وجود

... loading ...

وجود

اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے!

جمعه 09 فروری 2018 اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے!

ایک مسلمان کے لیے جن امور پر ایمان رکھنا ضروری ہے ،اس میں سے ایک اس بات پر ایمان لانا بھی ہے کہ: اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔آئیے!آج کی نشست میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ،کہ اچھی بری تقدیراللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھنے کاکیامطلب ہے ؟سب سے پہلے تو تقدیر کا معنی سمجھ لیجیے!تقدیرسے مراد وہ اصول اور قوانین فطرت ہیں، جن کے تحت یہ کارخانۂ قدرت اپنے وقت پر معرض وجود میں لایا گیا،یعنی کائنات اور بنی نوع انسان کے احوال کا وہ علم ، جو اللہ تعالی کے پاس لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔تقدیر پر ایمان میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:

انسان کے تمام اعمال و افعال اللہ رب العزت کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں،انسان اپنے بعض اعمال میں مجبور ہے اور بعض میں مختار ہے۔اس بات کو حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنی نے ایک منکر تقدیر کے سوال کے جواب میں بڑے احسن انداز میں واضح فرمایا۔واقعہ ہے کہ ایک شخص،جوتقدیر کا منکر تھا،خلیفہ ٔ راشد حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمات میں حاضر ہوا اور ان سے سوال کیا:اے امیرالمؤمنین!یہ بتلائیے!کہ انسان اپنے اعمال میں کس حد تک مختار وبااختیار ہے اور کس قدر مجبور وبے بس؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب دیے بغیر اس شخص سے فرمایا:اپنا ایک پاؤں اوپر اٹھاؤ۔اس نے اٹھادیا۔پھر فرمایا:اس پاؤں کو اسی طرح اٹھائے رکھو،اور دوسرا پاؤں بھی اٹھاؤ۔اس نے کہا:امیرالمؤمنین!یہ تو میں نہیں کرسکتا۔فرمایا:بس!انسان اتنا ہی مختار وبااختیار اور اتنا ہی مجبور وبے بس ہے۔

تقدیر کا پہلے لکھ دیا جانا اعمال میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ، چونکہ اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، اس لیے بندے وہی کریں گے…ایسا نہیں ہے، بلکہ بندے جیسا کرنے والے ہیں، اللہ پہلے سے جانتا ہے اور اسی کو اللہ نے لکھ دیا ہے۔جیسا قرآن مجید میں ہے: ہر شخص کے لیے وہی عمل آسان ہوگا جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے، اس لیے حکم ہے کہ بندہ ہر حال میں عمل کرتا رہے۔(الحج : ۷۰)تقدیر کے پہلے سے لکھا ہوا ہونے اور اللہ تعالیٰ کو پہلے سے بندوں کے جملہ اعمال کا علم ہونے کا انکار کفر ہے۔
اللہ تعالی نے یہ فیصلہ صادر فرما دیا ہے کہ اگر کوئی نیکی کرے گا تو اس کے نتائج بھی نیک ہوں گے اور برائی کے ثمرات بھی ویسے ہی برے ہوں گے۔(الاعراف: ۱۴۷)
یہ اللہ تعالیٰ کا عدل ہے کہ انسان اپنے انھی اعمال کا حساب دینے کا پابند ہوگا ،جو وہ اپنی رضا و رغبت سے کرتا ہے۔ مجبوری میں کیے جانے والے اعمال کے بارے میں اس سے باز پرس اور پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔

یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ تقدیرکی یہ قسمیں،جوآگے آرہی ہیں، بندوں کے اعتبار سے ہیں،ورنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر تقدیر مبرم ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالی ہر کام کے انجام اور خاتمہ کے متعلق ازل سے ہی واقف اور پوری طرح آگاہ ہے۔(الرعد: ۳۹،الحجر: ۴)بندوں کے اعتبار سے تقدیر کی تین اقسام ہیں:
۱۔تقدیرِ مبرم حقیقی: یہ آخری فیصلہ ہوتا ہے، جس کو اللہ تعالی کے حکم سے لوح محفوظ میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس میں تبدیلی نا ممکن ہے۔
۲۔تقدیر ِمبرم غیر حقیقی:یہ وہ تقدیر ہے ،جوعام حالات میں تو طے شدہ ہوتی ہے، مگر خاص حالات میں اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
۳۔تقدیر ِمعلق:یہ وہ تقدیر ہے، جو کسی عمل کے نتیجے میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔اللہ رب العزت جب چاہتا ہے اپنے علم کے مطابق موقع بہ موقع جس تقدیر میں رد و بدل کرتا رہتا ہے،وہ یہی تقدیر معلق ہوتی ہے۔

بندوں میں کون سعید یعنی نیک بخت اور جنتی ہے اور کون شقی یعنی بدبخت اور جہنمی ہے؟ لکھا جا چکا ہے۔قلم لکھ چکا ہے، صحیفے خشک ہو چکے ہیں، اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔دنیا میں قوموں کا عروج و زوال ان کی تقدیر کا حصہ ہے، ہر عروج و زوال اللہ کی جانب سے مقدر ہے، جس میں اس کی حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں۔یہ دنیا اللہ کی ملکیت ہے، یہاں وہی کچھ ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اوراللہ کی چاہت کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے فلاں کام کیوں کیا ؟ یا فلاں کام ایسے کیوں کیا، ویسے کیوں نہیں کیا؟وہ مختار کل ہے ،جس کے لیے چاہے نفع مقدر کرے، جس کے لیے چاہے نقصان مقدر کرے، جس کے لیے چاہے صحت مقدر کرے اور جس کے لیے چاہے مرض مقدر کرے۔

ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے اس کی طبعی اور جبلی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کی فطری راہ نمائی عطاکردی ہے۔اللہ تعالیٰ بعض اعمال سے راضی نہ ہونے کے باوجود اس کو پورا ہونے دیتے ہیں، کیونکہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور امتحان اور آزمائش کا عمل پورا ہونا ہے۔(الانفال :۱۷)اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جیسے چاہتا ہے پید اکرتا ہے، جس مخلوق کو جس تعداد میں چاہتا ہے پید اکرتا ہے، وہ اپنی مشیت سے کس کو کیا بنائے گا؟یہ سب پہلے سے مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے جس کے لیے جو رزق طے کیا ہے،اسے وہی ملتا ہے،لیکن،چوں کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے ،اس لیے اس نے جد و جہد اور محنت وغیرہ کو کشادگیٔ رزق اور کام چوری وغیرہ کو تنگیٔ رزق کاسبب بنایا ہے۔کسی کی بھی تقدیر میں اللہ تعالی ظلم نہیں کرتا، سب کے ساتھ عدل کرتا ہے ، ہاں وہ جس کے ساتھ چاہے فضل کا معاملہ کرتے ہوئے اس کے استحقاق سے کہیں زیادہ بھی عطا کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ہدایت وگم راہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ،وہی ہدایت دیتا ہے اور وہی گمراہ کرتا ہے، لیکن بندوں کی انابت ورجوع کوہدایت اور یا سرکشی کو ضلالت وگم راہی کے لیے سبب بناتا ہے۔

گناہوں کی بنیاد تقدیر کو بتلانا کفر ہے،کہ یہ گناہ میرے مقدرمیں تھا،لہٰذا اس کے کرنے میں میری کیا غلطی۔(النساء: ۷۹)البتہ مصائب کی بنیاد تقدیر کو بتلانا درست ہے،کہ اللہ تعالیٰ نے ایسالکھ دیا تھا،اس لیے یہ مصیبت وآزمائش آئی۔لاعلمی ونادانی میں ہم اس سلسلے میں کوتاہی اور بعض اوقات گستاخی تک کرجاتے ہیں،اس لیے اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تقدیر پر ایمان ،اس کے تقاضوں کے مطابق لانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی افراط وتفریط سے حفاظت فرمائے۔آمین!


متعلقہ خبریں


وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر