وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نظام امن اورعہد خلفائے راشدین

جمعه 09 فروری 2018 نظام امن اورعہد خلفائے راشدین

اسلام ظلم کوکسی حالت میں اور کسی بھی نام اور عنوان سے برداشت نہیں کرتا۔ وہ اپنے فرزندوں کو جان، مال ومذہب، عقیدہ ، وطن، مذہبی مقدسات، شعائر دین، مساجد ومعابد وغیرہ کی حفاظت، ان کے دفاع اور کسی بھی طرح کی تعدی سے ان کے بچاؤ کی تدبیر کرنے کا ناگزیر حکم دیتا ہے اور ان ساری سازشوں کو ناکام بنادینے کا انہیں پابند بناتا ہے جو خود ان کے خلاف کی جائیں یا انسانیت کے خلاف روبہ عمل لائی جائیں۔

اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، امت مسلمہ نے ان اخلاقی اور قانونی ہدایات اور عہد رسالت کے علمی نمونوں کو ہر دور میں پوری اہمیت دی اور روئے زمین پر ایک پرامن قوم کی حیثیت سے اپنی پہچان قائم کی۔ مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے غیرمسلموں کے ساتھ بھی فراخدلانہ رویہ اختیار کیا، ان کے حقوق و جذبات کی رعایت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح قیام امن کا عمل متاثر نہ ہو خواہ اس کے لیے ان کو بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔ مسلمانوں کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی صدیوں پرانی تاریخ میں فرقہ وارنہ فسادات اور خونریز ہنگاموں کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔ مسلمانوں کے امن پسند ہونے کی اس سے بڑی شہادت کیا ہوسکتی ہے ؟اسلامی عہد حکومت کے مختلف ادوار سے بعض نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔

عہدصدیقی:عہد رسالت کے بعد تاریخ اسلامی کا سب سے قیمتی عہد عہد صدیقی ہے ۔ اس عہد کا ابتدائی حصہ اگر چہ ہنگامی حالات سے لبریز ہے مگر اس کا زیادہ تر تعلق خارجی ہے ۔ داخلی طور پر ملک میں کوئی بدامنی نہیں تھی اور بالخصوص غیرمسلموں کے ساتھ پوری رواداری اور فراخدلی کا ماحول قائم تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں جو ممالک فتح ہوئے ؛ وہاں غیرمسلم آبادی کے حقوق کا مکمل لحاظ رکھا گیا۔ حیرہ فتح ہوا تو وہاں کے عیسائیوں سے یہ معاہدہ ہوا کہ ان کی خانقاہیں اور گرجا گھر منہدم نہ کیے جائیں گے ، ان کا وہ قصر نہیں گرایا جائے گا جس میں وہ ضرورت کے وقت دشمنوں کے مقابلہ میں قلعہ بند ہوتے ہیں، ان کے ناقوس اور گھنٹے بجانے پر پابندی نہ ہوگی، تہوار کے موقع پر صلیب نکالنے پر ممانعت نہ ہوگی، اسی معاہدہ میں یہ بھی تھا کہ یہاں کے ذمیوں کو فوجی لباس کے علاوہ ہر طرح کی پوشاک پہننے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وہ مسلمانوں سے مشابہت پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں۔

آپ کے عہد خلافت میں ایک غیرمسلم عورت کا ہاتھ ایک مسلمان افسر نے صرف اس جرم میں کٹوادیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہجو میں اشعار گاتی تھی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس افسر کو تنبیہ فرمائی کہ اگر وہ عورت مسلمان تھی تو کوئی معمولی سزا دینی چاہئے تھی اور اگر ذمی تھی تو جب ہم نے اس کے کفر وشرک سے درگذر کیا تو یہ تو اس سے فروتر چیز تھی۔

عہد فاروقی::حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا عہد پوری دنیائے حکمرانی کی تاریخ میں ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے ۔ ملک کی ترقی و خوشحالی، امن وامان کی بحالی، داخلی سلامتی، خارجی سیاست، پیداوار میں اضافہ، ایجادات واکتشافات اور علمی تحقیقات کے لحاظ سے یہ عہد اپنی مثال آپ ہے ۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد چشم فلک نے اس سرزمین پر اتنا خوبصورت عہد حکومت دوبارہ نہیں دیکھا جس میں ہر شخص اپنے کو محفوظ اور ترقی پسند محسوس کرتا تھا اور مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلم اقلیتوں کے ساتھ بھی مکمل رواداری ملحوظ رکھی جاتی تھی۔

آپ کے عہد میں بیت المقدس فتح ہوا تو خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی موجودگی میں وہاں کے لوگوں سے یہ معاہدہ ہوا کہ: یہ وہ فرمان ہے جو خدا کے غلام امیرالمومنین نے ایلیاء کے لوگوں کو دیا کہ ان کا مال، گرجا، صلیب، تندرست بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہیں۔ اس طرح کہ ان کے گرجاؤں میں نہ سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے ، نہ ان کو اور نہ ان کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا، اور نہ ہی ان کے صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی، مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا، ایلیا والوں میں سے جو شخص اپنی جان ومال لے کر یونانیوں کے ساتھ منتقل ہونا چاہے تو ان کو اور ان کے گرجاؤں اور صلیبوں کو امن ہے ؛ یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائے اورجو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر خدا کا، رسول کا، خلفاء کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے بشرطیکہ وہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔ (الفاروق)

ایک مرتبہ غسان کا نصرانی بادشاہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ملنے آیا تو اتفاقا ایک اعرابی نے نادانستہ اسے دھکا دیا اس پر بادشاہ نے خفاہوکر اسے مارا۔اعرابی کی نالش پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فیصلہ سنایا کہ وہ بادشاہ کو مارے اس پر بادشاہ نے کہا: اے امیرالمومنین! کہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک شخص بادشاہ کو ہاتھ لگائے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا:اسلام کا قانون یہی ہے ۔ انصاف کے باب میں اسلام کے نزدیک امیر و غریب، بادشاہ اور رعایا سب برابر ہیں۔ (اسلام کا نظام امن)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ہی کے عہد خلافت کا واقعہ ہے کہ جب ملک شام کے ایک بڑے حصہ پر مسلمان قابض ہوگئے تو ہاں کے لوگوں نے انطاقیہ کے حکمراں ہرقل کو ایک زبردست فوج لے کر حمص کی طرف بڑھنے پر آمادہ کیا جہاں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خیمہ زن تھے ۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو غنیم کے لشکر جرار کی خبر ملی تو انھوں نے مجلس مشاورت منعقد کیا جس میں یہ رائے طے پائی کہ حمص کو خالی کرکے دمشق کو محاذ بنایاجائے مگر حمص چھوڑنے سے پہلے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ حکم جاری کیا کہ اب وہ اس کے باشندوں کو دشمنوں سے بچانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اس لیے ان سے جزیہ یا خراج کے نام پرجو کچھ لیا گیا تھا وہ انہیں واپس کردیا جائے ؛ کیوں کہ یہ جزیہ حفاظت کی خاطر وصول کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اہل حمص کو ان کی پوری رقم واپس کردی گئی۔ اس رقم کی واپسی سے اہل حمص بہت متاثرہوئے اور کہا کہ: ہم مسلمانوں کی فوجوں کے کاندھے سے کاندھا ملاکر ہرقل کی فوج سے آخری دم تک لڑیں گے۔ یہودیوں نے بھی توارۃ کی قسم کھاکر یہی بات کہی۔ اہل حمص نے مسلمانوں کو دعائیں دیں کہ خدا تمہیں دوبارہ فتح عطا کرے اوریہاں واپس لائے ۔ آج تمہاری جگہ اگر رومی ہوتے تو وہ کچھ بھی واپس نہ کرتے بلکہ ہماری باقی ماندہ چیزیں بھی لوٹ لیتے ۔(فتوح البلدان)

عہد عثمانی:حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کاعہد بھی امن وامان کی بحالی، مختلف قوموں کے ساتھ رواداری، داخلی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کے لحاظ سے مثالی تھا۔ متعدد ممالک کی داخلی صورت حال سے باخبر رہنے کے لیے آپ سرکاری وفود بھیجا کرتے تھے ۔ جمعہ کے دن منبر پر پہنچ کر اطراف ملک کی خبریں پوچھتے اور عام اعلان کرتے

کہ: اگر کسی کو کسی سرکاری افسر سے شکایت ہو تو حج کے موقع پر آکر بیان کرے ۔ اس موقعہ پر تمام افسروں کو بھی فوری طور پرطلب کرلیتے تھے ؛ تاکہ شکایتوں کی تحقیقات ہوسکے ۔(مسند احمدبن حنبل)

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں نجران کے عیسائیوں کو بعض مسلمانوں سے کچھ شکایات پیداہوئیں تو آپ نے فوراً ان کی طرف توجہ کی۔ حاکم نجران ولید بن عتبہ کے نام خصوصی مکتوب تحریر فرمایا اور امن وامان کی صورت حال بگڑنے نہ دی۔ (کتاب الخراج لابی یوسف)

عہد علی:حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا عہد بظاہر سخت انتشار وخلفشار سے پر ہے اور سخت ہنگاموں سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو فرصت نہ مل سکی مگراس کے باوجود غیرمسلم اقلیتوں، اسی طرح غیرجانبدار طبقات کی سلامتی کے باب میں کسی جزء پر انگلی رکھنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ آپ کے عہد میں ایک گورنر عمروبن مسلم کی سخت مزاجی کی بعض شکایات آپ کو ملیں تو آپ نے فوراً اس کے ازالہ کی طرف توجہ فرمائی۔

اسی طرح غیرمسلموں کی آب پاشی کی ایک نہر پٹ گئی تھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے وہاں کے گورنر طرفہ بن کعب کو لکھا کہ: اس نہر کو آباد کرنا مسلمانوں کا فرض ہے ۔ میری عمر کی قسم! مجھے اس کا آباد رہنا زیادہ پسند ہے ۔ (تاریخ اسلام)
دنیا میں اتنی طویل المدتی اسلامی حکومتیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ انھوں نے ظلم وستم کے بجائے انصاف اور عدل کو اپنا شعار بنایا ۔مسلمانوں ہی کے ذریعہ آج پھر اس دنیا میں امن وامان پیدا ہوسکتا ہے ۔ اس لیے کہ اسلام اپنے حسن اخلاق اوراپنے ہمہ گیر نظام امن سے دنیا کو پھر امن سے بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اورامیر، غریب، کمزور اور قوی کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت رکھتا ہے ،خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں امن کا تصور اظہر من الشمس ہے ۔


متعلقہ خبریں


عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا وجود - هفته 22 جون 2019

سعودی عرب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا باقاعدہ رکن بن گیا۔ ایف اے ٹی ایف انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردی فنڈنگ کابین الاقوامی گروپ ہے جس میں عرب ممالک میں سے سعودی عرب کو پہلی مرتبہ رکنیت ملی ہے۔ایف اے ٹی ایف میں سعودی عرب کی شمولیت کا اعلان اورلانڈو میں ایف اے ٹی ایف‘ کے اجلاس میں کیا گیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب 2015ء سے ایف اے ٹی ایف کا مبصر رکن چلا آ رہا تھا اور اب یہ باقاعدہ ایف اے ٹی ایف گروپ کا رکن بن گیا ہے۔

عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے دی۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے۔ امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران پر حملے کا حکم دے کر واپس لینے سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے نتیجے میں تقریباً 150 ایرانی ہلاک ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں تھا اور میں نہیں سمجھتا تھا یہ مناسب ت...

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار وجود - هفته 22 جون 2019

شمالی انگلینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے 1995 سے 2002 کے درمیان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث 44 افراد کو گرفتار کرلیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مغربی یارک شائر کی پولیس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کرکلیز، بریڈ فورڈ اور لیڈز سمیت دیگر علاقوں سے 3 خواتین سمیت 39 افراد گرفتار کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ دیگر 5 افراد کو اس ہی کیس کی تحقیقات کے لیے گزشتہ سال کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس نے کہا کہ کرکلیز کے ڈیوز بری اور بیٹلے کے علاقوں میں 4 خواتین...

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز وجود - هفته 22 جون 2019

بٹ کوائنز جیسی ڈیجیٹل کوائنز (کرپٹو کرنسی) کو منی لانڈرنگ جیسے غیر قانونی عمل کیلئے استعمال کیے جانے سے روکنے کیلئے منی لانڈرنگ کے عالمی نگراں ادارے نے اقدامات کا آغاز کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 سال قبل منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے قائم ہونے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اپنے رکن ممالک کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی پر نظر رکھی جائے تاکہ ڈیجیٹل کوائنز کو کیش کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے یہ اقدام عالمی قانو...

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں سعودی عرب اور کیوبا کو تیسرا درجہ دیا گیا، اس کے علاوہ چین، شمالی کوریا، روس اور ونزویلا بھی اِسی نچلی ترین سطح میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کو دوسری سطح پر رکھا گیا۔یہ درجہ ان ملکوں کے لیے مخصوص ہے جو کم سے کم معیار پر پورے نہیں اُترتے تاہم، وہ معیاری سطح کی جانب قدم بڑھانے کے حوالے سے قابل قدر کوششیں کر رہے ہیں۔ادھر افغانستان، بنگلہ دیش، برما، ایران، عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن ...

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت وجود - هفته 22 جون 2019

چین نے کہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تمام اراکین کی نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی) کیلئے رکنیت کیلئے یکساں اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔چینی عہدیدار کے دیے گئے بیان کے مطابق چین نیاب تک کازغستان میں اختتام پذیر ہونے والے منصوبہ بندی اجلاس میں بھارت کی درخواست پر غور کیا گیا۔چینی ترجمان کے حوالے سے بھارتی رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارت کی نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کا معاملہ کازغستان کے دارلحکومت نور سلطان میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔رپورٹ میں...

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ وجود - بدھ 19 جون 2019

ماورائے عدالت قتل پر اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو قانوناً ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے شواہد پر عالمی سطح پر آزادانہ تفتیش ضروری ہے، قتل کی سعودی عرب میں ہونیوالی تحقیقات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے انفرادی طور پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے اپنی ا...

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی وجود - منگل 18 جون 2019

مصر کے سابق صدر اور اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی قاہرہ کے مشرقی علاقے مدین النصر میں سپرد خاک کردیا گیا، تدفین کے وقت سابق صدر کا خاندان موجود تھا۔اخوان المسلمون نے محمد مرسی کی موت کو مکمل طور پر قتل قرار دیا ہے۔ مصر میں پہلی مرتبہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرہ عدالت میں اچانک حرکت ِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے، ان کی عمر 67 سال تھی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران جج ...

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ وجود - منگل 18 جون 2019

ایک عالمی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں ایٹم بموں کی تعداد کی تفصیلات بیان کیں، اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل نے مزید 10 ایٹم بم تیار کر لیے ہیں جس کے بعد صہیونی ریاست کے ایٹم بموں کی تعداد 80 سے 90 تک جا پہنچی۔عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کے پاس جوہری اور ہائیڈروجن بموں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ان ایٹم بموں کو جنگی طیاروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے ...

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ وجود - منگل 18 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، اس طرح ہر تیسرا شخص اس سہولت سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں یونیسیف اورعالمی ادارہ صحت کے جوائنٹ مانیٹرنگ پروگرام کی رپورٹ2000-2017 کے مطابق عالمی ادارہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں عدم مساوات کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پر اقدامات کررہا ہے تاکہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں 4.2 ارب افراد نکاسی آب کی سہولی...

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت