وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

درِ آئینہ کا شاعر…رفیع الدین رازؔ

اتوار 11 فروری 2018 درِ آئینہ کا شاعر…رفیع الدین رازؔ

اُردو کی شعری اصناف میں غزل نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ غور سے دیکھیے تو غزل ہمارے آسمانِ ادب کا آفتاب ہے، باقی اصناف چاند ستاروں کی طرح ہیں۔ مرثیے کی وسعتِ بیان، رزمیہ طرزِ اظہار اور جذبات نگاری، قصیدے کا شکوہ،مثنوی کا شعری محاسن سے آراستہ کہانی پن، رباعی کافکری وقار اپنی جگہ لیکن غزل کا ایک شعر جس اختصار و ایجاز کے ساتھ زندگی کے کسی رنگ ، کیفیت یا حقیقت کا اظہار کرتا ہے، وہ منفرد اور حیرت ناک ہے۔ دوسری اصناف کے مقابلے میں غزل کے اشعار ہمیں اپنے دل سے زیادہ نزدیک محسوس ہوتے ہیں۔ اُن کی جمالیات اور غنائیت سے ہماری آشنائی بہت پرانی ہے۔ غزل ہماری تہذیب کا چراغ ہے۔ یہ ہماری اجتماعی نفسیات میں اُترگئی ہے۔ اِسی لیے غزل بعض نامور نقادوں اور قلمکاروں کی مخالفت کے باوجود بھی زندہ ہے۔ غزل کے زندہ رہنے کی دو سب سے بڑی وجوہات ہیں، ایک تو اِس میں ہر طرح کے مضامین کو ادا کرنے کی اہلیت ہے، چاہے وہ مضامین، عشقیہ ہوں، فلسفیانہ ہوں، تصوف سے متعلق ہوں، سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق ہوں، سماجی ہوں یا سیاسی ہوں۔ غزل کے کینوس پر سب کے لیے جگہ موجود ہے۔ غزل کے مسلسل ارتقائی سفر کی دوسری وجہ یہ ہے کہ غزل میں ہر عہد کے لسانی اور شعری تقاضوں کے مطابق تبدیل ہوجانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ولیؔ کے عہد سے لے کر آج تک غزل نے کئی روپ بدلے ہیں۔ آج ہماری جدید اُردو غزل، صرف موضوعات ہی میں نہیں، اپنے پیرایۂ اظہار میں بھی کلاسیکی غزل سے صریحاً مختلف ہے۔ یہ غزل عصریت اور تازگیٔ خیال سے عبارت ہے۔

عصری غزل کے منظر نامے پر نظر ڈالیے تو آپ کو رفیع الدین رازؔ بہت نمایاں نظر آئیں گے۔ اُن کی غزل ہمارے ادبی سرمائے میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ میرے نزدیک رفیع الدین رازؔ کی غزلیں اِس لیے اہم ہیںکہ یہ ہمارے عہد کے آشوب کا اظہار بھی کرتی ہیں اور اِن میں تازہ خیالی کے رنگ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ رفیع الدین رازؔ ایک پڑھے لکھے، خلّاق طبع، منکسر اور خودساز انسان ہیں۔ اُن کے قریبی لوگ جانتے ہیں کہ اُنہوںنے اپنا سفر زیرو (ZERO) سے شروع کیا اوراپنی اَنتھک محنت، جدوجہد اور سچائی پر یقین کے راستے سے وہ کامیابی کی موجودہ منزل تک پہنچے۔ ایسا نہیں ہے کہ اُنہیں زندگی کے سفر میں مخالفت اور دل شکنی کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن وہ مخالفت اور دل آزاری کے رویوں سے کبھی افسردہ نہیں ہوئے بلکہ اِس سے اُن کے اندر ایک نئی ہمت پیدا ہوئی۔

یہی اُمید پرستی اور مثبت اندازِ فکر اُن کی سب سے بڑی دولت ہے۔ اِسی نے اُن کی شخصیت کو ہمیشہ ٹوٹنے سے بچائے رکھا۔ وہ آج جو کچھ بھی ہیں، اپنے اِسی باطنی یقین کی وجہ سے ہیں۔ اُن کے اندر ابتدا سے ہی یہ یقین موجود رہا ہے کہ انسان کو سچائی، اخلا ص اور محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے۔ اِس میں کچھ تاخیر تو ہوسکتی ہے مگر ناکامی نہیں۔ اُن کی شاعری میں بھی اُن کا یہ یقین جگہ جگہ جھلکتا ہے۔ اُنہوںنے اپنی تخلیقی شخصیت کے ساتھ ساتھ اپنے فن کا لوہا بھی اہلِ نقدونظر سے منوایا ہے۔ وہ ایک قادر الکلام اور عروضی نکات کو سمجھنے والے شاعر ہیں۔ اُنہو ں نے غزل کے علاوہ بھی دوسری اصناف کو اپنے اظہار کے لیے منتخب کیا۔ رباعی، نعت، قطعہ، انشائیہ، آزادنظم، پابند نظم، دوہا، ہائیکو، ماہیا، تروینی اور افسانے میں وہ اپنے تخلیقی جوہر دکھاچکے ہیں۔ اُنہوںنے رباعی کے چوبیس اوزان میں رباعیات کہی ہیں اور رباعی کے سارے اوزان میں غزلیں بھی لکھی ہیں۔ اُردو ادب میں اُنہیں اِس کی اوّلیت کا اعزاز حاصل ہے کیوں کہ رباعی کے ہر وزن پر غزل لکھنے کی روایت اِس سے پہلے نہیں ملتی۔

آج کل وہ امریکا میں مقیم ہیں۔ یہ اُن کی تیسری ہجرت ہے۔ جس کے خدوخال اُن کی تحریروں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ امریکا کی اُردو بستیوں میں وہ ایک کہنہ مشق سینئر اور صفِ اوّل کے شاعر کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ امریکا کے مشاعروں میں اُنہیں سب سے زیادہ داد ملتی ہے اور سامعین اُن کی شفیق شخصیت اور بلند معیارِ کلام کے باعث اُن سے محبت کرتے ہیں۔ وہ ایک کم گو، سنجیدہ اور نرم خو انسان ہیں۔ اگر وہ کبھی کسی موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہیں تو، اُن کی دیانتِ فکر، اور زندگی کے بارے میں اُن کی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ انسانی رشتوں کا احترام کرنے والے شخص ہیں۔ وہ مذہبی انتہا پسندی اور قتل و غارت گری کے خلاف ہیں۔ وہ عالمی تاریخ کے بہترین شناسا ہونے کی وجہ سے بڑی طاقتوں کے استحصال اور عالمی سیاسی منظرنامے سے پوری طرح واقف ہیں ، اِسی لیے اُن کی غزل محض انفرادی تجربے کا اظہار نہیں بلکہ اجتماعیت کی امین ہے۔

اِس سے قبل اُن کی غزلوں کے سات مجموعے شائع ہوچکے ہیں اور ایک ضخیم کلیات ’’ سخن سرمایہ‘‘ جو غزلیات پر مشتمل ہے منظرِعام پر آچکا ہے۔ اُن کی شاعری پر ہمارے عہد کے تقریباً سارے بڑے نقاد اور شعراء اپنی آراء کا تحریری اظہار کرچکے ہیں۔ وہ بہت خوش نصیب ہیں کہ اُنہوں نے اپنی زندگی ہی میں ادب کے بڑے لوگوں سے داد پائی۔ ہمہ اصناف ہونے کے باوجود رازؔ صاحب کی شاعری کا بنیادی حوالہ ان کی غزل ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔ چند بنیادی باتیں تو اُن کی غزل کے بارے میں ہر نقاد ہی نے کہی ہیں اور آج ہم رفیع الدین رازؔ کی غزل کو اِنہی تنقیدی کلّیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اِن میں ایک بات تو اُن کی رجائیت کے تناظر میں ہے کہ اُن کی شاعری میں نااُمیدی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ وہ زندگی کے غموں اور مصائب میں یاسیت کے اندھیروں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے۔ یقین اور اُمید کا اُجالا ہمیشہ اُن کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ عصرِ جدید کے انسان کی تمام سفّاکی، زرپرستی، خود غرضی اور خوں آشامی کے باوجود اُس سے مایوس نہیں ہیں۔ وہ مستقبل کی دنیا کو ایک بہتر اور پُرامن دنیا بنانے کا خواب دیکھنا کبھی ترک نہیں کرتے۔ اُن کی شاعری کے اِس رجائی انداز کا خصوصی تذکرہ اُن پر لکھے جانے والے مضامین میں ملتا ہے۔ چوںکہ رجائیت اور ظلم و آلام سے برسرِپیکار ہونے کا رویہ اُن کی ذات اور اُن کے تخلیقی شعور کا جزوِ اعظم ہے، اِس لیے زیرِ نظر مجموعۂ غزلیات ’’درِ آئینہ‘‘ میں بھی یہ اُمید پرستی ہمیں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔

رازؔ صاحب کے شاعرانہ اسلوب کے بارے میں دوسری بات جو نقادوں نے ان کی غزل کے تنقیدی مطالعے کے نتیجے میں کہی وہ یگانہ کے اثر کے حوالے سے ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ ان کی غزل کا لہجہ اور طرز اظہار یاس یگانہ چنگیزی سے بہت مماثل ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ مماثلت شعوری نہیں ہے۔ یہ دو شاعروں کی زندگی کی مماثلت ہے۔ یہ زندگی اور کائنات کو دیکھنے کے انداز نظر کی مماثلت ہے، یہ دو نظریہ ہائے حیات کی مماثلت ہے۔ انہوں نے کسی کی نقل نہیں کی، کسی سے کچھ مستعار نہیں لیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھوں نے کلاسیکی ادب سے فیض حاصل نہیں کیا، اُن کے مطالعے نے اُن کے تخلیقی شعور کی تشکیل کی۔ اُنھوں نے روایت کے بہترین حصوں کے اثرات سے اپنی فکر سخن کو مہمیز کیا ان کے رنگوں کی آمیزش سے ایک نیا رنگ بنایا، ایک بالکل نیا لہجہ تراشا، جذبات کی جگہ افکار کو دی اورمحبت کے تصور کو محبوب کی فردیت سے نکال کر ساری انسانیت پر پھیلا دیا۔

جہاں تک رفیع الدین راز کی غزلوں میں ان کے انادار لہجے اور طرزِ ادا کا تعلق ہے۔ ہم اسے ایک قسم کا احساس غیرت اور خود داری سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ کیونکہ حالات کے جبر اور دنیا کے برتائو نے ان کے خود داری کے جوہر کو اور بھی چمکا دیا ہے۔ ان پر درد کے کتنے ہی موسم گزرگئے مگر انہوں نے دست طلب کبھی درازنہیں کیا، اسے آپ ان کی انا بھی کہہ سکتے ہیں، مگر یہ انانہ توانائے شکستہ ہے اور نہ ہی انائے کج، یہ ایک مثبت انا ہے، جو زندگی کی رزم گاہ میں راز صاحب کی سپر ہے اور کبھی کبھی شمشیر بھی۔ یہ انا ایک صحت مند انسانی رویہ ہے۔ جس میں دنیا سے نفرت، طیش یا انتقام کے جذبات نہیں ہیں۔ آپ یوں سمجھ لیجیے کہ رفیع الدین راز کو اپنی ذات کا گیان بھی ہے اور اپنے چاروں طرف موجود انسانوں کا دھیان بھی۔ یہی توازن ان کی شخصیت اور ان کی سخنوری کا سب سے مستحکم ستون ہے۔

ہر شاعر کے یہاں بعض علامتیں بار بار اپنا چہرہ دکھاتی ہیں۔ رفیع الدین راز کی غزلوں میں آئینے کا لفظ بار بار آتا ہے۔ ’’آئینہ‘‘ صوفیاء کے نزدیک کائنات کی علامت ہے۔ بعض صاحبانِ حال نے اِس سے قلب بھی مراد لیا ہے۔

کہتے ہیں آئینے کا لفظ اُردو اور فارسی شاعری میں سب سے زیادہ بار عبدالقادر بیدلؔ نے استعمال کیا اور ہر بار اُس کی عظیم شاعرانہ بصیرت نے اِس علامت کو ایک نئی جہت دی ہے۔ بیدل کے بعد مرزا اسد اللہ خاں غالب نے آئینے کی علامت کو اپنی شاعری کی زینت بنایا۔ غالب کی غزلوں میں لفظِ آئینہ واقعی گنجینۂ معنی کا طلسم نظر آتا ہے۔

رفیع الدین کے مجموعے ’’درِ آئینہ‘‘ میں آئینے کی علامت کُل ۱۷۔ اشعار میں ملتی ہے۔ اس مجموعے کے نام سے بھی رفیع الدین راز کی اِس لفظ سے ایک خاص تخلیقی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ اس سے قبل کے مجموعوں میں بھی رفیع الدین راز نے آئینے کی شعری علامت کو بڑے حسن کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ دراصل لفظِ آئینہ راز صاحب کے شعری وجدان میں اہم مقام رکھتا ہے۔ وہ اِسے ظاہر و باطن کی یکسانیت یعنی منافقت ریارکاری اور دروغ کی ضد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آئینہ اُن کی نگاہ میں سچائی کا مظہر ہے جو حقیقت کو ویسا ہی دکھاتا ہے جیسی وہ ہے۔ کہیں کہیں وہ اِسے تخلیق کی علامت کے طور پر بھی استعمال کرتے ہی۔ معنوی سطح پر آئینہ اُن کی شاعری میں جمالِ ذات اور جمالِ کائنات کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے بعض اشعار میں آئینے کو لفظ انکشافِ راز کے معنوں میں بھی برتا ہے۔

مجھے عصرِ نو میں غالب کا رنگ پورے اُسلوبیاتی اہتمام کے ساتھ یا تو عزیر حامد مدنی کے یہاں نظر آتا ہے۔ یا پھر ایک خاص زاویے سے رفیع الدین راز کی غزلوں میں۔

فراقؔ نے خواجہ حیدر علی آتش کو اخلاقی مضامین کا بادشاہ کہا ہے۔ آتش کے یہاں اخلاقی مضامین تصوف کی راہ سے آئے ہیں۔ رفیع الدین راز کی شاعری پندو نصائح کا دفتر نہیں ہے۔ وہ اپنے اشعار میں آفاقی انسانی قدروں کی طرف محض اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ شعریت کو وہ صداقت پر قربان نہیں کرتے۔ ورنہ صحافت اور شاعری پھر کوئی حد فاصل باقی نہیں رہے گی۔ وہ غالب کی طرح زندگی اور اس خاکدان آب و گل کے بارے میں بڑے سوالوں کو Address کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ وہ مرزا اسد اللہ خاں غالب تو نہیں مگر مرزا رفیع الدین بیگ ضرور ہیں اُن کی رگوں میں مغل خون گردش کررہا ہے۔ اور اُن کے شاعرانہ اسلوب میں سلطنت رفتہ کی شان و شوکت اپنی چھب دکھاتی ہے۔ شاید یہی پس منظر ہے جس کے سبب ان کی خاکساری میں بھی ایک وقار ہے۔ انہیں غالب کی غزلوں کی زمینیں بہت پسند ہیں وہ ہمیشہ غالب کی زمینوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ موجودہ کتاب میں بھی غالب کی زمینوں میں سولہ غزلیں موجود ہیں۔

غالب کی زمینوں میں رفیع الدین راز نے جدید غزل کے ایسے رنگ سجائے ہیں جنہوں نے ایک نابغہ سخن کی زمینوں کو اور زیادہ روشن کردیاہے۔ ان غزلوں میں ان کی قدرت کلام اور لسانی گرفت بھی قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ راز صاحب کی ہر غزل کسی نہ کسی شعر پر پڑھنے والے کو چونکاتی ضرور ہے۔

حالی نے شاعری کی ایک ایسی کسوٹی ہمیں دے دی ہے کہ جس کے واسطے سے ہم کمترین اور بہترین شاعری کا فرق جان سکتے ہیں اور بلند معیار کی شاعری کو فوراً پہچان سکتے ہیں۔ اس معیار پر جانچیے تو رفیع الدین راز کی غزل آپ کو کھرا سونا محسوس ہوگی۔ وہ سونا جس میں سچائی کی چمک ہے۔ جذبات اور افکار کے یہ درخشاں شعری نقوش قاری کی نگاہوں کو خیرہ کرتے ہیں۔ اُن کے زندہ افکار کی قوس قزح اُن کی غزلوں میں جا بہ جا اپنے رنگ بکھیرتی ہے۔ اُن کی غزل مردہ استعاروں کا ہجوم نہیں زندہ خیالات کا گلدستہ ہے۔ وہ زندگی میں بھی اور اپنے فن میں بھی خرد افروزی کے قائل ہیں۔ اُن کے دل میں استدلال کی حرمت ہے۔ آپ اُن کی شاعری کی تہہ میں اتریے تو جان جائیں گے کہ وہ شرف انسانیت کے شاعر ہیں۔ رفیع الدین راز کی شاعری ایک مثالی دنیا کی تلاش کی شاعری ہے۔ اُن کا یہ خواب بہت قیمتی ہے۔ وہ اپنے اس خواب میں ہمیںبھی شریک کرنا چاہتا ہے۔ اپنی شاعری اور اپنے فن کے ذریعے ۔ اپنی تازہ رخ غزلوں کے ذریعے۔ اُن کی خاموش طبعی کے اندر ایک شورِ کائنات چھپا ہوا ہے۔ یہی شور حیات انگیز رفیع الدین راز کی تخلیقات میں نغمگی کا روپ دھار کر ہمارے سامنے آتا ہے اور اُن کی شعری غِنائیت قاری کو اپنے حصار افسوں میں لے لیتی ہے۔ اُن کی غزلوں میں معاشرے کے تضادات کو اجاگر کرنے کا رویہ بھی ہے اور جدید عہد کے انسان کا المیہ بھی، جدید عہد کا انسان جسے بڑی طاقتوں کی استعمار پسندی، دہشت گردی، اور سرمایہ دارانہ نظام کے جبر نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔

رفیع الدین راز کی شاعری ہر نوع کے ظلم کے خلاف آج کے انسان کی صدائے احتجاج ہے۔ اُن کی شاعری ہر قسم کی غلامی کو مسترد کرتی اور انسان کی آزادی کا علم بلند کرتی ہے۔ اسی لیے اُن کی فکر اور اُن کا اسلوب اظہار ہمارے دلوں کو تسخیر کرلیتا ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے وجود - بدھ 22 جنوری 2020

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے پورٹ لینڈ شہر میں مظاہرے کیے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی پولیس کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف اس مظاہروں کی کال بلیک لائف میٹر اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی دوسری تنظیموں نے دی تھی۔ مظاہرے کے شرکا نے زمین پر لیٹ کر پولیس کے نسل پرستانہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے لازمی اقدامات کی اپیل کی۔امریکہ میں کرائے جانے والے رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق 56 فی صد امریکی شہ...

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار وجود - بدھ 22 جنوری 2020

بھارتی بزنس مین مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ، 2019 میں ان کی دولت 58.4 ارب ڈالر رہی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت کے 15 ارب پتی شخصیات کی مجموعی دولت 197.8 ارب ڈالر کے برابر ہے ۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 میں متعدد بھارتی ارب پتی شخصیات کی دولت میں کمی ہوئی لیکن مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ۔15عشاریہ 3ارب ڈالر کے ساتھ بھارتی صنعت کار شیونادر دوسرے نمبر پر رہے ، جبکہ بھارت کے تیسرے امیر ترین شخص بی...

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران وجود - بدھ 22 جنوری 2020

ایران کی قدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قانی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو بزدلانہ حملے میں شہید کرنے والے امریکا پر مردانہ وار کارروائی کرکے جواب دیں گے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے کہا کہ امریکا نے بزدلوں کی طرح حملہ کرکے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کیا ہے جس کا ہم مردوں کی طرح بہادری سے جواب دیں گے ۔قدس فورس کے سربراہ نے کہا کہ ایران امریکا کی طرح پیچھے سے بزدلانہ وار نہیں کرتا بلکہ مردوں کی طرح سا...

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق وجود - بدھ 22 جنوری 2020

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا ، امریکی حکام کی جانب سے پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق کی گئی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ چائنا وائرس، یعنی کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی تصدیق ہوئی ہے جو حال ہی میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی)کی جانب سے کہا گیا کہ چین میں دریافت ہونے والا وائرس امریکی شہر سیاٹل میں ایک ایسے شخص میں پایا گیا جو چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکہ میں پائے جانے والا مریض 30 کی دہ...

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار وجود - منگل 21 جنوری 2020

  وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ دن میں مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے صدی کی ڈیل کے بارے میں حتمی اعلان کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ا نہوں نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ صدی کی ڈیل کے حوالے سے صدرٹرمپ خود ہی کوئی فیصلہ کریں گے ۔اس فیصلے کے حوالے سے وقت ایک اہم عنصرہوگا کیونکہ اس معاملے میں تاخیرامریکی صدارتی انتخابات کی وجہ سے اس منصوبے کے مفاد میں نہیں ہوگی۔وائٹ ہائوس نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امن سے خوشحالی کے نام...

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار

چین میں فی کس جی ڈی پی 10 ہزار ڈالرسے تجاوز کرگئی وجود - منگل 21 جنوری 2020

چین کی قومی ترقی و اصلاحات کی کمیٹی کے ترجمان مینگ وے نے کہا ہے کہ 2019 میں چین میں فی کس جی ڈی پی دس ہزار امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے ۔بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اس سے چین کی مجموعی طاقت میں اضافے ، سماجی پیداواری صلاحیت کے فروغ اور عوامی زندگی کی بہتری کی عکاسی ہوتی ہے ۔یہ چین کے ہمہ گیر خوشحال معاشرے کی تعمیر کے راستے میں حاصل کردہ ایک اہم کامیابی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں فی کس جی ڈی پی تیس ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے ، ا...

چین میں فی کس جی ڈی پی 10 ہزار ڈالرسے تجاوز کرگئی

ایرانی سپریم لیڈر الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں، ٹرمپ وجود - اتوار 19 جنوری 2020

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو الفاظ کے چناومیں محتاط رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا اور یورپ کے بارے میں غلط باتوں سے پرہیز کریں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت تباہ ہو رہی ہے ،وہاں لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز 8 سال بعد پہلی مرتبہ نماز جمعہ کی امامت کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر آیت الل...

ایرانی سپریم لیڈر الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں، ٹرمپ

جاپان، کوبے میں آنے والے شدید زلزلے کو 25 سال مکمل وجود - اتوار 19 جنوری 2020

جاپان کے مغربی علاقے کوبے اور اِردگرد کے علاقوں کو ہلا کر رکھ دینے والے تباہ کن زلزلے کو آئے 25 سال مکمل ہو گئے ہیں، اس زلزلے کے باعث 6 ہزار 4 سو 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 17 جنوری 1995 کو آنے والا یہ زلزلہ گریٹ ہانشن اواجی زلزلہ کہلاتا ہے ، اس زلزلے سے کئی عمارتیں تباہ ہوئی تھیں اور کئی میں آگ لگ گئی تھی۔سب سے متاثرہ کوبے شہر کے ایک پارک میں ہلاک شدگان کی یاد میں بانس سے بنی لالٹینیں روشن کی گئیں۔

جاپان، کوبے میں آنے والے شدید زلزلے کو 25 سال مکمل

بانی اسرائیل کے بیٹے کی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر اظہار شرمندگی وجود - اتوار 19 جنوری 2020

اسرائیلی ریاست کے بانی کے بیٹے ''یعقوف شریٹ''نے صہیونی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر افسوس اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف 1940 ء کی د ہائی میں جزیرہ نما النقب پر سمجھوتے پر افسوس ہے بلکہ وہ صہیونی ریاست کے پورے پروگرام پر شرمندہ ہیں۔ دیے گئے انٹرویو میں مسٹر یعقوف شریٹ نے کہا کہ اگرچہ ان کے آبائو اجداد نے ارض فلسطین میں اسرائیلی ریاست قائم کی۔ وہ اسرائیل کے بانی موشے شریٹ کا بیٹا ہونے کے باوجود صہیونی ریاست کے جرائم کی حمایت نہیں کرسکتے ۔ وہ اسرائیل...

بانی اسرائیل کے بیٹے کی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر اظہار شرمندگی

سلامتی کونسل اجلاس سے بھارت پر دبائو بڑھے گا، منیر اکرم وجود - اتوار 19 جنوری 2020

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے بھارت پر دبائوبڑھے گا، بھارت کو اپنے جارحانہ اقدامات واپس لینے کا پیغام دیا گیا ہے ۔ سلامتی کونسل جب چاہے مسئلہ کشمیر کو اٹھا سکتی ہے ۔ سلامتی کونسل کی 50سال سے غیر فعال قراردادیں اب فعال ہو چکی ہیں۔ نہ صرف چین بلکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی واضح بیان دیا ہے ۔ حق خودارادیت کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بھارت کی کوششوں کو رد کیا گیا۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں منیر اکرم کا ک...

سلامتی کونسل اجلاس سے بھارت پر دبائو بڑھے گا، منیر اکرم

فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا ہے اور رہے گا، سعودی عرب وجود - جمعه 17 جنوری 2020

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ عرب امن فارمولے اور بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق جامع عرب حل کا مطالبہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہمارا غیر متزلزل موقف ہے کہ فلسطینیوں کے حوالے سے قابض حکام کے یکطرفہ اقدامات غیر قانونی ہیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب، عرب ممالک کے اتحاد و سالمیت کو ضروری سمجھتا ہے اور عربوں کے استحکام کو خطرہ لاحق کرنے والی...

فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا ہے اور رہے گا، سعودی عرب

ایرانی حکومت ہر آنے والے دن اپنا قانونی جواز کھو رہی ہے ، مائیک پومپیو وجود - جمعه 17 جنوری 2020

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایرانی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران حکومت اپنے عوام اور پوری دنیا سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے ۔پومپیو نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ایرانی حکومت اپنے عوام سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کررہی ہے ۔ ایرانی رجیم اپنے من پسند لوگوں کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے پارلیمنٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی بھی مرتکب ہے ۔انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ یہاں تک کہ ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ ی...

ایرانی حکومت ہر آنے والے دن اپنا قانونی جواز کھو رہی ہے ، مائیک پومپیو