... loading ...
پاکستان سپر لیگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیاجس کے دورا ن دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں آٹھ میچزکھیلے گئے ۔ جن میں کراچی کنگزاپنے تمام 3میچزجیت کرپوائنٹ ٹیبل پرنمبر دن ہے،پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے کاآغازایک دن کے وقفے کے بعد شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم ہوچکاہے جہاں تادم تحریرکوئٹہ گلیڈی ایٹراوراسلام آبادیونائیٹڈکی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔پہلے مرحلے میں اب تک سب ٹیمیں بارہا اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکی ہیں اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ابتدائی تاثر تو سب کا قائم ہوچکا ہے۔ یقیناایک دن کے وقفے سے فائدہ اٹھاکر تمام ٹیمیں اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہوگا اور آگے کی منصوبہ بندی بھی کی جاچکی ہوگی۔پہلے مرحلے میں ٹیموں کی کارکردگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کودورکرنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جاچکے ہوں گے ۔ یوں توٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیمیں بھرپورتیاری کے ساتھ آئی ہیں ۔اوردنیائے کرکٹ کے بڑے نام ان میں شامل ہیں ۔لیکن اب تک کی اگرکارکردگی کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوجاتاہے پی ایس ایل کے پہلے دوایڈیشنزمیں گرتے پڑے فتوحات سمیٹنے والی کراچی کنگزایک دم چھائی ہوئی نظرآرہی ہے ۔ دوسرے نمبرپرملتان سلطانزنے بھی پی ایس ایل میں دھماکے دارانٹری سے دیگرٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔اس حوالے سے ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کاایک جائزہ پیش کیاجارہاہے
کراچی کنگز
ایسا لگتا ہے کہ شاہد خان آفریدی کی آمد نے کراچی کنگز میں بجلی سی بھر دی ہے۔ کہاں وہ کراچی جو پہلے دونوں سیزنز میں گرتے، پڑتے، بڑی مشکل سے کوالیفائرز تک پہنچتا تھا اور کہاں یہ کہ ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ پھر میچز بھی اْن کے خلاف جیتے ہیں جو پی ایس ایل تاریخ میں سب سے زیادہ تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھاتے آئے ہیں یعنی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے خلاف اور پھر ‘سونے پہ سہاگہ’ لاہور قلندرز کے خلاف فتح!
ان پے در پے کامیابیوں نے ثابت کیا ہے کہ کراچی کی ابتدائی فتوحات اتفاقی نہیں بلکہ ایک بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ تک، کراچی کنگز ایک مکمل متوازن ٹیم لگتی ہے اور پھر جس طرح محمد عامر جیسا اسٹرائیک باؤلر زخمی ہونے کے باوجود لاہور کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے، وہ ٹیم کی bench strength بھی ظاہر کرتی ہے۔
روی بوپارا ہمیشہ کی طرح ایک مردِ بحران کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں اور کولن انگرام نے بھی اب تک ثابت کیا ہے کہ انہیں منتخب کرنا کراچی کا بہترین فیصلہ تھا۔ بہرحال، اب تک کراچی کے لیے ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ ہے، دیکھتے ہیں آئندہ مقابلوں میں کوئی شکست ان کے حوصلوں میں دراڑ ڈال پاتی ہے یا نہیں؟۔
ملتان سلطان
پی ایس ایل 3 میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ حیران جس ٹیم نے کیاوہ ملتان سلطانز نے۔ لیکن کیا یہ کارکردگی واقعی حیران کن تھی؟ سوچیں وسیم اکرم کی زیرِ نگرانی کمار سنگاکارا، شعیب ملک، کیرون پولارڈ اور طاہر کے ساتھ سہیل تنویر، محمد عرفان، جنید خان کھیل رہے ہوں تو کیا اس ٹیم کو خطرہ نہیں سمجھا جائے گا؟ ہمارے خیال میں ملتان کی کارکردگی توقعات کے عین مطابق ہے۔ پہلے ہی مقابلے میں انہوں نے دفاعی چیمپیئن پشاور کو 7 وکٹوں سے ہرایا۔ محمد عرفان اور دوسرے باؤلرز کی باؤلنگ دیکھنے کے قابل تھی اور سنگاکارا اور شعیب ملک کی اننگز بھی۔
لاہور کے خلاف بھی یہی دونوں بیٹسمین چلے اور ہم نے جنید خان اور عمران طاہر کی جادوئی باؤلنگ بھی دیکھی۔ ملتان کو اب تک واحد شکست اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ہوئی، جس نے ملتان کی سب سے بڑی کمزوری کو کھول کر رکھ دیا، یعنی کمار سنگاکارا اور شعیب ملک پر بہت زیادہ انحصار۔ یہاں سنگا نہیں چلے، شعیب نے اپنی سی کوشش تو کی لیکن اسکور بورڈ پر صرف 113 رنز جوڑ پائے، جو جیت کے لیے کافی نہیں تھے۔ اس لیے اگر ملتان تسلسل کے ساتھ جیتنا چاہتا ہے تو اگلے مقابلوں میں احمد شہزاد، ڈیرن براوو، صہیب مقصود اور خاص طور پر کیرون پولارڈ کو ذمہ داری سنبھالنا ہوگی، اگر ایسا نہ کر پائے تو شاید اسی رفتار سے کامیابیاں نہ ملیں۔
پشاور زلمی
دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی اب تک کچھ خاص متاثر نہیں کرسکی ہے۔ ایک تو شاہد آفریدی کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی فین فالوونگ اور شاید ‘فائر پاور’ میں بھی کمی آئی ہے بلکہ جنید خان کی عدم دستیابی سے اس کی باؤلنگ لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں عمید آصف اور ابتسام شیخ نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے 3 میں سے 2 میچز ہار جانا پشاور کے لیے کسی بھی طرح یہ اچھا نتیجہ نہیں ہے۔
لہٰذا مستقبل میں فتح کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ٹاپ آرڈر کام کرے، کیونکہ اب تک جس میچ میں تمیم اقبال اور کامران اکمل چلے، اس میں پشاور نے بخوبی کامیابی حاصل کی لیکن کراچی کے خلاف میچ میں تو ڈیوین اسمتھ کے 71 رنز بھی کام نہیں آئے۔ ڈیرن سیمی الیون کے پاس اب سوچنے کے لیے چند دن ہیں اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ زلمی کو کوئی بھی آسان نہیں لے گا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
اسلام آباد یونائیٹڈ نے اب تک صرف 2 میچز کھیلے ہیں اور دونوں ہی کپتان مصباح الحق کے بغیر۔ پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اس کے بیٹسمین نوجوان پشاوری باؤلرز عمید آصف اور ابتسام شیخ کے ہتھے چڑھ گئے اور یوں اسلام آباد نے ناکامی کا منہ دیکھا لیکن ملتان سلطانز کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ مسلسل 2 میچز جیت کر آنے والے ملتان کے خلاف اسلام آباد نے ایک بہترین کامیابی حاصل کی۔اگر ہم اسلام آباد کو پی ایس ایل 3 کی سب سے متوازن ٹیم کہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ خود دیکھ لیں، باؤلنگ لائن میں محمد سمیع، رومان رئیس اور فہیم اشرف کے علاوہ آندرے رسل، اسٹیون فن اور شاداب خان کسی بھی بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں۔ اب اگر مصباح الحق بھی صحت یاب ہوکر آجائیں تو سمجھیں ہر شعبہ مضبوط ہوجائے۔ وکٹ کیپر لیوک رونکی ایک جارحانہ بیٹسمین ہیں، چیڈوک والٹن کی بیٹنگ تو ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں دیکھ ہی لی ہوگی۔ مصباح الحق، حسین طلعت اور آصف علی کے ساتھ مڈل آرڈر سنبھالیں گے تو سمجھیں آخری کمزور کڑی بھی ختم ہوجائے گی۔
پشاور کے خلاف 177 رنز کے تعاقب میں 73 رنز پر اسلام آباد کی 8 وکٹیں گرگئیں تھی جس کے بعد فہیم اشرف نے ثابت کیا کہ انہیں مستقبل کا آل راؤنڈر کیوں کہتے ہیں۔ اور ایک بات تو ہم بھول ہی گئے، جنوبی افریقہ کے جے پی ڈومنی بھی آچکے ہیں۔ یعنی اس وقت اگر کوئی ٹیم سب سے زیادہ خطرناک کہلائی جاسکتی ہے تو وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ہی ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
کوئٹہ ہمیشہ کی طرح ‘چھپا رستم’ ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔ پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے کوئٹہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ وہ کسی بڑے تجزیہ کار کی ریٹنگ میں پیش پیش نہیں ہوتے، فین فالوونگ بھی بہت زیادہ نہیں لیکن لیکن ہمیشہ تسلسل کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں۔ اہم مقابلے جیتتے ہیں اور فائنل تک پہنچتے ہیں۔پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ہرایا جبکہ پچھلے سال اہم کھلاڑیوں کے لاہور نہ آنے کی وجہ سے کوئٹہ کو پشاور کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اب تک جو 2 میچز کوئٹہ نے کھیلے ان میں سے ایک کراچی کے ہاتھوں ہارا ہے جبکہ دوسرے میں لاہور قلندرز کو شکست دی ہے۔ یعنی پشاور، اسلام آباد اور ملتان کے خلاف اب تک کوئٹہ کی صلاحیتیں نہیں آزمائی گئیں۔ لیکن اب تک کوئٹہ کے ٹاپ آرڈر نے پرفارم کیا ہے، جو سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شین واٹسن کی دھواں دار بیٹنگ تو ہم ایک بار دیکھ ہی چکے ہیں۔ مڈل آرڈر میں کیون پیٹرسن، رائلی روسو اور سرفراز احمد موجود ہیں، جو کوئٹہ کو مضبوط ترین بیٹنگ اسکواڈز میں سے ایک بناتے ہیں۔ یہی نہیں باؤلنگ میں جوفرا آرچر، راحت علی، شین واٹسن، محمد نواز، انور علی اور ابھرتے ہوئے نوجوان باؤلر حسان خان کی موجودگی بھی کوئٹہ کو اسلام آباد کے بعد سب سے متوازن اسکواڈ بناتی ہے اور اگر کوئٹہ اپنی صلاحیتوں اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر کھیلا تو کوئی بعید نہیں کہ 25 مارچ کو کراچی میں ہونے والے فائنل میں ایک ٹیم کوئٹہ کی ہو۔
لاہور قلندرز
اب آخر میں بات کرتے ہیں پاکستان سپر لیگ کی سب سے مستقل مزاج ٹیم کی، جی ہاں! لاہور قلندرز کی، جو ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ابھی تک آخری نمبر پر ہیں۔ لاہور کاغذ پر بہت مضبوط اسکواڈ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت ان کی سب سے بڑی طاقت ہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ان کے سارے بیٹسمین ایک ہی مزاج، ایک ہی انداز اور ایک ہی صلاحیت کے حامل ہیں، اور وہ ہے ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش۔ برینڈن میک کولم ہوں، کیمرون ڈیلپورٹ یا پھر فخر زمان۔ لاہور کے پاس کسی ایسے بیٹسمین کی کمی ہے جو اننگز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسا کہ ملتان کے پاس شعیب ملک ہیں اور کراچی کے پاس روی بوپارا۔ بلاشبہ لاہور کے پاس عمر اکمل ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لاہور کے جیتنے کا تمام تر انحصار عمر اکمل کے چلنے پر ہے، مگر وہ اب تک بْری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ پہلے میچ میں 31 رنز بنائے تو وکٹ کیپر کے طور پر اْس کی کسر نکال دی۔ دوسرے میچ میں یہ اضافی ذمہ داری لے لی گئی تو بیٹنگ اور پیچھے چلی گئی اور تیسرے مقابلے میں تو حد ہی کردی، بْری طرح آؤٹ ہوئے اور لاہور کی شکست پر مہر ثبت کرگئے۔
مڈل آرڈر کی یہی کارکردگی ہے جس کی وجہ سے لاہور بہترین آغاز پانے کے باوجود اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں تو حد ہی ہوگئی کہ جس میں آخری 7 وکٹیں صرف 4 رنز کے اضافے سے گریں۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ لاہور کو بیٹنگ کے شعبے میں ہنگامی حالات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو فوراً سے پیشتر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ باؤلنگ میں لاہور کے پاس بہت طاقت ہے۔ یاسر شاہ اور سنیل نرائن جیسے اسپنرز، مستفیض الرحمٰن اور سہیل خان جیسے عمدہ فاسٹ باؤلرز اور شاہین آفریدی جیسے ابھرتے ہوئے گیند باز کی موجودگی میں باؤلنگ میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بس توجہ رکھنی ہے بیٹنگ لائن پر۔ لاہور جتنی جلدی اپنے اس مسئلے سے نمٹے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا، ورنہ پچھلے سالوں کی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرا دی جائے گی یعنی لاہور سب سے پہلے باہر ہوگا۔
پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...
سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں،پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول ...
9 تا 11 جنوری کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا دورہ کریں گے، سلمان اکرم راجا مزارقائد پر حاضری شیڈول میں شامل، دورے سے اسٹریٹ موومنٹ کو نئی رفتار ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اپنے دورے کے دوران کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ عوام سے براہِ را...
اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ ...
کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...
فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران،سائنسدانوں نے کیا، آئی ایس پی آر پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ،سائنسدانوںاور انجینئرز کو مبارکباد پاک فضائیہ نے قومی ایرو سپیس اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئ...
ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہ...
26 ستمبر 2024 کے بعد جب ایڈمز پر رشوت اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہوئی تھی نیویارک منتخب میئر نے یہود دشمنی کی بھڑکتی آگ پر پیٹرول ڈال دیا ہے،اسرائیلی وزارتِ خارجہ نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے اقتدار سنبھالتے ہی سابق میٔر ایرک ایڈمز کے تمام وہ ایگز...
معید پیرزادہ ، سید اکبر حسین، شاہین صہبائی شامل، بھاری جرمانے عائد، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں ، ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ جرمانے کی سزا دوران سماعت پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا ،پراسیکیوشن کی استدعا پر...
ریاستی اداروں کی نجکاری حکومتی معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے، شہباز شریف وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔اعلامیہ ...
82فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5فیصد کرایہ دار ہیں، گھریلو اخراجات 79ہزار ہوگئے ملک میں 7فیصد آبادی بیت الخلا (لیٹرین)جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے،ہائوس ہولڈ سروے حکومت کے ہائوس ہولڈ سروے کے مطابق پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ماہانہ اوسطا آمدن...
سربمہر املاک میں 19 ہوٹل اور الیکٹرانکس کی 13 دکانیں شامل ہیں،ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی فٹ پاتھ پر کرسیاں رکھنے والے ہوٹل سیل کیے ،تجاوزات کے خلاف مہم ساؤتھ میں جاری ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کراچی جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں 32 دکانیں اور ہوٹل سربمہر کر دیے گئے ہیں...