وجود

... loading ...

وجود

درِ آئینہ کا شاعر…رفیع الدین رازؔ

اتوار 11 فروری 2018 درِ آئینہ کا شاعر…رفیع الدین رازؔ

اُردو کی شعری اصناف میں غزل نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ غور سے دیکھیے تو غزل ہمارے آسمانِ ادب کا آفتاب ہے، باقی اصناف چاند ستاروں کی طرح ہیں۔ مرثیے کی وسعتِ بیان، رزمیہ طرزِ اظہار اور جذبات نگاری، قصیدے کا شکوہ،مثنوی کا شعری محاسن سے آراستہ کہانی پن، رباعی کافکری وقار اپنی جگہ لیکن غزل کا ایک شعر جس اختصار و ایجاز کے ساتھ زندگی کے کسی رنگ ، کیفیت یا حقیقت کا اظہار کرتا ہے، وہ منفرد اور حیرت ناک ہے۔ دوسری اصناف کے مقابلے میں غزل کے اشعار ہمیں اپنے دل سے زیادہ نزدیک محسوس ہوتے ہیں۔ اُن کی جمالیات اور غنائیت سے ہماری آشنائی بہت پرانی ہے۔ غزل ہماری تہذیب کا چراغ ہے۔ یہ ہماری اجتماعی نفسیات میں اُترگئی ہے۔ اِسی لیے غزل بعض نامور نقادوں اور قلمکاروں کی مخالفت کے باوجود بھی زندہ ہے۔ غزل کے زندہ رہنے کی دو سب سے بڑی وجوہات ہیں، ایک تو اِس میں ہر طرح کے مضامین کو ادا کرنے کی اہلیت ہے، چاہے وہ مضامین، عشقیہ ہوں، فلسفیانہ ہوں، تصوف سے متعلق ہوں، سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق ہوں، سماجی ہوں یا سیاسی ہوں۔ غزل کے کینوس پر سب کے لیے جگہ موجود ہے۔ غزل کے مسلسل ارتقائی سفر کی دوسری وجہ یہ ہے کہ غزل میں ہر عہد کے لسانی اور شعری تقاضوں کے مطابق تبدیل ہوجانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ولیؔ کے عہد سے لے کر آج تک غزل نے کئی روپ بدلے ہیں۔ آج ہماری جدید اُردو غزل، صرف موضوعات ہی میں نہیں، اپنے پیرایۂ اظہار میں بھی کلاسیکی غزل سے صریحاً مختلف ہے۔ یہ غزل عصریت اور تازگیٔ خیال سے عبارت ہے۔

عصری غزل کے منظر نامے پر نظر ڈالیے تو آپ کو رفیع الدین رازؔ بہت نمایاں نظر آئیں گے۔ اُن کی غزل ہمارے ادبی سرمائے میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ میرے نزدیک رفیع الدین رازؔ کی غزلیں اِس لیے اہم ہیںکہ یہ ہمارے عہد کے آشوب کا اظہار بھی کرتی ہیں اور اِن میں تازہ خیالی کے رنگ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ رفیع الدین رازؔ ایک پڑھے لکھے، خلّاق طبع، منکسر اور خودساز انسان ہیں۔ اُن کے قریبی لوگ جانتے ہیں کہ اُنہوںنے اپنا سفر زیرو (ZERO) سے شروع کیا اوراپنی اَنتھک محنت، جدوجہد اور سچائی پر یقین کے راستے سے وہ کامیابی کی موجودہ منزل تک پہنچے۔ ایسا نہیں ہے کہ اُنہیں زندگی کے سفر میں مخالفت اور دل شکنی کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن وہ مخالفت اور دل آزاری کے رویوں سے کبھی افسردہ نہیں ہوئے بلکہ اِس سے اُن کے اندر ایک نئی ہمت پیدا ہوئی۔

یہی اُمید پرستی اور مثبت اندازِ فکر اُن کی سب سے بڑی دولت ہے۔ اِسی نے اُن کی شخصیت کو ہمیشہ ٹوٹنے سے بچائے رکھا۔ وہ آج جو کچھ بھی ہیں، اپنے اِسی باطنی یقین کی وجہ سے ہیں۔ اُن کے اندر ابتدا سے ہی یہ یقین موجود رہا ہے کہ انسان کو سچائی، اخلا ص اور محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے۔ اِس میں کچھ تاخیر تو ہوسکتی ہے مگر ناکامی نہیں۔ اُن کی شاعری میں بھی اُن کا یہ یقین جگہ جگہ جھلکتا ہے۔ اُنہوںنے اپنی تخلیقی شخصیت کے ساتھ ساتھ اپنے فن کا لوہا بھی اہلِ نقدونظر سے منوایا ہے۔ وہ ایک قادر الکلام اور عروضی نکات کو سمجھنے والے شاعر ہیں۔ اُنہو ں نے غزل کے علاوہ بھی دوسری اصناف کو اپنے اظہار کے لیے منتخب کیا۔ رباعی، نعت، قطعہ، انشائیہ، آزادنظم، پابند نظم، دوہا، ہائیکو، ماہیا، تروینی اور افسانے میں وہ اپنے تخلیقی جوہر دکھاچکے ہیں۔ اُنہوںنے رباعی کے چوبیس اوزان میں رباعیات کہی ہیں اور رباعی کے سارے اوزان میں غزلیں بھی لکھی ہیں۔ اُردو ادب میں اُنہیں اِس کی اوّلیت کا اعزاز حاصل ہے کیوں کہ رباعی کے ہر وزن پر غزل لکھنے کی روایت اِس سے پہلے نہیں ملتی۔

آج کل وہ امریکا میں مقیم ہیں۔ یہ اُن کی تیسری ہجرت ہے۔ جس کے خدوخال اُن کی تحریروں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ امریکا کی اُردو بستیوں میں وہ ایک کہنہ مشق سینئر اور صفِ اوّل کے شاعر کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ امریکا کے مشاعروں میں اُنہیں سب سے زیادہ داد ملتی ہے اور سامعین اُن کی شفیق شخصیت اور بلند معیارِ کلام کے باعث اُن سے محبت کرتے ہیں۔ وہ ایک کم گو، سنجیدہ اور نرم خو انسان ہیں۔ اگر وہ کبھی کسی موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہیں تو، اُن کی دیانتِ فکر، اور زندگی کے بارے میں اُن کی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ انسانی رشتوں کا احترام کرنے والے شخص ہیں۔ وہ مذہبی انتہا پسندی اور قتل و غارت گری کے خلاف ہیں۔ وہ عالمی تاریخ کے بہترین شناسا ہونے کی وجہ سے بڑی طاقتوں کے استحصال اور عالمی سیاسی منظرنامے سے پوری طرح واقف ہیں ، اِسی لیے اُن کی غزل محض انفرادی تجربے کا اظہار نہیں بلکہ اجتماعیت کی امین ہے۔

اِس سے قبل اُن کی غزلوں کے سات مجموعے شائع ہوچکے ہیں اور ایک ضخیم کلیات ’’ سخن سرمایہ‘‘ جو غزلیات پر مشتمل ہے منظرِعام پر آچکا ہے۔ اُن کی شاعری پر ہمارے عہد کے تقریباً سارے بڑے نقاد اور شعراء اپنی آراء کا تحریری اظہار کرچکے ہیں۔ وہ بہت خوش نصیب ہیں کہ اُنہوں نے اپنی زندگی ہی میں ادب کے بڑے لوگوں سے داد پائی۔ ہمہ اصناف ہونے کے باوجود رازؔ صاحب کی شاعری کا بنیادی حوالہ ان کی غزل ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔ چند بنیادی باتیں تو اُن کی غزل کے بارے میں ہر نقاد ہی نے کہی ہیں اور آج ہم رفیع الدین رازؔ کی غزل کو اِنہی تنقیدی کلّیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اِن میں ایک بات تو اُن کی رجائیت کے تناظر میں ہے کہ اُن کی شاعری میں نااُمیدی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ وہ زندگی کے غموں اور مصائب میں یاسیت کے اندھیروں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے۔ یقین اور اُمید کا اُجالا ہمیشہ اُن کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ عصرِ جدید کے انسان کی تمام سفّاکی، زرپرستی، خود غرضی اور خوں آشامی کے باوجود اُس سے مایوس نہیں ہیں۔ وہ مستقبل کی دنیا کو ایک بہتر اور پُرامن دنیا بنانے کا خواب دیکھنا کبھی ترک نہیں کرتے۔ اُن کی شاعری کے اِس رجائی انداز کا خصوصی تذکرہ اُن پر لکھے جانے والے مضامین میں ملتا ہے۔ چوںکہ رجائیت اور ظلم و آلام سے برسرِپیکار ہونے کا رویہ اُن کی ذات اور اُن کے تخلیقی شعور کا جزوِ اعظم ہے، اِس لیے زیرِ نظر مجموعۂ غزلیات ’’درِ آئینہ‘‘ میں بھی یہ اُمید پرستی ہمیں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔

رازؔ صاحب کے شاعرانہ اسلوب کے بارے میں دوسری بات جو نقادوں نے ان کی غزل کے تنقیدی مطالعے کے نتیجے میں کہی وہ یگانہ کے اثر کے حوالے سے ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ ان کی غزل کا لہجہ اور طرز اظہار یاس یگانہ چنگیزی سے بہت مماثل ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ مماثلت شعوری نہیں ہے۔ یہ دو شاعروں کی زندگی کی مماثلت ہے۔ یہ زندگی اور کائنات کو دیکھنے کے انداز نظر کی مماثلت ہے، یہ دو نظریہ ہائے حیات کی مماثلت ہے۔ انہوں نے کسی کی نقل نہیں کی، کسی سے کچھ مستعار نہیں لیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھوں نے کلاسیکی ادب سے فیض حاصل نہیں کیا، اُن کے مطالعے نے اُن کے تخلیقی شعور کی تشکیل کی۔ اُنھوں نے روایت کے بہترین حصوں کے اثرات سے اپنی فکر سخن کو مہمیز کیا ان کے رنگوں کی آمیزش سے ایک نیا رنگ بنایا، ایک بالکل نیا لہجہ تراشا، جذبات کی جگہ افکار کو دی اورمحبت کے تصور کو محبوب کی فردیت سے نکال کر ساری انسانیت پر پھیلا دیا۔

جہاں تک رفیع الدین راز کی غزلوں میں ان کے انادار لہجے اور طرزِ ادا کا تعلق ہے۔ ہم اسے ایک قسم کا احساس غیرت اور خود داری سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ کیونکہ حالات کے جبر اور دنیا کے برتائو نے ان کے خود داری کے جوہر کو اور بھی چمکا دیا ہے۔ ان پر درد کے کتنے ہی موسم گزرگئے مگر انہوں نے دست طلب کبھی درازنہیں کیا، اسے آپ ان کی انا بھی کہہ سکتے ہیں، مگر یہ انانہ توانائے شکستہ ہے اور نہ ہی انائے کج، یہ ایک مثبت انا ہے، جو زندگی کی رزم گاہ میں راز صاحب کی سپر ہے اور کبھی کبھی شمشیر بھی۔ یہ انا ایک صحت مند انسانی رویہ ہے۔ جس میں دنیا سے نفرت، طیش یا انتقام کے جذبات نہیں ہیں۔ آپ یوں سمجھ لیجیے کہ رفیع الدین راز کو اپنی ذات کا گیان بھی ہے اور اپنے چاروں طرف موجود انسانوں کا دھیان بھی۔ یہی توازن ان کی شخصیت اور ان کی سخنوری کا سب سے مستحکم ستون ہے۔

ہر شاعر کے یہاں بعض علامتیں بار بار اپنا چہرہ دکھاتی ہیں۔ رفیع الدین راز کی غزلوں میں آئینے کا لفظ بار بار آتا ہے۔ ’’آئینہ‘‘ صوفیاء کے نزدیک کائنات کی علامت ہے۔ بعض صاحبانِ حال نے اِس سے قلب بھی مراد لیا ہے۔

کہتے ہیں آئینے کا لفظ اُردو اور فارسی شاعری میں سب سے زیادہ بار عبدالقادر بیدلؔ نے استعمال کیا اور ہر بار اُس کی عظیم شاعرانہ بصیرت نے اِس علامت کو ایک نئی جہت دی ہے۔ بیدل کے بعد مرزا اسد اللہ خاں غالب نے آئینے کی علامت کو اپنی شاعری کی زینت بنایا۔ غالب کی غزلوں میں لفظِ آئینہ واقعی گنجینۂ معنی کا طلسم نظر آتا ہے۔

رفیع الدین کے مجموعے ’’درِ آئینہ‘‘ میں آئینے کی علامت کُل ۱۷۔ اشعار میں ملتی ہے۔ اس مجموعے کے نام سے بھی رفیع الدین راز کی اِس لفظ سے ایک خاص تخلیقی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ اس سے قبل کے مجموعوں میں بھی رفیع الدین راز نے آئینے کی شعری علامت کو بڑے حسن کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ دراصل لفظِ آئینہ راز صاحب کے شعری وجدان میں اہم مقام رکھتا ہے۔ وہ اِسے ظاہر و باطن کی یکسانیت یعنی منافقت ریارکاری اور دروغ کی ضد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آئینہ اُن کی نگاہ میں سچائی کا مظہر ہے جو حقیقت کو ویسا ہی دکھاتا ہے جیسی وہ ہے۔ کہیں کہیں وہ اِسے تخلیق کی علامت کے طور پر بھی استعمال کرتے ہی۔ معنوی سطح پر آئینہ اُن کی شاعری میں جمالِ ذات اور جمالِ کائنات کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے بعض اشعار میں آئینے کو لفظ انکشافِ راز کے معنوں میں بھی برتا ہے۔

مجھے عصرِ نو میں غالب کا رنگ پورے اُسلوبیاتی اہتمام کے ساتھ یا تو عزیر حامد مدنی کے یہاں نظر آتا ہے۔ یا پھر ایک خاص زاویے سے رفیع الدین راز کی غزلوں میں۔

فراقؔ نے خواجہ حیدر علی آتش کو اخلاقی مضامین کا بادشاہ کہا ہے۔ آتش کے یہاں اخلاقی مضامین تصوف کی راہ سے آئے ہیں۔ رفیع الدین راز کی شاعری پندو نصائح کا دفتر نہیں ہے۔ وہ اپنے اشعار میں آفاقی انسانی قدروں کی طرف محض اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ شعریت کو وہ صداقت پر قربان نہیں کرتے۔ ورنہ صحافت اور شاعری پھر کوئی حد فاصل باقی نہیں رہے گی۔ وہ غالب کی طرح زندگی اور اس خاکدان آب و گل کے بارے میں بڑے سوالوں کو Address کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ وہ مرزا اسد اللہ خاں غالب تو نہیں مگر مرزا رفیع الدین بیگ ضرور ہیں اُن کی رگوں میں مغل خون گردش کررہا ہے۔ اور اُن کے شاعرانہ اسلوب میں سلطنت رفتہ کی شان و شوکت اپنی چھب دکھاتی ہے۔ شاید یہی پس منظر ہے جس کے سبب ان کی خاکساری میں بھی ایک وقار ہے۔ انہیں غالب کی غزلوں کی زمینیں بہت پسند ہیں وہ ہمیشہ غالب کی زمینوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ موجودہ کتاب میں بھی غالب کی زمینوں میں سولہ غزلیں موجود ہیں۔

غالب کی زمینوں میں رفیع الدین راز نے جدید غزل کے ایسے رنگ سجائے ہیں جنہوں نے ایک نابغہ سخن کی زمینوں کو اور زیادہ روشن کردیاہے۔ ان غزلوں میں ان کی قدرت کلام اور لسانی گرفت بھی قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ راز صاحب کی ہر غزل کسی نہ کسی شعر پر پڑھنے والے کو چونکاتی ضرور ہے۔

حالی نے شاعری کی ایک ایسی کسوٹی ہمیں دے دی ہے کہ جس کے واسطے سے ہم کمترین اور بہترین شاعری کا فرق جان سکتے ہیں اور بلند معیار کی شاعری کو فوراً پہچان سکتے ہیں۔ اس معیار پر جانچیے تو رفیع الدین راز کی غزل آپ کو کھرا سونا محسوس ہوگی۔ وہ سونا جس میں سچائی کی چمک ہے۔ جذبات اور افکار کے یہ درخشاں شعری نقوش قاری کی نگاہوں کو خیرہ کرتے ہیں۔ اُن کے زندہ افکار کی قوس قزح اُن کی غزلوں میں جا بہ جا اپنے رنگ بکھیرتی ہے۔ اُن کی غزل مردہ استعاروں کا ہجوم نہیں زندہ خیالات کا گلدستہ ہے۔ وہ زندگی میں بھی اور اپنے فن میں بھی خرد افروزی کے قائل ہیں۔ اُن کے دل میں استدلال کی حرمت ہے۔ آپ اُن کی شاعری کی تہہ میں اتریے تو جان جائیں گے کہ وہ شرف انسانیت کے شاعر ہیں۔ رفیع الدین راز کی شاعری ایک مثالی دنیا کی تلاش کی شاعری ہے۔ اُن کا یہ خواب بہت قیمتی ہے۔ وہ اپنے اس خواب میں ہمیںبھی شریک کرنا چاہتا ہے۔ اپنی شاعری اور اپنے فن کے ذریعے ۔ اپنی تازہ رخ غزلوں کے ذریعے۔ اُن کی خاموش طبعی کے اندر ایک شورِ کائنات چھپا ہوا ہے۔ یہی شور حیات انگیز رفیع الدین راز کی تخلیقات میں نغمگی کا روپ دھار کر ہمارے سامنے آتا ہے اور اُن کی شعری غِنائیت قاری کو اپنے حصار افسوں میں لے لیتی ہے۔ اُن کی غزلوں میں معاشرے کے تضادات کو اجاگر کرنے کا رویہ بھی ہے اور جدید عہد کے انسان کا المیہ بھی، جدید عہد کا انسان جسے بڑی طاقتوں کی استعمار پسندی، دہشت گردی، اور سرمایہ دارانہ نظام کے جبر نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔

رفیع الدین راز کی شاعری ہر نوع کے ظلم کے خلاف آج کے انسان کی صدائے احتجاج ہے۔ اُن کی شاعری ہر قسم کی غلامی کو مسترد کرتی اور انسان کی آزادی کا علم بلند کرتی ہے۔ اسی لیے اُن کی فکر اور اُن کا اسلوب اظہار ہمارے دلوں کو تسخیر کرلیتا ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،بجلی ، گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی وجود - هفته 16 مئی 2026

توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...

حکومت آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،بجلی ، گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار وجود - هفته 16 مئی 2026

کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار

کھانا پینا بالکل ختم ، جہاز کا گندا پانی پی رہے ہیں،صومالی قزاقوں کا پاکستانیوں پر ظلم وجود - هفته 16 مئی 2026

صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...

کھانا پینا بالکل ختم ، جہاز کا گندا پانی پی رہے ہیں،صومالی قزاقوں کا پاکستانیوں پر ظلم

اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا( 200سے زائد بچے شہید) وجود - هفته 16 مئی 2026

لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...

اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا( 200سے زائد بچے شہید)

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو وجود - جمعه 15 مئی 2026

عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم وجود - جمعه 15 مئی 2026

وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی وجود - جمعه 15 مئی 2026

علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی وجود - جمعه 15 مئی 2026

ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

مضامین
فرق وجود هفته 16 مئی 2026
فرق

زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں! وجود هفته 16 مئی 2026
زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں!

مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا وجود جمعه 15 مئی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا

25کروڑمال مویشی وجود جمعه 15 مئی 2026
25کروڑمال مویشی

ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی وجود جمعه 15 مئی 2026
ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر