وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کامایہ نازبلے بازمحمد یوسف

جمعرات 15 فروری 2018 پاکستان کامایہ نازبلے بازمحمد یوسف

محمد یوسف نے لاہور، پنجاب (پاکستان)، پاکستان میں جنم لیا۔ آپ کا خاندان ہندو مت چھوڑ کر مسیحیت میں داخل ہوا تھا۔ آپ کے والد یوحنا مسیح ریلوے اسٹیشن پر کام کیا کرتے تھے، اور ان کا خاندان ریلوے کالونی کے قریب ہی رہتا تھا۔ لڑکپن میں، یوسف ایک بلّا خریدنے تک کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، چنانچہ لکڑی کے تختے اور ٹیپ ٹینس گیند کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ 12 سال کی عمر میں گولڈن جیمخانہ نے یوسف کے ہنر کا اندازہ لگایا، لیکن تب بھی یوسف نے کرکٹ کو ذریعہ معاش بنانے کا نہیں سوچا تھا۔ یوسف نے لاہور میں فارمین کرسچین کالج میں داخلہ لیا اور کھیلنا بھی جاری رکھا۔ اوائل 1994ء میں یوسف نے کھیلنا چھوڑ دیا اور بہاولپور میں رکشا چلانے لگے۔

غربت بھرے پس منظر سے تعلق رکھنے والے یوسف 1990ء کی دہائی میں درزی کی دکان پر بھی کام کرتے رہے۔ اس دوران میں انھوں نے ایک مقامی کرکٹ میچ میں شرکت کی۔ ان کے عمدہ شاٹوں نے ہر ایک کی توجہ حاصل کرلی اور پاکستان کے ایک بہترین بلے باز بننے کی طرف ان کے سفر کا آغاز ہوا۔ وہ درزی کی دکان ہی پر کام کر رہے تھے کہ ایک مقامی کلب نے کھلاڑیوں کی کمی کے باعث ان سے رابطہ کیا۔ یوسف کے نمایاں کھیل نے انہیں بریڈفورڈ کرکٹ لیگ تک پہنچادیا جہاں وہ باؤلنگ اولڈ لین کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلے۔

2005ء میں قبول اسلام سے قبل، یوسف پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے کھیلنے والے چوتھے مسیحی (اور مجموعی طور پر پانچویں غیر مسلم) کھلاڑی تھے ۔ان سے پہلے ولیس مٹھیاس، انٹاؤ ڈی سوزا، اور ڈنکن شارپ پاکستانی ٹیم کا حصہ رہ چکے تھے۔ انھیں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنے والے پہلے اور اب تک کے واحد غیر مسلم کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جب 2004ء -2005ء میں انھوں نے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر ٹیم کی قیادت کی اور ملبورن کرکٹ گراؤنڈ پر باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں سنچری بھی بنائی۔ پاکستان کی سب سے بڑی غیر سیاسی مذہبی تحریک، تبلیغی جماعت کے تبلیغی اجتماعات میں مسلسل شرکت کرنے کے بعد انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان کے مبلغین میں یوسف کے سابقہ کرکٹر ساتھی، سعید انور اور ان کے بھائی بھی شامل تھے۔ یوسف کی اہلیہ، تانیہ نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کیا اور اسلامی نام فاطمہ رکھا۔

یوسف نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز جنوبی افریقا کے خلاف ڈربن میں اور پہلا بین الاقوامی ایک روزہ میچ ہرارے میں زمبابوے کے خلاف کھیل کرکیا۔ ایک روزہ کیریئر میں محمد یوسف نے 15 سنچریوں کی مدد سے 40 سے زائد کی اوسط سے 9000 رنز بنائے اور ٹیسٹ مقابلوں میں 50 سے زائد کی اوسط سے 24 ٹیسٹ سنچریوں کی مدد سے 7000 رنز بنائے۔ ان کے پاس ایک روزہ میچ میں بغیر آؤٹ ہوئے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی ہے۔ انہوں نے 2002ء-2003ء میں زمبابوے کے خلاف سیریز میں مجموعی طور پر 405 رنز بنائے تھے۔ ایک روزہ مقابلوں میں 23 گیندوں پر نصف سنچری اور 68 گیندوں پر سنچری بنانے کے ساتھ ساتھ، ٹیسٹ میچ میں 27 گیندوں پر نصف سنچری بنانے کا اعزاز بھی یوسف کے پاس ہے۔ اپنے کامیاب ترین برسوں، یعنی 2002ء اور 2003ء میں یوسف ایک روزہ مقابلوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔ دسمبر 2005ء میں انھوں نے لاہور میں انگلستان کے خلاف 223 رنز کی اننگز کھیلی۔ سات ماہ بعد جولائی 2006ء میں، جب پاکستان نے انگلستان کا دورہ کیا تو وہاں بھی یوسف نے پہلے ٹیسٹ میچ میں 202 رنز اور 48 رنز بنائے، جس کی بنیاد پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اس سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں یوسف نے 192 اور آخری ٹیسٹ میں 128 رنز بنائے تھے۔

2006ء میں سی این این-آئی بی این نے آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ، ویسٹ انڈیز کے برائن لارا، آسٹریلوی اسپنر شین وارن، اور سری لنکا کے متیاہ مرلی دھرن کے مقابلے میں یوسف کو اس سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا۔ 2007ء میں وہ سال کا بہترین وزڈن کرکٹر کے طور پر منتخب ہوئے۔ 2007ء میں یوسف کو آئی سی سی کی جانب سے سال کا بہترین ٹیسٹ کرکٹر ہونے کا اعزاز ملاوہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے چوتھے کھلاڑی تھے۔ انہوں نے 10 اننگز میں 7 سنچریوں اور 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 94.40 کی اوسط کے ساتھ 944 رنز بنائے تھے۔

یوسف کا شمار عمدہ فیلڈروں میں ہوتا ہے۔ اواخر 2005ء میں کرک انفو کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق کرکٹ عالمی کپ 1999ء سے ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن آؤٹ کرنے والے ساتویں کھلاڑی تھے۔سنچری مکمل کرنے کے بعد جشن منانے کا ان کا انداز بھی ان کی پہچان رہا۔ قبول اسلام سے قبل، سنچری بنانے پر وہ سینے پر صلیب کا نشان بنایا کرتے تھے، جبکہ اسلام قبول کرنے کے بعد، انہوں نے میدان میں مکہ کی سمت میں سجدہ کرنے کا اندز اپنایا۔

2007ء میں انڈین کرکٹ لیگ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد، پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دباؤ اور پابندی لگائے جانے کی دھمکی کے باعث یوسف نے لیگ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ جواب میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں انڈین پریمیئر لیگ میں شامل کروانے کا وعدہ کیا، تاہم انڈین کرکٹ لیگ کی جانب سے مقدمے کے باعث ان کی بولی نہیں لگ سکی۔قومی ٹیم کے لیے منتخب نہ ہونے پر 2008ء میں، ایک بار پھر انھوں نے انڈین کرکٹ لیگ میں شامل ہونے کی دھمکی دی۔ پی سی بی کے ایک عہدے دار نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انڈین کرکٹ لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے اپنے تمام کھلاڑیوں پر پابندی عائد کی ہے اور اگر یوسف ایسی لیگ کے لیے کھیلتے ہیں تو انہیں بھی اسی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ یوسف اب بھی ہمارے بہترین بلے باز ہیں اور پاکستانی ٹیم کے ساتھ ان کا مستقبل ہے، لیکن آئی سی ایل میں شامل ہونے کی صورت میں نہیں۔تاہم یوسف آئی سی ایل میں شمولیت کا فیصلہ کرچکے تھے۔یوسف کے اس فیصلے کی ایک وجہ یونس خان کی جگہ شعیب ملک کو کپتان بنایا جانا بھی تھا؛ یوسف اور شعیب کے درمیان میں اختلافات پائے جاتے تھے۔[14] آخر پاکستان کرکٹ بورڈ نے یوسف پر پابندی عائد کردی۔

2 فروری 2009ء کو پاکستانی عدالت نے آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دیا تو پاکستانی کرکٹ میں محمد یوسف کی واپسی کے امکانات بڑھ گئے ۔جولائی 2009ء میں، سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان ہوا تو محمد یوسف اس کا حصہ تھے۔جولائی 2009ء میں یوسف نے سنچری کے ساتھ کرکٹ میں واپسی کی۔ یوسف نے بورڈ کو مطلع کیا کہ وہ چیمپئنز ٹرافی 2008ء میں حصہ نہیں لیں گے، کیونکہ وہ ماہِ رمضان میں ہوگی۔ یوسف کی واپسی کے تقریباً ایک سال بعد، بورڈ نے یونس خان کو آرام دیتے ہوئے محمد یوسف کو دورہ نیوزی لینڈ کے لیے ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ناکام دورہ آسٹریلیا اور نظم و ضبط کے خلاف ورزی کے باعث، 10 مارچ 2010ء کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے، محمد یوسف اور سابق کپتان یونس خان پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی جبکہ شعیب ملک اور رانا نوید الحسن پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کی گئی ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے محمد یوسف پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کیے جانے کے بعد، 29 مارچ 2010ء کو محمد یوسف نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔

یکم اگست 2010ء کو ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں انگلستان کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو شکست ہوئی تو بقیہ سیریز کے لیے یوسف کو دوبارہ طلب کر لیا گیا۔ تھکن کے باعث یوسف نے دوسرا ٹیسٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے بعد پاکستانی کپتان سلمان بٹ نے کہا کہ انھیں تیسرے ٹیسٹ میں یوسف کی واپسی کی توقع ہے۔ انتخاب کنندگان (سلیکٹرز) نے تیسرے ٹیسٹ سے پہلے یوسف کو وورچسٹرشائر کے خلاف ٹور میچ میں کھلانے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی اہلیت جانچی جاسکے۔ یہ جانچ کامیاب رہی اور بارش کے باعث میچ ختم ہونے کے سے پہلے محمد یوسف نے ناقابلِ شکست 40 رنز بنائے۔ انگلستان کے خلاف سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں یوسف 56 کے انفرادی مجموعے پر گریم سوان کی گیند پر انہیں ہی کیچ تھما بیٹھے اور یوں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سوان کے 100ویں شکار بنے۔

پرانے کرکٹر ہونے، عموماً زیادہ اونچے شاٹ نہ لگانے کی پہچان رکھنے، اور 2006ء میں واحد بین الاقوامی ٹی20 کھیلنے کے باوجود، یوسف اس دورہ انگلستان میں ٹی20 سیریز کا حصہ بھی بنے۔ انہوں نے 21 گیندوں پر 26 رنز بنائے۔

یوسف کی واپسی کا سفر اچھی طرح چلتا رہا۔ انھوں نے انگلستان کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بھی حصہ لیا، اگرچہ پاکستان وہ سیریز 3-2 سے ہار گیا تھا۔ بعد ازاں، اکتوبر 2010ء میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم میں بھی یوسف کو شامل رکھا گیا، یہاں تک کہ انہیں کپتان بنانے پر بھی غور کیا گیا، لیکن کپتانی مصباح الحق کو دی گئی۔اکتوبر 2010ء میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے تربیت کے دوران میں وہ ہیمسٹرنگ کا شکار ہوگئے۔ یوسف کی صحت تیزی سے بحال ہوئی اور وہ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز سے پہلے ہی صحتیاب ہوگئے۔ ایک روزہ میچ میں یوسف نے جو شرٹ پہنی اس پر ان کا نام روشنائی سے لکھا گیا تھا جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھا۔ میچ ریفری کے طلب کیے جانے پر یوسف نے بتایا کہ چونکہ وہ صرف ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئے تھے، اس لیے اپنے ساتھ رنگین لباس نہیں لاسکے تھے، کیونکہ انھیں نہیں لگتا تھا کہ وہ ٹیسٹ سیریز کھیل پائیں گے۔ آخر آئی سی سی نے انہیں اس معاملے سے بری کر دیا۔ پہلے ٹیسٹ میچ کے ٹاس سے چند لمحات قبل ہی، یوسف گرؤن انجری کا شکار ہوگئے۔ یوسف کو اس بار صحت یاب ہونے میں دو ہفتے لگ گئے، نتیجتاً یوسف دونوں ٹیسٹ مقابلے نہیں کھیل سکے۔ مسلسل انجریوں کے پیشِ نظر، سابق پاکستانی کپتان معین خان نے یوسف کو مشورہ دیا کہ انھیں ایک روزہ اور ٹی20 کرکٹ سے ریٹائر ہوجانا چاہیے اور اپنی عمر اور مسلسل انجریوں کے باعث، صرف ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینی چاہیے۔
اگست 2012ء میں محمد یوسف کو تمغا حسن کارکردگی دیا گیا۔


متعلقہ خبریں


بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

مضامین
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر