وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 28 جنوری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

طرحی مشاعروں کے انعقاد سے ادبی دنیا میں نئے شعراکی تربیت ہوتی ہے جس میں انجمن بہارادب کا کردار قابل تحسین ہے اور اس کے لیے انجمن کے عہدہ داران بالخصوص پروفیسر نورسہارن پوری کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔یہ بات انجمن بہارادب کے زیر اہتمام طرحی سالانہ مشاعرہ جو گورنمنٹ ڈگری کالج برائے طلبا، نارتھ کراچی میں منعقد کیا گیا، کی صدارت کرتے ہوئے معروف شاعر جناب پروفیسر منظر ایوبی نے کہی۔مشاعرے کے مہمان خصوصی قمر وارثی جبکہ مہمانان اعزازی آصف رضا رضوی اور ڈاکٹر جاوید منظر صاحبان تھے۔نظامت کے فرائض پروفیسر نورسہارن پوری اور مہتاب عالم مہتاب نے انجام دیے۔الحاج یوسف اسماعیل نے تلاوت کلام پاک سے مشاعرے کا آغاز کیا جب کہ نعت رسول مقبول عدنان عکس نے پیش کی۔بعد ازاں مسند نشینوں سمیت جن شعرا نے طرحی کلام پیش کیا ان میں اختر علی انجم،اکرام الحق اورنگ،قمرالزماں پیہم،افتخار حیدر،توقیر تقی،رضی عظیم آبادی،نورسہارن پوری، صدیق راز،اخلاق درپن ، مہتاب عالم مہتاب ، عبدالمجید محور ، نشاط غوری،حامد علی سید،پروفیسر صفدر علی انشا،آسی سلطانی،الحاج یوسف اسماعیل،فخراللہ شاد،زاہد علی سید،افضل شاہ،محمد علی سوز، عدنان عکس، عبدالوحید تاج،شارق رشید،ذوالفقار حیدر پرواز،چاند علی چاند،جمیل ساحر،خالد احمد سید، الحاج نجمی ، فضل اللہ فانی اور وقار سحر کے نام شامل ہیں۔ مشاعرہ میں جناب جہانگیر خان بھی شریک تھے اور اس مشاعرے کا طرحی مصرع’’یارب اس انجمن کے چراغوں کو کیا ہوا‘‘تھا۔
………………
٭اکبروارثی کی یاد میں طرحی نعتیہ مشاعرہ
25 سے زاید شعرائے کرام نے طرح نعتیں پیش کیں اُردو کے نعتیہ ادب میں حضرت اکبر وارثی میرٹھی کا بڑا اہم مقام ہے، آپ کے کئی نعتیہ مجموعے آج بھی مقبول ہیں۔ بالخصوص آپ کا میلاد نامہ (میلاد اکبر) ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی اُردو کی دنیا میں مقبول ہے۔ بہ قول ڈاکٹر فرمان فتح پوری اُردو میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا سلام ’’یا نبی سلام علیک‘‘ ہے۔ میلاد اکبر کو آج بھی پاک و ہند کے پچاس سے زاید پبلشر شایع کر تے ہیں اور یہ بیسٹ سیلرز کتاب ہے۔ طرح نعتیہ نعتیہ مشاعرہ غوثیہ ویلفیئر ٹرسٹ کے سید شوکت علی قادری زیدی کی سرپرستی میں گلبرگ کے بلیو اسٹار بینکوئٹ میں ہوا، مشاعرہ کی صدارت حضر اعجاز رحمانی نے فرمائی جب کہ مہمان خصوصی پروفیسر خیال آفاقی تھے۔ نظامت کے فرائض شاہد اقبال نے انجام دئیے اور عبدالصمد تاجی نے اپنی تحریر ’’اکبر وارثی، روشن لمحے، سنہری یادیں‘‘ پیش کی۔ تلاوت کلام پاک حسین پرواز نے فرمائی، جن شعرائے کرام نے طرحی نعتیں پیش کیں، ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ صدر محفل اعجاز رحمانی، مہمانِ خصوصی پروفیسر خیال آفاقی، یوسف چشتی، احمد خیال، مرزا عاصی اختر، رضی عظیم آبادی، استاد جمیل ادیب سید، غازی بھوپالی، عبدالوحید تاج، شارق رشید، نعیم انصاری، اقبال افسر غوری، شاہ عمران، نشاط غوری، الحاج یوسف اسماعیل، فخر اللہ شاد، تنویر سخن، طاہرہ سلیم سوز ایڈووکیٹ، چاند علی چاند، افضل ہزاروی، اسحاق خان اسحق، تاج علی رعنا، ذوالفقار حیدر پرواز، وسیم احمدنثار، عبدالصمد تاجی اور ناظم مشاعرہ شاہد اقبال، آخر میں سرپرست غوثیہ ویلفیئر سید شوکت علی قادری نے دعا فرمائی اور اعلان کیا کہ وہ ہر ماہ درس و قرآن و حدیث اور محافل نعت یونہی سجاتے رہیں گے تقریب میں بڑی تعداد میں مہمانوں کے علاوہ جلیس سلاسل، ذکاء العزیز، سید مختار علی، پیر فراست شاہ، عقیل احمد عباسی، مطاہرہ حسین صدیقی نے بھی شرکت کی۔شرکاء محفل کے لیے ظہرانہ کا انتظام بھی تھا۔
……………
٭اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام
میٹ اے رائٹر نشست کا اہتمام
اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی کے زیر اہتمام میٹ اے رائٹر نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعرو ادیب یامین عراقی نے کی، جب کہ مہمان اعزازی پروین حیدراور تنویر رئوف تھے ، مہمان خصوصی کراچی کے معروف شاعر وصحافی ڈاکٹر نثار احمد نثار تھے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر نثار احمدنثار کے فن اور شخصیت کے حوالے سے الطاف احمد نے تفصیلی خیالات کا اظہار کیا ، جب کہ صدارتی خطاب میں یامین عراقی نے کہا کہ ڈاکٹر نثار احمدنثار اپنی ذات کے اندر کیا کیا پرتیں لیے ہوئے ہیں یہ تو ان کے کلام سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارا معاشرہ جس تیزی سے اپنی بنیادی اقدار سے منکر ہوجاتا رہا ہے اس کا درد ڈاکٹر نثار احمدنثار نے اپنے اشعار میں پیش کیاہے۔
ا س موقع پر ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ ڈاکٹر نثار سادگی پسند، صاف گو، اصول پسند، دیانت دار اور ایمان دار انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہتریں شاعر بھی ہیں ۔
اس محفل میں مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا جن شعرائے کرام نے کلام پیش کیا ان میں شاہد خان ، عرفان عابدی، تنویر حسین سخن،خالد نور، فرحت اسرار، الطاف احمد، تاج علی رعنا، حسیب عابد، محمد اجمل،راحیلہ سبحان، تنویر روف، طاہرہ سلیم سوز، ڈکٹر لبنیٰ، زارا صنم، حنا علی،محمد علی زیدی،دلشاد احمد دہلوی، محمد رفیق مغل، شہمیر علی،نجیب عمر، صدیق راز،سید مہتاب شاہ،سید علی اوسط جعفری، سید صغیر احمد،فرح کلثوم شامل ہیں، آخر میں اکادمی ادبیات کراچی کی طرف سے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا۔
٭منوبھائی رخصت ہو گئے
ممتاز شاعر ، ادیب اور کالم نگار منوبھائی نے بھرپور زندگی گزاری اور وہ آخری وقت تک فعال اور متحرک رہے ۔ان کی زندگی ایک تاریخ رقم کرتی ہے،ان کا شمار پاکستان کے ان معتبر قلم کاروں میں شمار ہوتاہے جن کی تخلیقی کارکردگی پر ہم فخر کرسکتے ہیں۔وہ اپنے کالموں،ڈراموں اور شاعری کے ذریعے زندگی کے آخری لمحے تک اپنے سماج سے جڑے رہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازاتھا۔وہ شخص جو الفاظ کی حرمت سے واقف تھا اب ہم سے رخصت ہو کر راہی ملک عدم ہو گیا ہے۔
٭ساقی فاروقی بھی اب ہم میں نہیں رہے
ساقی فاروقی ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۳۶ء کو گورکھپور انڈیا میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندانی نام قاضی محمد شمشاد نبی
فاروقی تھا وہ ۱۹۴۸ء تک ہندوستان میں اور ۱۹۵۲ء تک بنگلہ دیش میں رہے ، ۱۹۵۳ء کو پاکستان آئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا،۱۹۶۳ء میں ماہنامہ نوائے کراچی کے ایڈیٹر بنے،بعد ازاں بہ سلسلۂ روزگار برطانیہ چلے گئے اور کمپیوٹرپروگرامنگ میں مہارت حاصل کی اور وہیں کے ہو رہے۔ان کی متعدد تخلیقاتِ نظم و نثر زیورطباعت سے آراستہ ہوتی رہیں اور ان کے نام کو روشن کرتی رہیں،وہ اُردو کے نامور شاعر وادیب اور دانشور تھے جو اب ہم سے رخصت ہوگئے ہیں،گزشتہ تین سال سے شدید علیل تھے اور ۸۱ برس کی عمر میں چل بسے۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر