وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 18 فروری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

خوب صورت اور یاد گار ترین محفلِ شعر
فروری بہ روز جمعہ خوب صورت اور صاحب اسلوب شاعر رفیع الدین رازؔ صاحب کی صدارت میں ادبی تنظیم لوحِ سخن کے زیرِ اہتمام محترم المقام جناب سرور غوری کی قیام گاہ پر خوب صورت محفلِ شعر منعقد کی گئی جس میں دلاورعلی آزر ، کاشف حسین غائر، توقیر تقی ، شاعر علی شاعر ، احمد جہاں گیر ، آزاد حسین آزاد ، ڈاکٹر عبدالمختار ، شاہزیب خان ، اسامہ امیر ، دانش حیات ، عبدالرحمٰن مومن اور راقم الحروف قاضی دانش صدیقی شامل تھے اس تقریب کی نظامت نوجوان نسل کے نمائیدہ شاعر جناب عبدالرحمٰن مومن نے کی اس خوب صورت نشست میں جن شعرا کرام نے جو سنایا اس میں سے انتخاب اور تصویری جھلکیاں ملاحظہ کیجیے۔
تم سے مل کر میں اس کو بھول گیا
جس نے تم سے مجھے ملایا ہے
عبدالرحمٰن مومن
نظم پڑھو گلزار کی کوئی وہ جو دل کو چھو جائے
شعر پڑھو ناصر کا کوئی ہو جاؤ ابہام میں گم
شاہزیب خان
پہلے مجھ سے کہا خوب صورت ہو تم
پھر مرے سامنے آئینہ رکھ دیا
دانش حیات
شام ڈھلے میں ساحل پر جاتا ہوں اور
موجوں میں طغیانی پیدا کرتا ہوں
اسامہ امیر
مختلف اسلوب ہے قاضی ترا
منفرد لہجہ ہے ذاتی ڈھنگ ہے
قاضی دانش صدیقی
ورنہ دہلیز پہ اک بھیڑ تو دیکھی ہوگی
جن پہ کھلتے ہیں یہ دل ان پہ ہی گھر کھلتے ہیں
آزاد حسین آزاد
سات سروں کے بان اٹھائے سب سازندے حاضر ہوں
شہزادی اک اسم پرانا پڑھ کر آنکھیں ملتی ہے
احمد جہاں گیر
اس نے پوچھا کہ کوئی آخری خواہش آزر
میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا
دلاور علی آزر
تمام رات سلگتا ہوں اور سوچتا ہوں
کسی چراغ کی مجھ پر نظر نہ پڑ جائے
کاشف حسین غائر
خواہش مفاہمت کے تلے دب کے رہ گئی
دفتر سے اْٹھ رہا تھا مگر کام آ گیا
توقیر تقی
چلاؤں تیر کسی پر ہَدَف کوئی بھی ہو
مرا وجود ہی آخر نِشَانہ ہوتا ہے
ڈاکٹر عبدالمختار
تیرہ بختی کو خود اُجالوں گا
اپنا سورج الگ نکالوں گا
شاعر علی شاعر
درد جزوِ قطرئہ خوں بن گیا ہے یا مجھے
رنگ اور خوشبو کا آمیزہ بنانا آگیا
صاحب صدر رفیع الدین راز
٭٭٭٭
پانچ کتابوں کی تقریب رونمائی
گزشتہ دِنوں آن لائن روزنامہ ’’عالمی اخبار‘‘ کے زیراہتمام کراچی میں چار خواتین رائٹرزغزالہ رشید، شاہین اشرف علی، دلشاد نسیم اور ڈاکٹر نگہت نسیم کی بیک وقت پانچ نثری اور شاعری پر مشتمل کتابوں بالترتیب ’’نہاں اور عیاں، چراغ درچراغ، زِیرلب، دُعاؤںکے چراغ، اور زادِر اہِ عشق ـ‘‘کی پہلی تقریب رونما منعقد ہو ئی۔ اِس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اِس کی صدارت سے لے کر نظامت تک خواتین ہی نے انجام دی۔ تقریب کی صدارت محترمہ انجم انصار نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی محترمہ رضیہ سبحان قریشی ،مہمانِ عزازی محترمہ مقبول فاطمہ اورنظامت کے فرائض ڈاکٹر ثروت رضوی نے انجام دیئے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ البتہ اِس کی ذمے داری محقق و کالم نگار محمد احمد ترازی اور نعت ِرسولِ مقبولﷺ کی سعادت بزرگ شاعر و کالم نگار صغیر احمد جعفری کے حصے میں آئی۔ تقریب سے صدرمحفل محترمہ انجم انصار نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج دورِ جدید میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین شاعرہ اور نثرنگار بھی اُردوادب کی تدوین و ترویج کے لئے اپنے حصے کا کام کررہیں ہیں ۔دنیا بھر میں اُردوادب کو متعارف کرا نے کے لئے ضرور ت اِس امر کی ہے کہ آج اساتذہ اور والدین اپنے بچوں کی توجہ اُردوادب کی جانب مبذول کرائیں تو یقیناً ہم آنے والی اپنی نئی نسل میں اُردو ادب کی پہچان کرانے اور اِس کے فروغ کے لئے اپنی ذمے داریاں اداکرسکیں گے، ورنہ ہماری نئی نسل انگریزی تعلیم کے چکر میں پڑ کر اُردو ادب سے دور ہو جا ئے گی جب کہ مہمان خصوصی محترمہ رضیہ سبحان قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاعری آسان عمل نہیں، یہ خونِ جگر مانگتی ہے تو شاعردُعاؤں کے چراغ اور چراغ درچراغ جیسے مجموعۂ کلام تخلیق کرتا ہے جو اُردوادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ نگہت نسیم اپنے اندر بے شمار شاعرانہ خصوصیات کی حامل شخصیت ہیں۔ اِن کی شاعری، اِن کی شخصیت اور اِن کے نام و کام کی طرح اپنی پہچان آپ ہے۔ تقریب سے ٹی وی ڈارموں کی رائٹراورپروڈیوسر سائرہ غلام نبی نے غزالہ رشید کے افسانوں کے مجموعے نہاں اور عیاں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزالہ رشید نے افسانوں کی شکل میں معاشرے کے انتہائی چبھتے ہوئے مسائل کو اپنے افسانوں میں پروکراِن کی اصلاح اور بہتری کے لئے قلم اُٹھایا ہے۔ اِن کے افسا نوں کے مجموعے میں جا بجا ایسے افسا نے موجود ہیں جو معاشرے میں موجود اخلاقی بُرائیوں کی نشاندہی کے ساتھ ان کی بہتری کی راہ بھی دکھاتے ہیں۔ اِس موقع پر محقق کئی کتابوں کے منصف اور کالم نگار محمد احمد ترازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دُعاؤں کے چراغ کے ذریعے ڈاکٹر نگہت نسیم نے کامیابی اور فلاح کے لئے نئی جہتیں متعین کیں اور اِنہوںنے اپنی شاعری میں اہل اسلام کو دُعا کی ترغیب دلاکرترقی و کامیابی کی نئی راہیں فراہم کیں۔ ایسی شاعری اُردو ادب میں کرنے والے شاید ہی کچھ لوگ ہوں گے جنہیں خیال کے ساتھ اتنی سادہ اور خوبصورت زبان بھی ملی ہو۔ تقریب سے معروف کالم نگار اور کئی کتابوں کے منصف ڈاکٹر پروفیسر شبیر احمد خورشید نے بھی اظہارِ خیال کیا۔اُنہوں نے کہاکہ اُردوادب میں خواتین نے اپنی شاعری اور نثرنگاری میں اپنے محب وطن ہونے کا جس طرح سے اظہارکیا ہے وہ مردوں کی حب الوطنی سے ذرابھی پیچھے نظر نہیںآتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیںکہ ہماری خواتین جہاں زندگی کے دیگر شعبوں میں اپنی کامیا بی کا لوہامنوارہی ہیں تو وہیں اُردوادب میں بھی یہ اپنا ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں جب کہ نقیب ِمحفل ڈاکٹر ثروت رضوی نے سڈنی سے تشریف لا ئی ہوئیں ڈاکٹر نگہت نسیم کی کتاب دُعائوں کے چراغ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نگہت نسیم کا مجموعۂ کلام دُعاؤں کے چراغ اُردوادب میںایک گراں قدر اضافہ ہے جس میں اِنہوں نے اپنے قاری کو دُعائوںکے احصار میں جکڑ کر اِسے ربِ کائنات سے عاجزی و انکساری سے دُعامانگنے اور اپنی التجا بارگاہِ رب العالمین میں پیش کرنے کا سلیقہ اور آداب سیکھانے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے اِسے قبول کرانے کے طریقے بھی بتائے ہیں۔ اِس میں شک نہیں کہ نگہت نسیم نے اپنی دوسری شاعری کی کتاب زادِ راہِ عشق میں شاعری کے عظیم جوہر دکھائے ہیں۔اِس موقع پر حیدررضا، غزالہ رشید، مسرت بانو اور دیگر نے بھی اظہارخیال کیا جب کہ اِس موقعے پر علمی و ادبی صحافت اورڈراما نگاری سے وابستہ شخصیات کے علاوہ چاروں رائٹرز خواتین کے عزیز واقارب کی بہت بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اختتام تقریب سے قبل ڈاکٹر نگہت نسیم نے آن لائن روزنامہ عالمی اخبار کے مُدیراعلیٰ صفدر ہمدانی کی علمی و ادبی شخصیات کاجائزہ پیش کرتے ہوئے اِن کی پاکستان سے باہر رہ کر کی جا نے والی علمی اور ادبی خدمات پر زبردست انداز سے خراجِ تحسین پیش کیا ۔
٭٭٭
اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیر اہتمام خواتین کے قومی دن کے حوالے سے پاکستانی ادب میں خواتین کا کردار، مذاکرہ و مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر انوار احمد زئی نے کی جب کہ معروف دانشور کھتری عصمت پٹیل، ڈاکٹر لبنیٰ عکس، طاہرہ سلیم سوز، مہمان خاص تھے اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر انوار احمد زئی نے کہا کہ عورت کی اپنی ایک دنیا بھی ہے معاشرے کی سطح پر خاتون قلمکار وں کی تخلیقی اہمیت کا پیمانہ اس میں جاری و ساری ایک مشترکہ احساساتی تجربہ جو تمام نسائی دنیا کو ہمدم بناتا ہے اور ناقابل شکست رشتے میں پروتا ہے یوں ادب ہے ہی یگانگت کا فورم اس میں تذکیر و تانیث کی تقسیم محض ایک مفروضہ ہے دیکھا جائے تو مرد بھی وہ ہی اعلی ادب تخلیق کرتا ہے جو خواتین بھی کرتی ہیں، جن میں کچھ نسائی حسن ظہور کرتی ہے جو اپنے آپ کو قبول کرتے ہیں مسئلہ تحریر کی قدر و قیمت کا ہے اور یہ کہانیاں مضامین اور شاعری آگاہی متحرک ذہن اور اعلیٰ تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہیں، ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ عورت کے خون کارنگ مرد سے مختلف نہیں، نہ ہی اس کی ایک پسلی کم مگر اس کا زندگی کے بارے میں ویژن ضرور الگ ہے اور ممتاز ہے اس ویژن کو کس طرح فنی تقاضے نبھاتے ہوئے اظہار کا رویہ دیتی ہے،اس سلسلے میںاسے رعایتی نمبر دینے کی بھی ضرورت نہیں، بس اتنا دیکھیے کہ اگر عورت کا لکھا نکال دیا جائے تو دنیائے اُردو ادب کتنی مفلس اور کس قدر قلاش رہ جاتی ہے،
اس موقع پر جن شعراء نے کلام سنایا ان میں ،محمد اقبال ڈاکٹر عبدالجبار،خالد نور، اقبال رضوی،اقبال افسر غوری،صدیق راز ایڈوکیٹ ، محمد یامین عراقی،غلام مصطفیٰ، سید صغیر احمد جعفری، صبیحہ صبا، فرح دیبا، عشرت حبیب، زارا صنم، قمر جہان قمر، عرفان عابدی،دلشاد احمد دہلوی،محمد علی زیدی،تاج علی رعنا، سیدہ شاکرہ شاہ، سیدہ تاج علی ترمزی،سلیم حامد خان، طاہر سلیم سوز،تنویر سخن، سید علی اوسط جعفری، حنا علی،گل افشاں، نثار قریشی،عظیم حیدر سید، سلمیٰ خانم، زاہد حسین، سید گلزار حسین رضوی، سہیل احمد صدیقی شامل تھے، آخر میںریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کی جانب سے سب کا شکر یہ ادا کیا۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر