وجود

... loading ...

وجود

صحت مند جسم ۔ بھر پور زندگی

منگل 20 فروری 2018 صحت مند جسم ۔ بھر پور زندگی

خواتین زچگی کے بعداور ادھیڑ عمرمیں عموماً یہ شکایت کرتی ہیں کہ ان کو کمر اور دیگر ہڈیوں میں درد رہتا ہے۔ اٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ ہڈیوں سے چٹخنے کی آواز آتی ہے(خاص طور پر اٹھتے بیٹھتے وقت)۔ان بیٹی بہنوں کیلئے بہترین نسخہ مندرجہ زیل ہے۔ اس نسخہ کے استعمال سے نہ صرف یہ کہ ان کی ہڈیاں طاقتور ہونگی۔ بلکہ جسم میں چستی بھی ہوگی اور یہ اپنے روز مرہ کے امور زیادہ فعال اور چاک و چوبند طریقے سے ادا کر سکیں گی۔

ایک بھنڈی لے لیں۔ جو کہ تقریباً 3-2انچ کے برابر ہو۔ اس بھنڈی کا اوپر اور نیچے کا حصہ کاٹ دیں۔ بھنڈی کے چاروں طرف چاک لگا دیں اور پھر ایک گلاس پانی میں رات کو بھگو دیں۔ صبح نہار منہ پی لیں۔ انشاء اللہ آپ کو ایک ہی ہفتہ میں واضح فرق محسوس ہوگا۔مسلسل دو ماہ استعمال کرلیں۔ اگر تا حیات جاری رکھیں تو انشاء اللہ کسی قسم کی ہڈیوں کی بیماری نہیں ہوگی۔

کچھ لوگ گاجر کو ایک عام سی سبزی سمجھتے ہیں۔ اگر اس کے فوائد کا پتہ لوگوں کو چل جائے تو یہ سبزی مہنگے ترین نرخون پر بھی باآسانی دستیاب نہیں ہوگی۔ اس کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کے استعمال سے دل و جگر کو بہت زیادہ تقویت ملتی ہے۔ اگر گاجر (درمیانے سائز کی) اس کو اچھی طرح چھیل کر۔ اس کے اندر پیلا حصہ کاٹ کرنکلا دیا جائے اور اس کا رس پیا جائے تو اس سے زیادہ دل و جگر کو طاقت دینے والی کوئی غذا نہیں۔ اس سے نظر کی کمزوری (جو کہ آج کل بچوں میں بہت زیادہ ہے) بھی دور ہوتی ہے۔ جن بچیوں اور بچوں کا رنگ اگر خون کے فساد، حدت یا دیگر وجوہات کی بناء پر سیاہی بہ مائل ہورہا ہو تو گاجر کا رس (بطریق مندرجہ بالا) استعمال کرنے سے رنگت میں بے بہا نکھار آئیگا۔اس کے استعمال سے زہن بھی تیز ہوتا ہے۔مردوں کیلئے تو یہ ایک نعمت ہے۔ اس سے اعصابی کمزوری کا خاتمہ ہوتا ہے اور قوت کو بھی بے بہا بڑھاتی ہے۔

عوام الناس ویسے تو کریلے کی تشبیح دن و رات دیتی ہے اور اس کی تضحیک میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی لیکن اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو کریلہ ایک نعمت سے کم نہیں۔ ویسے تو اللہ پاک کی پیدا کی ہوئی تمام اشیاء اپنی مثال آپ ہیں۔ کریلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ اندرونی اعضاء کے افعال کو درست کرکے ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے بلغم کی زیادتی ختم ہوتی ہے۔ اگر بچوں کے پیٹ میں کیڑے ہوں تو کریلے کا رس پلانے سے پیٹ کے کیڑے ختم ہوجاتے ہیں۔اگر کسی کو لقوہ یا فالج ہوجائے اور فوری طور پر اس کا استعمال (رس یا سبزی)بہترین نافع ہے۔ کریلے کے استعمال سے پتہ و گردے کی پتھری ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ جو شخص کریلے کا استعمال اپنی غذائوں میں رکھتا ہے وہ موٹاپا سے محفوظ رہتا ہے۔ ہاضم ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال کرنے والا کبھی بھی قبض کا مریض نہیں ہوگا۔ کریلے کا استعمال شوگر کے مریضوں کیلئے بھی بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ کریلہ کا استعمال لبلبہ کی اصلاح کرتا ہے۔ شوگر کی وجہ سے معدہ اپنا افعال ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتا اور رطوبت انسولین بنانا کم کردیا ہے۔ پیشاب سے شوگر کا اخراج شروع ہوجاتا ہے اور یوں بار بار پیشاب آتا رہتا ہے۔ کریلہ اس مرض کی اصلاح میں بہت مفید ہے۔ لبلبلہ کی اصلاح کیلئے کریلے سے زیادہ کوئی اور مفید سبزی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معالجین شوگر کے مریضوں کو کریلے کا استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ کریلے کا استعمال کروالا شخص کبھی بھی یرقان کا شکار نہیں بنے گا۔

چقندر ایک نعمت جو کہ مرد و عورت دونوں کو یکساں فائدہ پہنچاتی ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک گول اور دوسرا بیضوی لیکن دونوں ہی بہترین ہیں اور افعال و فوائد میں برابر ہیں۔ سرخ چقندر کا استعمال قوتِ مدافعت بڑھانے میں بہت زیادہ اہم کردا ادا کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے جسم میں قوتِ مدافعت بہت زیادہ فعال اور مختلف بیماریوں سے بچائو کیلئے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں چقندر سے چینی بنائی جاتی اور اور ایران میں اس کا رس گرم پیا جاتا ہے۔ یہ پھل چونکہ میٹھا ہے اس لئے شوگر کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔

چقندر کے استعمال سے قبض نہیں ہوتا۔ یہ ریح و گیس کو تحلیل کرتی ہے۔ بواسیر، جوڑوں کے درد، سر درد میں بہت زیادہ مفید ہے۔ چقندر کا رس یرقان میں بہت زیادہ مفید ہے۔ اس میں دو یا تین قطرے لیموں کے ملا لئے جائیں اور اس کی اصلاح ہوجاتی ہے۔اور اس کی افادیت میں اور بھی زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے استمعمال سے سیاہ داغ، جھائیاں اوراسکن پر لگے داغ دور ہوجاتے ہیں۔

چقندر کے استعمال سے ورم تحلیل ہوتا ہے۔ اگر چقندر کو ابال کر اس کا پانی پیا جائے تو اس سے نہ صرف یہ کہ پیٹ کم ہوگا بلکہ جسم کے دیگر اعضاء کا ورم بھی تحلیل ہوگا۔ جن لوگوں کو سر میں خشکی کا مسئلہ درپیش ہو وہ لوگ چقندر کے رس میں تھوڑا سا دیسی سرکہ ملا کر سر پر لگائیں تو اس سے خشکی جاتی رہیگی۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا وجود - اتوار 15 فروری 2026

پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی وجود - اتوار 15 فروری 2026

میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی

حکومت کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 15 فروری 2026

دو ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل پینل تشکیل،ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں میڈیکل پینل کے معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ ہوگا وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک بیان میں رہنما مسلم لیگ (ن) ط...

حکومت کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ

میزائل پروگرام ریڈ لائن ، ایران کاپھر مذاکرات سے انکار وجود - اتوار 15 فروری 2026

میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی، ایران کی فوج ہائی الرٹ ہے کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن ،مناسب جواب دیا جائیگا، علی شمخانی کا انٹرویو ایران نے ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کے مذاکرات کو ناقابل قبول قرار دیدیا۔...

میزائل پروگرام ریڈ لائن ، ایران کاپھر مذاکرات سے انکار

پاک بھارت مقابلہ، بارش سے پوائنٹس کی تقسیم کا خطرہ وجود - اتوار 15 فروری 2026

ٹی 20 ورلڈ کپ ، کولمبو میں متوقع بارش نے ممکنہ طور پر میچ پر سوالیہ نشان لگا دیا پاک بھارت میچ بارش کی نذر ہوگیا تو دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ ملے گا آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج ٹاکر آج ہوگا ۔ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھا...

پاک بھارت مقابلہ، بارش سے پوائنٹس کی تقسیم کا خطرہ

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے وجود - جمعه 13 فروری 2026

تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حی...

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف وجود - جمعه 13 فروری 2026

تین ماہ سے دائیںآنکھ کی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، بانی چیئرمین کی عدالتی معاون سے ملاقات دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا، باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، رپورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بارے رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے س...

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ وجود - جمعه 13 فروری 2026

ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف ...

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی وجود - جمعه 13 فروری 2026

نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں...

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

مضامین
بنگلہ دیش کا فیصلہ وجود اتوار 15 فروری 2026
بنگلہ دیش کا فیصلہ

عمران خان کا مقدمہ وجود اتوار 15 فروری 2026
عمران خان کا مقدمہ

جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں وجود اتوار 15 فروری 2026
جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں

قوموں کا زوال وجود اتوار 15 فروری 2026
قوموں کا زوال

قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟ وجود هفته 14 فروری 2026
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر