وجود

... loading ...

وجود

پاکستا ن کاسردصحرا’’کٹپانا ‘‘بنی نوع انسان کے لیے عجوبہ

اتوار 21 جنوری 2018 پاکستا ن کاسردصحرا’’کٹپانا ‘‘بنی نوع انسان کے لیے عجوبہ

صحرا جس کے نام سے گرمی دھوپ۔ پیاس اور تاحدِ نگاہ ریت کا احساس ابھر کر سامنے آجاتا ہے لیکن اللہ تعالی نے کائنات میں ایسی بھی صحرا تخلیق کی ہے جو گرم نہیں بلکہ سرد ہے اور بنی نوع انسان کے لیے ایک عجوبے کی حثیت رکھتا ہے اور ایسی ہی تخلیق دیکھ کر وہ اللہ رب العزت کا متصرف ہوجاتا ہے۔
یہ ہمارے لیے خوش نصیبی اور فخر کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دنیا کا سب سے خوبصورت خطہ عطاء کیا ہے جن میں سے ایک ــــ پہچان پاکستان گلگت بلتستان بھی ہے۔
اس خوبصورت اور دلکش خطے کا تو کیا ہی کہنے ہیں یہاں کی فضائوں سے ایسی خوشبو نکلتی ہے جو پورے علاقے کو معطر معطر کردیتی ہے۔
گلگت بلتستان یوں سارا کا سارا ہی دیدزیب نظاروں سے پُر ہے لیکن یہاں کیا بعض جگہیں ایسی ہیں جنکا ثانی ساری دنیا میں کہیں نہیں انہی میں ایک سرد صحرا بھی ہے جسے عرف عام Cold Desert کہتے ہیں اسکے علاوہ یہKatpana Desert اور ستررنگی کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
صحراکے ساتھ ہی ایک گائوں ہے جسکا نام ـ’’کٹپانا‘‘ ہے غالباََ اسی گائوں کی مناسبت سے اسکا نام کٹپانا پڑگیا ہو۔سرد صحرا گلگت بلتستان کے اسکردو شہر کے قریب واقع ہے۔ اسکردو شہر ڈرسٹرت اسکردو کا صدر مقام بھی ہے۔وادی اسکردو 10 کلومیٹر چوڑی اور 40 کلو میٹر لمبی وادی ہے جو فطرت کی رعنائی کی آما جگاہ ہے۔
اسکردو شہر دریائے سندہ اور دریائے شگار کے سنگم پر واقع ہے یہ پاکستان کا سب سے سرد ترین شہربھی ہے اور سیاچن گلیشئر کاراستہ یہی سے جاتا ہے۔اسکردو سطح سمندر سے تقریباََ 7303 فٹ بلندی پر واقع ہے جو کہ چاروں طرف سے بلند و بالا برف پوش پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔
اسکردو شہر کے قریب تقریباََ 10 کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے سندھ اور دریائے شگار کے سنگم پر ایک خوبصورت اور اپنی نوعیت کا منفرد صحرا موجود ہے ساری دنیا ’’ سرد صحرا ے نام سے پہچانتی ہے‘‘
یہ صحرا وادی خپلو سے وادی نبرہ لداخ اور شگار اسکردو سے انڈین زیر کنٹرول کشمیر تک پھیلی ہوئی ہے۔
صحرا کا زیا دہ بڑا حصہ اسکردو اور شگاروادی میں ہے ۔سرد یا کٹپانا صحرا سمندر سے تقریبا 10,000فٹ بلندی پر واقع ہیں۔یہ دنیا کا واحد صحرا ہے جو اتنی بلندی پر موجود ہے اور اپنے پور ے آب وتاب کے ساتھ جلوے بکھیرتاہوا پاکستا ن کی آن بان شان کو چار چاند لگارہاہے دنیا میں کسی اور خطے میں اس نوعیت کا صحرا موجود ہیں۔کٹپا نا سرد صحرا با العموم گلگت بلتستا ن اور بالخصوص پاکستا ن کے لیے خداوند کریم کا عطا ء کردہ ایک منفرد ویکتہ تحفہ ہے۔سردیوں کے موسم میں اس صحرا کی بزم ونازک ریت تیز ہوائوںکے جھکڑ کے ساتھ اپنی جگہ تبدیل کرتی رہتی ہے۔
رات کی تاریکی میں کیمنگ کے دوران اس صحرا میں کہکشائوں اور تا روں سے بھرا آسما ن کیا ہے کمال اور دلفریب منظر پیش کرتا ہے سطح سمند ر سے اتنا زیادہ بلند ہونے کی وجہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ستارے آپ کے سرکے قریب ہی موجود ہوں ۔
صحرا کے ساتھ ہی کٹپا ناکا چھوٹا سا گائوں بھی موجود ہے قریب سے گذرتا دریائے سندھ اور گائوں بھی موجود ہیں قریب سے گذرتا دریائے سندھ اور گائوں کے ساتھ لگے درختوں کے خوبصو رت جھنڈ دراصل اس گائوں کو پاکستان کا سب سے منفرد اور حسین گائوں میں شمار کرواتے ہیں ۔
یہاں کا موسم بہت زیادہ سرد اور خون جماد ینے والا ہوتاہیں لہذا اگر گرمیوں کے موسم میں اس جگہ کی سیروسیاحت کی جائے تو باآسانی اس صحرا کی خاک چھا نی جا سکتی ہیں اور سچ پوچھے تو قدرت کی رعنائیوں سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ ,coll desert,نہیں بلکہ ،gold desert،ہے۔
جب آپ اس ریگستا ن پر پہچتے ہیں تو فطرت کی دعانیاں آپکی منتظر ہو تی ہیں ۔
اسکردو شہر اس ریگستا ن کی جا نب سفر کرنا خود ایک ایڈونچر سے کم نہیں اس ر یگستا ن تک پہنچنے سے پہلے آپ کو دوعظیم گلیشیئرز کے درمیان سے گذرنا پڑے گا جی ہا ں عظیم بلندو اور بیافو گلیٹیر اور ایسا محسوس ہو تا ہیں یہ گلییشئرز اسکی رکھوالی کررہے اور اسکے الفریب نظاروں میں گم ہونے والے سیا حوں کو خوش آمدید کہتے ہیں جب آپ اس ریگستا ن پر پہنچتے ہیں تو فطرت کی رعنائیاں آپ کو اپنے حصار میں جکڑ لیتی ہیں اور آپ واہ کے لیے بغیر نہیں رہ سکتے۔
بلند وبالا پہا ڑوں کے درمیان گھر ہوا حسین صحرا اس وقت مزید خوبصورت اور دیدہ زیب ہوجاتا ہیں جب یہا ں ایڈونچر کے دلداہ افراد کئی پروگرام تر تیب دیتے ہیں جس میں جیپ ریلی قابل ذکر ہیں جب تیز رفتا ر گاڑیا ں اس صحرا کے سینے پر اپنے جلوے دکھاتی ہیں تو انکے پہیے سے اڑنے والا نرم نازک ریت فضامیں شامل ہوکر خوشیاں بکھیر دیتا ہیں ۔
صحرا کے ساتھ واقع ،کٹپانا ،گائوں کے افراد خاص طور پر اس ریلی کے انقصاد میں بڑے ذوق شوق سے حصہ لیتے ہیں اور مہمان نوازی کے تما م اطوار احسن طریقے سے اداء کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
سرد صحرا کے ساتھ ہی واقع کٹپانا گائوں نہایت دلکش و دلفریب نظاروں میں گھر ہو ا ہے گائوں کے ابتداء میں درختوں کا ایک حسین جھنڈا کیا ہیں دلکش منظر پیش کرتا ہیں جب ہواوں کا یہا ں سے گذر ہوتا ہیں اور وہ جھنڈا کو لودی دیتے ہوئے اس صحرا تک پہنچتی ہیں تو انکی حسین سنگم سے ایک عجیب ہی فرحت کا احساس ہوتاہے۔
اس صحرا میں گومنے کا اصل وقت موسم گرما کا ہے کیونکہ سردیوں میں یہا ں خون کو جما دینے والی سردی ہوتی ہے اور درجہ حرارت منفی 25cتک گرجاتاہیں اگر آسمان پر تخلیق کا ئنا ت کے منا ظر دیکھنے ہیں تو یہاں کیمنگ کی جائے کہکشائوں اور ستاروں کی حسین دنیا آپکواپنے صحر میں جکڑے گی اور آپ خالق کا ئنات کی ثناء بیان کیے بغیر نہیں رہ سکیںگے۔
اگر ارباب اختیار اس صحرا پرخصوصی توجہ دیں تونہ صرف پاکستا ن بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہوگا۔
بلند بالا پہاڑوں کے درمیا ن واقع اس صحرا پر اگر ایک چیئر لفٹ کا اضافہ کردیا جائے تو خوبصورتی میں پناہ اضا فہ کا باعث بنے گا ۔سرد صحرا خالق کائنات کی عطا ء کی ہوئی ایک خوبصورت نعمت ہے بحثیت پاکستا نی ہما رے لیے فخر کا باعث ہے اسکی خو بصورتی کے لیے جتنی بھی کوشش کی جائے وہ کم ہیں۔سرکاری اداروں کے علاوہ الیکٹرنک وپرنٹ میڈیا کی بھی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ ان خوبصورت مقاما ت کی بھر پور اور واضح کوریج کریں تاکہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے دنیاکے سیاح خوبصورت ومفرد صٖحرا کے جلوے دیکھ سکیں۔


متعلقہ خبریں


مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ وجود - اتوار 05 اپریل 2026

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم وجود - اتوار 05 اپریل 2026

15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب وجود - اتوار 05 اپریل 2026

جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو) وجود - اتوار 05 اپریل 2026

مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو)

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز وجود - اتوار 05 اپریل 2026

ملک بھر میں توانائی کی بچت کیلئے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز صوبائی حکومتیں کی چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت جاری ، ذرائع وزارتِ توانائی نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا۔ وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں چی...

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

مضامین
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا ! وجود اتوار 05 اپریل 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا !

امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر