وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے!

جمعه 09 فروری 2018 اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے!

ایک مسلمان کے لیے جن امور پر ایمان رکھنا ضروری ہے ،اس میں سے ایک اس بات پر ایمان لانا بھی ہے کہ: اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔آئیے!آج کی نشست میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ،کہ اچھی بری تقدیراللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھنے کاکیامطلب ہے ؟سب سے پہلے تو تقدیر کا معنی سمجھ لیجیے!تقدیرسے مراد وہ اصول اور قوانین فطرت ہیں، جن کے تحت یہ کارخانۂ قدرت اپنے وقت پر معرض وجود میں لایا گیا،یعنی کائنات اور بنی نوع انسان کے احوال کا وہ علم ، جو اللہ تعالی کے پاس لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔تقدیر پر ایمان میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:

انسان کے تمام اعمال و افعال اللہ رب العزت کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں،انسان اپنے بعض اعمال میں مجبور ہے اور بعض میں مختار ہے۔اس بات کو حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنی نے ایک منکر تقدیر کے سوال کے جواب میں بڑے احسن انداز میں واضح فرمایا۔واقعہ ہے کہ ایک شخص،جوتقدیر کا منکر تھا،خلیفہ ٔ راشد حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمات میں حاضر ہوا اور ان سے سوال کیا:اے امیرالمؤمنین!یہ بتلائیے!کہ انسان اپنے اعمال میں کس حد تک مختار وبااختیار ہے اور کس قدر مجبور وبے بس؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب دیے بغیر اس شخص سے فرمایا:اپنا ایک پاؤں اوپر اٹھاؤ۔اس نے اٹھادیا۔پھر فرمایا:اس پاؤں کو اسی طرح اٹھائے رکھو،اور دوسرا پاؤں بھی اٹھاؤ۔اس نے کہا:امیرالمؤمنین!یہ تو میں نہیں کرسکتا۔فرمایا:بس!انسان اتنا ہی مختار وبااختیار اور اتنا ہی مجبور وبے بس ہے۔

تقدیر کا پہلے لکھ دیا جانا اعمال میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ، چونکہ اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، اس لیے بندے وہی کریں گے…ایسا نہیں ہے، بلکہ بندے جیسا کرنے والے ہیں، اللہ پہلے سے جانتا ہے اور اسی کو اللہ نے لکھ دیا ہے۔جیسا قرآن مجید میں ہے: ہر شخص کے لیے وہی عمل آسان ہوگا جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے، اس لیے حکم ہے کہ بندہ ہر حال میں عمل کرتا رہے۔(الحج : ۷۰)تقدیر کے پہلے سے لکھا ہوا ہونے اور اللہ تعالیٰ کو پہلے سے بندوں کے جملہ اعمال کا علم ہونے کا انکار کفر ہے۔
اللہ تعالی نے یہ فیصلہ صادر فرما دیا ہے کہ اگر کوئی نیکی کرے گا تو اس کے نتائج بھی نیک ہوں گے اور برائی کے ثمرات بھی ویسے ہی برے ہوں گے۔(الاعراف: ۱۴۷)
یہ اللہ تعالیٰ کا عدل ہے کہ انسان اپنے انھی اعمال کا حساب دینے کا پابند ہوگا ،جو وہ اپنی رضا و رغبت سے کرتا ہے۔ مجبوری میں کیے جانے والے اعمال کے بارے میں اس سے باز پرس اور پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔

یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ تقدیرکی یہ قسمیں،جوآگے آرہی ہیں، بندوں کے اعتبار سے ہیں،ورنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر تقدیر مبرم ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالی ہر کام کے انجام اور خاتمہ کے متعلق ازل سے ہی واقف اور پوری طرح آگاہ ہے۔(الرعد: ۳۹،الحجر: ۴)بندوں کے اعتبار سے تقدیر کی تین اقسام ہیں:
۱۔تقدیرِ مبرم حقیقی: یہ آخری فیصلہ ہوتا ہے، جس کو اللہ تعالی کے حکم سے لوح محفوظ میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس میں تبدیلی نا ممکن ہے۔
۲۔تقدیر ِمبرم غیر حقیقی:یہ وہ تقدیر ہے ،جوعام حالات میں تو طے شدہ ہوتی ہے، مگر خاص حالات میں اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
۳۔تقدیر ِمعلق:یہ وہ تقدیر ہے، جو کسی عمل کے نتیجے میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔اللہ رب العزت جب چاہتا ہے اپنے علم کے مطابق موقع بہ موقع جس تقدیر میں رد و بدل کرتا رہتا ہے،وہ یہی تقدیر معلق ہوتی ہے۔

بندوں میں کون سعید یعنی نیک بخت اور جنتی ہے اور کون شقی یعنی بدبخت اور جہنمی ہے؟ لکھا جا چکا ہے۔قلم لکھ چکا ہے، صحیفے خشک ہو چکے ہیں، اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔دنیا میں قوموں کا عروج و زوال ان کی تقدیر کا حصہ ہے، ہر عروج و زوال اللہ کی جانب سے مقدر ہے، جس میں اس کی حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں۔یہ دنیا اللہ کی ملکیت ہے، یہاں وہی کچھ ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اوراللہ کی چاہت کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے فلاں کام کیوں کیا ؟ یا فلاں کام ایسے کیوں کیا، ویسے کیوں نہیں کیا؟وہ مختار کل ہے ،جس کے لیے چاہے نفع مقدر کرے، جس کے لیے چاہے نقصان مقدر کرے، جس کے لیے چاہے صحت مقدر کرے اور جس کے لیے چاہے مرض مقدر کرے۔

ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے اس کی طبعی اور جبلی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کی فطری راہ نمائی عطاکردی ہے۔اللہ تعالیٰ بعض اعمال سے راضی نہ ہونے کے باوجود اس کو پورا ہونے دیتے ہیں، کیونکہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور امتحان اور آزمائش کا عمل پورا ہونا ہے۔(الانفال :۱۷)اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جیسے چاہتا ہے پید اکرتا ہے، جس مخلوق کو جس تعداد میں چاہتا ہے پید اکرتا ہے، وہ اپنی مشیت سے کس کو کیا بنائے گا؟یہ سب پہلے سے مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے جس کے لیے جو رزق طے کیا ہے،اسے وہی ملتا ہے،لیکن،چوں کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے ،اس لیے اس نے جد و جہد اور محنت وغیرہ کو کشادگیٔ رزق اور کام چوری وغیرہ کو تنگیٔ رزق کاسبب بنایا ہے۔کسی کی بھی تقدیر میں اللہ تعالی ظلم نہیں کرتا، سب کے ساتھ عدل کرتا ہے ، ہاں وہ جس کے ساتھ چاہے فضل کا معاملہ کرتے ہوئے اس کے استحقاق سے کہیں زیادہ بھی عطا کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ہدایت وگم راہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ،وہی ہدایت دیتا ہے اور وہی گمراہ کرتا ہے، لیکن بندوں کی انابت ورجوع کوہدایت اور یا سرکشی کو ضلالت وگم راہی کے لیے سبب بناتا ہے۔

گناہوں کی بنیاد تقدیر کو بتلانا کفر ہے،کہ یہ گناہ میرے مقدرمیں تھا،لہٰذا اس کے کرنے میں میری کیا غلطی۔(النساء: ۷۹)البتہ مصائب کی بنیاد تقدیر کو بتلانا درست ہے،کہ اللہ تعالیٰ نے ایسالکھ دیا تھا،اس لیے یہ مصیبت وآزمائش آئی۔لاعلمی ونادانی میں ہم اس سلسلے میں کوتاہی اور بعض اوقات گستاخی تک کرجاتے ہیں،اس لیے اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تقدیر پر ایمان ،اس کے تقاضوں کے مطابق لانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی افراط وتفریط سے حفاظت فرمائے۔آمین!


متعلقہ خبریں


کنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازیکنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازی وجود - هفته 14 دسمبر 2019

کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے خلاف سیکڑوں افراد نے وسطی لندن میں احتجاجی مظاہرہ کیا، انہوں نے وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف نعرے بازی کی۔برطانیا میں پارلیمانی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے خلاف سیکڑوں افراد لندن کی سڑکوں پر نکل آئے ، مظاہرین نے بورس جانسن میرے وزیراعظم نہیں اور بورس آئوٹ کے نعرے لگائے ، بینرز تھامے مظاہرین نے مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی، وزیراعظم بورس جانسن کی پارٹی نے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں وا...

کنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازیکنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازی

عراق میں امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کی قیمت ایران ادا کرے گا، پومپیو وجود - هفته 14 دسمبر 2019

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطی بالخصوص عراق میں واشنگٹن کے مفادات اور تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی قیمت ایران کو چکانا ہوگی کیونکہ حالیہ دنوں کے دوران عراق میں ہمارے فوجی اڈوں پر میزائل اور راکٹ حملوں کے پیچھے ایرانی وفادار ملیشیائوں کا ہاتھ ہے ۔امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس موقع کو ایران کویقین دہانی کرکے بہتر موقع سمجھتے ہیں اور اسے یاد دلاتے ہیں کہ ایران یا اس کے کسی وفادار ایجنٹ نے امریکا یا اس کے اتحادیوں میں س...

عراق میں امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کی قیمت ایران ادا کرے گا، پومپیو

جرمنی ،راکیلئے کشمیریوں کی جاسوسی کرنیوالے بھارتی جوڑے کو 18سال قید کا حکم وجود - هفته 14 دسمبر 2019

جرمنی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی'' را ''کے لیے کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے والے جوڑے 50سالہ منموہن سنگھ اور 51سالہ کنول جیت کو بالتریب 18سال قید اور 180دن کی تنخواہ کا جرمانہ عائد کردیا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں فرینکفرٹ کی ایک عدالت نے کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے پر دو بھارتی شہریوں کو سزائیں سنائی ہیں۔ دونوں شہری میاں بیوی ہیں اور کافی عرصے سے جرمنی میں مقیم تھے ۔ یہ جوڑا جرمنی میں قیام پذیر دیگر کشمیریوں اور سکھوں کی معلومات اور سرگرمیوں ...

جرمنی ،راکیلئے کشمیریوں کی جاسوسی کرنیوالے بھارتی جوڑے کو 18سال قید کا حکم

سعودی عرب'خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ وجود - هفته 14 دسمبر 2019

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی میں خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ کیا گیاہے ۔سعودی عرب میں بھی پہلی بار خود کار طریقے سے چلنے والی نئی گاڑیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں، سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں دو بسوں سے لوکل موٹرز اور ایزی مائل کمپنیوں کے اشتراک سے اس جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ بس سروس کا آغاز کیا گیا ہے ۔کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی(کاوسٹ)کے اس اقدام سے اسمارٹ بسوں کا پروگرام نافذ ہوگیا ہے جو بہت ...

سعودی عرب'خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

امریکی ایئر فورس نے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کیا ہے ، تین ماہ سے بھی کم وقت میں امریکی نیو کلیئر میزائل فورس کا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا تجربہ ہے ۔بیلسٹک میزائل کیلی فورنیا میں وینڈن برگ ایئر فورس بیس سے داغا گیا جس نے بحر الکاہل میں ہدف کو نشانہ بنایا۔امریکی حکام نے اس میزائل تجربے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ، تاہم اسے امریکی نیوکلیئر میزائل ڈیفنس سسٹم کی آپریشنل صلاحیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو بھی امریکی ایئر فورس نے بین البراعظمی بیلسٹک می...

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

یکم نومبر کو ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اٹھنے والی احتجاجی تحریک کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ایران میں نومبر کے وسط میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پہلی ہلاکت سیرجان شہرمیں ہوئی۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج ملک کے طول وعرض میں پھیل گیا۔ حکومت نے احتجاج کا دائرہ پھیلتے دیکھا تو انٹرنیٹ پرپابندی عائد کردی اور طاقت کا استعمال بڑھا دیا۔ ایرانی حکومت ک...

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا اور چین تجارتی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے اور معاہدے کے اصول بھی وضع کرلیے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری باقی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا ایک مرحلہ باقی ہے اور وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری ہے ۔"بلومبرگ" کا کہنا ہے کہ اسے چین اور امریکا کیدرمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے باخبر ذرائع کی طرف سے ا...

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

ترکی نے امریکی سینٹ کی طرف سے آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق ایک بل کی منظوری پر سخت رد عمل ظاہرکیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق انقرہ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی سینیٹ نے آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کرکے امریکا اور ترکی کے باہمی تعلقات خطرے میں ڈال دئیے ہیں۔ترکی کے ایوان صدر کے ڈائریکٹراطلاعات فخرالدین الٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کان...

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

اب کوئی میسجنگ یا چیٹنگ ایپ ہو یا روزمرہ کی زندگی، آپ کو بات چیت کے دوران دوسرے کی زبان نہ بھی آتی ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، آپ کو بس گوگل کے اس بہترین فیچر کو استعمال کرنا ہوگا۔درحقیقت گوگل کے اس فیچر کی بدولت بیشتر افراد تو کوئی دوسری زبان سیکھنے کی زحمت ہی نہیں کریں گے کیونکہ زندگی کے ہر شعبے میں مدد کے لیے گوگل ہے نا۔گوگل نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے اپنے ڈیجیٹل اسسٹنٹ میں انٹرپریٹر موڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو آپ کے فون میں رئیل ٹائم می...

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ فورس کمیٹی کو بتایا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کو مستحکم کرنے اور اپنے اتحادیوں کو ایران کے خطرات کا مقابلہ کرنے کا اہل بنانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران ہمارے مفادات یا افواج پر حملہ کرتا ہے تو ہم فیصلہ کن طاقت کے ساتھ جواب دیں گے ۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مختلف اداروں، کمپنیوں اور افراد کے خل...

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کالج کیمپسز میں یہودیوں کی مخالفت اور اسرائیل کا بائیکاٹ روکنے کے لیے نیا صدارتی حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔ٹرمپ کے اس متنازع اقدام کے تحت ایسے تعلیمی اداروں کی حکومتی امداد روکی جاسکے گی جو یہودی اور اسرائیل مخالف واقعات کی روک تھام میں ناکام رہیں گے ۔صدارتی حکم نامے کے تحت محکمہ تعلیم کالج کیمپس میں یہود مخالف عناصر کے خلاف براہ راست کارروائی کر سکے گا۔اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حکومت کو بحیثیت نسل، قوم یا مذہب یہودیت کی تشریح کی اجازت ہوگی ۔

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کررہا ہے ۔ جس کے لئے حکام کئی طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں سے لڑنے کے لئے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جائیگی، تاہم انہوں نے حتمی تعداد نہیں بتائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اختیارات ہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 13ہزار ہے جن میں سے 5 ہزار سیکورٹی سے متعلق آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ باقی اہلکار افغان سیکورٹی فورسز ...

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور