزیز نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کو اب روک دینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مغربی غوطہ میں شہریوں کی صورت حال قابو سے باہر ہورہی ہے اس لیے اب اس ناقابل فہم کارروائی کو ختم کردینا ہوگا۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پورے شام میں مغربی غوطہ سے لے کر کردوں کے مقبوضہ علاقے عفرین تک ایک ماہ کی جنگ بندی کی اپیل جاتی رہی ہے جہاں ترکی کی جانب سے آنے والے دنوں میں کارروائی کی دھمکی دی جاچکی ہے۔قطع نظراس بات کے کہ غوطہ پرشامی حکومت کے باغی یامخالفین کاقبضہ ہے وہاں اتنی بڑی تعدادمیں بمباری سے خواتین اوربچوں کی ہلاکت انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورز ی ہے ۔اطلاعات کے مطابقشام میں ہزاروں افراد اب تک بے گھر ہوچکے ہیں، سیکڑوں لاپتا ہیں، 500 سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ شام کی صورت حال دن بدن بگڑتی جارہی ہے، بشار الاسد اور اتحادی افواج کی بمباری سے اب تک سینکڑوں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں، جو بچ گئے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان تمام تر صورت حال سے نہ صرف امت مسلمہ واقف ہے بلکہ پوری دنیا میں اس پر احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ اور او آئی سی اس بربریت پر تاحال ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے میں ناکام رہے ہیں جس سے وہاں کے لوگوں کی داد رسی ہوسکے۔یہ واقعات جس تسلسل سے پیش آرہے ہیں اور جس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچ رہے ہیں، انہی میں سے ایک واقعہ ایسا بھی نظروں کے سامنے سے گزرا جسے پڑھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ امداد کے بدلے خواتین کی عزتیں تار تار کی جارہی ہیں اور اس میں کوئی اور نہیں بلکہ وہ لوگ ملوث ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے ہی تعینات کر رکھا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ اس مسئلے پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے۔اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی افواج پر اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں جن سے وہ ہمیشہ سے ہی آنکھیں چراتا رہا ہے۔

سوڈان، نمیبیا، اور افریقی ریاست نائجیریا سمیت دیگر غربت اور جنگ زدہ ممالک میں اقوام متحدہ کی افواج ایسے کاموں میں ملوث پائی گئی ہیں۔ شام میں ان واقعات کا ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں وہ اپنے من پسند مقاصد کے حصول کے لیے ایسے گھناؤنے کام پر پردہ ڈالنے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہے۔اقوام متحدہ موجودہ دور میں صرف ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہا ہے، جب کہ اس کی تمام تر ڈوریں اسرائیل، امریکا اور روس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کا جیسا دل چاہتا ہے، یہ ویسے ہی اپنے مقاصد کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال اسرائیل کا بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا منصوبہ ہے جسے اقوام متحدہ نے بظاہر تو مسترد کردیا لیکن امریکی ایما پر اسے کنٹرول نہ کرسکا۔ اسی طرح کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم بھی اقوام متحدہ کو نظرنہیں آرہے۔ دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی پاور صرف مسلم ممالک کی حد تک رہ گئی ہے جب کہ بھارت بھی امریکا کی گود میں بیٹھ کر اقوام متحدہ کو اب آنکھیں دکھانے لگا ہے۔ایسے میں اقوام متحدہ سے کسی خیر کی توقع کرنا فضول ہی ہے۔دمشق میں جس طرح خواتین کی آبروریزی کی جارہی ہے اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، کیا ہم اس بات کی توقع کریں کہ وہاں امن ہوجائے گا اور جو لوگ اس ظلم و بربریت کا نشانہ بنے ہیں، اور جو بن رہے ہیں، وہ ان کا بدلہ نہیں لیں گے؟ اگر ایسی کوئی سوچ اقوام متحدہ، او آئی سی یا پھر امریکا و روس نے اپنے دل ودماغ میں بٹھا رکھی ہے تو ان سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں کیونکہ جن گھروں سے جنازے اٹھ رہے ہیں وہ لازمی بات ہے اب ان قوتوں کا ساتھ دیں گے جو اقوام متحدہ، او آئی سی، امریکا اور روس کی دشمن ہیں؛ اور اگر یہ قوتیں آپس میں مل گئیں تو پھر وہاں امن کی مشعل کا جلنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے جو خبریں آرہی ہیں ان کے مطابق ہزاروں افراد اب تک بے گھر ہوچکے ہیں، سینکڑوں لاپتا ہیں، پانچ سو سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ غذائی قلت عروج پر پہنچ چکی ہے جس سے اموات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ صحت کے مراکز تباہ ہونے سے زخمیوں اور بیماروں کی اموات بھی روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔ ایسے میں دنیا کو دکھانے کے لیے روزانہ پانچ گھنٹے کی جنگ بندی صرف اور صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ باقی 19 گھنٹوں میں یہ لوگ جدھر چاہیں بمباری کرکے عوام کا قتل عام کرتے رہیں اور انہیں کوئی روکنے والا بھی نہیں۔

اس تمام صورت حال میں صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو اپنی دکان بند کردینی چاہیے کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے معاملات مزید بگاڑ کی طرف ہی جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ سے اب تک فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تو وہ شام، افغانستان، اور عراق میں کس طرح امن کا خواہش مند ہوسکتا ہے؟ امریکا، اسرائیل اور روس اگر یہ سوچ کر بیٹھے ہیں کہ دنیا میں تباہی و بربادی کرکے وہ اپنے ملکوں میں امن کی صورت حال برقرار رکھے ہوئے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔ آج جو آگ ان لوگوں نے دنیا میں لگائی ہے، کل وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔ صرف انتظار کیجیے کہ آج نہیں تو کل یہ بھی اسی آگ میں جلتے نظرآئیں گے۔پھر اقوام متحدہ اور او آئی سی اپنی آنکھیں کھولیں گے تو وہ کسی کام نہ آئے گی۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر