وجود

... loading ...

وجود

نظام امن اورعہد خلفائے راشدین

جمعه 09 فروری 2018 نظام امن اورعہد خلفائے راشدین

اسلام ظلم کوکسی حالت میں اور کسی بھی نام اور عنوان سے برداشت نہیں کرتا۔ وہ اپنے فرزندوں کو جان، مال ومذہب، عقیدہ ، وطن، مذہبی مقدسات، شعائر دین، مساجد ومعابد وغیرہ کی حفاظت، ان کے دفاع اور کسی بھی طرح کی تعدی سے ان کے بچاؤ کی تدبیر کرنے کا ناگزیر حکم دیتا ہے اور ان ساری سازشوں کو ناکام بنادینے کا انہیں پابند بناتا ہے جو خود ان کے خلاف کی جائیں یا انسانیت کے خلاف روبہ عمل لائی جائیں۔

اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، امت مسلمہ نے ان اخلاقی اور قانونی ہدایات اور عہد رسالت کے علمی نمونوں کو ہر دور میں پوری اہمیت دی اور روئے زمین پر ایک پرامن قوم کی حیثیت سے اپنی پہچان قائم کی۔ مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے غیرمسلموں کے ساتھ بھی فراخدلانہ رویہ اختیار کیا، ان کے حقوق و جذبات کی رعایت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح قیام امن کا عمل متاثر نہ ہو خواہ اس کے لیے ان کو بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔ مسلمانوں کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی صدیوں پرانی تاریخ میں فرقہ وارنہ فسادات اور خونریز ہنگاموں کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔ مسلمانوں کے امن پسند ہونے کی اس سے بڑی شہادت کیا ہوسکتی ہے ؟اسلامی عہد حکومت کے مختلف ادوار سے بعض نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔

عہدصدیقی:عہد رسالت کے بعد تاریخ اسلامی کا سب سے قیمتی عہد عہد صدیقی ہے ۔ اس عہد کا ابتدائی حصہ اگر چہ ہنگامی حالات سے لبریز ہے مگر اس کا زیادہ تر تعلق خارجی ہے ۔ داخلی طور پر ملک میں کوئی بدامنی نہیں تھی اور بالخصوص غیرمسلموں کے ساتھ پوری رواداری اور فراخدلی کا ماحول قائم تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں جو ممالک فتح ہوئے ؛ وہاں غیرمسلم آبادی کے حقوق کا مکمل لحاظ رکھا گیا۔ حیرہ فتح ہوا تو وہاں کے عیسائیوں سے یہ معاہدہ ہوا کہ ان کی خانقاہیں اور گرجا گھر منہدم نہ کیے جائیں گے ، ان کا وہ قصر نہیں گرایا جائے گا جس میں وہ ضرورت کے وقت دشمنوں کے مقابلہ میں قلعہ بند ہوتے ہیں، ان کے ناقوس اور گھنٹے بجانے پر پابندی نہ ہوگی، تہوار کے موقع پر صلیب نکالنے پر ممانعت نہ ہوگی، اسی معاہدہ میں یہ بھی تھا کہ یہاں کے ذمیوں کو فوجی لباس کے علاوہ ہر طرح کی پوشاک پہننے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وہ مسلمانوں سے مشابہت پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں۔

آپ کے عہد خلافت میں ایک غیرمسلم عورت کا ہاتھ ایک مسلمان افسر نے صرف اس جرم میں کٹوادیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہجو میں اشعار گاتی تھی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس افسر کو تنبیہ فرمائی کہ اگر وہ عورت مسلمان تھی تو کوئی معمولی سزا دینی چاہئے تھی اور اگر ذمی تھی تو جب ہم نے اس کے کفر وشرک سے درگذر کیا تو یہ تو اس سے فروتر چیز تھی۔

عہد فاروقی::حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا عہد پوری دنیائے حکمرانی کی تاریخ میں ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے ۔ ملک کی ترقی و خوشحالی، امن وامان کی بحالی، داخلی سلامتی، خارجی سیاست، پیداوار میں اضافہ، ایجادات واکتشافات اور علمی تحقیقات کے لحاظ سے یہ عہد اپنی مثال آپ ہے ۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد چشم فلک نے اس سرزمین پر اتنا خوبصورت عہد حکومت دوبارہ نہیں دیکھا جس میں ہر شخص اپنے کو محفوظ اور ترقی پسند محسوس کرتا تھا اور مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلم اقلیتوں کے ساتھ بھی مکمل رواداری ملحوظ رکھی جاتی تھی۔

آپ کے عہد میں بیت المقدس فتح ہوا تو خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی موجودگی میں وہاں کے لوگوں سے یہ معاہدہ ہوا کہ: یہ وہ فرمان ہے جو خدا کے غلام امیرالمومنین نے ایلیاء کے لوگوں کو دیا کہ ان کا مال، گرجا، صلیب، تندرست بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہیں۔ اس طرح کہ ان کے گرجاؤں میں نہ سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے ، نہ ان کو اور نہ ان کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا، اور نہ ہی ان کے صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی، مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا، ایلیا والوں میں سے جو شخص اپنی جان ومال لے کر یونانیوں کے ساتھ منتقل ہونا چاہے تو ان کو اور ان کے گرجاؤں اور صلیبوں کو امن ہے ؛ یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائے اورجو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر خدا کا، رسول کا، خلفاء کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے بشرطیکہ وہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔ (الفاروق)

ایک مرتبہ غسان کا نصرانی بادشاہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ملنے آیا تو اتفاقا ایک اعرابی نے نادانستہ اسے دھکا دیا اس پر بادشاہ نے خفاہوکر اسے مارا۔اعرابی کی نالش پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فیصلہ سنایا کہ وہ بادشاہ کو مارے اس پر بادشاہ نے کہا: اے امیرالمومنین! کہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک شخص بادشاہ کو ہاتھ لگائے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا:اسلام کا قانون یہی ہے ۔ انصاف کے باب میں اسلام کے نزدیک امیر و غریب، بادشاہ اور رعایا سب برابر ہیں۔ (اسلام کا نظام امن)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ہی کے عہد خلافت کا واقعہ ہے کہ جب ملک شام کے ایک بڑے حصہ پر مسلمان قابض ہوگئے تو ہاں کے لوگوں نے انطاقیہ کے حکمراں ہرقل کو ایک زبردست فوج لے کر حمص کی طرف بڑھنے پر آمادہ کیا جہاں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خیمہ زن تھے ۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو غنیم کے لشکر جرار کی خبر ملی تو انھوں نے مجلس مشاورت منعقد کیا جس میں یہ رائے طے پائی کہ حمص کو خالی کرکے دمشق کو محاذ بنایاجائے مگر حمص چھوڑنے سے پہلے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ حکم جاری کیا کہ اب وہ اس کے باشندوں کو دشمنوں سے بچانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اس لیے ان سے جزیہ یا خراج کے نام پرجو کچھ لیا گیا تھا وہ انہیں واپس کردیا جائے ؛ کیوں کہ یہ جزیہ حفاظت کی خاطر وصول کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اہل حمص کو ان کی پوری رقم واپس کردی گئی۔ اس رقم کی واپسی سے اہل حمص بہت متاثرہوئے اور کہا کہ: ہم مسلمانوں کی فوجوں کے کاندھے سے کاندھا ملاکر ہرقل کی فوج سے آخری دم تک لڑیں گے۔ یہودیوں نے بھی توارۃ کی قسم کھاکر یہی بات کہی۔ اہل حمص نے مسلمانوں کو دعائیں دیں کہ خدا تمہیں دوبارہ فتح عطا کرے اوریہاں واپس لائے ۔ آج تمہاری جگہ اگر رومی ہوتے تو وہ کچھ بھی واپس نہ کرتے بلکہ ہماری باقی ماندہ چیزیں بھی لوٹ لیتے ۔(فتوح البلدان)

عہد عثمانی:حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کاعہد بھی امن وامان کی بحالی، مختلف قوموں کے ساتھ رواداری، داخلی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کے لحاظ سے مثالی تھا۔ متعدد ممالک کی داخلی صورت حال سے باخبر رہنے کے لیے آپ سرکاری وفود بھیجا کرتے تھے ۔ جمعہ کے دن منبر پر پہنچ کر اطراف ملک کی خبریں پوچھتے اور عام اعلان کرتے

کہ: اگر کسی کو کسی سرکاری افسر سے شکایت ہو تو حج کے موقع پر آکر بیان کرے ۔ اس موقعہ پر تمام افسروں کو بھی فوری طور پرطلب کرلیتے تھے ؛ تاکہ شکایتوں کی تحقیقات ہوسکے ۔(مسند احمدبن حنبل)

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں نجران کے عیسائیوں کو بعض مسلمانوں سے کچھ شکایات پیداہوئیں تو آپ نے فوراً ان کی طرف توجہ کی۔ حاکم نجران ولید بن عتبہ کے نام خصوصی مکتوب تحریر فرمایا اور امن وامان کی صورت حال بگڑنے نہ دی۔ (کتاب الخراج لابی یوسف)

عہد علی:حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا عہد بظاہر سخت انتشار وخلفشار سے پر ہے اور سخت ہنگاموں سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو فرصت نہ مل سکی مگراس کے باوجود غیرمسلم اقلیتوں، اسی طرح غیرجانبدار طبقات کی سلامتی کے باب میں کسی جزء پر انگلی رکھنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ آپ کے عہد میں ایک گورنر عمروبن مسلم کی سخت مزاجی کی بعض شکایات آپ کو ملیں تو آپ نے فوراً اس کے ازالہ کی طرف توجہ فرمائی۔

اسی طرح غیرمسلموں کی آب پاشی کی ایک نہر پٹ گئی تھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے وہاں کے گورنر طرفہ بن کعب کو لکھا کہ: اس نہر کو آباد کرنا مسلمانوں کا فرض ہے ۔ میری عمر کی قسم! مجھے اس کا آباد رہنا زیادہ پسند ہے ۔ (تاریخ اسلام)
دنیا میں اتنی طویل المدتی اسلامی حکومتیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ انھوں نے ظلم وستم کے بجائے انصاف اور عدل کو اپنا شعار بنایا ۔مسلمانوں ہی کے ذریعہ آج پھر اس دنیا میں امن وامان پیدا ہوسکتا ہے ۔ اس لیے کہ اسلام اپنے حسن اخلاق اوراپنے ہمہ گیر نظام امن سے دنیا کو پھر امن سے بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اورامیر، غریب، کمزور اور قوی کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت رکھتا ہے ،خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں امن کا تصور اظہر من الشمس ہے ۔


متعلقہ خبریں


شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید وجود - بدھ 06 مئی 2026

موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم وجود - بدھ 06 مئی 2026

چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع وجود - بدھ 06 مئی 2026

عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی وجود - بدھ 06 مئی 2026

تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان وجود - منگل 05 مئی 2026

سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

مضامین
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟ وجود بدھ 06 مئی 2026
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

پاک افغان تعلقات کا مستقبل وجود بدھ 06 مئی 2026
پاک افغان تعلقات کا مستقبل

مودی کی بدعنوان حکومت وجود بدھ 06 مئی 2026
مودی کی بدعنوان حکومت

عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب وجود منگل 05 مئی 2026
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں! وجود منگل 05 مئی 2026
آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر