وجود

... loading ...

وجود

پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

جمعرات 01 مارچ 2018 پاکستان سپرلیگ :کھیل شروع ،ٹیموں نے رنگ جمانا شروع کردیا

پاکستان سپر لیگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیاجس کے دورا ن دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں آٹھ میچزکھیلے گئے ۔ جن میں کراچی کنگزاپنے تمام 3میچزجیت کرپوائنٹ ٹیبل پرنمبر دن ہے،پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے کاآغازایک دن کے وقفے کے بعد شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم ہوچکاہے جہاں تادم تحریرکوئٹہ گلیڈی ایٹراوراسلام آبادیونائیٹڈکی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔پہلے مرحلے میں اب تک سب ٹیمیں بارہا اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکی ہیں اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ابتدائی تاثر تو سب کا قائم ہوچکا ہے۔ یقیناایک دن کے وقفے سے فائدہ اٹھاکر تمام ٹیمیں اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہوگا اور آگے کی منصوبہ بندی بھی کی جاچکی ہوگی۔پہلے مرحلے میں ٹیموں کی کارکردگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کودورکرنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جاچکے ہوں گے ۔ یوں توٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیمیں بھرپورتیاری کے ساتھ آئی ہیں ۔اوردنیائے کرکٹ کے بڑے نام ان میں شامل ہیں ۔لیکن اب تک کی اگرکارکردگی کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوجاتاہے پی ایس ایل کے پہلے دوایڈیشنزمیں گرتے پڑے فتوحات سمیٹنے والی کراچی کنگزایک دم چھائی ہوئی نظرآرہی ہے ۔ دوسرے نمبرپرملتان سلطانزنے بھی پی ایس ایل میں دھماکے دارانٹری سے دیگرٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ۔اس حوالے سے ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کاایک جائزہ پیش کیاجارہاہے
کراچی کنگز
ایسا لگتا ہے کہ شاہد خان آفریدی کی آمد نے کراچی کنگز میں بجلی سی بھر دی ہے۔ کہاں وہ کراچی جو پہلے دونوں سیزنز میں گرتے، پڑتے، بڑی مشکل سے کوالیفائرز تک پہنچتا تھا اور کہاں یہ کہ ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ پھر میچز بھی اْن کے خلاف جیتے ہیں جو پی ایس ایل تاریخ میں سب سے زیادہ تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھاتے آئے ہیں یعنی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے خلاف اور پھر ‘سونے پہ سہاگہ’ لاہور قلندرز کے خلاف فتح!
ان پے در پے کامیابیوں نے ثابت کیا ہے کہ کراچی کی ابتدائی فتوحات اتفاقی نہیں بلکہ ایک بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ تک، کراچی کنگز ایک مکمل متوازن ٹیم لگتی ہے اور پھر جس طرح محمد عامر جیسا اسٹرائیک باؤلر زخمی ہونے کے باوجود لاہور کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے، وہ ٹیم کی bench strength بھی ظاہر کرتی ہے۔
روی بوپارا ہمیشہ کی طرح ایک مردِ بحران کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں اور کولن انگرام نے بھی اب تک ثابت کیا ہے کہ انہیں منتخب کرنا کراچی کا بہترین فیصلہ تھا۔ بہرحال، اب تک کراچی کے لیے ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ ہے، دیکھتے ہیں آئندہ مقابلوں میں کوئی شکست ان کے حوصلوں میں دراڑ ڈال پاتی ہے یا نہیں؟۔
ملتان سلطان
پی ایس ایل 3 میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ حیران جس ٹیم نے کیاوہ ملتان سلطانز نے۔ لیکن کیا یہ کارکردگی واقعی حیران کن تھی؟ سوچیں وسیم اکرم کی زیرِ نگرانی کمار سنگاکارا، شعیب ملک، کیرون پولارڈ اور طاہر کے ساتھ سہیل تنویر، محمد عرفان، جنید خان کھیل رہے ہوں تو کیا اس ٹیم کو خطرہ نہیں سمجھا جائے گا؟ ہمارے خیال میں ملتان کی کارکردگی توقعات کے عین مطابق ہے۔ پہلے ہی مقابلے میں انہوں نے دفاعی چیمپیئن پشاور کو 7 وکٹوں سے ہرایا۔ محمد عرفان اور دوسرے باؤلرز کی باؤلنگ دیکھنے کے قابل تھی اور سنگاکارا اور شعیب ملک کی اننگز بھی۔
لاہور کے خلاف بھی یہی دونوں بیٹسمین چلے اور ہم نے جنید خان اور عمران طاہر کی جادوئی باؤلنگ بھی دیکھی۔ ملتان کو اب تک واحد شکست اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ہوئی، جس نے ملتان کی سب سے بڑی کمزوری کو کھول کر رکھ دیا، یعنی کمار سنگاکارا اور شعیب ملک پر بہت زیادہ انحصار۔ یہاں سنگا نہیں چلے، شعیب نے اپنی سی کوشش تو کی لیکن اسکور بورڈ پر صرف 113 رنز جوڑ پائے، جو جیت کے لیے کافی نہیں تھے۔ اس لیے اگر ملتان تسلسل کے ساتھ جیتنا چاہتا ہے تو اگلے مقابلوں میں احمد شہزاد، ڈیرن براوو، صہیب مقصود اور خاص طور پر کیرون پولارڈ کو ذمہ داری سنبھالنا ہوگی، اگر ایسا نہ کر پائے تو شاید اسی رفتار سے کامیابیاں نہ ملیں۔
پشاور زلمی
دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی اب تک کچھ خاص متاثر نہیں کرسکی ہے۔ ایک تو شاہد آفریدی کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی فین فالوونگ اور شاید ‘فائر پاور’ میں بھی کمی آئی ہے بلکہ جنید خان کی عدم دستیابی سے اس کی باؤلنگ لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں عمید آصف اور ابتسام شیخ نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے 3 میں سے 2 میچز ہار جانا پشاور کے لیے کسی بھی طرح یہ اچھا نتیجہ نہیں ہے۔
لہٰذا مستقبل میں فتح کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ٹاپ آرڈر کام کرے، کیونکہ اب تک جس میچ میں تمیم اقبال اور کامران اکمل چلے، اس میں پشاور نے بخوبی کامیابی حاصل کی لیکن کراچی کے خلاف میچ میں تو ڈیوین اسمتھ کے 71 رنز بھی کام نہیں آئے۔ ڈیرن سیمی الیون کے پاس اب سوچنے کے لیے چند دن ہیں اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ زلمی کو کوئی بھی آسان نہیں لے گا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
اسلام آباد یونائیٹڈ نے اب تک صرف 2 میچز کھیلے ہیں اور دونوں ہی کپتان مصباح الحق کے بغیر۔ پشاور زلمی کے خلاف میچ میں اس کے بیٹسمین نوجوان پشاوری باؤلرز عمید آصف اور ابتسام شیخ کے ہتھے چڑھ گئے اور یوں اسلام آباد نے ناکامی کا منہ دیکھا لیکن ملتان سلطانز کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ مسلسل 2 میچز جیت کر آنے والے ملتان کے خلاف اسلام آباد نے ایک بہترین کامیابی حاصل کی۔اگر ہم اسلام آباد کو پی ایس ایل 3 کی سب سے متوازن ٹیم کہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ خود دیکھ لیں، باؤلنگ لائن میں محمد سمیع، رومان رئیس اور فہیم اشرف کے علاوہ آندرے رسل، اسٹیون فن اور شاداب خان کسی بھی بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں۔ اب اگر مصباح الحق بھی صحت یاب ہوکر آجائیں تو سمجھیں ہر شعبہ مضبوط ہوجائے۔ وکٹ کیپر لیوک رونکی ایک جارحانہ بیٹسمین ہیں، چیڈوک والٹن کی بیٹنگ تو ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں دیکھ ہی لی ہوگی۔ مصباح الحق، حسین طلعت اور آصف علی کے ساتھ مڈل آرڈر سنبھالیں گے تو سمجھیں آخری کمزور کڑی بھی ختم ہوجائے گی۔
پشاور کے خلاف 177 رنز کے تعاقب میں 73 رنز پر اسلام آباد کی 8 وکٹیں گرگئیں تھی جس کے بعد فہیم اشرف نے ثابت کیا کہ انہیں مستقبل کا آل راؤنڈر کیوں کہتے ہیں۔ اور ایک بات تو ہم بھول ہی گئے، جنوبی افریقہ کے جے پی ڈومنی بھی آچکے ہیں۔ یعنی اس وقت اگر کوئی ٹیم سب سے زیادہ خطرناک کہلائی جاسکتی ہے تو وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ہی ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
کوئٹہ ہمیشہ کی طرح ‘چھپا رستم’ ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔ پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے کوئٹہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ وہ کسی بڑے تجزیہ کار کی ریٹنگ میں پیش پیش نہیں ہوتے، فین فالوونگ بھی بہت زیادہ نہیں لیکن لیکن ہمیشہ تسلسل کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں۔ اہم مقابلے جیتتے ہیں اور فائنل تک پہنچتے ہیں۔پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ہرایا جبکہ پچھلے سال اہم کھلاڑیوں کے لاہور نہ آنے کی وجہ سے کوئٹہ کو پشاور کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اب تک جو 2 میچز کوئٹہ نے کھیلے ان میں سے ایک کراچی کے ہاتھوں ہارا ہے جبکہ دوسرے میں لاہور قلندرز کو شکست دی ہے۔ یعنی پشاور، اسلام آباد اور ملتان کے خلاف اب تک کوئٹہ کی صلاحیتیں نہیں آزمائی گئیں۔ لیکن اب تک کوئٹہ کے ٹاپ آرڈر نے پرفارم کیا ہے، جو سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شین واٹسن کی دھواں دار بیٹنگ تو ہم ایک بار دیکھ ہی چکے ہیں۔ مڈل آرڈر میں کیون پیٹرسن، رائلی روسو اور سرفراز احمد موجود ہیں، جو کوئٹہ کو مضبوط ترین بیٹنگ اسکواڈز میں سے ایک بناتے ہیں۔ یہی نہیں باؤلنگ میں جوفرا آرچر، راحت علی، شین واٹسن، محمد نواز، انور علی اور ابھرتے ہوئے نوجوان باؤلر حسان خان کی موجودگی بھی کوئٹہ کو اسلام آباد کے بعد سب سے متوازن اسکواڈ بناتی ہے اور اگر کوئٹہ اپنی صلاحیتوں اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر کھیلا تو کوئی بعید نہیں کہ 25 مارچ کو کراچی میں ہونے والے فائنل میں ایک ٹیم کوئٹہ کی ہو۔
لاہور قلندرز
اب آخر میں بات کرتے ہیں پاکستان سپر لیگ کی سب سے مستقل مزاج ٹیم کی، جی ہاں! لاہور قلندرز کی، جو ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ابھی تک آخری نمبر پر ہیں۔ لاہور کاغذ پر بہت مضبوط اسکواڈ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت ان کی سب سے بڑی طاقت ہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ان کے سارے بیٹسمین ایک ہی مزاج، ایک ہی انداز اور ایک ہی صلاحیت کے حامل ہیں، اور وہ ہے ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش۔ برینڈن میک کولم ہوں، کیمرون ڈیلپورٹ یا پھر فخر زمان۔ لاہور کے پاس کسی ایسے بیٹسمین کی کمی ہے جو اننگز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسا کہ ملتان کے پاس شعیب ملک ہیں اور کراچی کے پاس روی بوپارا۔ بلاشبہ لاہور کے پاس عمر اکمل ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لاہور کے جیتنے کا تمام تر انحصار عمر اکمل کے چلنے پر ہے، مگر وہ اب تک بْری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ پہلے میچ میں 31 رنز بنائے تو وکٹ کیپر کے طور پر اْس کی کسر نکال دی۔ دوسرے میچ میں یہ اضافی ذمہ داری لے لی گئی تو بیٹنگ اور پیچھے چلی گئی اور تیسرے مقابلے میں تو حد ہی کردی، بْری طرح آؤٹ ہوئے اور لاہور کی شکست پر مہر ثبت کرگئے۔
مڈل آرڈر کی یہی کارکردگی ہے جس کی وجہ سے لاہور بہترین آغاز پانے کے باوجود اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں تو حد ہی ہوگئی کہ جس میں آخری 7 وکٹیں صرف 4 رنز کے اضافے سے گریں۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ لاہور کو بیٹنگ کے شعبے میں ہنگامی حالات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو فوراً سے پیشتر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ باؤلنگ میں لاہور کے پاس بہت طاقت ہے۔ یاسر شاہ اور سنیل نرائن جیسے اسپنرز، مستفیض الرحمٰن اور سہیل خان جیسے عمدہ فاسٹ باؤلرز اور شاہین آفریدی جیسے ابھرتے ہوئے گیند باز کی موجودگی میں باؤلنگ میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بس توجہ رکھنی ہے بیٹنگ لائن پر۔ لاہور جتنی جلدی اپنے اس مسئلے سے نمٹے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا، ورنہ پچھلے سالوں کی کہانی ایک مرتبہ پھر دہرا دی جائے گی یعنی لاہور سب سے پہلے باہر ہوگا۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر