وجود

... loading ...

وجود

امریکی معاشرے میں انتہاء پسندی کارحجان،اسکول بھی محفوظ نہیں

جمعه 16 فروری 2018 امریکی معاشرے میں انتہاء پسندی کارحجان،اسکول بھی محفوظ نہیں

مسلمانوں پرانتہاپسندی کے الزام لگانے والے ڈونلڈٹرمپ کے اپنے ملک میں انتہاء پسندی کارجحان تیزی سے فروغ پارہاہے ۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اسکول کے بچے بھی گن ہاتھ میں تھامے ساتھیوں کوقتل کرنے سے بھی بازنہیں آتے ۔ اساتذہ پرتشددتووہاں عام ہے ۔اسکولو ں میں فائرنگ کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں لیکن سال 2013سے ایسے واقعات کاسلسلہ خطرناک صورت اختیارکرتا نظرآرہاہے ۔اورسال 2017میں ایسے کئی واقعات رونماہوچکے ہیں ۔ تازہ ترین واقعہ گزشتہ روز امریکا کی ریاست فلوریڈا کے ایک مقامی اسکول میں پیش آیاجہاں 19 سالہ طالبعلم نے اپنے ساتھی طالبعلموں اور اساتذہ پر فائرنگ کے 17 کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ (اے پی) کے مطابق پارک لینڈ میں واقع ایک ہائی اسکول میں پیش آنے والے واقعے میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے تاہم پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اسکول سے 17 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں۔

دوسری جانب مقامی پولیس نے بتایا کہ گرفتار مشتبہ ملزم 19 سالہ نکولس کروز ہائی اسکول کا سابق طالب علم تھا جسے انتظامیہ نے بعض مذموم حرکتوں کی وجہ سے بے دخل کردیا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نے اسکول کے اندر گھس کر الارم بجایا جس سے بھگدڑ مچ گئی اور پھر اس نے طالب علموں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔اخبار نیویارک ٹائمز نے مقامی پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں ملزم نے اے ایف 15 خود کار ہتھیار استعمال کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم بیشتر کی حالات تشویش ناک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔عینی شاہد نے بتایا کہ بھگدڑ مچ جانے کے بعد ملزم نے اسکول کے اندورنی حصے میں فائرنگ کی اور تقریباً 12 طالب علموں کو ہلاک کردیا اور پھر باہر آکر گلی کے کنارے پر کھڑے تین افراد پر بھی فائرنگ کی۔مقامی پولیس کے مطابق ہسپتال میں زیر علاج دو طالب علم زخموں کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے۔

اس موقعے پر طالب علم کلاس رومز میں چھپے رہے جبکہ پولیس نے عمارت کو خالی کروایا۔مقامی ا سکول پبلک ا سکول ڈسٹرکٹ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’آج، مرجرری سٹونمین ڈگلس ہائی اسکول کے قریب طالب علموں اور عملے نے کچھ ایسی آوازیں سنی جو گولیاں چلنے جیسی تھی۔کئی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ فائرنگ شروع ہوتے ہی فائر الارم بھی بجنے شروع ہو گیا تھا۔بحفاظت باہر آنے والے ایک طالب علم نے سی بی ایس چینل کو بتایا کہ طالب علم سمجھے کہ یہ کوئی مشق ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’آج صبح ہی ایک مشق ہوئی تھی اور جب ہم نے گولیوں کی آواز سنی، کچھ طالب علموں نے سوچا کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں۔‘جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں طالب علموں کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہیجائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں طالب علموں کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے اور مسلح پولیس کو ا سکول کی حدود میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ہیلی کاپٹر سے بنائی جانے والی ایک اور ویڈیو میں ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے ایک شخص کو پولیس کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں دیگر پرتشدد واقعات کے علاوہ طالب علموں کی جانب سے فائرنگ کرکے اپنے ہی ساتھیوں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ایوری ٹائون فار گن سیفٹی کے مطابق بدھ کو ہونے والا حملہ رواں سال کسی ا سکول یا اس کے قریب ہونے والا 18واں واقعہ ہے۔خیال رہے کہ سنہ 2013 سے اب تک امریکا میں 291 ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔

2017 میں سب سے زیادہ ایسے واقعات پیش آئے جس میںسینکڑوں امریکی شہری لقمہ اجل بنے۔ گزشتہ برس ستمبر میں امریکا کی ریاست لاس اینجلس کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔بعدازاں اگلے ہی مہینے یعنی اکتوبر 2017 میں امریکی شہر لاس ویگاس میں میوزک کنسرٹ کے دوران فائرنگ کے واقعے میں 58 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔پھر نومبر 2017 میں ریاست ٹیکساس کے ایک چرچ میں فائرنگ سے 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔امریکا میں گزشتہ برس دسمبر میں ریاست نیو میکسیکو کے ہائی اسکول میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے اسکول کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 طلبہ ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو بھی جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا تھا۔اس سے قبل دسمبر 2015 میں امریکی ریاست سان برنارڈینو میں معذور افراد پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، امریکی پولیس کے مطابق ایک نئے شادی شدہ جوڑے نے سان برنارڈینو میں قائم معذور افراد کے سینٹر میں منعقدہ تقریب کے دوران فائرنگ کر کے 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی کو زخمی کردیا تھا۔

مہذب ملک ہونے کے دعویدارملک امریکامیں تواترکے ساتھ اس قسم کے واقعات کا پیش آنا اس بات کااظہارہے کہ دوسروں کودرس دینے والی ٹرمپ انتظامیہ خوداپنے ملک میں عوام کے تحفظ میں ناکام ہے ۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر