وجود

... loading ...

وجود

صلہ رحمی کی فضیلت اور قطع رحمی کا گناہ

جمعه 19 جنوری 2018 صلہ رحمی کی فضیلت اور قطع رحمی کا گناہ

’’صلہ رحمی‘‘ کہتے ہیں اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروںکے ساتھ رشتہ جوڑنے، حسن سلوک کرنے اور عفو در گزر کرنے کو، اور ’’قطع رحمی ‘‘کہتے اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروںکے ساتھ رشتہ توڑنے، بدسلوکی کرنے اور اُن کی خطاؤں اور لغزشوں کے درپے ہونے کو۔ اسلام میں رشتہ داروں اور قرابت والوں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اِس کے برعکس اُن کے ساتھ قطع رحمی اور لاتعلقی رکھنے کی بہت سخت اور شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’ترجمہ: اور والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو!۔‘‘ (النساء: ۳۶)ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ:بیشک اللہ تعالیٰ… رشتہ داروں کو (اُن کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘(النحل:۹۰)ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ (اُمت محمدیہؐ کو) بنی اسرائیل کا عہد یاد دلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: اور( وہ وقت یاد کرو!) جب ہم نے بنی اسرائیل سے پکا عہد لیا تھا کہ …تم والدین اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کروگے… الخ ۔ (البقرۃ: ۸۳)اسی طرح ’’قطع رحمی‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ترجمہ:پھر اگر تم نے (جہاد) سے منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤاور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو!۔‘‘ (محمدؐ: ۲۲)

اسی طرح احادیث نبویہؐ میں بھی ’’صلہ رحمی‘‘ کی فضیلت و ترغیب اور ’’قطع رحمی‘‘ کی مذمت و ترہیب بڑی کثرت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دورانِ سفر نبی اکرم ؐ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اُس نے عرض کیا: ’’آپؐ مجھے ایسی بات بتایئے جو مجھے جنت کے قریب کردے اور جہنم سے دُور کردے!۔‘‘ تو آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ،نمازوں کی پابندی کرو، زکوٰۃ ادا کرو،اور رشتہ داروں کے حقوق پہچانو! (اور اُن کا خیال رکھو!)۔‘‘

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ (نبوت سے پہلے) قریش شدید قحط میں مبتلا ہوئے ، حتیٰ کہ اُنہیں پرانی ہڈیاں تک کھانی پڑیں ، اور اُس وقت حضورؐ اور حضرت عباسؓ بن عبد المطلب سے زیادہ خوش حال قریش میں اور کوئی نہیں تھا، حضورؐ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا: ’’چچا جان! آپ جانتے ہی ہیں کہ آپؓ کے بھائی ابو طالب کے بچے بہت زیادہ ہیں ، اور آپؓ دیکھ ہی رہے ہیں کہ قریش پر سخت قحط آیا ہوا ہے، آیئے! اُن کے پاس جاتے ہیں اور اُن کے کچھ بچے ہم سنبھال لیتے ہیں ، چنانچہ اِن دونوں حضرات نے جاکر ابو طالب سے کہا: ’’اے ابو طالب! آپ اپنی قوم کا (برا) حال دیکھ ہی رہے ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ آپ بھی قریش کے ایک فرد ہیں(قحط سالی سے آپ کا حال بھی برا ہو رہا ہے) ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ کے کچھ بچے ہم سنبھال لیں ۔‘‘ ابو طالب نے کہا: ’’میرے (بڑے بیٹے) عقیل کو میرے لیے رہنے دو، باقی بچوں کے ساتھ تم جو چاہو کرو! ۔‘‘ چنانچہ حضورؐ نے حضرت علیؓ کو اور حضرت عباسؓ نے حضرت جعفرؓ کو لے لیا، یہ دونوں اِن حضرات کے پاس اُس وقت تک رہے جب تک یہ مال دار ہوکر خود کفیل نہ ہوگئے۔ حضرت سلیمان بن داؤدؒ راوی کہتے ہیں کہ حضرت جعفرؓ حضرت عباسؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے۔‘‘

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ : ’’ایک آدمی نے کہا: ’’یارسول اللہؐ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں جن کے ساتھ میں صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں، میں اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں ،وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ، میں برداشت کرکے اُن سے درگزر کرتا ہوں، وہ میرے ساتھ جہالت کا معاملہ کرتے ہیں۔‘‘ (یعنی بلا وجہ وہ مجھ پر ناراض ہوتے ہیں اور مجھ پر سختی کرتے ہیں) حضورؐ نے فرمایا:’’ اگر تم ویسے ہی ہو جیسا تم کہہ رہے ہو تو گویا تم اُن کے منہ پر گرم راکھ کی پھنکی ڈال رہے ہو (یعنی تمہارے حسن سلوک کے بدلہ میں برا سلوک کرکے وہ اپنا نقصان کر رہے ہیں ) اور جب تک تم اِن صفات پر رہوگے اُس وقت تک تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک (فرشتہ) مدد گار رہے گا۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ ایک آدمی نے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا : ’’یا رسول اللہؐ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں جن کے ساتھ میں رشتہ جوڑتا ہوں اور مجھ سے وہ رشتہ توڑتے ہیں ،میں اُنہیں معاف کرتا ہوں، لیکن وہ پھر بھی مجھ پر ظلم کرتے جاتے ہیں، میں اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں، وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ، تو کیا میں اُن کی برائی کا بدلہ برائی سے نہ دوں؟ ۔‘‘حضورؐ نے فرمایا: ’’اس طرح تو تم سب (ظلم میں) شریک ہوجاؤگے، بلکہ تم فضیلت والی صورت اختیار کرو اور اُن سے صلہ رحمی کرتے رہو، جب تک تم ایسا کرتے رہوگے اُس وقت تک تمہارے ساتھ ایک مدد گار فرشتہ رہے گا۔‘‘

حضرت عثمان بن عفانؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو ایوب سلیمانؒ کہتے ہیں کہ: ’’ ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہؓ شب جمعہ میں جمعرات کی شام کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’ہماری اِس مجلس میں جو بھی قطع رحمی کرنے والا بیٹھا ہوا ہے، میں اُسے پوری تاکید سے کہتا ہوں کہ وہ ہمارے پاس سے اُٹھ کر چلا جائے ، اِس پر کوئی کھڑا نہ ہوا، اُنہوں نے یہ بات تین دفعہ کہی ،تو اِس پر ایک نوجوان اپنی پھوپھی کے پاس گیا، جس سے اُس نے دو سال سے تعلقات ختم کر رکھے تھے، اور اُسے چھوڑا ہوا تھا ، وہ جب اپنی پھوپھی کے پاس پہنچا تو پھوپھی نے اُس سے پوچھا :’’ بیٹا تم (آج) کیسے آگئے؟ اُس نے کہا: ’’ میں نے ابھی حضرت ابو ہریرہؓ کو ایسے اور ایسے فرماتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ ( اِس وجہ سے آیا ہوں) پھوپھی نے کہا: ’’ اُن کے پاس واپس جاؤ، اور اُن سے پوچھو کہ اُنہوں نے ایسے کیوں فرمایا ہے؟ ّ۔‘‘(اُس نوجوان نے واپس جاکر اُن سے پوچھا تو) حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ: ’’ میں نے حضورؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ’’ شب جمعہ میں ہر جمعرات کی شام کو تمام بنی آدم کے اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں (اور اِنسانوں کے اعمال تو قبول ہوجاتے ہیں، لیکن) قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔‘‘
حضرت اعمشؒ کہتے ہیں کہ ایک دِن صبح کی نماز کے بعد حضرت ابن مسعودؓ ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اُنہوں نے فرمایا : ’’میں قطع رحمی کرنے والے کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ ہمارے پاس سے اُٹھ کر چلا جائے، کیوں کہ ہم اپنے رب سے دُعا کرنے لگے ہیں، اور آسمان کے دروازے قطع رحمی کرنے والے کے لیے بند رہتے ہیں (تو اِس وجہ سے ہماری دُعا بھی قبول نہ ہوگی)۔‘‘

اندازہ لگایئے! زمانۂ خیر القرون میں صلہ رحمی اور حسن سلوک کی کتنی اہمیت لوگوں کے دلوں میں موجود تھی ، لیکن دوسری طرف اگرہم اپنی موجودہ حالت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے آج کے اسلامی معاشرے میں صلہ رحمی اور حسن سلوک کے واقعات بہت کم بلکہ نہ ہونے برابر ہیں ،جس کی وجہ سے رشتہ داروں ، اورعزیز و اقارب کے درمیان باہم بہت دوریاں پیدا ہوگئی ہیں، ہم لوگ ایک دوسرے کے دُکھ سکھ، اور غمی و خوشی میں شریک ہونے کو وقت کا ضیاع بتلاتے ہیں،ہم میں سے ہر ایک شخص دوسرے سے فائدہ حاصل کرنے اور نفع کمانے کے درپے ہوتا ہے، اور دوسرے کے کام میں آنے کو اپنی توہین و تذلیل خیال کرتا ہے، حالاں کہ یہ تمام ترباطل نظریات قرآن و حدیث کی اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں، بلکہ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ جو تم سے توڑے تم اُس سے جوڑو، جو تم سے برا سلوک کرے تم اُس سے اچھا سلوک کرو، جو تمہارے کام نہ آئے تم اُس کے کام آؤ، اورجو تمہارے بارے میں غلط سوچے توتم اُس کے حق میں اچھا سوچو، تب تم سچے پکے اور کامل مؤمن کہلاؤگے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر