وجود

... loading ...

وجود

پسنی کے ساحل پر ریت سے تھری ڈی شاہکار

پیر 26 فروری 2018 پسنی کے ساحل پر ریت سے تھری ڈی شاہکار

پسنی کو آرٹ، ادب اور میوزک کے حوالے سے بلوچستان کا لکھنؤ کہا جاتا ہے۔ ماہی گیروں کی یہ سرزمین آرٹ کے حوالے سے ایک زرخیز علاقہ ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک آرٹسٹ کے فن کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ ساحلی شہر میں آرٹ کا فن ہر ایک کو وراثت میں ملا ہے۔پسنی کے ساحل پر ریت سے مجسمے بنانے کا آغاز تو چند سال پہلے ہوچکا تھا۔ سینڈ آرٹ میں پسنی کے نوجوانوں نے اپنی قابلیت اور ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے بعد اب تھری ڈی آرٹ کی شکل میں ایک اور منفرد آرٹ کو دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ شوق اور لگن کے ساتھ جب آپ کے حوصلے بلند ہوں تو پھر ناممکن کو ممکن بنانا بھی آسان ہے۔ پسنی میں سمندر کے کنارے تھری ڈی آرٹ کے شاہکار بناکر پسنی کے فنکاروں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ٹیلنٹ اور قابلیت کے آگے کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی۔پسنی کے تین نوجوانوں بہار علی گوہر، زبیر مختار اور حسین زیب پر مشتمل گروپ نے سمندر کے کنارے ریت سے نت نئے شاہکار تخلیق کیے ہیں جسے تھری ڈی (3D) آرٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے آج کل بہت سراہا جارہا ہے۔

تھری ڈی آرٹ سے مراد ایسی تصاویر ہوتی ہیں جو ایک خاص زاویئے سے دیکھنے پر پس منظر سے گویا ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ البتہ ایسی تصویروں کو ساحلِ سمندر کی ریت پر بنانا اپنے آپ میں غیرمعمولی مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔پاکستان میں اس آرٹ کی بنیاد پسنی کے مذکورہ تین نوجوانوں پر مشتمل گروپ نے ایک مہینے پہلے، پسنی کے ساحل پر ریت کے مجسمے بناکر رکھی۔ آج کل تھری ڈی آرٹ کو سوشل میڈیا پر ذریعے بہت پذیرائی مل رہی ہے۔ساحل پر ریت سے تھری ڈی آرٹ کے شاہکار بناکر، ایک خاص زاویئے سے کیمرے کی آنکھ میں قید کرکے دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا آرٹ ہے جس میں غلطی کرنے کی گنجائش بہت ہی کم ہوتی ہے اور معمولی غلطی گھنٹوں کی محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔پسنی کے ساحل سمندر پر تھری ڈی آرٹ کی بنیاد رکھنے والے گروپ کے ایک ممبر آرٹسٹ اور بلوچی زبان کے شاعر بہار علی گوہر اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ہم بغیر جدید اوزاروں کے یہ آرٹ بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ساحل پر پڑی لکڑیوں کے ٹکڑے اور دیگر اشیا لے کر ہم تھری ڈی آرٹ کے نمونے بنارہے ہیں۔
تھری ڈی آرٹ کے یہ شاہکار چونکہ ساحل پر ریت سے بنائے جاتے ہیں، اس لیے اس کارروائی کے لیے وقت کا تعین موضوع کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ تھری ڈی آرٹ کے تمام مراحل یہ تینوں فنکار خود مکمل کرتے ہیں۔

بہار علی گوہر اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ تھری ڈی آرٹ بنانے کے لیے تین سے چار گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تین افراد تمام مراحل کا کام چونکہ خود کرتے ہیں اس لیے وقت زیادہ لگتا ہے۔

تھری ڈی آرٹ بنانے کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ اس آرٹ کو دن میں کسی بھی وقت بنایا جاسکتا ہے۔ پسنی کے ساحل کو تھری ڈی آرٹ بنانے کے لیے ایک موزوں ساحل سمجھا جاتا ہے اور آرٹسٹ بھی یہی کہتے ہیں کہ پسنی کا ساحل، باقی ساحلی علاقوں سے زیادہ موزوں مقام ہے جہاں تھری ڈی آرٹ کے نمونے خوبصورت انداز میں بنائے جاسکتے ہیں۔تھری ڈی آرٹ بنانے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ بغیر تربیت اور اوزاروں کے، پسنی کے فنکار اپنی مدد آپ کے تحت ریت سے شاہکار بناسکتے ہیں۔بہار علی گوہر کے مطابق تھری ڈی آرٹ کا ہر شاہکار اپنے اندر ایک منفرد پیغام لیے ہوتا ہے؛ اور تھری ڈی آرٹ میں ہمارا پہلا کام ایک جھونپڑی کی تصویر تھی جو ایک ماہ پہلے ہمارے گروپ نے بنائی تھی۔اس گروپ کا ایک آرٹسٹ حسین زیب بے روزگار ہونے کے باوجود اپنا جادوئی فن کو دنیا کے سامنے اجاگر کررہا ہے اور مثبت پیغام کے ساتھ ریت سے مجسمہ بنانے کے کھٹن اور مشکل کام میں لگا ہوا ہے۔ آرٹسٹ یہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ حکومتی اداروں کی جانب سے ان کے فن پر توجہ نہیں دی جارہی۔ اگر حکومت اس کی سرپرستی کرے تو وہ دنیا بھر میں ملک کا نام مزید روشن کرسکتے ہیں۔تھری ڈی آرٹ سمندر کے کنارے بنانے کی وجہ سے بہت جلد سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔ مگر اس آرٹ کو بنانے کے بعد کیمرے کی آنکھ سے قید کرکے دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ آرٹ باقی آرٹس سے اس لیے منفرد ہے کہ آرٹ کے دیگر فن پارے موجود رہتے ہیں جبکہ تھری ڈی آرٹ کا صرف کیمرے کی آنکھ سے قید کیا گیا عکس ہی باقی رہ جاتا ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعه 08 مئی 2026

بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مضامین
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں! وجود اتوار 10 مئی 2026
میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے! وجود اتوار 10 مئی 2026
کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر وجود هفته 09 مئی 2026
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر

امریکی سلطنت رو بہ زوال وجود هفته 09 مئی 2026
امریکی سلطنت رو بہ زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر