وجود

... loading ...

وجود

اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے!

جمعه 09 فروری 2018 اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے!

ایک مسلمان کے لیے جن امور پر ایمان رکھنا ضروری ہے ،اس میں سے ایک اس بات پر ایمان لانا بھی ہے کہ: اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔آئیے!آج کی نشست میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ،کہ اچھی بری تقدیراللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھنے کاکیامطلب ہے ؟سب سے پہلے تو تقدیر کا معنی سمجھ لیجیے!تقدیرسے مراد وہ اصول اور قوانین فطرت ہیں، جن کے تحت یہ کارخانۂ قدرت اپنے وقت پر معرض وجود میں لایا گیا،یعنی کائنات اور بنی نوع انسان کے احوال کا وہ علم ، جو اللہ تعالی کے پاس لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔تقدیر پر ایمان میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:

انسان کے تمام اعمال و افعال اللہ رب العزت کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں،انسان اپنے بعض اعمال میں مجبور ہے اور بعض میں مختار ہے۔اس بات کو حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنی نے ایک منکر تقدیر کے سوال کے جواب میں بڑے احسن انداز میں واضح فرمایا۔واقعہ ہے کہ ایک شخص،جوتقدیر کا منکر تھا،خلیفہ ٔ راشد حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمات میں حاضر ہوا اور ان سے سوال کیا:اے امیرالمؤمنین!یہ بتلائیے!کہ انسان اپنے اعمال میں کس حد تک مختار وبااختیار ہے اور کس قدر مجبور وبے بس؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب دیے بغیر اس شخص سے فرمایا:اپنا ایک پاؤں اوپر اٹھاؤ۔اس نے اٹھادیا۔پھر فرمایا:اس پاؤں کو اسی طرح اٹھائے رکھو،اور دوسرا پاؤں بھی اٹھاؤ۔اس نے کہا:امیرالمؤمنین!یہ تو میں نہیں کرسکتا۔فرمایا:بس!انسان اتنا ہی مختار وبااختیار اور اتنا ہی مجبور وبے بس ہے۔

تقدیر کا پہلے لکھ دیا جانا اعمال میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ، چونکہ اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، اس لیے بندے وہی کریں گے…ایسا نہیں ہے، بلکہ بندے جیسا کرنے والے ہیں، اللہ پہلے سے جانتا ہے اور اسی کو اللہ نے لکھ دیا ہے۔جیسا قرآن مجید میں ہے: ہر شخص کے لیے وہی عمل آسان ہوگا جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے، اس لیے حکم ہے کہ بندہ ہر حال میں عمل کرتا رہے۔(الحج : ۷۰)تقدیر کے پہلے سے لکھا ہوا ہونے اور اللہ تعالیٰ کو پہلے سے بندوں کے جملہ اعمال کا علم ہونے کا انکار کفر ہے۔
اللہ تعالی نے یہ فیصلہ صادر فرما دیا ہے کہ اگر کوئی نیکی کرے گا تو اس کے نتائج بھی نیک ہوں گے اور برائی کے ثمرات بھی ویسے ہی برے ہوں گے۔(الاعراف: ۱۴۷)
یہ اللہ تعالیٰ کا عدل ہے کہ انسان اپنے انھی اعمال کا حساب دینے کا پابند ہوگا ،جو وہ اپنی رضا و رغبت سے کرتا ہے۔ مجبوری میں کیے جانے والے اعمال کے بارے میں اس سے باز پرس اور پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔

یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ تقدیرکی یہ قسمیں،جوآگے آرہی ہیں، بندوں کے اعتبار سے ہیں،ورنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر تقدیر مبرم ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالی ہر کام کے انجام اور خاتمہ کے متعلق ازل سے ہی واقف اور پوری طرح آگاہ ہے۔(الرعد: ۳۹،الحجر: ۴)بندوں کے اعتبار سے تقدیر کی تین اقسام ہیں:
۱۔تقدیرِ مبرم حقیقی: یہ آخری فیصلہ ہوتا ہے، جس کو اللہ تعالی کے حکم سے لوح محفوظ میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس میں تبدیلی نا ممکن ہے۔
۲۔تقدیر ِمبرم غیر حقیقی:یہ وہ تقدیر ہے ،جوعام حالات میں تو طے شدہ ہوتی ہے، مگر خاص حالات میں اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
۳۔تقدیر ِمعلق:یہ وہ تقدیر ہے، جو کسی عمل کے نتیجے میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔اللہ رب العزت جب چاہتا ہے اپنے علم کے مطابق موقع بہ موقع جس تقدیر میں رد و بدل کرتا رہتا ہے،وہ یہی تقدیر معلق ہوتی ہے۔

بندوں میں کون سعید یعنی نیک بخت اور جنتی ہے اور کون شقی یعنی بدبخت اور جہنمی ہے؟ لکھا جا چکا ہے۔قلم لکھ چکا ہے، صحیفے خشک ہو چکے ہیں، اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔دنیا میں قوموں کا عروج و زوال ان کی تقدیر کا حصہ ہے، ہر عروج و زوال اللہ کی جانب سے مقدر ہے، جس میں اس کی حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں۔یہ دنیا اللہ کی ملکیت ہے، یہاں وہی کچھ ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اوراللہ کی چاہت کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے فلاں کام کیوں کیا ؟ یا فلاں کام ایسے کیوں کیا، ویسے کیوں نہیں کیا؟وہ مختار کل ہے ،جس کے لیے چاہے نفع مقدر کرے، جس کے لیے چاہے نقصان مقدر کرے، جس کے لیے چاہے صحت مقدر کرے اور جس کے لیے چاہے مرض مقدر کرے۔

ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے اس کی طبعی اور جبلی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کی فطری راہ نمائی عطاکردی ہے۔اللہ تعالیٰ بعض اعمال سے راضی نہ ہونے کے باوجود اس کو پورا ہونے دیتے ہیں، کیونکہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور امتحان اور آزمائش کا عمل پورا ہونا ہے۔(الانفال :۱۷)اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جیسے چاہتا ہے پید اکرتا ہے، جس مخلوق کو جس تعداد میں چاہتا ہے پید اکرتا ہے، وہ اپنی مشیت سے کس کو کیا بنائے گا؟یہ سب پہلے سے مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے جس کے لیے جو رزق طے کیا ہے،اسے وہی ملتا ہے،لیکن،چوں کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے ،اس لیے اس نے جد و جہد اور محنت وغیرہ کو کشادگیٔ رزق اور کام چوری وغیرہ کو تنگیٔ رزق کاسبب بنایا ہے۔کسی کی بھی تقدیر میں اللہ تعالی ظلم نہیں کرتا، سب کے ساتھ عدل کرتا ہے ، ہاں وہ جس کے ساتھ چاہے فضل کا معاملہ کرتے ہوئے اس کے استحقاق سے کہیں زیادہ بھی عطا کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ہدایت وگم راہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ،وہی ہدایت دیتا ہے اور وہی گمراہ کرتا ہے، لیکن بندوں کی انابت ورجوع کوہدایت اور یا سرکشی کو ضلالت وگم راہی کے لیے سبب بناتا ہے۔

گناہوں کی بنیاد تقدیر کو بتلانا کفر ہے،کہ یہ گناہ میرے مقدرمیں تھا،لہٰذا اس کے کرنے میں میری کیا غلطی۔(النساء: ۷۹)البتہ مصائب کی بنیاد تقدیر کو بتلانا درست ہے،کہ اللہ تعالیٰ نے ایسالکھ دیا تھا،اس لیے یہ مصیبت وآزمائش آئی۔لاعلمی ونادانی میں ہم اس سلسلے میں کوتاہی اور بعض اوقات گستاخی تک کرجاتے ہیں،اس لیے اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تقدیر پر ایمان ،اس کے تقاضوں کے مطابق لانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی افراط وتفریط سے حفاظت فرمائے۔آمین!


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر