وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کامایہ نازبلے بازمحمد یوسف

جمعرات 15 فروری 2018 پاکستان کامایہ نازبلے بازمحمد یوسف

محمد یوسف نے لاہور، پنجاب (پاکستان)، پاکستان میں جنم لیا۔ آپ کا خاندان ہندو مت چھوڑ کر مسیحیت میں داخل ہوا تھا۔ آپ کے والد یوحنا مسیح ریلوے اسٹیشن پر کام کیا کرتے تھے، اور ان کا خاندان ریلوے کالونی کے قریب ہی رہتا تھا۔ لڑکپن میں، یوسف ایک بلّا خریدنے تک کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، چنانچہ لکڑی کے تختے اور ٹیپ ٹینس گیند کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ 12 سال کی عمر میں گولڈن جیمخانہ نے یوسف کے ہنر کا اندازہ لگایا، لیکن تب بھی یوسف نے کرکٹ کو ذریعہ معاش بنانے کا نہیں سوچا تھا۔ یوسف نے لاہور میں فارمین کرسچین کالج میں داخلہ لیا اور کھیلنا بھی جاری رکھا۔ اوائل 1994ء میں یوسف نے کھیلنا چھوڑ دیا اور بہاولپور میں رکشا چلانے لگے۔

غربت بھرے پس منظر سے تعلق رکھنے والے یوسف 1990ء کی دہائی میں درزی کی دکان پر بھی کام کرتے رہے۔ اس دوران میں انھوں نے ایک مقامی کرکٹ میچ میں شرکت کی۔ ان کے عمدہ شاٹوں نے ہر ایک کی توجہ حاصل کرلی اور پاکستان کے ایک بہترین بلے باز بننے کی طرف ان کے سفر کا آغاز ہوا۔ وہ درزی کی دکان ہی پر کام کر رہے تھے کہ ایک مقامی کلب نے کھلاڑیوں کی کمی کے باعث ان سے رابطہ کیا۔ یوسف کے نمایاں کھیل نے انہیں بریڈفورڈ کرکٹ لیگ تک پہنچادیا جہاں وہ باؤلنگ اولڈ لین کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلے۔

2005ء میں قبول اسلام سے قبل، یوسف پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے کھیلنے والے چوتھے مسیحی (اور مجموعی طور پر پانچویں غیر مسلم) کھلاڑی تھے ۔ان سے پہلے ولیس مٹھیاس، انٹاؤ ڈی سوزا، اور ڈنکن شارپ پاکستانی ٹیم کا حصہ رہ چکے تھے۔ انھیں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنے والے پہلے اور اب تک کے واحد غیر مسلم کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جب 2004ء -2005ء میں انھوں نے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر ٹیم کی قیادت کی اور ملبورن کرکٹ گراؤنڈ پر باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں سنچری بھی بنائی۔ پاکستان کی سب سے بڑی غیر سیاسی مذہبی تحریک، تبلیغی جماعت کے تبلیغی اجتماعات میں مسلسل شرکت کرنے کے بعد انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان کے مبلغین میں یوسف کے سابقہ کرکٹر ساتھی، سعید انور اور ان کے بھائی بھی شامل تھے۔ یوسف کی اہلیہ، تانیہ نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کیا اور اسلامی نام فاطمہ رکھا۔

یوسف نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز جنوبی افریقا کے خلاف ڈربن میں اور پہلا بین الاقوامی ایک روزہ میچ ہرارے میں زمبابوے کے خلاف کھیل کرکیا۔ ایک روزہ کیریئر میں محمد یوسف نے 15 سنچریوں کی مدد سے 40 سے زائد کی اوسط سے 9000 رنز بنائے اور ٹیسٹ مقابلوں میں 50 سے زائد کی اوسط سے 24 ٹیسٹ سنچریوں کی مدد سے 7000 رنز بنائے۔ ان کے پاس ایک روزہ میچ میں بغیر آؤٹ ہوئے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی ہے۔ انہوں نے 2002ء-2003ء میں زمبابوے کے خلاف سیریز میں مجموعی طور پر 405 رنز بنائے تھے۔ ایک روزہ مقابلوں میں 23 گیندوں پر نصف سنچری اور 68 گیندوں پر سنچری بنانے کے ساتھ ساتھ، ٹیسٹ میچ میں 27 گیندوں پر نصف سنچری بنانے کا اعزاز بھی یوسف کے پاس ہے۔ اپنے کامیاب ترین برسوں، یعنی 2002ء اور 2003ء میں یوسف ایک روزہ مقابلوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔ دسمبر 2005ء میں انھوں نے لاہور میں انگلستان کے خلاف 223 رنز کی اننگز کھیلی۔ سات ماہ بعد جولائی 2006ء میں، جب پاکستان نے انگلستان کا دورہ کیا تو وہاں بھی یوسف نے پہلے ٹیسٹ میچ میں 202 رنز اور 48 رنز بنائے، جس کی بنیاد پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اس سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں یوسف نے 192 اور آخری ٹیسٹ میں 128 رنز بنائے تھے۔

2006ء میں سی این این-آئی بی این نے آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ، ویسٹ انڈیز کے برائن لارا، آسٹریلوی اسپنر شین وارن، اور سری لنکا کے متیاہ مرلی دھرن کے مقابلے میں یوسف کو اس سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا۔ 2007ء میں وہ سال کا بہترین وزڈن کرکٹر کے طور پر منتخب ہوئے۔ 2007ء میں یوسف کو آئی سی سی کی جانب سے سال کا بہترین ٹیسٹ کرکٹر ہونے کا اعزاز ملاوہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے چوتھے کھلاڑی تھے۔ انہوں نے 10 اننگز میں 7 سنچریوں اور 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 94.40 کی اوسط کے ساتھ 944 رنز بنائے تھے۔

یوسف کا شمار عمدہ فیلڈروں میں ہوتا ہے۔ اواخر 2005ء میں کرک انفو کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق کرکٹ عالمی کپ 1999ء سے ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن آؤٹ کرنے والے ساتویں کھلاڑی تھے۔سنچری مکمل کرنے کے بعد جشن منانے کا ان کا انداز بھی ان کی پہچان رہا۔ قبول اسلام سے قبل، سنچری بنانے پر وہ سینے پر صلیب کا نشان بنایا کرتے تھے، جبکہ اسلام قبول کرنے کے بعد، انہوں نے میدان میں مکہ کی سمت میں سجدہ کرنے کا اندز اپنایا۔

2007ء میں انڈین کرکٹ لیگ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد، پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دباؤ اور پابندی لگائے جانے کی دھمکی کے باعث یوسف نے لیگ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ جواب میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں انڈین پریمیئر لیگ میں شامل کروانے کا وعدہ کیا، تاہم انڈین کرکٹ لیگ کی جانب سے مقدمے کے باعث ان کی بولی نہیں لگ سکی۔قومی ٹیم کے لیے منتخب نہ ہونے پر 2008ء میں، ایک بار پھر انھوں نے انڈین کرکٹ لیگ میں شامل ہونے کی دھمکی دی۔ پی سی بی کے ایک عہدے دار نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انڈین کرکٹ لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے اپنے تمام کھلاڑیوں پر پابندی عائد کی ہے اور اگر یوسف ایسی لیگ کے لیے کھیلتے ہیں تو انہیں بھی اسی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ یوسف اب بھی ہمارے بہترین بلے باز ہیں اور پاکستانی ٹیم کے ساتھ ان کا مستقبل ہے، لیکن آئی سی ایل میں شامل ہونے کی صورت میں نہیں۔تاہم یوسف آئی سی ایل میں شمولیت کا فیصلہ کرچکے تھے۔یوسف کے اس فیصلے کی ایک وجہ یونس خان کی جگہ شعیب ملک کو کپتان بنایا جانا بھی تھا؛ یوسف اور شعیب کے درمیان میں اختلافات پائے جاتے تھے۔[14] آخر پاکستان کرکٹ بورڈ نے یوسف پر پابندی عائد کردی۔

2 فروری 2009ء کو پاکستانی عدالت نے آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دیا تو پاکستانی کرکٹ میں محمد یوسف کی واپسی کے امکانات بڑھ گئے ۔جولائی 2009ء میں، سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان ہوا تو محمد یوسف اس کا حصہ تھے۔جولائی 2009ء میں یوسف نے سنچری کے ساتھ کرکٹ میں واپسی کی۔ یوسف نے بورڈ کو مطلع کیا کہ وہ چیمپئنز ٹرافی 2008ء میں حصہ نہیں لیں گے، کیونکہ وہ ماہِ رمضان میں ہوگی۔ یوسف کی واپسی کے تقریباً ایک سال بعد، بورڈ نے یونس خان کو آرام دیتے ہوئے محمد یوسف کو دورہ نیوزی لینڈ کے لیے ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ناکام دورہ آسٹریلیا اور نظم و ضبط کے خلاف ورزی کے باعث، 10 مارچ 2010ء کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے، محمد یوسف اور سابق کپتان یونس خان پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی جبکہ شعیب ملک اور رانا نوید الحسن پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کی گئی ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے محمد یوسف پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کیے جانے کے بعد، 29 مارچ 2010ء کو محمد یوسف نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔

یکم اگست 2010ء کو ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں انگلستان کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو شکست ہوئی تو بقیہ سیریز کے لیے یوسف کو دوبارہ طلب کر لیا گیا۔ تھکن کے باعث یوسف نے دوسرا ٹیسٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے بعد پاکستانی کپتان سلمان بٹ نے کہا کہ انھیں تیسرے ٹیسٹ میں یوسف کی واپسی کی توقع ہے۔ انتخاب کنندگان (سلیکٹرز) نے تیسرے ٹیسٹ سے پہلے یوسف کو وورچسٹرشائر کے خلاف ٹور میچ میں کھلانے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی اہلیت جانچی جاسکے۔ یہ جانچ کامیاب رہی اور بارش کے باعث میچ ختم ہونے کے سے پہلے محمد یوسف نے ناقابلِ شکست 40 رنز بنائے۔ انگلستان کے خلاف سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں یوسف 56 کے انفرادی مجموعے پر گریم سوان کی گیند پر انہیں ہی کیچ تھما بیٹھے اور یوں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سوان کے 100ویں شکار بنے۔

پرانے کرکٹر ہونے، عموماً زیادہ اونچے شاٹ نہ لگانے کی پہچان رکھنے، اور 2006ء میں واحد بین الاقوامی ٹی20 کھیلنے کے باوجود، یوسف اس دورہ انگلستان میں ٹی20 سیریز کا حصہ بھی بنے۔ انہوں نے 21 گیندوں پر 26 رنز بنائے۔

یوسف کی واپسی کا سفر اچھی طرح چلتا رہا۔ انھوں نے انگلستان کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بھی حصہ لیا، اگرچہ پاکستان وہ سیریز 3-2 سے ہار گیا تھا۔ بعد ازاں، اکتوبر 2010ء میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم میں بھی یوسف کو شامل رکھا گیا، یہاں تک کہ انہیں کپتان بنانے پر بھی غور کیا گیا، لیکن کپتانی مصباح الحق کو دی گئی۔اکتوبر 2010ء میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے تربیت کے دوران میں وہ ہیمسٹرنگ کا شکار ہوگئے۔ یوسف کی صحت تیزی سے بحال ہوئی اور وہ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز سے پہلے ہی صحتیاب ہوگئے۔ ایک روزہ میچ میں یوسف نے جو شرٹ پہنی اس پر ان کا نام روشنائی سے لکھا گیا تھا جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھا۔ میچ ریفری کے طلب کیے جانے پر یوسف نے بتایا کہ چونکہ وہ صرف ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئے تھے، اس لیے اپنے ساتھ رنگین لباس نہیں لاسکے تھے، کیونکہ انھیں نہیں لگتا تھا کہ وہ ٹیسٹ سیریز کھیل پائیں گے۔ آخر آئی سی سی نے انہیں اس معاملے سے بری کر دیا۔ پہلے ٹیسٹ میچ کے ٹاس سے چند لمحات قبل ہی، یوسف گرؤن انجری کا شکار ہوگئے۔ یوسف کو اس بار صحت یاب ہونے میں دو ہفتے لگ گئے، نتیجتاً یوسف دونوں ٹیسٹ مقابلے نہیں کھیل سکے۔ مسلسل انجریوں کے پیشِ نظر، سابق پاکستانی کپتان معین خان نے یوسف کو مشورہ دیا کہ انھیں ایک روزہ اور ٹی20 کرکٹ سے ریٹائر ہوجانا چاہیے اور اپنی عمر اور مسلسل انجریوں کے باعث، صرف ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینی چاہیے۔
اگست 2012ء میں محمد یوسف کو تمغا حسن کارکردگی دیا گیا۔


متعلقہ خبریں


پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ وجود - جمعرات 14 مئی 2026

یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

مضامین
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

ایان اور پنکی وجود جمعرات 14 مئی 2026
ایان اور پنکی

وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں! وجود جمعرات 14 مئی 2026
وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں!

مہنگے پیٹرول کا چکر وجود جمعرات 14 مئی 2026
مہنگے پیٹرول کا چکر

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر