... loading ...
رسالہ: نظم کائنات(جنوری تا مارچ ۲۰۱۸ء)
چیف ایڈیٹر:پروفیسر شاہین حبیب
قیمت:۱۵۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
نظم کائنات کا تازہ شمارہ جنوری تامارچ ۲۰۱۸ء شائع ہوگیا ہے ، یہ ایک علمی ، سائنسی اور تحقیقی مجلہ ہے جسے ماہر تعلیم محترمہ پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ(سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبۂ کیمیا،گورنمنٹ سرسید گرلز کالج،کراچی) نے ترتیب دیاہے،زیر نظر شمارہ سرسید احمد خان کے ۲۰۰ سالہ جشن پیدائش کے موقع پر ’’سائنسی ابلاغ نمبر‘‘ ہے ۔’’نظم کائنات‘‘ اسکولوں،کالجوں اور جامعات کے طلبہ اور شائقین کے لیے ایک تحفہ ہے جس کا مطالعہ طلبہ کے لیے نہایت ضروری اور اہم ہے۔رسالے میں القرآن،حمدونعت،گوشۂ تحریک پاکستان،گوشۂ سائنسی ادب،گوشۂ اطفال اور کتب بینی و کتب شناسی کے عنوانات سے ابواب شامل اشاعت ہیں۔نظم کائنات سائنسی ادب کا ترجمان اور نمائندہ رسالہ ہے جس کی ترتیب وتزئین و اہتمام اور کامیاب اشاعت محترمہ پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ کی عرق ریزی،باریک بینی اور محنت شاقہ کا منہ بولتاثبوت ہے۔نظم کائنات کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری،مدیرہ اعلیٰ پروفیسر شاہین حبیب،قانونی مشیر خلیل احمد خلیل ایڈووکیٹ ہیں۔یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد رسالہ ہے جو باقاعدگی سے شائع ہو رہاہے اور سائنسی ادب کی ترجمانی کررہاہے۔
٭٭٭٭
کتاب:جد ید لب و لہجہ کا منفرد غزل گو ’’رفیع الدین رازؔ‘‘
(مقالہ برائے پی ایچ ڈی)
مقالہ نگار:ڈاکٹر فرحت جہاں
قیمت:500/- روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
میتھلا یونی ورسٹی( انڈیا) سے جناب رفیع الدین رازؔ کے فن و شخصیت پر مقالہ برائے پی ایچ ڈی لکھاگیا ہے۔ یہ تحقیق 2016ء میں تکمیل کو پہنچی۔مقالہ نگارکو 2017ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایوارڈ ہوئی اور 2018ء میں یہ مقالہ کتابی شکل میں کراچی( پاکستان) سے شایع ہوا۔ اس مقالے، مقالہ نگار، نگرانِ مقالہ اور جس شخصیت (رفیع الدین رازؔ) پر مقالہ ہوا ان تمام کے بارے میں جاننے کے لیے جناب شاعر علی شاعر کی رائے ملاحظہ فرمائیں:
’’ جناب رفیع الدین رازؔ کے فن و شخصیت پر متھلا یونی ورسٹی (انڈیا)نے ریسرچ ورک کرایا تھا جس کی تکمیل پر محترمہ فرحت جہاں کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی ہے، یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر فرحت جہاں نے معروف ماہرِ تعلیم جناب پروفیسرظفر حبیب کی نگرانی میں مکمل کیاہے۔
جناب رفیع الدین رازؔقابلِ مبارک باد ہیں کہ اُن کی اوّلین شعری تصانیف پر کراچی یونی ورسٹی،پاکستان سے ڈاکٹر سہیلہ فاروقی کی نگرانی میں محترمہ ناعمہ پروین نے بہ عنوان ’’رفیع الدین رازؔ…فن و شخصیت ‘‘ایم کاتحقیقی مقالہ لکھااور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ،بعدکے شعری مجموعہ ہائے کلام کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہزارہ یونی ورسٹی، پاکستان سے بہ عنوان ’’رفیع الدین راز ؔکی شاعری کا فکری و فنی مطالعہ‘‘ تحقیقی کام ہو رہاہے جس کی تکمیل پر ریسرچ اسکالر جناب محمد زمان کو ایم فل کی ڈگری سے نوازا جائے گا۔
اس سے قبل جناب رفیع الدین رازؔ کے فن پر پاکستان کے جید نقاد جناب گوہر ملسیانی (مرحوم)نے ’’سخن کا چراغ …رفیع الدین رازؔ‘‘ کے عنوان سے 600صفحات پر مشتمل تنقیدی کتاب تصنیف کی تھی جسے خاص پذیرائی حاصل ہوئی۔
جیسے جیسے رفیع الدین رازؔ صاحب کی تخلیقاتِ شعری میں اضافہ ہورہاہے ،ویسے ویسے اُن کے فن و شخصیت پر تحقیقی کام بھی تسلسل سے ہو تاجارہاہے ، ایسی عزت و پذیرائی بہت کم شعراکو نصیب ہوتی ہے۔
میرا خیال ہے کہ اچھے یا بڑے شاعرکا فیصلہ تو آنے والی نسلیں اور زمانہ کرتا ہے مگرمیری نظر میں فی زمانہ اچھا شاعروہ ہوتاہے جو سب سے زیادہ Discussہو رہا ہوتا ہے ، پاکستان میں اِس وقت جناب ظفر اقبال سمیت گنتی کے چند شعرا ہیں جوDiscussہورہے ہیں، اُن میں ایک رفیع الدین راز ؔ بھی ہیں۔
جناب رفیع الدین رازؔکے اب تک سترہ مجموعہ ہائے کلام نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہوکر منظرِ عام پر آچکے ہیں بلکہ قارئین،ناقدین اور مشاہیرِ اُردو ادب سے دادو تحسین بھی وصول کر چکے ہیں۔اُن کی کلیاتِ غزل’’سخن سرمایہ‘‘ ا ور کلیاتِ نظم’’آبشارِ سخن‘‘ میں سات سات مجموعہ ہائے کلام یک جا شائع کیے گئے ہیں جب کہ ’’در آئینہ‘‘ ،’’دل آئینہ ہوا‘‘ اور ’’روشنی کے خدوخال‘‘کلیات کے علاوہ ہیں۔عن قریب ۸۵ بحروں میں کہی جانے والی رفیع الدین رازؔ کی غزلیات کا مجموعہ شایع ہورہاہے جو اپنی نوعیت کا منفرد کام ہے ،یہ مجموعہ قارئین اور ماہرینِ علمِ عروض کے لیے تحفہ ثابت ہو گا اور اُردو ادب میں وقیع اضافہ بھی ۔ ‘‘
٭٭٭
کتاب :20کہانیاں
مصنف :شاعرعلی شاعر
قیمت:10؍روپے فی کتاب
ناشر :شمع بک ایجنسی،کراچی
اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب شاعرعلی شاعر ہمارے وطن عزیز کی مشہورومعروف قد آور ادبی شخصیت ہیں ،ان کی جہات میں شاعروادیب،افسانہ و ناول نگار اورنقادوصحافی شامل ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی اب تک 110کتابیں جن میں تصنیف و تالیف اور ترتیب و تدوین شامل ہے زیورطباعت سے آراستہ ہو کر فروخت ہو چکی ہیں۔حال ہی میں شمع بک ایجنسی،اُردو بازار،کراچی کے پلیٹ فارم سے بچوں کے لیے بیس دل چسپ کہانیاں علاحدہ علاحدہ کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہیں جن میں ،بیتی خدا کی رحمت بہادر شہزادی خون خوار پرندہ شیخ چلی کا بھائی عقل مند فقیر بکری کا بچہ بونوں کی دنیا شکاری جوکر شیر کا شکار انوکھی تلاش خوش نصیب لکڑ ہارا جادوگرنی ہنر مند بہنیں احسان فراموش جاسوس بچے بہادر جنگجو جادونگری آدم خور ایمان دار سوداگر اور سچادوست شامل ہیں۔ ان کتابوں کی قیمت بچوں کی جیب خرچ سے بھی انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بچے ان کہانیوں کو بڑے شوق سے خرید کر پڑھ رہے ہیں اور اپنے دوستوں کو تحفے میں بھی پیش کر رہے ہیں۔
٭٭٭
رسالہ:ماہنامہ شاہکار کراچی
مدیر:ریحان احمد فاروقی
قیمت:60/- روپے
پبلشرز:فرحین فاروقی کراچی
ماہنامہ شاہکار کراچی 23 سال سے مسلسل اشاعت پذیر ہو رہا ہے جس کے سرپرست وائس ایڈمرل شاہ سہیل مشعود ہلال امتیاز (ملٹری)، نگران اعلیٰ مسلم شمیم، چیف ایڈیٹر طاہر علی اور ایڈیٹر ریحان احمد فاروقی اور سب ایڈیٹر مدثر فاروقی ہیں۔
زیر نظر شمارہ جنوری 2018ء کا ہے جس میں مولانا محمد علی جوہر (محفوظ النبی خان)، حسن حمید کمٹمنٹ کا شاعر (مسلم شمیم)، ڈاکٹر معین الدین عقیل فن و شخصیت (شاعر علی شاعر)، افسانہ ’’عزت دار ‘‘ (حمیدہ کشش)، ادبی سرگرمیاں (الطاف احمد)، گلاب رخ (عبدالصمد تاجی)، شاہکار باورچی خانہ (آفرین فاروقی)، بیوٹی ٹپس (تہذیب فاطمہ)، بچوں کا شاہکار (شیمان صدیقی)، کراچی جزیرہ (مختار احمد)، انٹرنیٹ جنسی بے راہ روی (ڈاکٹر محمد عرفان)، شاہکار ٹیکنالوجی (فہد فاروقی)، آنگن میں ستارے (وائس ایڈمرل شاہ سہیل مسعود)، کلام شاہ افضل محمود (شاعری)، ریحان فاروق صاحب کی اس رسالے کے لیے محنت قابلِ ذکر ہے جس کی وجہ سے اس کی سرکولیشن میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
٭٭٭
کتاب:ڈوبتے اُبھرتے آئینے(نثری نظمیں)
شاعرہ:ثروت سلطانہ
قیمت:۴۰۰؍روپے
پبلشرز:سیپ پبلی کیشنز، کراچی
یہ حقیقت ہے کہ نثری نظم میں مرد حضرات کے شانہ بہ شانہ خواتین شاعرات نے بھی نثری نظمیں کہیں ہیں اور وہ اس میدان میں شعراکی برابری کر تی نظر آرہی ہیں۔نثری نظم کے شعرا میں ہم اگرقمرجمیل،ذیشان ساحل،افضال احمد سید،ثروت حسین ،شہر یار اور حسن حمیدی کا ذکر کرتے ہیں تو نثری نظم کہنے والی شاعرات میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض،سارا شگفتہ،تنویر انجم، نجمہ منصور اور ثروت سلطانہ کا نام لے سکتے ہیں۔’’ڈوبتے اُبھرتے آئینے‘‘ کے نام سے ثروت سلطانہ صاحبہ کی نثری نظموں کا پہلا مجموعہ شائع ہو ا ہے جس میںجان کاشمیری اور ڈاکٹر اقبال پیر زادہ کی مثبت آرا شامل کتاب کی گئی ہیں۔ثروت سلطانہ نے نثری نظموں کے ساتھ ساتھ مختصر نظمیںبھی لکھی ہیں۔ان کے اس شعری مجموعے میں ہائیکو اور انگریزی زبان سے اُردو میں ہائیکو زترجمہ بھی کیے گئے ہیں۔یہ مجموعہ ثروت سلطانہ کا پہلا مجموعہ ہے جو اُردو ادب میں اُن کی آمد کا اعلان اور شعری میں ان کی پہچان ثابت ہواہے۔اس کی بنا پران سے مزید امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔
٭٭٭
کتاب :کلیات عزیزاحسن(شاعری)
کلام :عزیز احسن
مرتب:صبیح رحمانی
قیمت:۹۰۰؍روپے
ناشر:نعت ریسرچ سینٹر،کراچی
نعت ریسرچ سینٹر علمی وادبی ادارہ ہے جس کے مدیر صبیح رحمانی ہیں۔یہ ادارہ عرصہ دراز سے علمی و ادبی ، تحقیقی و تنقیدی ، تصانیف و تالیفات کی اشاعت کا فریضہ انجام دے رہا ہے خصوصاً نعت کے حوالے سے اس کی خدمات قابل صد تحسین ہیں۔اسی ادارے سے کتابی سلسلہ’’ نعت رنگ‘‘ کا آغاز ہوا،جو ہنوز جاری ہے۔زیرنظر کتاب ’’کلیات عزیز احسن‘‘ ۸۰۰ صفحات کی ضخامت لیے ہوئے ہے۔ شاعر کی حمد یہ ،نعتیہ،اور مناقب و منظومات پر مشتمل ایک قابل مطالعہ کتاب ہے اور وہ ۲۳ تالیفات کے بھی مصنف ہیں۔ عزیز احسن کا تمام تر شعری سرمایہ جو اُن کے تخلیق کردہ مجموعہ ہائے شعری کی صورت میں ہے اس سے پہلے بھی کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے پیش نظر کتاب میں اسے یکجا کر دیاگیاہے۔موصوف کا علمی و شعری شغف گزشتہ پانچ دہائیوں سے جاری ہے۔ اب وہ نعتیہ تنقید کے حوالے سے بھی اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔کتاب کی آراستگی،سرورق کی دیدہ زیبی،کمپوزنگ اور حسن ترتیب کے لحاظ سے یہ کلیات لائق تحسین ہے۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...