وجود

... loading ...

وجود

بھارتی آرمی چیف کی بڑبولیاں‘پاک فوج کی للکارپرچپ سادھ لی

منگل 16 جنوری 2018 بھارتی آرمی چیف کی بڑبولیاں‘پاک فوج کی للکارپرچپ سادھ لی

جرات رپورٹ
مکاردشمن بھارتی فوج نے آزادکشمیرکے علاقے میں لائن آف کنٹرول پر جندوٹ کوٹلی سیکٹرمیں بلااشتعال فائرنگ کرکے پاک فوج کے جوانوں کوشہیدکردیا۔جوابی فائرنگ میں پاک فوج نے تین بھارتی فوجیوں کوہلا ک اورمتعدد کوزخمی کردیا۔ لائن آف کنٹرول پربھارتی شرانگیزی کافی عرص سے جاری ہے دفترخارجہ کی جانب سے بار بار بھارتی کمیشن کے افسران کوطلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا جاتا ہے اس کے باجود بھارتی فوج کی جانب سے بلاجوازفائرنگ کاسلسلہ جاری رہتاہے ۔ مکار دشمن رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کرشہری آبادی کونشانہ بناتا اورپاک فوج کے دندان شکن جواب پردم دباکربھاگ لیتا ہے ۔لائن آف کنٹرول پربھارتی شر انگیزیاں نئی بات نہیں لیکن امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے بھارت کی جانب جھکائو کے باعث اس کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں بلا جواز فائرنگ اورلائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں حدسے زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ یہی نہیں حال ہی میں بھارتی آرمی چیف بین راوت نے بیان دے ڈالاہے کہ پاکستان کاایٹمی پروگرا م دھوکہ ہے اس نے اپنے بیان میں دھمکی بھی دی اورکہہ دیاکہ اگرمودی سرکار اجازت دے توسرحدپارکارروائی کرسکتے ہیں ۔

جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان بچگانہ ہے۔ بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے، ایٹمی صلاحیت بھارت سے نمٹنے کے لیے ہی ہے۔ بھارت ہمارے عزم کو آزمانے کا خود نتیجہ دیکھے گا۔ جوہری ریاستوں میں جنگ کا امکان نہیں ہوتا، پاک فوج ذمہ دار ادارہ ہے اور پاکستان کے پاس مستند جوہری طاقت موجود ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے بھی رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان جوہری تصادم کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگر بھارت کی یہی خواہش ہے تو وہ آزما کر دیکھ لے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان غیرذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز ہے جو سازشی مائنڈ سیٹ کی ترجمانی کرتا ہے۔

65ء کی جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت نے سازشوں کے ذریعے پاکستان کی قیادت کی نااہلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 71ء میں پاکستان کو دولخت کردیا۔ اس قیادت کے ہوتے ہوئے بھارت مغربی پاکستان میں بھی مہم جوئی کر سکتا تھا۔ ایک تو مغربی پاکستان میں منظم مطلوبہ اسلحہ سے لیس فوج موجود تھی جس کے شانہ بشانہ عوام تھے‘ دوسرے بھارت پر عالمی دبائو بھی تھا اس لیے مغربی محاذ پر خاموشی میں بھارت کو بہتری نظر آئی۔ سقوط مشرقی پاکستان کا سب سے بڑا سبق محب وطن اہل و ذی ہوش قیادت کے لیے ناگزیریت ہے۔ بھارت جیسے عیار و مکار دشمن کے لیے پاکستان شروع دن سے ناقابل برداشت رہا ہے۔ اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی تکمیل میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے۔ بھارت اس رکاوٹ کو ہر صورت دور کرنے کے درپے رہا ہے۔ بھارت کے ایسے عزائم کے پیش نظر ہی پاکستان نے اپنا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا فیصلہ کیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے چند سال بعد بھارت نے پوکھران میں پہلا ایٹمی دھماکہ کرکے خود کو ایٹمی طاقت باور کرادیا جو اسکی طرف سے خطے کے ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے اکھنڈ بھارت کی تکمیل کے ایجنڈے کے لیے ایٹمی قوت تک استعمال کرنے کی وارننگ تھی۔ پاکستان جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر زخم خوردہ تھا‘ اس نے 73ء میں پوکھران میں بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب میں خود بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کا عزم کیا اور تمام تر مشکلات اور امریکا کی دھمکیوں کے باوجود مختصر مدت میں ایٹمی طاقت کا حصول ممکن بنالیا۔ گو پاکستان نے باقاعدہ دھماکے بھارت کے 98ء میں دھماکوں کے جواب میں کیے تاہم 80ء کی دہائی میں پاکستان ایٹمی قوت سے سرفراز ہو چکا تھا۔

بھارت 80ء کی دہائی میں روایتی اور غیرروایتی اسلحہ کے لگائے ڈھیروں کے زعم میں پاکستان کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کے لیے پر تولنے لگا۔ اس نے سرحدوں پر فوج ڈپلائے کردی۔ یہی وہ موقع تھا جب صدر جنرل ضیاء الحق کرکٹ ڈپلومیسی کے تحت بھارت گئے۔ ایئرپورٹ پر پروٹوکول کے تحت وزیراعظم راجیوگاندھی آئے‘ ان کے مشیروں کی موجودگی میں ضیاء الحق نے باور کرایا کہ پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے‘ آپ کی فوجیں بارڈر سے واپس نہ ہوئیں تو ہم سبق سکھانے سے گریز نہیں کرینگے۔ جنرل ضیاء الحق کے پاکستان واپس پہنچنے سے قبل بھارتی فوج کی بیرکوں میں واپسی شروع ہوچکی تھی۔ بھارت کے غیرذمہ دار آرمی چیف راوت کو پاکستان کا ایٹمی پروگرام دھوکہ نظر آرہا ہے۔ ابھی پاکستان باقاعدہ ایٹمی قوت نہیں بنا تھا تو راجیوگاندھی کو جنرل ضیاء کی دھمکی میں حقیقت نظر آگئی تھی۔

پاکستان اگر ایٹمی قوت نہ ہوتا تو بھارت سقوط ڈھاکہ کے بعد مغربی پاکستان پر یلغار کرنے سے گریز نہ کرتا۔ گیدڑ بھبکی سے کام لینے والا جنرل راوت پہلا بھارتی آرمی چیف نہیں ‘ اس کی طرح چند سال قبل جنرل دیپک کپور نے بھی کہا تھا کہ بھارت 96 گھنٹے میں اسلام آباد اور بیجنگ پر قبضہ کرسکتا ہے۔ جنرل اور آرمی چیف کی سطح کا عہدیدار پینے کے بعد ہی ایسی بہکی بہکی اور غیرحقیقی باتیں کر سکتا ہے۔

2016ء کے آخر پر اوڑی چھائونی پر مجاہدین کے حملے نے بھارتی فوج کی مہارت کا پول کھول دیا تھا جب تمام حفاظتی حصار توڑ کر چند حریت پسندوں نے بیس فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ اس پر بھارت تلملایا‘ پاکستان پر الزام عائد کیا اور سبق سکھانے کی دھمکیاں دیں۔ اس وقت مودی نے پاکستان کیخلاف جنگجویانہ بیان بازی کرکے فوجی کمانڈروں کا اجلاس بلایا، اس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، وزیر دفاع منوہر پاریکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سمیت اہم حکام شریک ہوئے۔بھارتی وزیراعظم مودی اور ان کے مشیر اجیت دوول نے فوجی کمانڈرز سے پاکستان کے خلاف جنگ کے آپشنز مانگے تو جنرل دلبیر سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے کنٹرول لائن پر دفاعی انتظامات مزید مضبوط بنا لیے ہیں، کنٹرول لائن پر پاک فوج سے چھیڑچھاڑ کا خیال اب دل سے نکال دینا ہی بہتر ہوگا۔جنرل دلبیر سنگھ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ انہوں نے فیلڈ کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں اور خود کنٹرول لائن کا بھی جائزہ لیا ہے۔ کوئی بھی ایڈونچر خود بھارت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد بھارت کی طرف سے انتہاء پسند بپھرے ہوئے میڈیا اور مشتعل پارلیمنٹیرین کو مطمئن کرنے کے لیے پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کیے گئے جس کا پول خودبھارت ہی کے میڈیا اور کچھ سیاست دانوں نے کھول دیا اور بھارتی حکومت کو سبکی اور فوج کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے کسی بھی ہمسایے کے لیے کبھی جارحانہ عزائم نہیں رہے۔ مگر دفاع کے معاملے میں آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہ کرنے کی پالیسی ہے۔ آج امریکا کی طرف سے پاکستان پر تعاون نہ کرنے کے الزام لگائے جارہے ہیں۔ امریکا کی طرف سے نام نہاد امداد بند کردی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ جارحیت کی دھمکی دے چکے ہیں‘ پاکستان کی طرف سے امریکا کے ساتھ سینگ پھنسانے سے حتی الامکان گریز کیا جارہا ہے تاہم جارحیت کی صورت میں امریکا کو بھی جواب دینے کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے۔ امریکا بھارت کے درمیان قربتیں بڑھی ہیں۔ انکے درمیان نیا نیا رومانس ہے‘ کبھی تو لگتا ہے امریکا بھارت کی زبان میں پاکستان کو مخاطب کررہا ہے‘ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کے لیے بھارت نہ تو امریکا ہے اور نہ ہی امریکا کے لیے پاکستان افغانستان ہے۔ جارحیت کسی طرف سے بھی ہوئی تو پاکستان دوٹوک جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج پاک امریکا تعلقات کشیدگی کی انتہاء پر ہیں جن میں کسی وقت بھی بہتری آسکتی ہے۔ امریکا کو ادراک ہے کہ اسے افغانستان میں جنگ جیتنے کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت افغانستان میں آخری امریکی فوجی کی موجودگی تک رہے گی سردست امریکا کا افغانستان سے مکمل انخلاء کا ارادہ نہیں جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں ہوچکی ہیں۔ بھارت کے پاکستان کے خلاف عزائم اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے اور مداخلت کے پیش نظر ایک اور جنگ کے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جو ایٹمی جنگ سے کم نہیں ہو سکتی جس میں شاید جیت پر جشن منانے اور ہزیمت پر ماتم کرنیوالا بھی کوئی باقی نہ بچے۔ روایتی جنگ بھی تباہ کن ہوگی۔ دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر نے کہا ہے کہ بھارت کا کونہ کونہ پاکستان کے ایٹمی میزائلوں کی زد میں ہے۔ عالمی دفاعی جریدے جینز کے مطابق پورا بھارت پاکستان کے میزائل غوری سوئم کے نشانے پر ہے۔ جنگیں صرف اسلحہ کے زور اور انبار کے ذریعے ہی نہیں لڑی اور جیتی جاتیں۔ اس کے لیے فوج کا جذبہ اہم ترین ہوتا ہے۔ پاک فوج کے سپاہی کے لیے جذبہ شہادت سب سے بڑھ کر ہے۔ وہ ہمہ وقت جان قربان کرنے پر آمادہ جبکہ مقابل سپاہی کو جاں بچانے کی فکر ہوتی ہے۔ جنگوں میں اسلحہ کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ اس میدان میں بھی بھارت مفلوک الحالی کا شکار ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے دفاعی امور کے ماہر اجے شکلا کاکہنا ہے: ’’ہمارا فضائی دفاع کا نظام نہایت بری حالت میں ہے۔ زیادہ تر اسلحہ 70 کی دہائی سے زیرِ استعمال ہے اور فضائی دفاع کا نیا نظام نصب کرنے میں شاید دس سال لگ جائیں۔‘‘ایک حکومتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارتی بحریہ کے زیرِ استعمال 45 مگ طیارے جن پر بھارت کو بہت فخر ہے، ان طیاروں میں سے صرف 16 سے 38 فیصد طیارے اڑنے کے قابل ہیں۔انڈیا ان طیاروں کو ملک میں زیر تعمیر ایئر کرافٹ کیریئر سے اڑانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس ایئرکرافٹ کیریئر پر 15 سال قبل کام شروع ہوا تھا اور اسے 2010 ء میں مکمل ہونا تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ 2023 ء سے قبل اس کا مکمل ہونا ممکن نہیں۔ ماہرین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی کے باوجود جنگجو بار بار بھارتی فوج کے اڈوں میں گھسنے میں کیسے کامیاب ہوجاتے ہیں؟بھارت کے پاس ایک ہی ایٹمی آبدوز تھی جو عملے کی نالائقی کے باعث حادثے کا شکار ہو کر ناکارہ ہوگئی۔ ادھر بھارتی فوج کی یہ حالت ہے کہ خودکشی کا رجحان دنیا کے متعدد ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیونکہ وہ شدید نفسیاتی عوارض کی شکار ہے۔ ایسے میں یہ دعویٰ کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ جنگ کے میدان میں جانے کی ہمت کرسکتی ہے۔جنرل راوت ایسی فوج اور غیرمعیاری اسلحہ سے پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر