وجود

... loading ...

وجود

پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

جمعرات 01 مارچ 2018 پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

پاکستان سپر لیگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیاجس کے دورا ن دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں آٹھ میچزکھیلے گئے ۔ جن میں کراچی کنگزاپنے تمام 3میچزجیت کرپوائنٹ ٹیبل پرنمبر دن ہے،پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے کاآغازایک دن کے وقفے کے بعد شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم ہوچکاہے جہاں تادم تحریرکوئٹہ گلیڈی ایٹراوراسلام آبادیونائیٹڈکی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔پہلے مرحلے میں اب تک سب ٹیمیں بارہا اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکی ہیں اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ابتدائی تاثر تو سب کا قائم ہوچکا ہے۔ یقیناایک دن کے وقفے سے فائدہ اٹھاکر تمام ٹیمیں اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہوگا اور آگے کی منصوبہ بندی بھی کی جاچکی ہوگی۔پہلے مرحلے میں ٹیموں کی کارکردگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کودورکرنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جاچکے ہوں گے ۔ یوں توٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیمیں بھرپورتیاری کے ساتھ آئی ہیں ۔اوردنیائے کرکٹ کے بڑے نام ان میں شامل ہیں ۔لیکن اب تک کی اگرکارکردگی کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوجاتاہے پی ایس ایل کے پہلے دوایڈیشنزمیں گرتے پڑے فتوحات سمیٹنے والی کراچی کنگزایک دم چھائی ہوئی نظرآرہی ہے ۔ دوسرے نمبرپرملتان سلطانزنے بھی پی ایس ایل میں دھماکے دارانٹری سے دیگرٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔اس حوالے سے ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کاایک جائزہ پیش کیاجارہاہے
کراچی کنگز
ایسا لگتا ہے کہ شاہد خان آفریدی کی آمد نے کراچی کنگز میں بجلی سی بھر دی ہے۔ کہاں وہ کراچی جو پہلے دونوں سیزنز میں گرتے، پڑتے، بڑی مشکل سے کوالیفائرز تک پہنچتا تھا اور کہاں یہ کہ ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ پھر میچز بھی اْن کے خلاف جیتے ہیں جو پی ایس ایل تاریخ میں سب سے زیادہ تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھاتے آئے ہیں یعنی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے خلاف اور پھر ‘سونے پہ سہاگہ’ لاہور قلندرز کے خلاف فتح!
ان پے در پے کامیابیوں نے ثابت کیا ہے کہ کراچی کی ابتدائی فتوحات اتفاقی نہیں بلکہ ایک بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ تک، کراچی کنگز ایک مکمل متوازن ٹیم لگتی ہے اور پھر جس طرح محمد عامر جیسا اسٹرائیک باؤلر زخمی ہونے کے باوجود لاہور کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے، وہ ٹیم کی bench strength بھی ظاہر کرتی ہے۔
روی بوپارا ہمیشہ کی طرح ایک مردِ بحران کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں اور کولن انگرام نے بھی اب تک ثابت کیا ہے کہ انہیں منتخب کرنا کراچی کا بہترین فیصلہ تھا۔ بہرحال، اب تک کراچی کے لیے ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ ہے، دیکھتے ہیں آئندہ مقابلوں میں کوئی شکست ان کے حوصلوں میں دراڑ ڈال پاتی ہے یا نہیں؟۔
ملتان سلطان
پی ایس ایل 3 میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ حیران جس ٹیم نے کیاوہ ملتان سلطانز نے۔ لیکن کیا یہ کارکردگی واقعی حیران کن تھی؟ سوچیں وسیم اکرم کی زیرِ نگرانی کمار سنگاکارا، شعیب ملک، کیرون پولارڈ اور طاہر کے ساتھ سہیل تنویر، محمد عرفان، جنید خان کھیل رہے ہوں تو کیا اس ٹیم کو خطرہ نہیں سمجھا جائے گا؟ ہمارے خیال میں ملتان کی کارکردگی توقعات کے عین مطابق ہے۔ پہلے ہی مقابلے میں انہوں نے دفاعی چیمپیئن پشاور کو 7 وکٹوں سے ہرایا۔ محمد عرفان اور دوسرے باؤلرز کی باؤلنگ دیکھنے کے قابل تھی اور سنگاکارا اور شعیب ملک کی اننگز بھی۔
لاہور کے خلاف بھی یہی دونوں بیٹسمین چلے اور ہم نے جنید خان اور عمران طاہر کی جادوئی باؤلنگ بھی دیکھی۔ ملتان کو اب تک واحد شکست اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ہوئی، جس نے ملتان کی سب سے بڑی کمزوری کو کھول کر رکھ دیا، یعنی کمار سنگاکارا اور شعیب ملک پر بہت زیادہ انحصار۔ یہاں سنگا نہیں چلے، شعیب نے اپنی سی کوشش تو کی لیکن اسکور بورڈ پر صرف 113 رنز جوڑ پائے، جو جیت کے لیے کافی نہیں تھے۔ اس لیے اگر ملتان تسلسل کے ساتھ جیتنا چاہتا ہے تو اگلے مقابلوں میں احمد شہزاد، ڈیرن براوو، صہیب مقصود اور خاص طور پر کیرون پولارڈ کو ذمہ داری سنبھالنا ہوگی، اگر ایسا نہ کر پائے تو شاید اسی رفتار سے کامیابیاں نہ ملیں۔
پشاور زلمی
دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی اب تک کچھ خاص متاثر نہیں کرسکی ہے۔ ایک تو شاہد آفریدی کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی فین فالوونگ اور شاید ‘فائر پاور’ میں بھی کمی آئی ہے بلکہ جنید خان کی عدم دستیابی سے اس کی باؤلنگ لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں عمید آصف اور ابتسام شیخ نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے 3 میں سے 2 میچز ہار جانا پشاور کے لیے کسی بھی طرح یہ اچھا نتیجہ نہیں ہے۔
لہٰذا مستقبل میں فتح کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ٹاپ آرڈر کام کرے، کیونکہ اب تک جس میچ میں تمیم اقبال اور کامران اکمل چلے، اس میں پشاور نے بخوبی کامیابی حاصل کی لیکن کراچی کے خلاف میچ میں تو ڈیوین اسمتھ کے 71 رنز بھی کام نہیں آئے۔ ڈیرن سیمی الیون کے پاس اب سوچنے کے لیے چند دن ہیں اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ زلمی کو کوئی بھی آسان نہیں لے گا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
اسلام آباد یونائیٹڈ نے اب تک صرف 2 میچز کھیلے ہیں اور دونوں ہی کپتان مصباح الحق کے بغیر۔ پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اس کے بیٹسمین نوجوان پشاوری باؤلرز عمید آصف اور ابتسام شیخ کے ہتھے چڑھ گئے اور یوں اسلام آباد نے ناکامی کا منہ دیکھا لیکن ملتان سلطانز کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ مسلسل 2 میچز جیت کر آنے والے ملتان کے خلاف اسلام آباد نے ایک بہترین کامیابی حاصل کی۔اگر ہم اسلام آباد کو پی ایس ایل 3 کی سب سے متوازن ٹیم کہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ خود دیکھ لیں، باؤلنگ لائن میں محمد سمیع، رومان رئیس اور فہیم اشرف کے علاوہ آندرے رسل، اسٹیون فن اور شاداب خان کسی بھی بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں۔ اب اگر مصباح الحق بھی صحت یاب ہوکر آجائیں تو سمجھیں ہر شعبہ مضبوط ہوجائے۔ وکٹ کیپر لیوک رونکی ایک جارحانہ بیٹسمین ہیں، چیڈوک والٹن کی بیٹنگ تو ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں دیکھ ہی لی ہوگی۔ مصباح الحق، حسین طلعت اور آصف علی کے ساتھ مڈل آرڈر سنبھالیں گے تو سمجھیں آخری کمزور کڑی بھی ختم ہوجائے گی۔
پشاور کے خلاف 177 رنز کے تعاقب میں 73 رنز پر اسلام آباد کی 8 وکٹیں گرگئیں تھی جس کے بعد فہیم اشرف نے ثابت کیا کہ انہیں مستقبل کا آل راؤنڈر کیوں کہتے ہیں۔ اور ایک بات تو ہم بھول ہی گئے، جنوبی افریقہ کے جے پی ڈومنی بھی آچکے ہیں۔ یعنی اس وقت اگر کوئی ٹیم سب سے زیادہ خطرناک کہلائی جاسکتی ہے تو وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ہی ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
کوئٹہ ہمیشہ کی طرح ‘چھپا رستم’ ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔ پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے کوئٹہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ وہ کسی بڑے تجزیہ کار کی ریٹنگ میں پیش پیش نہیں ہوتے، فین فالوونگ بھی بہت زیادہ نہیں لیکن لیکن ہمیشہ تسلسل کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں۔ اہم مقابلے جیتتے ہیں اور فائنل تک پہنچتے ہیں۔پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ہرایا جبکہ پچھلے سال اہم کھلاڑیوں کے لاہور نہ آنے کی وجہ سے کوئٹہ کو پشاور کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اب تک جو 2 میچز کوئٹہ نے کھیلے ان میں سے ایک کراچی کے ہاتھوں ہارا ہے جبکہ دوسرے میں لاہور قلندرز کو شکست دی ہے۔ یعنی پشاور، اسلام آباد اور ملتان کے خلاف اب تک کوئٹہ کی صلاحیتیں نہیں آزمائی گئیں۔ لیکن اب تک کوئٹہ کے ٹاپ آرڈر نے پرفارم کیا ہے، جو سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شین واٹسن کی دھواں دار بیٹنگ تو ہم ایک بار دیکھ ہی چکے ہیں۔ مڈل آرڈر میں کیون پیٹرسن، رائلی روسو اور سرفراز احمد موجود ہیں، جو کوئٹہ کو مضبوط ترین بیٹنگ اسکواڈز میں سے ایک بناتے ہیں۔ یہی نہیں باؤلنگ میں جوفرا آرچر، راحت علی، شین واٹسن، محمد نواز، انور علی اور ابھرتے ہوئے نوجوان باؤلر حسان خان کی موجودگی بھی کوئٹہ کو اسلام آباد کے بعد سب سے متوازن اسکواڈ بناتی ہے اور اگر کوئٹہ اپنی صلاحیتوں اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر کھیلا تو کوئی بعید نہیں کہ 25 مارچ کو کراچی میں ہونے والے فائنل میں ایک ٹیم کوئٹہ کی ہو۔
لاہور قلندرز
اب آخر میں بات کرتے ہیں پاکستان سپر لیگ کی سب سے مستقل مزاج ٹیم کی، جی ہاں! لاہور قلندرز کی، جو ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ابھی تک آخری نمبر پر ہیں۔ لاہور کاغذ پر بہت مضبوط اسکواڈ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت ان کی سب سے بڑی طاقت ہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ان کے سارے بیٹسمین ایک ہی مزاج، ایک ہی انداز اور ایک ہی صلاحیت کے حامل ہیں، اور وہ ہے ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش۔ برینڈن میک کولم ہوں، کیمرون ڈیلپورٹ یا پھر فخر زمان۔ لاہور کے پاس کسی ایسے بیٹسمین کی کمی ہے جو اننگز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسا کہ ملتان کے پاس شعیب ملک ہیں اور کراچی کے پاس روی بوپارا۔ بلاشبہ لاہور کے پاس عمر اکمل ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لاہور کے جیتنے کا تمام تر انحصار عمر اکمل کے چلنے پر ہے، مگر وہ اب تک بْری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ پہلے میچ میں 31 رنز بنائے تو وکٹ کیپر کے طور پر اْس کی کسر نکال دی۔ دوسرے میچ میں یہ اضافی ذمہ داری لے لی گئی تو بیٹنگ اور پیچھے چلی گئی اور تیسرے مقابلے میں تو حد ہی کردی، بْری طرح آؤٹ ہوئے اور لاہور کی شکست پر مہر ثبت کرگئے۔
مڈل آرڈر کی یہی کارکردگی ہے جس کی وجہ سے لاہور بہترین آغاز پانے کے باوجود اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں تو حد ہی ہوگئی کہ جس میں آخری 7 وکٹیں صرف 4 رنز کے اضافے سے گریں۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ لاہور کو بیٹنگ کے شعبے میں ہنگامی حالات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو فوراً سے پیشتر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ باؤلنگ میں لاہور کے پاس بہت طاقت ہے۔ یاسر شاہ اور سنیل نرائن جیسے اسپنرز، مستفیض الرحمٰن اور سہیل خان جیسے عمدہ فاسٹ باؤلرز اور شاہین آفریدی جیسے ابھرتے ہوئے گیند باز کی موجودگی میں باؤلنگ میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بس توجہ رکھنی ہے بیٹنگ لائن پر۔ لاہور جتنی جلدی اپنے اس مسئلے سے نمٹے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا، ورنہ پچھلے سالوں کی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرا دی جائے گی یعنی لاہور سب سے پہلے باہر ہوگا۔


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر