وجود

... loading ...

وجود

پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

جمعرات 01 مارچ 2018 پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

پاکستان سپر لیگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیاجس کے دورا ن دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں آٹھ میچزکھیلے گئے ۔ جن میں کراچی کنگزاپنے تمام 3میچزجیت کرپوائنٹ ٹیبل پرنمبر دن ہے،پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے کاآغازایک دن کے وقفے کے بعد شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم ہوچکاہے جہاں تادم تحریرکوئٹہ گلیڈی ایٹراوراسلام آبادیونائیٹڈکی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔پہلے مرحلے میں اب تک سب ٹیمیں بارہا اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکی ہیں اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ابتدائی تاثر تو سب کا قائم ہوچکا ہے۔ یقیناایک دن کے وقفے سے فائدہ اٹھاکر تمام ٹیمیں اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہوگا اور آگے کی منصوبہ بندی بھی کی جاچکی ہوگی۔پہلے مرحلے میں ٹیموں کی کارکردگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کودورکرنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جاچکے ہوں گے ۔ یوں توٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیمیں بھرپورتیاری کے ساتھ آئی ہیں ۔اوردنیائے کرکٹ کے بڑے نام ان میں شامل ہیں ۔لیکن اب تک کی اگرکارکردگی کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوجاتاہے پی ایس ایل کے پہلے دوایڈیشنزمیں گرتے پڑے فتوحات سمیٹنے والی کراچی کنگزایک دم چھائی ہوئی نظرآرہی ہے ۔ دوسرے نمبرپرملتان سلطانزنے بھی پی ایس ایل میں دھماکے دارانٹری سے دیگرٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔اس حوالے سے ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کاایک جائزہ پیش کیاجارہاہے
کراچی کنگز
ایسا لگتا ہے کہ شاہد خان آفریدی کی آمد نے کراچی کنگز میں بجلی سی بھر دی ہے۔ کہاں وہ کراچی جو پہلے دونوں سیزنز میں گرتے، پڑتے، بڑی مشکل سے کوالیفائرز تک پہنچتا تھا اور کہاں یہ کہ ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ پھر میچز بھی اْن کے خلاف جیتے ہیں جو پی ایس ایل تاریخ میں سب سے زیادہ تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھاتے آئے ہیں یعنی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے خلاف اور پھر ‘سونے پہ سہاگہ’ لاہور قلندرز کے خلاف فتح!
ان پے در پے کامیابیوں نے ثابت کیا ہے کہ کراچی کی ابتدائی فتوحات اتفاقی نہیں بلکہ ایک بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ تک، کراچی کنگز ایک مکمل متوازن ٹیم لگتی ہے اور پھر جس طرح محمد عامر جیسا اسٹرائیک باؤلر زخمی ہونے کے باوجود لاہور کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے، وہ ٹیم کی bench strength بھی ظاہر کرتی ہے۔
روی بوپارا ہمیشہ کی طرح ایک مردِ بحران کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں اور کولن انگرام نے بھی اب تک ثابت کیا ہے کہ انہیں منتخب کرنا کراچی کا بہترین فیصلہ تھا۔ بہرحال، اب تک کراچی کے لیے ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ ہے، دیکھتے ہیں آئندہ مقابلوں میں کوئی شکست ان کے حوصلوں میں دراڑ ڈال پاتی ہے یا نہیں؟۔
ملتان سلطان
پی ایس ایل 3 میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ حیران جس ٹیم نے کیاوہ ملتان سلطانز نے۔ لیکن کیا یہ کارکردگی واقعی حیران کن تھی؟ سوچیں وسیم اکرم کی زیرِ نگرانی کمار سنگاکارا، شعیب ملک، کیرون پولارڈ اور طاہر کے ساتھ سہیل تنویر، محمد عرفان، جنید خان کھیل رہے ہوں تو کیا اس ٹیم کو خطرہ نہیں سمجھا جائے گا؟ ہمارے خیال میں ملتان کی کارکردگی توقعات کے عین مطابق ہے۔ پہلے ہی مقابلے میں انہوں نے دفاعی چیمپیئن پشاور کو 7 وکٹوں سے ہرایا۔ محمد عرفان اور دوسرے باؤلرز کی باؤلنگ دیکھنے کے قابل تھی اور سنگاکارا اور شعیب ملک کی اننگز بھی۔
لاہور کے خلاف بھی یہی دونوں بیٹسمین چلے اور ہم نے جنید خان اور عمران طاہر کی جادوئی باؤلنگ بھی دیکھی۔ ملتان کو اب تک واحد شکست اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ہوئی، جس نے ملتان کی سب سے بڑی کمزوری کو کھول کر رکھ دیا، یعنی کمار سنگاکارا اور شعیب ملک پر بہت زیادہ انحصار۔ یہاں سنگا نہیں چلے، شعیب نے اپنی سی کوشش تو کی لیکن اسکور بورڈ پر صرف 113 رنز جوڑ پائے، جو جیت کے لیے کافی نہیں تھے۔ اس لیے اگر ملتان تسلسل کے ساتھ جیتنا چاہتا ہے تو اگلے مقابلوں میں احمد شہزاد، ڈیرن براوو، صہیب مقصود اور خاص طور پر کیرون پولارڈ کو ذمہ داری سنبھالنا ہوگی، اگر ایسا نہ کر پائے تو شاید اسی رفتار سے کامیابیاں نہ ملیں۔
پشاور زلمی
دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی اب تک کچھ خاص متاثر نہیں کرسکی ہے۔ ایک تو شاہد آفریدی کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی فین فالوونگ اور شاید ‘فائر پاور’ میں بھی کمی آئی ہے بلکہ جنید خان کی عدم دستیابی سے اس کی باؤلنگ لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں عمید آصف اور ابتسام شیخ نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے 3 میں سے 2 میچز ہار جانا پشاور کے لیے کسی بھی طرح یہ اچھا نتیجہ نہیں ہے۔
لہٰذا مستقبل میں فتح کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ٹاپ آرڈر کام کرے، کیونکہ اب تک جس میچ میں تمیم اقبال اور کامران اکمل چلے، اس میں پشاور نے بخوبی کامیابی حاصل کی لیکن کراچی کے خلاف میچ میں تو ڈیوین اسمتھ کے 71 رنز بھی کام نہیں آئے۔ ڈیرن سیمی الیون کے پاس اب سوچنے کے لیے چند دن ہیں اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ زلمی کو کوئی بھی آسان نہیں لے گا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
اسلام آباد یونائیٹڈ نے اب تک صرف 2 میچز کھیلے ہیں اور دونوں ہی کپتان مصباح الحق کے بغیر۔ پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اس کے بیٹسمین نوجوان پشاوری باؤلرز عمید آصف اور ابتسام شیخ کے ہتھے چڑھ گئے اور یوں اسلام آباد نے ناکامی کا منہ دیکھا لیکن ملتان سلطانز کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ مسلسل 2 میچز جیت کر آنے والے ملتان کے خلاف اسلام آباد نے ایک بہترین کامیابی حاصل کی۔اگر ہم اسلام آباد کو پی ایس ایل 3 کی سب سے متوازن ٹیم کہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ خود دیکھ لیں، باؤلنگ لائن میں محمد سمیع، رومان رئیس اور فہیم اشرف کے علاوہ آندرے رسل، اسٹیون فن اور شاداب خان کسی بھی بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں۔ اب اگر مصباح الحق بھی صحت یاب ہوکر آجائیں تو سمجھیں ہر شعبہ مضبوط ہوجائے۔ وکٹ کیپر لیوک رونکی ایک جارحانہ بیٹسمین ہیں، چیڈوک والٹن کی بیٹنگ تو ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں دیکھ ہی لی ہوگی۔ مصباح الحق، حسین طلعت اور آصف علی کے ساتھ مڈل آرڈر سنبھالیں گے تو سمجھیں آخری کمزور کڑی بھی ختم ہوجائے گی۔
پشاور کے خلاف 177 رنز کے تعاقب میں 73 رنز پر اسلام آباد کی 8 وکٹیں گرگئیں تھی جس کے بعد فہیم اشرف نے ثابت کیا کہ انہیں مستقبل کا آل راؤنڈر کیوں کہتے ہیں۔ اور ایک بات تو ہم بھول ہی گئے، جنوبی افریقہ کے جے پی ڈومنی بھی آچکے ہیں۔ یعنی اس وقت اگر کوئی ٹیم سب سے زیادہ خطرناک کہلائی جاسکتی ہے تو وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ہی ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
کوئٹہ ہمیشہ کی طرح ‘چھپا رستم’ ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔ پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے کوئٹہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ وہ کسی بڑے تجزیہ کار کی ریٹنگ میں پیش پیش نہیں ہوتے، فین فالوونگ بھی بہت زیادہ نہیں لیکن لیکن ہمیشہ تسلسل کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں۔ اہم مقابلے جیتتے ہیں اور فائنل تک پہنچتے ہیں۔پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ہرایا جبکہ پچھلے سال اہم کھلاڑیوں کے لاہور نہ آنے کی وجہ سے کوئٹہ کو پشاور کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اب تک جو 2 میچز کوئٹہ نے کھیلے ان میں سے ایک کراچی کے ہاتھوں ہارا ہے جبکہ دوسرے میں لاہور قلندرز کو شکست دی ہے۔ یعنی پشاور، اسلام آباد اور ملتان کے خلاف اب تک کوئٹہ کی صلاحیتیں نہیں آزمائی گئیں۔ لیکن اب تک کوئٹہ کے ٹاپ آرڈر نے پرفارم کیا ہے، جو سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شین واٹسن کی دھواں دار بیٹنگ تو ہم ایک بار دیکھ ہی چکے ہیں۔ مڈل آرڈر میں کیون پیٹرسن، رائلی روسو اور سرفراز احمد موجود ہیں، جو کوئٹہ کو مضبوط ترین بیٹنگ اسکواڈز میں سے ایک بناتے ہیں۔ یہی نہیں باؤلنگ میں جوفرا آرچر، راحت علی، شین واٹسن، محمد نواز، انور علی اور ابھرتے ہوئے نوجوان باؤلر حسان خان کی موجودگی بھی کوئٹہ کو اسلام آباد کے بعد سب سے متوازن اسکواڈ بناتی ہے اور اگر کوئٹہ اپنی صلاحیتوں اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر کھیلا تو کوئی بعید نہیں کہ 25 مارچ کو کراچی میں ہونے والے فائنل میں ایک ٹیم کوئٹہ کی ہو۔
لاہور قلندرز
اب آخر میں بات کرتے ہیں پاکستان سپر لیگ کی سب سے مستقل مزاج ٹیم کی، جی ہاں! لاہور قلندرز کی، جو ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ابھی تک آخری نمبر پر ہیں۔ لاہور کاغذ پر بہت مضبوط اسکواڈ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت ان کی سب سے بڑی طاقت ہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ان کے سارے بیٹسمین ایک ہی مزاج، ایک ہی انداز اور ایک ہی صلاحیت کے حامل ہیں، اور وہ ہے ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش۔ برینڈن میک کولم ہوں، کیمرون ڈیلپورٹ یا پھر فخر زمان۔ لاہور کے پاس کسی ایسے بیٹسمین کی کمی ہے جو اننگز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسا کہ ملتان کے پاس شعیب ملک ہیں اور کراچی کے پاس روی بوپارا۔ بلاشبہ لاہور کے پاس عمر اکمل ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لاہور کے جیتنے کا تمام تر انحصار عمر اکمل کے چلنے پر ہے، مگر وہ اب تک بْری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ پہلے میچ میں 31 رنز بنائے تو وکٹ کیپر کے طور پر اْس کی کسر نکال دی۔ دوسرے میچ میں یہ اضافی ذمہ داری لے لی گئی تو بیٹنگ اور پیچھے چلی گئی اور تیسرے مقابلے میں تو حد ہی کردی، بْری طرح آؤٹ ہوئے اور لاہور کی شکست پر مہر ثبت کرگئے۔
مڈل آرڈر کی یہی کارکردگی ہے جس کی وجہ سے لاہور بہترین آغاز پانے کے باوجود اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں تو حد ہی ہوگئی کہ جس میں آخری 7 وکٹیں صرف 4 رنز کے اضافے سے گریں۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ لاہور کو بیٹنگ کے شعبے میں ہنگامی حالات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو فوراً سے پیشتر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ باؤلنگ میں لاہور کے پاس بہت طاقت ہے۔ یاسر شاہ اور سنیل نرائن جیسے اسپنرز، مستفیض الرحمٰن اور سہیل خان جیسے عمدہ فاسٹ باؤلرز اور شاہین آفریدی جیسے ابھرتے ہوئے گیند باز کی موجودگی میں باؤلنگ میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بس توجہ رکھنی ہے بیٹنگ لائن پر۔ لاہور جتنی جلدی اپنے اس مسئلے سے نمٹے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا، ورنہ پچھلے سالوں کی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرا دی جائے گی یعنی لاہور سب سے پہلے باہر ہوگا۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر