وجود

... loading ...

وجود

انسان کی کامیا بی کے اُصول

جمعه 02 فروری 2018 انسان کی کامیا بی کے اُصول

انسان مصائب والآم سے چھٹکارا پانہیں سکتا،نامرادیوں سے دورہونہیں سکتا جب تک اسلام کے بنائے ہوئے اُصولوں کونہ اپنائے اس سلسلہ میں اسلام کا دعویٰ یہ ہے۔(ترجمہ) اور جو اﷲاور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی غلام کے لیے اطاعت وفرمانبرداری کاذریعہ ہی فلاح وفوزہے انسان اﷲکا بندہ اور رسول کا غلام ہے لہٰذا خداکی بندگی اور رسول کی اطاعت شعاری کامیابی وکامرانی کایقینی ذریعہ ہے۔جس کاقرآن کریم بار بار حکم دیتا ہے۔ فوز عظیم اور فلاح دارین کاتاج صرف اس کے سر رکھا جاتا ہے جو پیکر تسلیم ورضا بن کر اﷲاور اس کے رسول معظم کے ہرارشادکے سامنے شوق و محبت سے اپنا سرجھکا دیتاہے۔صحابہ کرام رضوان اﷲتعالیٰ علیہم اجمعین مادی وظاہری وسائل کے فقدان کے باوجو د زندگی کے ہرمرحلے میں کامیاب وکامران رہے۔تعداد کی کمی کے باوجو د وہ دشمن پر غالب آتے رہے۔معاشی بدحالی کے باوجو د وہ خوشحال رہے۔ ہمہ وقت دشمن کی سازشوں کے باوجو د وہ مطمئن اور پر سکو ن شب وروز بسر کرتے رہے۔قیصر وکسریٰ کے جرار اور بہادرلشکر ان سے گھبراتے تھے ۔
یہوددولت مندقوم ہونے کے باوجو د ان کے سامنے ذلیل وخوار تھے ۔اقوام عالم میں ان کا چرچہ تھا۔ان کی عزت تھی وہ بارعب اور باوقار قوم تھے صرف اس لیے کہ وہ اپنے آقا ﷺکے وفادار اور ان کے مطیع وفرمانبردار تھے۔

اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا اور جوشخص اطاعت کرتا ہے اﷲکی اور اس کے رسولﷺ کی اور ڈرتا رہتا ہے اﷲسے اور بچتا رہتا ہے اس کی (نافرمانی )سے تو یہی لوگ کامیاب ہیں(سورہ نور۔۵۳)
فوز وکامرانی سے وہی مشرف ہوگا جس کا طریقہ کا روہ ہوگا جو اس آیت میںبیان کیا جا رہا ہے ،سچے مومنوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اﷲاور اس کے رسول ﷺکا حکم مانتے ہیں اور اﷲسے ڈرتے ہیں اور پرہیز گاری اختیا رکرتے ہیں پھر قرآن وحدیث سنتے ہی کہہ دیتے ہیں ہم نے سنا اور مانا یہی لوگ کامیاب اور بامراد اور نجات یافتہ ہیں ۔قرآن مجید نے سنت مصطفویٰ ﷺکی بے چوچرا اطاعت کو باربار اتنا دہرایا ہے کہ قرآن کواﷲکی کتاب یقین کرنے والوں کے لیے سنت نبوی سے انحراف کے سارے دروازے بندکردیئے ہیں۔حقیقی کامیاب زندگی وہ ہے جو اﷲاور اس کے رسول کریم ﷺکی اس حدیث سے ظاہر ہوتی ۔حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا میرے تمام امتی جنت میں داخل ہونگے مگر جس نے انکا ر کیا ۔سرکا ر ﷺ سے دریا فت کیا گیا کہ ’’انکار‘‘سے کیا مراد ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گااور جس نے میری نافرمانی کی وہی میرا منکر ہے ۔(بخاری)
اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ جو شخص اتباع سنت کو اختیا ر کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جوشخص سنت کے برعکس عمل کرے گا و ہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔

اے ایمان والو!تم کسی لمحہ اﷲاور ا س کے رسول کی اطاعت سے منہ ناموڑنا کیونکہ تم بڑی عزت والے ہو۔ہم نے تمہیں تاج شرافت سے نوازا ہے ۔اشرف الانبیاء کی غلامی کا منصب عطا فرماکر تمہیں خیر الامم (بہترین امت )بنایا ہے۔بنی نو ع انسان کی قیادت تمہا را منصب ہے ۔انسانیت کی رہبری تمہاری ذمہ داری ہے انسانی اقدام کے تم امین ہو ۔

اسلام میں داخل ہونے والے (مسلمان ) پر فرائض،واجبات اور دیگر اسلامی قوانین نافذ ہو تے ہیں ۔شرعی پابندیا ں عائد ہوتی ہے۔ کہ حرام مت کھاؤ ،حرام لباس مت پہنو ،شریعت کے خلاف مت سنو ،جائز کا م کرو،حرام کاموں سے بچوں اسلام کہتا ہے کہ جب تم نے دین ودنیا کی بھلائی کے لیے اسلام کوقبول کیا ہے تو ایسا ہر گز نہ ہوکہ کسی قسم کی کوئی محرومی حاصل ہو۔ سر سے لے کر پاؤں تک مسلمان بن جاؤکوئی بھی کسی بھی حال میں کہیں بھی دیکھے تو دیکھتے ہی سمجھ جائے کہ یہ مسلمان ہے۔

اسلام اور انسان کے فطری تقاضوں کی تکمیل :۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ انسان کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سامنے یہ اُصول پیش کیے جائیں کہ اس کے فطری تقاضوں کوکمال اعتدال کے ساتھ پوراکرے ۔انسانیت کووہاں سکون نہیں ملتا جہاں ان سب جذبات کوپامال کیاجارہا ہواور نہ وہاں کوئی انسانیت آسودہ ہوسکتی ہے جہاں تہذیب وشرافت کانام تک ختم ہوگیاہو،حقیقت انسانیت ایسی چیز ہے جس کو سمجھنا ضروری ہے کسی نے صرف انسانیت کی روح کودیکھا اور کسی نے انسان کی مادیت کودیکھا ہے۔کوئی بولتا ہے کہ انسان فرشتہ ہے تو کوئی کہتا ہے کہ انسان درندہ ہے ،نہ کھانا پینا انسان کے نام ہے نہ صرف روح کا نام انسان ہے بلکہ روح اور جسم کے مرکب کانام انسان ہے۔انسان ایک حیوان ناطق ہے۔جس کے پاس جسمانی تقاضے بھی ہیں۔اس کے پاس جذبات وخواہشات بھی ہیں ۔لہٰذا انسان کے لیے وہی دستور ہوسکتاہے جو اس کی روحانی تقاضوں کی بھی تکمیل کرے اور اس کے جذبات کوبھی مردہ نہ ہونے دے جو دین حضور نبی کریم ﷺلے کرآئے ہیں وہ انسانی فطرت پرمبنی ہے ۔اسلام اپنے اصول وقوانین کاپابند بناتے ہوئے فطری تقاضوں کی تکمیل کرواتاہے۔دین اسلام غاروں میں چھپ کر اور گوشہ نشینی میں زندگی گذارنے والوں کادین نہیں ،کسی مصلحت کے پیش نظر باطل سے مفاہمت ومصالحت کرنے والوں کا دین نہیں ،یہ تو اﷲکے شیروں کادین ہے،جو گرجتے ہیں تو باطل کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

مضامین
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار وجود هفته 24 جنوری 2026
سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار

جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر