وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

جمعرات 01 مارچ 2018 پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

پاکستان سپر لیگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیاجس کے دورا ن دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں آٹھ میچزکھیلے گئے ۔ جن میں کراچی کنگزاپنے تمام 3میچزجیت کرپوائنٹ ٹیبل پرنمبر دن ہے،پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے کاآغازایک دن کے وقفے کے بعد شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم ہوچکاہے جہاں تادم تحریرکوئٹہ گلیڈی ایٹراوراسلام آبادیونائیٹڈکی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔پہلے مرحلے میں اب تک سب ٹیمیں بارہا اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکی ہیں اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ابتدائی تاثر تو سب کا قائم ہوچکا ہے۔ یقیناایک دن کے وقفے سے فائدہ اٹھاکر تمام ٹیمیں اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہوگا اور آگے کی منصوبہ بندی بھی کی جاچکی ہوگی۔پہلے مرحلے میں ٹیموں کی کارکردگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کودورکرنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جاچکے ہوں گے ۔ یوں توٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیمیں بھرپورتیاری کے ساتھ آئی ہیں ۔اوردنیائے کرکٹ کے بڑے نام ان میں شامل ہیں ۔لیکن اب تک کی اگرکارکردگی کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوجاتاہے پی ایس ایل کے پہلے دوایڈیشنزمیں گرتے پڑے فتوحات سمیٹنے والی کراچی کنگزایک دم چھائی ہوئی نظرآرہی ہے ۔ دوسرے نمبرپرملتان سلطانزنے بھی پی ایس ایل میں دھماکے دارانٹری سے دیگرٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔اس حوالے سے ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کاایک جائزہ پیش کیاجارہاہے
کراچی کنگز
ایسا لگتا ہے کہ شاہد خان آفریدی کی آمد نے کراچی کنگز میں بجلی سی بھر دی ہے۔ کہاں وہ کراچی جو پہلے دونوں سیزنز میں گرتے، پڑتے، بڑی مشکل سے کوالیفائرز تک پہنچتا تھا اور کہاں یہ کہ ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ پھر میچز بھی اْن کے خلاف جیتے ہیں جو پی ایس ایل تاریخ میں سب سے زیادہ تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھاتے آئے ہیں یعنی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے خلاف اور پھر ‘سونے پہ سہاگہ’ لاہور قلندرز کے خلاف فتح!
ان پے در پے کامیابیوں نے ثابت کیا ہے کہ کراچی کی ابتدائی فتوحات اتفاقی نہیں بلکہ ایک بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ تک، کراچی کنگز ایک مکمل متوازن ٹیم لگتی ہے اور پھر جس طرح محمد عامر جیسا اسٹرائیک باؤلر زخمی ہونے کے باوجود لاہور کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے، وہ ٹیم کی bench strength بھی ظاہر کرتی ہے۔
روی بوپارا ہمیشہ کی طرح ایک مردِ بحران کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں اور کولن انگرام نے بھی اب تک ثابت کیا ہے کہ انہیں منتخب کرنا کراچی کا بہترین فیصلہ تھا۔ بہرحال، اب تک کراچی کے لیے ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ ہے، دیکھتے ہیں آئندہ مقابلوں میں کوئی شکست ان کے حوصلوں میں دراڑ ڈال پاتی ہے یا نہیں؟۔
ملتان سلطان
پی ایس ایل 3 میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ حیران جس ٹیم نے کیاوہ ملتان سلطانز نے۔ لیکن کیا یہ کارکردگی واقعی حیران کن تھی؟ سوچیں وسیم اکرم کی زیرِ نگرانی کمار سنگاکارا، شعیب ملک، کیرون پولارڈ اور طاہر کے ساتھ سہیل تنویر، محمد عرفان، جنید خان کھیل رہے ہوں تو کیا اس ٹیم کو خطرہ نہیں سمجھا جائے گا؟ ہمارے خیال میں ملتان کی کارکردگی توقعات کے عین مطابق ہے۔ پہلے ہی مقابلے میں انہوں نے دفاعی چیمپیئن پشاور کو 7 وکٹوں سے ہرایا۔ محمد عرفان اور دوسرے باؤلرز کی باؤلنگ دیکھنے کے قابل تھی اور سنگاکارا اور شعیب ملک کی اننگز بھی۔
لاہور کے خلاف بھی یہی دونوں بیٹسمین چلے اور ہم نے جنید خان اور عمران طاہر کی جادوئی باؤلنگ بھی دیکھی۔ ملتان کو اب تک واحد شکست اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ہوئی، جس نے ملتان کی سب سے بڑی کمزوری کو کھول کر رکھ دیا، یعنی کمار سنگاکارا اور شعیب ملک پر بہت زیادہ انحصار۔ یہاں سنگا نہیں چلے، شعیب نے اپنی سی کوشش تو کی لیکن اسکور بورڈ پر صرف 113 رنز جوڑ پائے، جو جیت کے لیے کافی نہیں تھے۔ اس لیے اگر ملتان تسلسل کے ساتھ جیتنا چاہتا ہے تو اگلے مقابلوں میں احمد شہزاد، ڈیرن براوو، صہیب مقصود اور خاص طور پر کیرون پولارڈ کو ذمہ داری سنبھالنا ہوگی، اگر ایسا نہ کر پائے تو شاید اسی رفتار سے کامیابیاں نہ ملیں۔
پشاور زلمی
دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی اب تک کچھ خاص متاثر نہیں کرسکی ہے۔ ایک تو شاہد آفریدی کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی فین فالوونگ اور شاید ‘فائر پاور’ میں بھی کمی آئی ہے بلکہ جنید خان کی عدم دستیابی سے اس کی باؤلنگ لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں عمید آصف اور ابتسام شیخ نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے 3 میں سے 2 میچز ہار جانا پشاور کے لیے کسی بھی طرح یہ اچھا نتیجہ نہیں ہے۔
لہٰذا مستقبل میں فتح کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ٹاپ آرڈر کام کرے، کیونکہ اب تک جس میچ میں تمیم اقبال اور کامران اکمل چلے، اس میں پشاور نے بخوبی کامیابی حاصل کی لیکن کراچی کے خلاف میچ میں تو ڈیوین اسمتھ کے 71 رنز بھی کام نہیں آئے۔ ڈیرن سیمی الیون کے پاس اب سوچنے کے لیے چند دن ہیں اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ زلمی کو کوئی بھی آسان نہیں لے گا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
اسلام آباد یونائیٹڈ نے اب تک صرف 2 میچز کھیلے ہیں اور دونوں ہی کپتان مصباح الحق کے بغیر۔ پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اس کے بیٹسمین نوجوان پشاوری باؤلرز عمید آصف اور ابتسام شیخ کے ہتھے چڑھ گئے اور یوں اسلام آباد نے ناکامی کا منہ دیکھا لیکن ملتان سلطانز کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ مسلسل 2 میچز جیت کر آنے والے ملتان کے خلاف اسلام آباد نے ایک بہترین کامیابی حاصل کی۔اگر ہم اسلام آباد کو پی ایس ایل 3 کی سب سے متوازن ٹیم کہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ خود دیکھ لیں، باؤلنگ لائن میں محمد سمیع، رومان رئیس اور فہیم اشرف کے علاوہ آندرے رسل، اسٹیون فن اور شاداب خان کسی بھی بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں۔ اب اگر مصباح الحق بھی صحت یاب ہوکر آجائیں تو سمجھیں ہر شعبہ مضبوط ہوجائے۔ وکٹ کیپر لیوک رونکی ایک جارحانہ بیٹسمین ہیں، چیڈوک والٹن کی بیٹنگ تو ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں دیکھ ہی لی ہوگی۔ مصباح الحق، حسین طلعت اور آصف علی کے ساتھ مڈل آرڈر سنبھالیں گے تو سمجھیں آخری کمزور کڑی بھی ختم ہوجائے گی۔
پشاور کے خلاف 177 رنز کے تعاقب میں 73 رنز پر اسلام آباد کی 8 وکٹیں گرگئیں تھی جس کے بعد فہیم اشرف نے ثابت کیا کہ انہیں مستقبل کا آل راؤنڈر کیوں کہتے ہیں۔ اور ایک بات تو ہم بھول ہی گئے، جنوبی افریقہ کے جے پی ڈومنی بھی آچکے ہیں۔ یعنی اس وقت اگر کوئی ٹیم سب سے زیادہ خطرناک کہلائی جاسکتی ہے تو وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ہی ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
کوئٹہ ہمیشہ کی طرح ‘چھپا رستم’ ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔ پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے کوئٹہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ وہ کسی بڑے تجزیہ کار کی ریٹنگ میں پیش پیش نہیں ہوتے، فین فالوونگ بھی بہت زیادہ نہیں لیکن لیکن ہمیشہ تسلسل کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں۔ اہم مقابلے جیتتے ہیں اور فائنل تک پہنچتے ہیں۔پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ہرایا جبکہ پچھلے سال اہم کھلاڑیوں کے لاہور نہ آنے کی وجہ سے کوئٹہ کو پشاور کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اب تک جو 2 میچز کوئٹہ نے کھیلے ان میں سے ایک کراچی کے ہاتھوں ہارا ہے جبکہ دوسرے میں لاہور قلندرز کو شکست دی ہے۔ یعنی پشاور، اسلام آباد اور ملتان کے خلاف اب تک کوئٹہ کی صلاحیتیں نہیں آزمائی گئیں۔ لیکن اب تک کوئٹہ کے ٹاپ آرڈر نے پرفارم کیا ہے، جو سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شین واٹسن کی دھواں دار بیٹنگ تو ہم ایک بار دیکھ ہی چکے ہیں۔ مڈل آرڈر میں کیون پیٹرسن، رائلی روسو اور سرفراز احمد موجود ہیں، جو کوئٹہ کو مضبوط ترین بیٹنگ اسکواڈز میں سے ایک بناتے ہیں۔ یہی نہیں باؤلنگ میں جوفرا آرچر، راحت علی، شین واٹسن، محمد نواز، انور علی اور ابھرتے ہوئے نوجوان باؤلر حسان خان کی موجودگی بھی کوئٹہ کو اسلام آباد کے بعد سب سے متوازن اسکواڈ بناتی ہے اور اگر کوئٹہ اپنی صلاحیتوں اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر کھیلا تو کوئی بعید نہیں کہ 25 مارچ کو کراچی میں ہونے والے فائنل میں ایک ٹیم کوئٹہ کی ہو۔
لاہور قلندرز
اب آخر میں بات کرتے ہیں پاکستان سپر لیگ کی سب سے مستقل مزاج ٹیم کی، جی ہاں! لاہور قلندرز کی، جو ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ابھی تک آخری نمبر پر ہیں۔ لاہور کاغذ پر بہت مضبوط اسکواڈ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت ان کی سب سے بڑی طاقت ہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ان کے سارے بیٹسمین ایک ہی مزاج، ایک ہی انداز اور ایک ہی صلاحیت کے حامل ہیں، اور وہ ہے ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش۔ برینڈن میک کولم ہوں، کیمرون ڈیلپورٹ یا پھر فخر زمان۔ لاہور کے پاس کسی ایسے بیٹسمین کی کمی ہے جو اننگز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسا کہ ملتان کے پاس شعیب ملک ہیں اور کراچی کے پاس روی بوپارا۔ بلاشبہ لاہور کے پاس عمر اکمل ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لاہور کے جیتنے کا تمام تر انحصار عمر اکمل کے چلنے پر ہے، مگر وہ اب تک بْری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ پہلے میچ میں 31 رنز بنائے تو وکٹ کیپر کے طور پر اْس کی کسر نکال دی۔ دوسرے میچ میں یہ اضافی ذمہ داری لے لی گئی تو بیٹنگ اور پیچھے چلی گئی اور تیسرے مقابلے میں تو حد ہی کردی، بْری طرح آؤٹ ہوئے اور لاہور کی شکست پر مہر ثبت کرگئے۔
مڈل آرڈر کی یہی کارکردگی ہے جس کی وجہ سے لاہور بہترین آغاز پانے کے باوجود اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں تو حد ہی ہوگئی کہ جس میں آخری 7 وکٹیں صرف 4 رنز کے اضافے سے گریں۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ لاہور کو بیٹنگ کے شعبے میں ہنگامی حالات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو فوراً سے پیشتر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ باؤلنگ میں لاہور کے پاس بہت طاقت ہے۔ یاسر شاہ اور سنیل نرائن جیسے اسپنرز، مستفیض الرحمٰن اور سہیل خان جیسے عمدہ فاسٹ باؤلرز اور شاہین آفریدی جیسے ابھرتے ہوئے گیند باز کی موجودگی میں باؤلنگ میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بس توجہ رکھنی ہے بیٹنگ لائن پر۔ لاہور جتنی جلدی اپنے اس مسئلے سے نمٹے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا، ورنہ پچھلے سالوں کی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرا دی جائے گی یعنی لاہور سب سے پہلے باہر ہوگا۔


متعلقہ خبریں


سینیٹ الیکشن میں پیسہ، الیکشن کمیشن ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لے ، وزیراعظم وجود - اتوار 07 مارچ 2021

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لیں تاکہ انہیں اندازہ ہ کہ اس (سینیٹ) الیکشن میں کتنا پیسہ چلا ہے ،مجھے شرمندگی ہوتی ہے کدھر پاکستان کا خواب اور کدھر یہ بکرا منڈی بنی ہوئی لوگوں کو خریدنے کے لیے ، ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا ،الیکشن کمیشن نے اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پتا نہیں برا الیکشن کیا ہوتا ہے ؟انتخابی حاصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے ،الیکٹرانک مشین لائیں گے ،نواز شریف ایک ڈاکو 30 سال لوٹ کر ملک سے باہر ...

سینیٹ الیکشن میں پیسہ، الیکشن کمیشن ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لے ، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان سے اتحادی جماعتوں کے اراکین کی ملاقات، مبارکباد بھی دی وجود - اتوار 07 مارچ 2021

وزیراعظم عمران خان سے اتحادی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی اور انہیں اعتماد کے ووٹ میں کامیابی پر مبارک باد دی۔قومی اسمبلی اجلاس کے بعد ہونے والی ملاقات میں اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان کو مستقبل میں بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے ۔عمران خان سے ملاقات کرنے والوں میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، ایم کیو ایم سربراہ خالد مقبول صدیقی، غوث بخش مہر، فہمیدہ مرزا، نواب شاہ، زین بگٹی اور شاہ محمود قریشی شامل تھے ۔وزیراعظم سے ملنے والوں میں وزیراعلیٰ بلوچست...

وزیراعظم عمران خان سے اتحادی جماعتوں کے اراکین کی ملاقات، مبارکباد بھی دی

نوازشریف کے بعد عمران خان اعتماد کا ووٹ لینے والے دوسرے وزیراعظم بن گئے وجود - اتوار 07 مارچ 2021

وزیر اعظم عمران خان ملک کی سیاسی تاریخ میں دوسرے وزیر اعظم بن گئے ہیں جنہوں نے اپنی ایک ہی مدت میں دو مرتبہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان نے دوسری مرتبہ اعتماد کا ووٹ لیا۔ 178 ارکان نے ان پر اعتماد کیا ، محسن داوڑ اور عبدالاکبر چترالی کے علاوہ کوئی اپوزیشن کا کوئی رکن ایوان میں کارروائی کے دوران شریک نہ ہوا۔وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی میں ایک ہی مدت کے دوران دوسری مرتبہ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے ۔ اس سے قبل ...

نوازشریف کے بعد عمران خان اعتماد کا ووٹ لینے والے دوسرے وزیراعظم بن گئے

لانگ مارچ، ملکی سیاسی صورتحال پر ن لیگ کا اہم اجلاس 8مارچ کو طلب وجود - اتوار 07 مارچ 2021

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے لانگ مارچ اور ملکی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس طلب کرلیا ہے ۔ن لیگ نے پیر 8 مارچ کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں اجلاس طلب کیا ہے ، جس میں پارٹی کے 17 سینئر رہنما شرکت کریں گے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں 26 مارچ کے لانگ مارچ کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد کی سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی عدم اعتماد کی تجوی...

لانگ مارچ، ملکی سیاسی صورتحال پر ن لیگ کا اہم اجلاس 8مارچ کو طلب

پی ڈی ایم کا حکومت مخالف سر گرمیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ وجود - اتوار 07 مارچ 2021

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد حکومت مخالف سر گرمیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے ، پنجاب میں ان ہائوس تبدیلی کے حوالے سے بھی پیشرفت کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی آج اتوار کے روز پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سے ملاقات ہو گی ۔ بلاول بھٹو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو رہائی ملنے پر باضابطہ مبارکباد دیں گے جبکہ حمزہ شہ...

پی ڈی ایم کا حکومت مخالف سر گرمیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ

وزیراعظم کا پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو بطور پارٹی چیئرمین خط وجود - هفته 06 مارچ 2021

وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو بطور پارٹی چیئرمین خط لکھ دیا۔خط میں ووٹ سے متعلق رولز کے بارے میں ارکان کو بتایا گیا ہے ۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ 12بج کر 15منٹ کے بعد اسمبلی ہال اورچیمبر کے دروازے بند ہوجائیں گے ۔خط میں کہا گیا ہے کہ 12بج کر 15منٹ کے بعد کسی رکن کو اسمبلی ہال میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی، پارٹی کی ہدایت کے مطابق تمام ارکان کو اعتماد کے ووٹ کیلئے حاضری یقینی بنانا ہوگی۔خط کے مطابق عدم حاضری کی صورت میں رکن کے خلاف نااہلی کی کارروائی شروع ک...

وزیراعظم کا پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو بطور پارٹی چیئرمین خط

کسی بھی خطرے کیخلاف اعلیٰ تربیت وعزم آپریشنل صلاحیتیوں میں اضافہ کرتی ہے ،جنرل قمر جاوید باجوہ وجود - هفته 06 مارچ 2021

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کسی بھی خطرے کیخلاف اعلیٰ تربیت وعزم آپریشنل صلاحیتیوں میں اضافہ کرتی ہے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چولستان صحرا میں فیلڈ ٹریننگ ایریا کا دورہ کیا،آرمی چیف کو کور سطح کی دو ہفتوں کی ضرب حدید مشق کے طریقہ کارپربریفنگ دی گئی۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشق کا مقصد فارمیشنزکی انفنٹری کے درمیان مطابقت پیدا کرکے آپریشنل تیاریوں کوبڑھانا تھا۔آئی ایس...

کسی بھی خطرے کیخلاف اعلیٰ تربیت وعزم آپریشنل صلاحیتیوں میں اضافہ کرتی ہے ،جنرل قمر جاوید باجوہ

کمیشن پر اشتہارات ، حکومت سندھ کا بڑے پیمانے پر تحقیقات کا حکم وجود - هفته 06 مارچ 2021

کمیشن پر اشتہارات کے سلسلے میں حکومت سندھ نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔ذرائع کے مطابق محکمہ اطلاعات سندھ میں کمیشن پر اشتہارات دینے کے معاملے پر حکومت سندھ نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔محکمہ اطلاعات سندھ نے جنوری، فروری اور مارچ 2021 میں جاری کیے جانے والے اشتہا رات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ۔کمیشن پر اشتہارات دینے کے متعلق میڈیا پر چلنے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات رفیق احمد برڑو نے انکوائری کے احکامات دے دیے ۔ڈائریکٹر اطلاعات سلیم خان...

کمیشن پر اشتہارات ، حکومت سندھ کا بڑے پیمانے پر تحقیقات کا حکم

پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے متعلق پیپلزپارٹی سندھ کا ہنگامی اجلاس آج طلب وجود - هفته 06 مارچ 2021

پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے متعلق پیپلزپارٹی سندھ کا ہنگامی اجلاس آج (ہفتہ) طلب کرلیا گیا۔ ترجمان عاجز دھامرہ کے مطابق پی ڈی ایم اے کا اجلاس نثار احمد کھوڑو کی صدارت میں12بجے پیپلز سیکریٹریٹ کراچی میں ہوگا ۔ اجلاس میں تمام صوبائی عہدیدار ، ڈویزنل صدور اور ذیلی تنظیموں کے صوبائی صدور شرکت کریں گے ۔ اجلاس میں پی ڈی ایم کے 26مارچ کے لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائیگا۔لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کے لئے انتظامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ عاجز دھامرہ نے کہا کہ قوم خوشخبری کے لیے ...

پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے متعلق پیپلزپارٹی سندھ کا ہنگامی اجلاس آج طلب

پارلیمانی پارٹی اجلاس ،180اراکین کی کھڑے ہوکر وزیراعظم کو حمایت کی یقین دہانی وجود - هفته 06 مارچ 2021

وزیر اعظم کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 180اراکین نے کھڑے ہوکر وزیراعظم کو حمایت کی یقین دہانی کرائی جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت اور رائے کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں،ایک مقصد کیلئے سیاست شروع کی ہے ،مجھے کوئی بلیک میل کر کے اپنی بات نہیں منوا سکا، عوام نے ووٹ کی امانت دے کر ایوان میں بھیجا ہے ،جسے مجھ پر اعتماد نہیں وہ کھل کر اظہار کرے ،اگر آپ کی نظر میں غلط ہوں تو بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں۔جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی اتحاد کا اجل...

پارلیمانی پارٹی اجلاس ،180اراکین کی کھڑے ہوکر وزیراعظم کو حمایت کی یقین دہانی

اسمبلی اجلاس میں ہمارا کوئی رکن نہیں جائیگا، پی ڈی ایم سربراہ کا اعلان وجود - هفته 06 مارچ 2021

اپوزیشن اتحادپی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کا کوئی رکن شریک نہیں ہوگا، اپوزیشن کی عدم شرکت کے بعد اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا ہے کہ عمران خان اکثریت کا اعتماد کھوچکے ہیں، ان کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے ،اس وقت ملک میں کوئی بھی حکومت نہیں ہے ،اس لئے نئے انتخابات کا اعلان کیا جانا چاہیے ۔سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان کے خطاب میں ان کی شکست...

اسمبلی اجلاس میں ہمارا کوئی رکن نہیں جائیگا، پی ڈی ایم سربراہ کا اعلان

ایوان کا اعتماد حاصل نہ کرسکا توا پوزیشن میں بیٹھ جائوں گا،عمران خان وجود - جمعه 05 مارچ 2021

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہفتے کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لوں گا،اگر ایوان کا اعتماد حاصل نہ کرسکا توا پوزیشن میں بیٹھ جاوں گا،خواہ اپوزیشن میں بیٹھوں یا اسمبلی سے باہر ہوں،ملکی دولت لوٹنے والوں میںسے کسی کو نہیں چھوڑ وںگا ، قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد کرتا رہوں گا اور غداروں چوروں کا مقابلہ کرتارہوں گا، الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ،سینیٹ انتخابات میں بے تحاشا پیسہ چلا، سیاست کو بدعنوان کردیا گیا ہے ،یوسف رضا گیلانی نے جیتنے کیلئے ارکان کے ضمیرخریدے ۔ الی...

ایوان کا اعتماد حاصل نہ کرسکا توا پوزیشن میں بیٹھ جائوں گا،عمران خان