وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 04 فروری 2018 استقبال کتب

٭ رائو ریاض احمد کے حمد و نعتیہ مجموعوں کی اشاعت
جہانِ حمد پبلی کیشنز اُردو بازار، کراچی کے پلیٹ فارم سے حال ہی میں حمد و نعت گو شاعر جناب رائو ریاض احمد کے دو مجموعہ ہائے کلام، حمدیہ مجموعۂ کلام ’’نمازِ عشق‘‘ اور نعتیہ مجموعۂ کلام ’’ماہتابِ نبوت‘‘ اشاعت پزیر ہوئے ہیں۔ ادارہ جہانِ حمد پبلی کیشنز کی یہ تخصیص ہے کہ وہ حمد و نعت کے فروغ اور ترویج و اشاعت میں برس ہا برس سے کام کر رہا ہے اور اب تک متعدد حمد و نعت کی خوب صورت اور دیدہ زیب کتابیں شایع کر چکا ہے۔ جہانِ حمد پبلی کیشنز کے روحِ رواں جناب طاہر حسین طاہر سلطانی اور ان کے ہونہار بیٹے حافظ محمد نعمان طاہر یہ خدمات دل و جان سے سر انجام دے رہے ہیں۔

زیر نظر رائو ریاض احمد کے حمدیہ و نعتیہ شعری مجموعے نہ صرف دل کش و دیدہ زیب سرورق اور عمدہ طباعت کے ساتھ زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں بلکہ ان کتابوں میں شامل حمدیہ اور نعتیہ شاعری بھی ایمان تازہ کر دینے والی ہے۔ حمدیہ مجموعے پر اظہارِ جمالِ آگہی کے عنوان سے پاکستان کے جید ناقدین جناب خواجہ رضی حیدر، ایم یوسف عزیز، ڈاکٹر انوار احمد، طاہر سلطانی، ڈاکٹر نواز کاوش، محمد حامد سراج اور ڈاکٹر عبدالرزاق نے اپنی مثبت رائے کا اظہار کیا ہے اور’’ سجدئہ شکر‘‘ کے عنوان سے صاحب کتاب رائو ریاض احمد نے اظہار تشکر پیش کیا ہے۔ جب کہ مجموعۂ نعت ماہتابِ نبوت پر ’’وسعتِ اظہارِ فکر‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر عزیز احسن، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، طاہر سلطانی، سید نسیم جعفری، پروفیسر ڈاکٹر شوکت اللہ خاں جوہر، ڈاکٹر سہیل شفیق، محمد صادق ظفر، بیٹی، بیٹے نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور موجِ عقیدت کے عنوان سے صاحب کتاب رائو ریاض نے پاکیزہ جذبات کا اظہار کیا ہے۔

نمازِ عشق سے حمدیہ اشعار ملاحظہ ہوں:
میرے ہنر کو اے خدا! اوجِ کمال کر عطا
میرے تصورات کو حسنِ خیال کر عطا
٭٭
فریاد کروں کس سے کسے داد سنائوں
دنیا میں بھلا کون مرا تیرے سوا ہے
مہتابِ نبوت سے نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں:
آپ ہی نے خدا سے ملایا ہمیں
عبد و معبود کے درمیاں آپ ہیں
٭٭
زمانے بھر میں چھائے تھے اندھیرے
اجالا آپ کے دم سے ہوا ہے
دونوں کتابوں پر محمد یوسف، بلوچ محبت علی، سید تابش الوریٰ، آصف مرزا، مولانا شفیق الرحمٰن، اسرار پریم نگری، پروفیسر شاہد حسن رضوی، خورشید بیگ میلسوی اور پروفیسر خدا داد گل کی آرا بھی قابلِ ذکر ہیں۔

جہانِ حمد پبلی کیشنز اور ان کے روحِ رواں قابلِ مبارک باد ہیں جو اس دنیا داری کے زمانے میں دین د اری کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور غزل و گیت و نظم کی بجائے صرف اور صرف حمد و نعت و مناقب کے فروغ اور ترویج و اشاعت میں سرگرداں ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں کہ وہ اس کارِ خیر کو ہم سب کے لیے سامانِ بخشش اور مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
٭٭٭٭
کتاب:صلّو علی النبی
شاعرہ:پروفیسر فائزہ احسان صدیقی
قیمت:دعائے خیر و مغفرت
ناشر:الجلیس پاکستانی بکس پبلشنگ سروسز،کراچی
پروفیسر فائزہ احسان صدیقی طوطیِ ہند مولانا محمد اسرار الحق کی پوتی اور معروف حکیم و طبیب مولانا محمد ابرار الحق صدیقی کی دختر نیک اختر ہیں۔ انھیں بچپن ہی سے اسلامی ماحول میسر آیا اور قرآن و حدیث کی گونج سن سن کر وہ پروان چڑھیں۔ پروفیسر فائزہ احسان کی شادی جناب محمداحسان اشرف سے ہوئی، احسان اشرف صاحب نے بھی ایسے ہی پاکیزہ اور دینی ماحول میں پروش پائی تھی۔ پروفیسر فائزہ احسان نے صلو علی النبی کے عنوان سے جو کتاب اُمتِ مسلمہ کی نذر کی ہے وہ ان کے آبائو اجداد کی پرورش، تعلیم اور تربیت کا فیضان ہے۔ صلو علی النبی دراصل مجموعۂ درود شریف ہے جس میں درودِ تاج سے لے کر دعائے حضرت خضرتک 86 درود شریف مع اُردو ترجمہ شامل ہیں،جب کہ کتاب کے دوسرے حصے میں اُن کی نعتیہ شاعری بھی شامل اشاعت ہے۔ پروفیسر فائزہ احسان کا کارِ خیر اور نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے ان درودوں کا منظوم ترجمہ پیش کیا جو ایک مشکل کام ہی نہیں دشوا ر بھی تھا۔ مگر ایک ایسا شخص جس کو رب العزت نے شاعر بنایا ہو، اُس کو ایسے کام ہی زیبادیتے ہیں۔ پروفیسر فائزہ احسان کے کریڈٹ میں یہ بات بھی ہے کہ اُن کے اس کام کااُردو ادب میں شمار ہوگا اور مذہب میں بھی۔ یہ منظوم ترجمہ اُردو ادب میں وقیع کام ہے اور تاریخ اُردو ادب کا حصہ بنے گا۔
٭٭٭٭
کتاب:میزانِ سائنس(سائنسی ادب دیوان)
شاعرہ:پروفیسر شاہین حبیب
قیمت:300/- روپے
ناشر:خواجہ پرنٹرز اینڈ پبلشرز،کراچی
ماہر تعلیم پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ نے جہاں زندگی بھر معمارانِ قوم کی اذہان و قلوب کو تعلیم کی روشنی سے منور کیا ہے وہاں آپ نے شاعری کے گل ہائے رنگ رنگ بھی کھلائے ہیں اور شعر و ادب کی دنیا میں ایک نئے موضوع پر کام کیا ہے۔ یعنی سائنسی ادب کے تحت سائنسی شاعری کی ہے جس کا’’ میزانِ سائنس‘‘ کے نام سے نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا ہے بلکہ قارئین شعر و سخن، ناقدین فن و ہنر اور مشاہیرانِ اُردو ادب سے دادوتحسین بھی وصول کر چکا ہے۔ پاکستان کی معروف شخصیت جناب یونس رمز نے پر و فیسر شاہین حبیب صاحبہ کو محفل سائنسی شعر و سخن اور سائنس و فنیات کے عوامی ابلاغ کی شاعرہ قرار دیا ہے۔ میزان سائنس میں حمد، نعت، منقبت، قرآنی آیات کے منظوم تراجم، غزلیات، دوہے، ہائیکو، سائی فیکو، سائنسی ہائیکو، آزاد نظم، رباعیات اور ڈرامے شامل ہیں۔ اس کتاب کا تعارف کرانے کے لیے بھی ایک دفتر درکار ہے لہٰذا اس منفرد کام کا غائر مطالعہ ضروری ہے تاکہ یہ نیا کام انسانی ذہن میں افکار کے نئے دریچے وا کر سکے۔ اُردو ادب میں کارہائے نمایاں سر انجام دینے پر ہم پروفیسر شاہین حبیب صاحبہ کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان سے میزان سائنس کے دوسرے حصے کی اُمید کرتے ہیں۔
٭٭٭٭
جناب مومن عابدی نجمی کے دو مجموعہ ہائے کلام
جناب مومن عابدی نجمی کے دو مجموعہ ہائے کلام’’ زادِ راہِ آخرت‘‘ (مجموعۂ حمد و نعت، سلام و منقبت) اور’’ غزلیاتِ نجمی‘‘(غزلیات)، ارمغان پبلشرز، رضویہ سوسائٹی، کراچی کے پلیٹ فارم سے شایع ہوئے ہیں جو انتہائی خوب صورت، مجلد، دیدہ زیب سرورق اور عمدہ کاغذ پر طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں۔ ارمغان پبلشرز کے روحِ رواں جناب سید غلام اکبر اپنے اشاعت کے کاموں میں خود دل چسپی لیتے ہیں اور اپنی نگرانی میں اطمینان کے بعد کتاب شایع کرتے ہیں جو قابلِ دید اور قابل مطالعہ ہوتی ہیں۔ مومن عابدی نجمی صاحب کتاب امریکا میں رہائش پذیر ہیں جو تواتر سے شعر کہہ رہے ہیں اور یہ کلام کتابی شکل میں بھی سامنے آتا جا رہا ہے۔ زادِ راہِ آخرت پر معروف عالم دین سید تلمیذ حسنین رضوی نے مقدمہ لکھا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے مطالعے سے کتاب اور صاحب کتاب کا بھرپور تعارف سامنے آجاتا ہے۔ زادِ راہِ آخرت سے ایک نعتیہ شعر پیش خدمت ہے:
شام کو فرصت جو مل جاتی ہے دن کے کام سے
نعت کا آغاز کرتا ہوں خدا کے نام سے
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

مضامین
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال! وجود منگل 31 مارچ 2026
ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال!

بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر