وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 28 جنوری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

طرحی مشاعروں کے انعقاد سے ادبی دنیا میں نئے شعراکی تربیت ہوتی ہے جس میں انجمن بہارادب کا کردار قابل تحسین ہے اور اس کے لیے انجمن کے عہدہ داران بالخصوص پروفیسر نورسہارن پوری کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔یہ بات انجمن بہارادب کے زیر اہتمام طرحی سالانہ مشاعرہ جو گورنمنٹ ڈگری کالج برائے طلبا، نارتھ کراچی میں منعقد کیا گیا، کی صدارت کرتے ہوئے معروف شاعر جناب پروفیسر منظر ایوبی نے کہی۔مشاعرے کے مہمان خصوصی قمر وارثی جبکہ مہمانان اعزازی آصف رضا رضوی اور ڈاکٹر جاوید منظر صاحبان تھے۔نظامت کے فرائض پروفیسر نورسہارن پوری اور مہتاب عالم مہتاب نے انجام دیے۔الحاج یوسف اسماعیل نے تلاوت کلام پاک سے مشاعرے کا آغاز کیا جب کہ نعت رسول مقبول عدنان عکس نے پیش کی۔بعد ازاں مسند نشینوں سمیت جن شعرا نے طرحی کلام پیش کیا ان میں اختر علی انجم،اکرام الحق اورنگ،قمرالزماں پیہم،افتخار حیدر،توقیر تقی،رضی عظیم آبادی،نورسہارن پوری، صدیق راز،اخلاق درپن ، مہتاب عالم مہتاب ، عبدالمجید محور ، نشاط غوری،حامد علی سید،پروفیسر صفدر علی انشا،آسی سلطانی،الحاج یوسف اسماعیل،فخراللہ شاد،زاہد علی سید،افضل شاہ،محمد علی سوز، عدنان عکس، عبدالوحید تاج،شارق رشید،ذوالفقار حیدر پرواز،چاند علی چاند،جمیل ساحر،خالد احمد سید، الحاج نجمی ، فضل اللہ فانی اور وقار سحر کے نام شامل ہیں۔ مشاعرہ میں جناب جہانگیر خان بھی شریک تھے اور اس مشاعرے کا طرحی مصرع’’یارب اس انجمن کے چراغوں کو کیا ہوا‘‘تھا۔
………………
٭اکبروارثی کی یاد میں طرحی نعتیہ مشاعرہ
25 سے زاید شعرائے کرام نے طرح نعتیں پیش کیں اُردو کے نعتیہ ادب میں حضرت اکبر وارثی میرٹھی کا بڑا اہم مقام ہے، آپ کے کئی نعتیہ مجموعے آج بھی مقبول ہیں۔ بالخصوص آپ کا میلاد نامہ (میلاد اکبر) ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی اُردو کی دنیا میں مقبول ہے۔ بہ قول ڈاکٹر فرمان فتح پوری اُردو میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا سلام ’’یا نبی سلام علیک‘‘ ہے۔ میلاد اکبر کو آج بھی پاک و ہند کے پچاس سے زاید پبلشر شایع کر تے ہیں اور یہ بیسٹ سیلرز کتاب ہے۔ طرح نعتیہ نعتیہ مشاعرہ غوثیہ ویلفیئر ٹرسٹ کے سید شوکت علی قادری زیدی کی سرپرستی میں گلبرگ کے بلیو اسٹار بینکوئٹ میں ہوا، مشاعرہ کی صدارت حضر اعجاز رحمانی نے فرمائی جب کہ مہمان خصوصی پروفیسر خیال آفاقی تھے۔ نظامت کے فرائض شاہد اقبال نے انجام دئیے اور عبدالصمد تاجی نے اپنی تحریر ’’اکبر وارثی، روشن لمحے، سنہری یادیں‘‘ پیش کی۔ تلاوت کلام پاک حسین پرواز نے فرمائی، جن شعرائے کرام نے طرحی نعتیں پیش کیں، ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ صدر محفل اعجاز رحمانی، مہمانِ خصوصی پروفیسر خیال آفاقی، یوسف چشتی، احمد خیال، مرزا عاصی اختر، رضی عظیم آبادی، استاد جمیل ادیب سید، غازی بھوپالی، عبدالوحید تاج، شارق رشید، نعیم انصاری، اقبال افسر غوری، شاہ عمران، نشاط غوری، الحاج یوسف اسماعیل، فخر اللہ شاد، تنویر سخن، طاہرہ سلیم سوز ایڈووکیٹ، چاند علی چاند، افضل ہزاروی، اسحاق خان اسحق، تاج علی رعنا، ذوالفقار حیدر پرواز، وسیم احمدنثار، عبدالصمد تاجی اور ناظم مشاعرہ شاہد اقبال، آخر میں سرپرست غوثیہ ویلفیئر سید شوکت علی قادری نے دعا فرمائی اور اعلان کیا کہ وہ ہر ماہ درس و قرآن و حدیث اور محافل نعت یونہی سجاتے رہیں گے تقریب میں بڑی تعداد میں مہمانوں کے علاوہ جلیس سلاسل، ذکاء العزیز، سید مختار علی، پیر فراست شاہ، عقیل احمد عباسی، مطاہرہ حسین صدیقی نے بھی شرکت کی۔شرکاء محفل کے لیے ظہرانہ کا انتظام بھی تھا۔
……………
٭اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام
میٹ اے رائٹر نشست کا اہتمام
اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی کے زیر اہتمام میٹ اے رائٹر نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعرو ادیب یامین عراقی نے کی، جب کہ مہمان اعزازی پروین حیدراور تنویر رئوف تھے ، مہمان خصوصی کراچی کے معروف شاعر وصحافی ڈاکٹر نثار احمد نثار تھے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر نثار احمدنثار کے فن اور شخصیت کے حوالے سے الطاف احمد نے تفصیلی خیالات کا اظہار کیا ، جب کہ صدارتی خطاب میں یامین عراقی نے کہا کہ ڈاکٹر نثار احمدنثار اپنی ذات کے اندر کیا کیا پرتیں لیے ہوئے ہیں یہ تو ان کے کلام سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارا معاشرہ جس تیزی سے اپنی بنیادی اقدار سے منکر ہوجاتا رہا ہے اس کا درد ڈاکٹر نثار احمدنثار نے اپنے اشعار میں پیش کیاہے۔
ا س موقع پر ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ ڈاکٹر نثار سادگی پسند، صاف گو، اصول پسند، دیانت دار اور ایمان دار انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہتریں شاعر بھی ہیں ۔
اس محفل میں مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا جن شعرائے کرام نے کلام پیش کیا ان میں شاہد خان ، عرفان عابدی، تنویر حسین سخن،خالد نور، فرحت اسرار، الطاف احمد، تاج علی رعنا، حسیب عابد، محمد اجمل،راحیلہ سبحان، تنویر روف، طاہرہ سلیم سوز، ڈکٹر لبنیٰ، زارا صنم، حنا علی،محمد علی زیدی،دلشاد احمد دہلوی، محمد رفیق مغل، شہمیر علی،نجیب عمر، صدیق راز،سید مہتاب شاہ،سید علی اوسط جعفری، سید صغیر احمد،فرح کلثوم شامل ہیں، آخر میں اکادمی ادبیات کراچی کی طرف سے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا۔
٭منوبھائی رخصت ہو گئے
ممتاز شاعر ، ادیب اور کالم نگار منوبھائی نے بھرپور زندگی گزاری اور وہ آخری وقت تک فعال اور متحرک رہے ۔ان کی زندگی ایک تاریخ رقم کرتی ہے،ان کا شمار پاکستان کے ان معتبر قلم کاروں میں شمار ہوتاہے جن کی تخلیقی کارکردگی پر ہم فخر کرسکتے ہیں۔وہ اپنے کالموں،ڈراموں اور شاعری کے ذریعے زندگی کے آخری لمحے تک اپنے سماج سے جڑے رہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازاتھا۔وہ شخص جو الفاظ کی حرمت سے واقف تھا اب ہم سے رخصت ہو کر راہی ملک عدم ہو گیا ہے۔
٭ساقی فاروقی بھی اب ہم میں نہیں رہے
ساقی فاروقی ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۳۶ء کو گورکھپور انڈیا میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندانی نام قاضی محمد شمشاد نبی
فاروقی تھا وہ ۱۹۴۸ء تک ہندوستان میں اور ۱۹۵۲ء تک بنگلہ دیش میں رہے ، ۱۹۵۳ء کو پاکستان آئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا،۱۹۶۳ء میں ماہنامہ نوائے کراچی کے ایڈیٹر بنے،بعد ازاں بہ سلسلۂ روزگار برطانیہ چلے گئے اور کمپیوٹرپروگرامنگ میں مہارت حاصل کی اور وہیں کے ہو رہے۔ان کی متعدد تخلیقاتِ نظم و نثر زیورطباعت سے آراستہ ہوتی رہیں اور ان کے نام کو روشن کرتی رہیں،وہ اُردو کے نامور شاعر وادیب اور دانشور تھے جو اب ہم سے رخصت ہوگئے ہیں،گزشتہ تین سال سے شدید علیل تھے اور ۸۱ برس کی عمر میں چل بسے۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر