... loading ...
ایک مسلمان کے لیے جن امور پر ایمان رکھنا ضروری ہے ،اس میں سے ایک اس بات پر ایمان لانا بھی ہے کہ: اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔آئیے!آج کی نشست میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ،کہ اچھی بری تقدیراللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھنے کاکیامطلب ہے ؟سب سے پہلے تو تقدیر کا معنی سمجھ لیجیے!تقدیرسے مراد وہ اصول اور قوانین فطرت ہیں، جن کے تحت یہ کارخانۂ قدرت اپنے وقت پر معرض وجود میں لایا گیا،یعنی کائنات اور بنی نوع انسان کے احوال کا وہ علم ، جو اللہ تعالی کے پاس لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔تقدیر پر ایمان میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:
انسان کے تمام اعمال و افعال اللہ رب العزت کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں،انسان اپنے بعض اعمال میں مجبور ہے اور بعض میں مختار ہے۔اس بات کو حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنی نے ایک منکر تقدیر کے سوال کے جواب میں بڑے احسن انداز میں واضح فرمایا۔واقعہ ہے کہ ایک شخص،جوتقدیر کا منکر تھا،خلیفہ ٔ راشد حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمات میں حاضر ہوا اور ان سے سوال کیا:اے امیرالمؤمنین!یہ بتلائیے!کہ انسان اپنے اعمال میں کس حد تک مختار وبااختیار ہے اور کس قدر مجبور وبے بس؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب دیے بغیر اس شخص سے فرمایا:اپنا ایک پاؤں اوپر اٹھاؤ۔اس نے اٹھادیا۔پھر فرمایا:اس پاؤں کو اسی طرح اٹھائے رکھو،اور دوسرا پاؤں بھی اٹھاؤ۔اس نے کہا:امیرالمؤمنین!یہ تو میں نہیں کرسکتا۔فرمایا:بس!انسان اتنا ہی مختار وبااختیار اور اتنا ہی مجبور وبے بس ہے۔
تقدیر کا پہلے لکھ دیا جانا اعمال میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ، چونکہ اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، اس لیے بندے وہی کریں گے…ایسا نہیں ہے، بلکہ بندے جیسا کرنے والے ہیں، اللہ پہلے سے جانتا ہے اور اسی کو اللہ نے لکھ دیا ہے۔جیسا قرآن مجید میں ہے: ہر شخص کے لیے وہی عمل آسان ہوگا جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے، اس لیے حکم ہے کہ بندہ ہر حال میں عمل کرتا رہے۔(الحج : ۷۰)تقدیر کے پہلے سے لکھا ہوا ہونے اور اللہ تعالیٰ کو پہلے سے بندوں کے جملہ اعمال کا علم ہونے کا انکار کفر ہے۔
اللہ تعالی نے یہ فیصلہ صادر فرما دیا ہے کہ اگر کوئی نیکی کرے گا تو اس کے نتائج بھی نیک ہوں گے اور برائی کے ثمرات بھی ویسے ہی برے ہوں گے۔(الاعراف: ۱۴۷)
یہ اللہ تعالیٰ کا عدل ہے کہ انسان اپنے انھی اعمال کا حساب دینے کا پابند ہوگا ،جو وہ اپنی رضا و رغبت سے کرتا ہے۔ مجبوری میں کیے جانے والے اعمال کے بارے میں اس سے باز پرس اور پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔
یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ تقدیرکی یہ قسمیں،جوآگے آرہی ہیں، بندوں کے اعتبار سے ہیں،ورنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر تقدیر مبرم ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالی ہر کام کے انجام اور خاتمہ کے متعلق ازل سے ہی واقف اور پوری طرح آگاہ ہے۔(الرعد: ۳۹،الحجر: ۴)بندوں کے اعتبار سے تقدیر کی تین اقسام ہیں:
۱۔تقدیرِ مبرم حقیقی: یہ آخری فیصلہ ہوتا ہے، جس کو اللہ تعالی کے حکم سے لوح محفوظ میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس میں تبدیلی نا ممکن ہے۔
۲۔تقدیر ِمبرم غیر حقیقی:یہ وہ تقدیر ہے ،جوعام حالات میں تو طے شدہ ہوتی ہے، مگر خاص حالات میں اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
۳۔تقدیر ِمعلق:یہ وہ تقدیر ہے، جو کسی عمل کے نتیجے میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔اللہ رب العزت جب چاہتا ہے اپنے علم کے مطابق موقع بہ موقع جس تقدیر میں رد و بدل کرتا رہتا ہے،وہ یہی تقدیر معلق ہوتی ہے۔
بندوں میں کون سعید یعنی نیک بخت اور جنتی ہے اور کون شقی یعنی بدبخت اور جہنمی ہے؟ لکھا جا چکا ہے۔قلم لکھ چکا ہے، صحیفے خشک ہو چکے ہیں، اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔دنیا میں قوموں کا عروج و زوال ان کی تقدیر کا حصہ ہے، ہر عروج و زوال اللہ کی جانب سے مقدر ہے، جس میں اس کی حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں۔یہ دنیا اللہ کی ملکیت ہے، یہاں وہی کچھ ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اوراللہ کی چاہت کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے فلاں کام کیوں کیا ؟ یا فلاں کام ایسے کیوں کیا، ویسے کیوں نہیں کیا؟وہ مختار کل ہے ،جس کے لیے چاہے نفع مقدر کرے، جس کے لیے چاہے نقصان مقدر کرے، جس کے لیے چاہے صحت مقدر کرے اور جس کے لیے چاہے مرض مقدر کرے۔
ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے اس کی طبعی اور جبلی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کی فطری راہ نمائی عطاکردی ہے۔اللہ تعالیٰ بعض اعمال سے راضی نہ ہونے کے باوجود اس کو پورا ہونے دیتے ہیں، کیونکہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور امتحان اور آزمائش کا عمل پورا ہونا ہے۔(الانفال :۱۷)اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جیسے چاہتا ہے پید اکرتا ہے، جس مخلوق کو جس تعداد میں چاہتا ہے پید اکرتا ہے، وہ اپنی مشیت سے کس کو کیا بنائے گا؟یہ سب پہلے سے مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے جس کے لیے جو رزق طے کیا ہے،اسے وہی ملتا ہے،لیکن،چوں کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے ،اس لیے اس نے جد و جہد اور محنت وغیرہ کو کشادگیٔ رزق اور کام چوری وغیرہ کو تنگیٔ رزق کاسبب بنایا ہے۔کسی کی بھی تقدیر میں اللہ تعالی ظلم نہیں کرتا، سب کے ساتھ عدل کرتا ہے ، ہاں وہ جس کے ساتھ چاہے فضل کا معاملہ کرتے ہوئے اس کے استحقاق سے کہیں زیادہ بھی عطا کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ہدایت وگم راہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ،وہی ہدایت دیتا ہے اور وہی گمراہ کرتا ہے، لیکن بندوں کی انابت ورجوع کوہدایت اور یا سرکشی کو ضلالت وگم راہی کے لیے سبب بناتا ہے۔
گناہوں کی بنیاد تقدیر کو بتلانا کفر ہے،کہ یہ گناہ میرے مقدرمیں تھا،لہٰذا اس کے کرنے میں میری کیا غلطی۔(النساء: ۷۹)البتہ مصائب کی بنیاد تقدیر کو بتلانا درست ہے،کہ اللہ تعالیٰ نے ایسالکھ دیا تھا،اس لیے یہ مصیبت وآزمائش آئی۔لاعلمی ونادانی میں ہم اس سلسلے میں کوتاہی اور بعض اوقات گستاخی تک کرجاتے ہیں،اس لیے اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تقدیر پر ایمان ،اس کے تقاضوں کے مطابق لانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی افراط وتفریط سے حفاظت فرمائے۔آمین!
پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...
کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...
مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...
گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...