... loading ...
خوب صورت اور یاد گار ترین محفلِ شعر
فروری بہ روز جمعہ خوب صورت اور صاحب اسلوب شاعر رفیع الدین رازؔ صاحب کی صدارت میں ادبی تنظیم لوحِ سخن کے زیرِ اہتمام محترم المقام جناب سرور غوری کی قیام گاہ پر خوب صورت محفلِ شعر منعقد کی گئی جس میں دلاورعلی آزر ، کاشف حسین غائر، توقیر تقی ، شاعر علی شاعر ، احمد جہاں گیر ، آزاد حسین آزاد ، ڈاکٹر عبدالمختار ، شاہزیب خان ، اسامہ امیر ، دانش حیات ، عبدالرحمٰن مومن اور راقم الحروف قاضی دانش صدیقی شامل تھے اس تقریب کی نظامت نوجوان نسل کے نمائیدہ شاعر جناب عبدالرحمٰن مومن نے کی اس خوب صورت نشست میں جن شعرا کرام نے جو سنایا اس میں سے انتخاب اور تصویری جھلکیاں ملاحظہ کیجیے۔
تم سے مل کر میں اس کو بھول گیا
جس نے تم سے مجھے ملایا ہے
عبدالرحمٰن مومن
نظم پڑھو گلزار کی کوئی وہ جو دل کو چھو جائے
شعر پڑھو ناصر کا کوئی ہو جاؤ ابہام میں گم
شاہزیب خان
پہلے مجھ سے کہا خوب صورت ہو تم
پھر مرے سامنے آئینہ رکھ دیا
دانش حیات
شام ڈھلے میں ساحل پر جاتا ہوں اور
موجوں میں طغیانی پیدا کرتا ہوں
اسامہ امیر
مختلف اسلوب ہے قاضی ترا
منفرد لہجہ ہے ذاتی ڈھنگ ہے
قاضی دانش صدیقی
ورنہ دہلیز پہ اک بھیڑ تو دیکھی ہوگی
جن پہ کھلتے ہیں یہ دل ان پہ ہی گھر کھلتے ہیں
آزاد حسین آزاد
سات سروں کے بان اٹھائے سب سازندے حاضر ہوں
شہزادی اک اسم پرانا پڑھ کر آنکھیں ملتی ہے
احمد جہاں گیر
اس نے پوچھا کہ کوئی آخری خواہش آزر
میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا
دلاور علی آزر
تمام رات سلگتا ہوں اور سوچتا ہوں
کسی چراغ کی مجھ پر نظر نہ پڑ جائے
کاشف حسین غائر
خواہش مفاہمت کے تلے دب کے رہ گئی
دفتر سے اْٹھ رہا تھا مگر کام آ گیا
توقیر تقی
چلاؤں تیر کسی پر ہَدَف کوئی بھی ہو
مرا وجود ہی آخر نِشَانہ ہوتا ہے
ڈاکٹر عبدالمختار
تیرہ بختی کو خود اُجالوں گا
اپنا سورج الگ نکالوں گا
شاعر علی شاعر
درد جزوِ قطرئہ خوں بن گیا ہے یا مجھے
رنگ اور خوشبو کا آمیزہ بنانا آگیا
صاحب صدر رفیع الدین راز
٭٭٭٭
پانچ کتابوں کی تقریب رونمائی
گزشتہ دِنوں آن لائن روزنامہ ’’عالمی اخبار‘‘ کے زیراہتمام کراچی میں چار خواتین رائٹرزغزالہ رشید، شاہین اشرف علی، دلشاد نسیم اور ڈاکٹر نگہت نسیم کی بیک وقت پانچ نثری اور شاعری پر مشتمل کتابوں بالترتیب ’’نہاں اور عیاں، چراغ درچراغ، زِیرلب، دُعاؤںکے چراغ، اور زادِر اہِ عشق ـ‘‘کی پہلی تقریب رونما منعقد ہو ئی۔ اِس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اِس کی صدارت سے لے کر نظامت تک خواتین ہی نے انجام دی۔ تقریب کی صدارت محترمہ انجم انصار نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی محترمہ رضیہ سبحان قریشی ،مہمانِ عزازی محترمہ مقبول فاطمہ اورنظامت کے فرائض ڈاکٹر ثروت رضوی نے انجام دیئے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ البتہ اِس کی ذمے داری محقق و کالم نگار محمد احمد ترازی اور نعت ِرسولِ مقبولﷺ کی سعادت بزرگ شاعر و کالم نگار صغیر احمد جعفری کے حصے میں آئی۔ تقریب سے صدرمحفل محترمہ انجم انصار نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج دورِ جدید میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین شاعرہ اور نثرنگار بھی اُردوادب کی تدوین و ترویج کے لئے اپنے حصے کا کام کررہیں ہیں ۔دنیا بھر میں اُردوادب کو متعارف کرا نے کے لئے ضرور ت اِس امر کی ہے کہ آج اساتذہ اور والدین اپنے بچوں کی توجہ اُردوادب کی جانب مبذول کرائیں تو یقیناً ہم آنے والی اپنی نئی نسل میں اُردو ادب کی پہچان کرانے اور اِس کے فروغ کے لئے اپنی ذمے داریاں اداکرسکیں گے، ورنہ ہماری نئی نسل انگریزی تعلیم کے چکر میں پڑ کر اُردو ادب سے دور ہو جا ئے گی جب کہ مہمان خصوصی محترمہ رضیہ سبحان قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاعری آسان عمل نہیں، یہ خونِ جگر مانگتی ہے تو شاعردُعاؤں کے چراغ اور چراغ درچراغ جیسے مجموعۂ کلام تخلیق کرتا ہے جو اُردوادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ نگہت نسیم اپنے اندر بے شمار شاعرانہ خصوصیات کی حامل شخصیت ہیں۔ اِن کی شاعری، اِن کی شخصیت اور اِن کے نام و کام کی طرح اپنی پہچان آپ ہے۔ تقریب سے ٹی وی ڈارموں کی رائٹراورپروڈیوسر سائرہ غلام نبی نے غزالہ رشید کے افسانوں کے مجموعے نہاں اور عیاں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزالہ رشید نے افسانوں کی شکل میں معاشرے کے انتہائی چبھتے ہوئے مسائل کو اپنے افسانوں میں پروکراِن کی اصلاح اور بہتری کے لئے قلم اُٹھایا ہے۔ اِن کے افسا نوں کے مجموعے میں جا بجا ایسے افسا نے موجود ہیں جو معاشرے میں موجود اخلاقی بُرائیوں کی نشاندہی کے ساتھ ان کی بہتری کی راہ بھی دکھاتے ہیں۔ اِس موقع پر محقق کئی کتابوں کے منصف اور کالم نگار محمد احمد ترازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دُعاؤں کے چراغ کے ذریعے ڈاکٹر نگہت نسیم نے کامیابی اور فلاح کے لئے نئی جہتیں متعین کیں اور اِنہوںنے اپنی شاعری میں اہل اسلام کو دُعا کی ترغیب دلاکرترقی و کامیابی کی نئی راہیں فراہم کیں۔ ایسی شاعری اُردو ادب میں کرنے والے شاید ہی کچھ لوگ ہوں گے جنہیں خیال کے ساتھ اتنی سادہ اور خوبصورت زبان بھی ملی ہو۔ تقریب سے معروف کالم نگار اور کئی کتابوں کے منصف ڈاکٹر پروفیسر شبیر احمد خورشید نے بھی اظہارِ خیال کیا۔اُنہوں نے کہاکہ اُردوادب میں خواتین نے اپنی شاعری اور نثرنگاری میں اپنے محب وطن ہونے کا جس طرح سے اظہارکیا ہے وہ مردوں کی حب الوطنی سے ذرابھی پیچھے نظر نہیںآتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیںکہ ہماری خواتین جہاں زندگی کے دیگر شعبوں میں اپنی کامیا بی کا لوہامنوارہی ہیں تو وہیں اُردوادب میں بھی یہ اپنا ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں جب کہ نقیب ِمحفل ڈاکٹر ثروت رضوی نے سڈنی سے تشریف لا ئی ہوئیں ڈاکٹر نگہت نسیم کی کتاب دُعائوں کے چراغ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نگہت نسیم کا مجموعۂ کلام دُعاؤں کے چراغ اُردوادب میںایک گراں قدر اضافہ ہے جس میں اِنہوں نے اپنے قاری کو دُعائوںکے احصار میں جکڑ کر اِسے ربِ کائنات سے عاجزی و انکساری سے دُعامانگنے اور اپنی التجا بارگاہِ رب العالمین میں پیش کرنے کا سلیقہ اور آداب سیکھانے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے اِسے قبول کرانے کے طریقے بھی بتائے ہیں۔ اِس میں شک نہیں کہ نگہت نسیم نے اپنی دوسری شاعری کی کتاب زادِ راہِ عشق میں شاعری کے عظیم جوہر دکھائے ہیں۔اِس موقع پر حیدررضا، غزالہ رشید، مسرت بانو اور دیگر نے بھی اظہارخیال کیا جب کہ اِس موقعے پر علمی و ادبی صحافت اورڈراما نگاری سے وابستہ شخصیات کے علاوہ چاروں رائٹرز خواتین کے عزیز واقارب کی بہت بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اختتام تقریب سے قبل ڈاکٹر نگہت نسیم نے آن لائن روزنامہ عالمی اخبار کے مُدیراعلیٰ صفدر ہمدانی کی علمی و ادبی شخصیات کاجائزہ پیش کرتے ہوئے اِن کی پاکستان سے باہر رہ کر کی جا نے والی علمی اور ادبی خدمات پر زبردست انداز سے خراجِ تحسین پیش کیا ۔
٭٭٭
اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیر اہتمام خواتین کے قومی دن کے حوالے سے پاکستانی ادب میں خواتین کا کردار، مذاکرہ و مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر انوار احمد زئی نے کی جب کہ معروف دانشور کھتری عصمت پٹیل، ڈاکٹر لبنیٰ عکس، طاہرہ سلیم سوز، مہمان خاص تھے اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر انوار احمد زئی نے کہا کہ عورت کی اپنی ایک دنیا بھی ہے معاشرے کی سطح پر خاتون قلمکار وں کی تخلیقی اہمیت کا پیمانہ اس میں جاری و ساری ایک مشترکہ احساساتی تجربہ جو تمام نسائی دنیا کو ہمدم بناتا ہے اور ناقابل شکست رشتے میں پروتا ہے یوں ادب ہے ہی یگانگت کا فورم اس میں تذکیر و تانیث کی تقسیم محض ایک مفروضہ ہے دیکھا جائے تو مرد بھی وہ ہی اعلی ادب تخلیق کرتا ہے جو خواتین بھی کرتی ہیں، جن میں کچھ نسائی حسن ظہور کرتی ہے جو اپنے آپ کو قبول کرتے ہیں مسئلہ تحریر کی قدر و قیمت کا ہے اور یہ کہانیاں مضامین اور شاعری آگاہی متحرک ذہن اور اعلیٰ تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہیں، ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ عورت کے خون کارنگ مرد سے مختلف نہیں، نہ ہی اس کی ایک پسلی کم مگر اس کا زندگی کے بارے میں ویژن ضرور الگ ہے اور ممتاز ہے اس ویژن کو کس طرح فنی تقاضے نبھاتے ہوئے اظہار کا رویہ دیتی ہے،اس سلسلے میںاسے رعایتی نمبر دینے کی بھی ضرورت نہیں، بس اتنا دیکھیے کہ اگر عورت کا لکھا نکال دیا جائے تو دنیائے اُردو ادب کتنی مفلس اور کس قدر قلاش رہ جاتی ہے،
اس موقع پر جن شعراء نے کلام سنایا ان میں ،محمد اقبال ڈاکٹر عبدالجبار،خالد نور، اقبال رضوی،اقبال افسر غوری،صدیق راز ایڈوکیٹ ، محمد یامین عراقی،غلام مصطفیٰ، سید صغیر احمد جعفری، صبیحہ صبا، فرح دیبا، عشرت حبیب، زارا صنم، قمر جہان قمر، عرفان عابدی،دلشاد احمد دہلوی،محمد علی زیدی،تاج علی رعنا، سیدہ شاکرہ شاہ، سیدہ تاج علی ترمزی،سلیم حامد خان، طاہر سلیم سوز،تنویر سخن، سید علی اوسط جعفری، حنا علی،گل افشاں، نثار قریشی،عظیم حیدر سید، سلمیٰ خانم، زاہد حسین، سید گلزار حسین رضوی، سہیل احمد صدیقی شامل تھے، آخر میںریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کی جانب سے سب کا شکر یہ ادا کیا۔
٭٭٭٭
اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...
عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...
تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حی...
تین ماہ سے دائیںآنکھ کی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، بانی چیئرمین کی عدالتی معاون سے ملاقات دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا، باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، رپورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بارے رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے س...
ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف ...
نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں...
فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...
خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...
سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...
ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...
دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...
شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...