وجود

... loading ...

وجود

ہنسی مزاح اور دل لگی اُسوۂ رسول ﷺکی رُوشنی میں

جمعه 23 فروری 2018 ہنسی مزاح اور دل لگی اُسوۂ رسول ﷺکی رُوشنی میں

معاشرتی و اجتماعی زندگی کے تقریباً تمام ہی شعبوں میں باہمی رنجشوں ،رقابتوں اور ناموافقتوں کا کھیل جاری رہتا ہے، کبھی کسی نے کوئی عیب اُچھال دیا، کوئی جملہ کس دیا، یا بھرے مجمع میں لوگوں کے سامنے ذلیل کردیا اور مجمع نے ایک زور دار قہقہ لگادیا تو اِس سے فطرتی طور پر انسان کے دل و دماغ پر اُداسی چھا جاتی ہے، طبیعت تلملا اُٹھتی ہے، اور روح تڑپ کر رہ جاتی ہے۔ اِنسان کو اللہ تعالیٰ نے انتہائی محترم اور قابل عزت بنایا ہے، اِس لیے اسلام اِس قسم کی تمام گھٹیا و رذیل حرکات و خرافات کی مکمل طور پر نفی کرتا ہے کہ جس میں کسی قابل احترام انسانیت کی تذلیل و توہین کو اپنی طبعی تفریح اور و روحانی تسکین کا ذریعہ بنایا جائے۔ہاں! کوئی ایسی صورت ہو کہ جس میں کسی انسان کی توہین و تنقیص اور ہتک و تذلیل کا پہلو مفقود ہو، اور اُس سے اُس کے نقائص و عیوب کا اُچھالنا مقصود نہ ہو تو اخلاقی اور شرعی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے بیوی بچوں، عزیز و اقارب اور بے تکلف دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ باہمی ہنسی مزاح اور دل لگی کرنے کی نہ صرف یہ کہ اسلام اجازت دیتا ہے، بلکہ اِس کی حوصلہ افزائی بھی کرتاہے۔

چنانچہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس ص سے پوچھا کہ: ’’کیا حضورا مزاح فرمایا کرتے تھے؟۔‘‘ حضرت ابن عباسص نے فرمایا: ’’ہاں!۔‘‘ اُس آدمی نے کہا: ’’آپ ا کا مزاح کیسا ہوتا تھا؟۔‘‘ حضرت ابن عباس صنے حضور ا کے مزاح کا یہ قصہ سنایا کہ : ’’آپ ا نے اپنی ایک زوجۂ مطہرہ کو کھلا کپڑے پہننے کو دیا اور فرمایا: ’’اسے پہن لو اور اللہ کا شکر ادا کرو اور نئی دُلہن کی طرح اِس کا دامن گھسیٹ کر چلو!۔‘‘(تاریخ دمشق لابن عساکر)

حضرت انس بن مالک ص فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ نبی کریم ا حضرت طلحہص کے ہاں تشریف لے گئے، تو اُن کے ایک بیٹے کو بڑا غمگین دیکھا، جس کی کنیت ’’ابو عمیر‘‘ تھی، حضور ا کا معمول یہ تھا کہ آپ ا جب ابو عمیر کو دیکھا کرتے تو اُس سے مزاح فرمایا کرتے۔ چنانچہ آپ ا نے فرمایا:’’ کیا بات ہے ابو عمیر ! غمگین نظر آرہے ہو؟۔‘‘ گھر والوں نے بتایا کہ: ’’ اِس کا نُغیر (لال چڑیا یا بلبل) پرندہ مرگیا ہے، جس سے یہ کھیلا کرتا تھا(اِس لیے غمگین نظر آرہا ہے)۔‘‘ اِس پر حضورا اُس سے (دل لگی کے لیے) فرمانے لگے: ’’اے ابو عمیر! تمہارے نُغیر پرندے کا کیا بنا؟۔‘‘(طبقات ابن سعد)

حضرت انس بن مالک ص فرماتے ہیں کہ: ’’حضور انے ایک دفعہ مجھے از راہِ مزاح فرمایا: ’’ او دو کان والے!۔‘‘(سنن ابی داؤد)
حضرت انس بن مالک ص فرماتے ہیں کہ: ’’ ایک آدمی حضور ا کی خدمت میں آیا اور اُس نے آپ ا سے اپنے لیے سواری مانگی تو حضور ا نے فرمایا : ’’ہم تمہیں اونٹنی کا بچہ دیں گے۔‘‘ اُس نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ (ا)! میں اُونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا؟(مجھے تو سواری کے لیے جانور چاہیے وہ بچہ تو سواری کے کام نہیں آسکے گا۔‘‘) حضورا نے فرمایا: ’’ہر اونٹ اُونٹنی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔‘‘ (شمائل ترمذی)
حضرت انس بن مالک ا فرماتے ہیں کہ: ’’ دیہات کے رہنے والے ایک صحابی کا نام ’’زاہر‘‘ تھا ، وہ گاؤں سے آنحضرت اکے لیے (سبزی ترکاری وغیرہ) ہدیہ لایا کرتے ، اور جب یہ واپس جانے لگتے تو حضورا اُنہیں شہر کی چیزیں دے دیا کرتے،اورآپ ا فرماتے: ’’زاہر ہمارا ’’دیہات‘‘ ہے، اور ہم اُس کے ’’شہر‘‘ ہیں۔‘‘ حضور ا کو اِن سے بڑی محبت تھی،لیکن تھے یہ بدصورت۔ ایک مرتبہ حضرت زاہر ص اپنا سامان بیچ رہے تھے، حضورانے پیچھے سے جاکر اُن کی ’’کولی‘‘ ایسی بھری کہ وہ حضور ا کو نہ دیکھ سکیں، یعنی اُن کی کمر اپنے سینے سے لگا کر اُن کی بغلوں کے نیچے سے دونوں ہاتھ لے جاکر اُن کی آنکھوں پر رکھ دیئے۔ حضرت زاہر صنے کہا: ’’مجھے چھوڑ دو! یہ کون ہے؟۔‘‘ پھر پیچھے مڑکر دیکھا تو حضورا کو پہچان لیا، اور اپنی پیٹھ حضوراکے سینے سے اچھی طرح چمٹانے لگے، اور حضور ا بطورِ مزاح فرمانے لگے: ’’اِس غلام کو کون خریدے گا؟۔‘‘ حضرت زاہر ص نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ(ا)! اگر آپ مجھے بیچیں گے تو مجھے کھوٹا اور کم قیمت پائیں گے۔‘‘ حضور ا نے فرمایا: ’’لیکن تم اللہ کے نزدیک کھوٹے اور کم قیمت نہیں ہو، بلکہ اللہ کے ہاں تمہاری بڑی قیمت ہے۔‘‘(شمائل ترمذی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضور اکے ساتھ سفر میں گئی ، میں اس وقت نوعمر لڑکی تھی ، میرے جسم پر گوشت بھی کم تھا اور میرا بدن بھاری نہیں تھا ، حضورا نے لوگوں سے فرمایا : ’’ آپ لوگ آگے چلے جائیں ‘‘چنانچہ سب چلے گئے ، تو مجھ سے فرمایا : ’’ آؤ! میں تم سے دوڑ میں مقابلہ کروں ‘‘چنانچہ ہم دونوں میں مقابلہ ہوا تو میں حضور اسے آگے نکل گئی اور حضور ا خاموش رہے ۔پھر میرے جسم پر گوشت زیادہ ہوگیا اور میرا بدن بھاری ہوگیا اور میں پہلے قصہ کو بھول گئی ، تو پھر میں آپ کے ساتھ سفر میں گئی ، آپ ا نے لوگوں سے فرمایا : ’’ آگے چلے جاؤ‘‘ لوگ چلے گئے ، پھر مجھ سے فرمایا : ’’ آؤ!میں تم سے دوڑ میں مقابلہ کروں ‘‘ چنانچہ ہم دونوں میں مقابلہ ہوا تو حضورا مجھ سے آگے نکل گئے ، حضور اہنسنے لگے اور فرمایا: ’’ یہ پہلی دوڑ کے بدلہ میں ہے ‘‘ ( اب معاملہ برابر ہوگیا )۔(صفوۃ الصفوۃ : ۱/۶۸ )
حضرت حسن ص فرماتے ہیں کہ: ’’ایک بوڑھی عورت نے حضور ا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یا رسول اللہ(ا)! آپ دُعاء فرمائیں کہ: ’’ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کردے۔‘‘ آپ ا نے فرمایا: ’’اے اُم فلاں! جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔‘‘ وہ عورت روتے ہوئے واپس جانے لگی، تو حضور ا نے فرمایا: ’’اسے بتادو کہ وہ جنت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہ ہوگی( بلکہ جوان کنواری بن کر جنت میں جائے گی۔) کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: ہم نے (وہاں کی) اِن عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے۔ یعنی ہم نے اِن کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں۔‘‘ (شمائل ترمذی)
حضرت عو ف بن مالک اشجعی صفرماتے ہیں کہ: ’’میں ’’غزوۂ تبوک‘‘ میں حضور ا کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اچمڑے کے ایک چھوٹے خیمہ میں تشریف فرماتھے، میں نے آپ ا کو سلام کیا، آپ انے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: ’’اندر آجاؤ!۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’کیا سارا ہی آجاؤں؟۔‘‘ آپ ا نے فرمایا: ’’سارے ہی آجاؤ!۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
حضرت بکر بن عبد اللہص فرماتے ہیں کہ: ’’حضور اکے صحابہ ث مزاح میں ایک دوسرے پر’’ خربوزے‘‘ پھینکتے تھے، لیکن جب حقیقت اور کام کا وقت ہوتا تو اُس وقت وہ مردِ میداں ہوتے۔‘‘ (یعنی اُس وقت مزاح نہیں کرتے تھے، جب کام نہیں ہوتا تو کبھی کبھار کرتے تھے۔) (الادب المفرد)
شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے انہیں مقدس ہستیو ں کے بارے میں کہا تھا:
ہو حلقہ یاراں تو’’ بریشم‘‘ کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو ’’فولاد‘‘ ہے مؤمن
حاصل یہ کہ حدودِ شرعیہ کے اندر رہتے ہوئے کسی کی پھبتی اُڑائے بغیر، کسی تذلیل و تنقیص کیے بغیر، کسی کے عیوب و نقائص اُچھالے بغیر اپنے بیوی بچوں، رشتہ داروں، عزیز و اقارب اور دوستوں کے ساتھ گاہے بگاہے ہنسی مذاح اور دل لگی کرنا نہ صرف یہ کہ اسلام میںجائز و مستحسن ہے بلکہ اسلام اِس کی تعریف بھی کرتا ہے اور کھلے دل سے اِس کی تائید بھی کرتا ہے۔


متعلقہ خبریں


بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

مضامین
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

پاکستان بچاؤ! وجود اتوار 14 جون 2026
پاکستان بچاؤ!

دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں! وجود اتوار 14 جون 2026
دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں!

کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر