وجود

... loading ...

وجود

پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

جمعرات 01 مارچ 2018 پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

پاکستان سپر لیگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیاجس کے دورا ن دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں آٹھ میچزکھیلے گئے ۔ جن میں کراچی کنگزاپنے تمام 3میچزجیت کرپوائنٹ ٹیبل پرنمبر دن ہے،پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے کاآغازایک دن کے وقفے کے بعد شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم ہوچکاہے جہاں تادم تحریرکوئٹہ گلیڈی ایٹراوراسلام آبادیونائیٹڈکی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔پہلے مرحلے میں اب تک سب ٹیمیں بارہا اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکی ہیں اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ابتدائی تاثر تو سب کا قائم ہوچکا ہے۔ یقیناایک دن کے وقفے سے فائدہ اٹھاکر تمام ٹیمیں اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہوگا اور آگے کی منصوبہ بندی بھی کی جاچکی ہوگی۔پہلے مرحلے میں ٹیموں کی کارکردگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کودورکرنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جاچکے ہوں گے ۔ یوں توٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیمیں بھرپورتیاری کے ساتھ آئی ہیں ۔اوردنیائے کرکٹ کے بڑے نام ان میں شامل ہیں ۔لیکن اب تک کی اگرکارکردگی کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوجاتاہے پی ایس ایل کے پہلے دوایڈیشنزمیں گرتے پڑے فتوحات سمیٹنے والی کراچی کنگزایک دم چھائی ہوئی نظرآرہی ہے ۔ دوسرے نمبرپرملتان سلطانزنے بھی پی ایس ایل میں دھماکے دارانٹری سے دیگرٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔اس حوالے سے ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کاایک جائزہ پیش کیاجارہاہے
کراچی کنگز
ایسا لگتا ہے کہ شاہد خان آفریدی کی آمد نے کراچی کنگز میں بجلی سی بھر دی ہے۔ کہاں وہ کراچی جو پہلے دونوں سیزنز میں گرتے، پڑتے، بڑی مشکل سے کوالیفائرز تک پہنچتا تھا اور کہاں یہ کہ ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ پھر میچز بھی اْن کے خلاف جیتے ہیں جو پی ایس ایل تاریخ میں سب سے زیادہ تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھاتے آئے ہیں یعنی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے خلاف اور پھر ‘سونے پہ سہاگہ’ لاہور قلندرز کے خلاف فتح!
ان پے در پے کامیابیوں نے ثابت کیا ہے کہ کراچی کی ابتدائی فتوحات اتفاقی نہیں بلکہ ایک بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ تک، کراچی کنگز ایک مکمل متوازن ٹیم لگتی ہے اور پھر جس طرح محمد عامر جیسا اسٹرائیک باؤلر زخمی ہونے کے باوجود لاہور کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے، وہ ٹیم کی bench strength بھی ظاہر کرتی ہے۔
روی بوپارا ہمیشہ کی طرح ایک مردِ بحران کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں اور کولن انگرام نے بھی اب تک ثابت کیا ہے کہ انہیں منتخب کرنا کراچی کا بہترین فیصلہ تھا۔ بہرحال، اب تک کراچی کے لیے ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ ہے، دیکھتے ہیں آئندہ مقابلوں میں کوئی شکست ان کے حوصلوں میں دراڑ ڈال پاتی ہے یا نہیں؟۔
ملتان سلطان
پی ایس ایل 3 میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ حیران جس ٹیم نے کیاوہ ملتان سلطانز نے۔ لیکن کیا یہ کارکردگی واقعی حیران کن تھی؟ سوچیں وسیم اکرم کی زیرِ نگرانی کمار سنگاکارا، شعیب ملک، کیرون پولارڈ اور طاہر کے ساتھ سہیل تنویر، محمد عرفان، جنید خان کھیل رہے ہوں تو کیا اس ٹیم کو خطرہ نہیں سمجھا جائے گا؟ ہمارے خیال میں ملتان کی کارکردگی توقعات کے عین مطابق ہے۔ پہلے ہی مقابلے میں انہوں نے دفاعی چیمپیئن پشاور کو 7 وکٹوں سے ہرایا۔ محمد عرفان اور دوسرے باؤلرز کی باؤلنگ دیکھنے کے قابل تھی اور سنگاکارا اور شعیب ملک کی اننگز بھی۔
لاہور کے خلاف بھی یہی دونوں بیٹسمین چلے اور ہم نے جنید خان اور عمران طاہر کی جادوئی باؤلنگ بھی دیکھی۔ ملتان کو اب تک واحد شکست اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ہوئی، جس نے ملتان کی سب سے بڑی کمزوری کو کھول کر رکھ دیا، یعنی کمار سنگاکارا اور شعیب ملک پر بہت زیادہ انحصار۔ یہاں سنگا نہیں چلے، شعیب نے اپنی سی کوشش تو کی لیکن اسکور بورڈ پر صرف 113 رنز جوڑ پائے، جو جیت کے لیے کافی نہیں تھے۔ اس لیے اگر ملتان تسلسل کے ساتھ جیتنا چاہتا ہے تو اگلے مقابلوں میں احمد شہزاد، ڈیرن براوو، صہیب مقصود اور خاص طور پر کیرون پولارڈ کو ذمہ داری سنبھالنا ہوگی، اگر ایسا نہ کر پائے تو شاید اسی رفتار سے کامیابیاں نہ ملیں۔
پشاور زلمی
دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی اب تک کچھ خاص متاثر نہیں کرسکی ہے۔ ایک تو شاہد آفریدی کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی فین فالوونگ اور شاید ‘فائر پاور’ میں بھی کمی آئی ہے بلکہ جنید خان کی عدم دستیابی سے اس کی باؤلنگ لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں عمید آصف اور ابتسام شیخ نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے 3 میں سے 2 میچز ہار جانا پشاور کے لیے کسی بھی طرح یہ اچھا نتیجہ نہیں ہے۔
لہٰذا مستقبل میں فتح کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ٹاپ آرڈر کام کرے، کیونکہ اب تک جس میچ میں تمیم اقبال اور کامران اکمل چلے، اس میں پشاور نے بخوبی کامیابی حاصل کی لیکن کراچی کے خلاف میچ میں تو ڈیوین اسمتھ کے 71 رنز بھی کام نہیں آئے۔ ڈیرن سیمی الیون کے پاس اب سوچنے کے لیے چند دن ہیں اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ زلمی کو کوئی بھی آسان نہیں لے گا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
اسلام آباد یونائیٹڈ نے اب تک صرف 2 میچز کھیلے ہیں اور دونوں ہی کپتان مصباح الحق کے بغیر۔ پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اس کے بیٹسمین نوجوان پشاوری باؤلرز عمید آصف اور ابتسام شیخ کے ہتھے چڑھ گئے اور یوں اسلام آباد نے ناکامی کا منہ دیکھا لیکن ملتان سلطانز کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ مسلسل 2 میچز جیت کر آنے والے ملتان کے خلاف اسلام آباد نے ایک بہترین کامیابی حاصل کی۔اگر ہم اسلام آباد کو پی ایس ایل 3 کی سب سے متوازن ٹیم کہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ خود دیکھ لیں، باؤلنگ لائن میں محمد سمیع، رومان رئیس اور فہیم اشرف کے علاوہ آندرے رسل، اسٹیون فن اور شاداب خان کسی بھی بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں۔ اب اگر مصباح الحق بھی صحت یاب ہوکر آجائیں تو سمجھیں ہر شعبہ مضبوط ہوجائے۔ وکٹ کیپر لیوک رونکی ایک جارحانہ بیٹسمین ہیں، چیڈوک والٹن کی بیٹنگ تو ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں دیکھ ہی لی ہوگی۔ مصباح الحق، حسین طلعت اور آصف علی کے ساتھ مڈل آرڈر سنبھالیں گے تو سمجھیں آخری کمزور کڑی بھی ختم ہوجائے گی۔
پشاور کے خلاف 177 رنز کے تعاقب میں 73 رنز پر اسلام آباد کی 8 وکٹیں گرگئیں تھی جس کے بعد فہیم اشرف نے ثابت کیا کہ انہیں مستقبل کا آل راؤنڈر کیوں کہتے ہیں۔ اور ایک بات تو ہم بھول ہی گئے، جنوبی افریقہ کے جے پی ڈومنی بھی آچکے ہیں۔ یعنی اس وقت اگر کوئی ٹیم سب سے زیادہ خطرناک کہلائی جاسکتی ہے تو وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ہی ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
کوئٹہ ہمیشہ کی طرح ‘چھپا رستم’ ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔ پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے کوئٹہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ وہ کسی بڑے تجزیہ کار کی ریٹنگ میں پیش پیش نہیں ہوتے، فین فالوونگ بھی بہت زیادہ نہیں لیکن لیکن ہمیشہ تسلسل کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں۔ اہم مقابلے جیتتے ہیں اور فائنل تک پہنچتے ہیں۔پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ہرایا جبکہ پچھلے سال اہم کھلاڑیوں کے لاہور نہ آنے کی وجہ سے کوئٹہ کو پشاور کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اب تک جو 2 میچز کوئٹہ نے کھیلے ان میں سے ایک کراچی کے ہاتھوں ہارا ہے جبکہ دوسرے میں لاہور قلندرز کو شکست دی ہے۔ یعنی پشاور، اسلام آباد اور ملتان کے خلاف اب تک کوئٹہ کی صلاحیتیں نہیں آزمائی گئیں۔ لیکن اب تک کوئٹہ کے ٹاپ آرڈر نے پرفارم کیا ہے، جو سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شین واٹسن کی دھواں دار بیٹنگ تو ہم ایک بار دیکھ ہی چکے ہیں۔ مڈل آرڈر میں کیون پیٹرسن، رائلی روسو اور سرفراز احمد موجود ہیں، جو کوئٹہ کو مضبوط ترین بیٹنگ اسکواڈز میں سے ایک بناتے ہیں۔ یہی نہیں باؤلنگ میں جوفرا آرچر، راحت علی، شین واٹسن، محمد نواز، انور علی اور ابھرتے ہوئے نوجوان باؤلر حسان خان کی موجودگی بھی کوئٹہ کو اسلام آباد کے بعد سب سے متوازن اسکواڈ بناتی ہے اور اگر کوئٹہ اپنی صلاحیتوں اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر کھیلا تو کوئی بعید نہیں کہ 25 مارچ کو کراچی میں ہونے والے فائنل میں ایک ٹیم کوئٹہ کی ہو۔
لاہور قلندرز
اب آخر میں بات کرتے ہیں پاکستان سپر لیگ کی سب سے مستقل مزاج ٹیم کی، جی ہاں! لاہور قلندرز کی، جو ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ابھی تک آخری نمبر پر ہیں۔ لاہور کاغذ پر بہت مضبوط اسکواڈ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت ان کی سب سے بڑی طاقت ہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ان کے سارے بیٹسمین ایک ہی مزاج، ایک ہی انداز اور ایک ہی صلاحیت کے حامل ہیں، اور وہ ہے ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش۔ برینڈن میک کولم ہوں، کیمرون ڈیلپورٹ یا پھر فخر زمان۔ لاہور کے پاس کسی ایسے بیٹسمین کی کمی ہے جو اننگز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسا کہ ملتان کے پاس شعیب ملک ہیں اور کراچی کے پاس روی بوپارا۔ بلاشبہ لاہور کے پاس عمر اکمل ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لاہور کے جیتنے کا تمام تر انحصار عمر اکمل کے چلنے پر ہے، مگر وہ اب تک بْری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ پہلے میچ میں 31 رنز بنائے تو وکٹ کیپر کے طور پر اْس کی کسر نکال دی۔ دوسرے میچ میں یہ اضافی ذمہ داری لے لی گئی تو بیٹنگ اور پیچھے چلی گئی اور تیسرے مقابلے میں تو حد ہی کردی، بْری طرح آؤٹ ہوئے اور لاہور کی شکست پر مہر ثبت کرگئے۔
مڈل آرڈر کی یہی کارکردگی ہے جس کی وجہ سے لاہور بہترین آغاز پانے کے باوجود اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں تو حد ہی ہوگئی کہ جس میں آخری 7 وکٹیں صرف 4 رنز کے اضافے سے گریں۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ لاہور کو بیٹنگ کے شعبے میں ہنگامی حالات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو فوراً سے پیشتر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ باؤلنگ میں لاہور کے پاس بہت طاقت ہے۔ یاسر شاہ اور سنیل نرائن جیسے اسپنرز، مستفیض الرحمٰن اور سہیل خان جیسے عمدہ فاسٹ باؤلرز اور شاہین آفریدی جیسے ابھرتے ہوئے گیند باز کی موجودگی میں باؤلنگ میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بس توجہ رکھنی ہے بیٹنگ لائن پر۔ لاہور جتنی جلدی اپنے اس مسئلے سے نمٹے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا، ورنہ پچھلے سالوں کی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرا دی جائے گی یعنی لاہور سب سے پہلے باہر ہوگا۔


متعلقہ خبریں


مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ترکیہ، پاکستان اور سعودیہ میں سے کسی پربھی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، ذرائع ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اتحاد مستقل نوعیت کا ہوگا اور کوئی...

مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش

سعودی عرب میں آئل فیلڈ پر ڈرون حملے میں 2 غیر ملکی ہلاک ،2زخمی وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں چار ڈرونز کو تباہ کر دیا،ترجمان اتحادی فوج سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیرہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے آئل فیلڈ پر داغے گئے ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جبکہ سعودی ف...

سعودی عرب میں آئل فیلڈ پر ڈرون حملے میں 2 غیر ملکی ہلاک ،2زخمی

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

افغانستان میں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، تانبا، کوبالٹوسمیت 30 سے زائد معدنیات موجودہیں، رپورٹ  شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول،آمدنی کی تقسیم اور مقامی حقوق سے متعلق تنازعات بدامنی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں،جبکہ کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور مالی نگرانی کا فقد...

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں اور جھیلوں کی رونقیں بڑھ گئیں وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے آنے والے مہمان پرندوں نے سی ویو، ہاکس بے اور رشین بیچ سمیت سندھ کی جھیلوں کا رخ کرلیا سرد ترین علاقے سائبیریا سے ہجرت کرکے آنے والے مہمان پرندوں کی کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے ساحلی علاقوں اور آبی ذخائر کی رو...

سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں اور جھیلوں کی رونقیں بڑھ گئیں

ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، مجموعی تعداد 80 لاکھ، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ملک میں ہر سال 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں، پی آئی ڈی ای ملک میں نوجوان گریجویٹس کے لیے روزگار کا حصول سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ہر سال تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جن میں سے 31 سے 33 فیصد تک ب...

ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، مجموعی تعداد 80 لاکھ، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

واقعہ راجن پور میں انڈس ہائی وے بنگلہ ہدایت کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، ریسکیووزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار،زخمی مسافروں کے بہترین علاج کا حکم راجن پور میں صبح سویرے سویرے انڈس ہائی وے پر س...

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف سندھ ہائی کورٹ نے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے خورد برد کے مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست پر تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 2 نومبر تک جواب طل...

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایرانی حکومت کے خاتمے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی، اسرائیلی وزیراعظم اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایک فوجی مشق کے دوران ایران کی جانب پرواز کی ہے۔ امریکی میڈیا فوکس نیوز کے چیف فارن کوریسپونڈنٹ ٹری ینگسٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں نے رات گئے فوجی مشق کی، ج...

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

دہشت گردی کے خلاف ہیں،،ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے، گفتگو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نش...

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی، سلمان اکر م راجہ کے ریمارکس وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، بیرسٹر گوہر ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا او...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

مقصد پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے، ایرانی حکام پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران دورے پر پہنچے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق ان کے دورے کا تعلق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے بھی ہے...

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

مضامین
قوموں کا زوال وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
قوموں کا زوال

فیصلہ آخر کس کا؟ وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
فیصلہ آخر کس کا؟

اتائیت کا راج، سستے علاج میں موت کا سودا وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
اتائیت کا راج، سستے علاج میں موت کا سودا

لداخ میں چین بھارت کشیدگی وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
لداخ میں چین بھارت کشیدگی

ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں! وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر