... loading ...
H1N1 انفلو ئنزا ایک ایسی بیماری ہے جو انفلوئنزا وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے ۔وائرس کی چار اہم اقسام ہیں ۔ انفلوئنزا وائرس اے A) ) انسان اور پرندوں کو متاثر کر سکتاہے ، انفلوئنزا وائرس بی (B) ، انفرادی انسان کو متاثر کرتا ہے ، انفلوئنزا وائرس سی (C) جو کہ انسانوں ، کتوں اور سور کو متاثر کرتا ہے اور انفلوائنزا وائرس ڈی (D) مویشیوں کو متاثر کرتا ہے ۔ انفلوئنزا وائرس (A) اے کی دو اصل اقسام ہوتی ہیں ۔ اور ان دو اقسام کے مختلف اسٹرین (Strains) ہوتے ہیں اور ان وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیماری کو فلو کہا جاتاہے ۔ یہ وائرس آر این اے (RNA) وائرس ہوتے ہیں ۔
انسانی تاریخ میں انفلوئنزا کی تاریخ بہت پرانی ہے اور انسانوں میں جتنی اموات اس وائرس کی وجہ سے ہوئی ہیں شائد ہی کسی اور بیماری کی وجہ سے ہوئی ہوں ۔ پرندوں میں انفلوئنزا کو پہلی مرتبہ ایک اطالوی سا ئنسد ان نے 1878 ء میں شناخت کیا ۔ جبکہ انسانوں میں اس انفلوئنزا نامی بیماری کا تذکرہ 2400 سال پہلے کی تاریخ میں بھی پایا گیا ہے ۔ انسانوں میں انفلوئنزا کی بیماری کا باقاعدہ ریکارڈ 1580 سے ملتا ہے جب انفلوئنزا کی وباء روس سے شروع ہو کر یورپ تک پھیل گئی ۔ انفلوئنزا کی وباء یا بیماری مسلسل سترویں اور اٹھارویں صدی میں بھی جاری رہی اور یورپ میں اس بیماری نے 1830 ء سے 1833 ء تک بہت زیادہ تباہی پھیلائی ۔ جبکہ 1918 ء میں اس انفلوئنزا بیماری کو عالمی وباء کے طور پر جانے جانا لگا جس کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دس کروڑ افراد لقمہ اجل بنے ۔ اس وائرس کی ایک قسم 2009 میں میکسیکو سے H1N1 پوری دنیا میں پھیل گیا جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
یہ ایک وائرل بیماری ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ انفلوئنزا وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد کو تنفسی نظام کے ذریعے ، کھانسنے ، چھینکنے اور تھوک وغیرہ کے ذریعے پھیلتا ہے ۔ اور اگر متاثرہ فرد کسی دوسرے فرد کو گندے ہاتھوں سے چھولے تو بھی یہ وائرس دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا وائرس سب سے پہلے متاثرہ فرد کے تنفسی قطروں (Respiratory Drops) سے منتقل ہوتا ہے اور وہ بذریعہ ہوا، کھانسی یا چھینک کے ذریعے ہوتا ہے ۔جبکہ انفلوئنزا سے متاثرہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن میں کسی بھی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتے ہیں ۔ لیکن ان افراد میں بھی یہ متعدی ہوتا ہے اور وہ افراد دوسرے افراد کو یہ جانے بغیر انفیکشن منتقل کر سکتے ہیں کہ وہ خود بھی اس انفلوئنزا انفیکشن میں مبتلا ہیں ۔ اور ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا کی بیماری سے متاثر ہونے والے افراد اس کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس وائرس کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں اور اس وائرل بیماری کی علامات عام طور پر پانچ سے سات دن تک رہتی ہیں ۔ فلو کا کوئی بھی مریض اس بیماری کی پیچیدگیوں سے گزر سکتا ہے مگر عمر دراز افراد، پانچ سال سے کم عمر کے چھوٹے بچے ، خاص طور پر دو سال سے کم عمر کے بچے ، صحت سے متعلق کچھ مخصوص امراض والے افراد جن میں ذیا بیطس، پھیپڑے اور دل کی بیماریو ں ، سکل سیل ا ینیما، دمہ اور سانس کی بیما ریا ں ، گردے اور جگر کی بیماری، کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد جن کو ایچ آئی وی یا کینسر کی بیماری میں مبتلا، موٹے افراد، حاملہ خواتین اورہیلتھ کیئر سے وابستہ افراد زیادہ جلدی اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک خاص فلو کے موسم میں 65 یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کا فلو سے اموات میں نوے (90) فیصد حصہ ہوتا ہے ۔
انفلوئنزا کی علامات موسمی فلو سے مماثلت رکھتی ہیں ۔ جس میں اچانک تیزبخار جو کہ عموماََ 98 ڈگری سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور بخار کے بعد کپکپی کی کیفیت ، کھانسی جو کہ عموماََ خشک ہوتی ہے اور یہ کھانسی زیادہ بھی ہو سکتی ہے جو کہ تقریباََ دو ہفتے یا اس سے زیادہ تک رہتی ہے ۔ فلو ، سردرد ، گلے میں خراش ، سردی ، سر درد، عضلات میں درد اور نظام تنفس کے اوپر ی حصے کا انفیکشن جبکہ بچوں میں قے اور اسہال کی پرابلم بھی ہو جاتی ہے ۔
انفلوئنزا سے ہونے والی بیماری ہلکی سے لے کر بہت سنگین بھی ہو سکتی ہے جس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے جس میں وائرل اسٹرین (Viral Strain) ،مریض کی عمر ، مریض کی حالت اور کچھ مخصوص بیماریوں پر مشتمل افراد فلو کی سنگین پیچیدگیوں سے دوچار ہو جاتے ہیں ۔ اگر یہ وائرس شدت اختیار کرلے تو نمونیہ ، پھیپھڑوں میں انفیکشن ، سانس لینے میں تکلیف اور پھر سانس رک جانے کی وجہ سے مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔ فلو کے شدید ہونے پر جلد کا رنگ نیلا یا سرمئی ہو سکتا ہے ۔
انفلوئنزا کی علامات ظاہر ہوتے ہی اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے ۔ اگر حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی خواتین ، دوسال سے کم عمر کے بچوں ، دمہ اور سانس کے مریضوں ،فربہی مائل یا موٹے افراد اور دیگر مزید کسی دوسری پیچیدہ بیماریوں یعنی ذیابیطس،دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد میں اگر انفلوئنزا کی علامات کی نشاندہی ہو جائے تو انہیں جتنی جلدی ممکن ہو سکے ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے ۔ انفلوئنزا بیماری کا علاج کرنے کے لئے ، عام طورپر آرام کرنا ، پانی کی زیادہ مقدار استعمال کرنا اور علامات کے ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے مشورے کے مطابق دوائیوں کا استعمال لازمی ہے ۔اور فلو کی حالت میں تازہ، صحت بخش اور متوازن غذائیں کھانی چاہیئے ۔ مکمل نیند جو کہ سات تا آٹھ گھنٹے پر محیط ہو لازمی لینا چاہیے ۔
انفلوئنزا کے متاثرہ مریض کو ورزش کو معمول بناتے ہوئے کھلی ہوا میں گہر ی سانسیں لینا چاہئے اور کسی بھی قسم کی ذہنی پریشانی اور تنائو سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے جسم میں موجود قوت مدافعت میں کمی آجاتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو میٹھے (Sweets) کا استعمال کم از کم یا بالکل بھی نہیں کرنا چاہیئے ۔کیونکہ اس سے خون کے سفید خلیوں (White Blood Cells) کا کام متاثر ہوتا ہے جو انسانی جسم میں کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
انفلوئنزا سے بچائو کے لئے سادہ اقدامات انفیکشن کی شرح کو کم کر سکتے ہیں ۔ اچھی، صاف ستھری اور کھلی ہوا اور جگہ جہاں مناسب وینٹی لیشن کا انتظام ہو، سورج کی روشنی اور باقاعدگی سے اور بہتر طریقے سے ہاتھوں کو باربار دھونا انفلوئنزا انفیکشن کو ایک فرد سے دوسرے فرد تک پھیلنے کو کم کر سکتا ہے ۔
بیمار افراد اور ان کے رشتہ داروں اور عزیزواقارب وغیرہ کو اسپتالوں وغیرہ میں تنفسی حفظان صحت کے اقدامات کا خیال رکھنا چاہیئے ۔ مریض کے سامنے یا اسپتال میں جب چھینک آئے تواپنی ناک اور منہ کو ٹشو سے ڈھک لینا چاہیئے اور استعمال کے بعد اسے پھینک دینا چاہیئے ۔ مریض کی دیکھ بھال کے وقت اپنے منہ کو ماسک سے ڈھک لیں اور ہاتھوں پر دستانے پہن لینا چاہیئے ۔ اور جتنا ممکن ہو سکے مریض کے کھانسی ، چھینک اور تھوک کے ذرات وغیرہ سے دور رہنا چاہیئے ۔ اب مارکیٹ میں ایسے ماسک بھی دستیاب ہیں جن کی مدد سے وائرس کے چھینک یا کھانسی وغیرہ کے ذریعے دوسرے شخص میں منتقلی کو روکا جاسکتا ہے ۔ جبکہ متاثرہ فرد کو چاہیئے کہ وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں تاکہ وائرس خاندان اور دیگر افراد تک منتقل نہ ہوسکیں ۔ خاص طور پر کھانسنے ، چھینکنے یا زیادہ رش والی جگہوں پر جانے کے بعد لازمی ہاتھوں کو صابن اور پانی سے درست طریقے سے دھونا چاہیئے ۔ اور ہاتھوں کو دھوئیں بغیر، آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونا نہیں چاہیئے اور دوسرے افراد سے روابط میں احتیاط اور حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہیئے اور اپنا گلاس ، پلیٹ ، کپ ، تولیہ ، موبائل اور ذاتی استعمال کی تمام اشیاء کو بھی دوسروں کے استعمال میں نہیں آنے دینا چاہیئے اور اینٹی بائیوٹک کا استعمال نہ کریںاور کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی دوانہیں استعمال کرنی چاہئے۔
انفلوئنزا وائرس کے مختلف ذیلی اقسام ہر وقت نت نئے منظر عام پر آتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے موسمی فلو کی ویکسین عام طور پر ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ ڈاکٹر کے مطابق موسمی انفلوئنزا سے بچنے کے لئے ہر سال ماہ اکتوبر میں ویکسینیشن کروانی چاہیئے کیونکہ یہ ویکسین پندرہ روز بعد اپنا اثر دکھاناشروع کرتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق وسط دسمبر سے انفلوئنزا کا موسم شروع ہوتا ہے اور وسط جنوری تک جاری رہتا ہے اور اگر اس دوران بارش ہو جائے تو یہ وائرس مر جاتا ہے ۔
انفلوئنزا فلو کی تشخیص کے لئے مریض کے گلے اور ناک کی رطوبتوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جاتا ہے ایک ٹیسٹ میں انفلوئنزا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی جاتی ہے جبکہ دوسرے میں اس کی قسم H1N1 کا تعین کیا جاتا ہے ۔اس وائرس کی بر وقت تشخیص ہو جائے تو فوری علاج ممکن ہوسکتا ہے جس میں مریض نہ صرف صحت یاب ہو جاتا ہے بلکہ فلو کو دوسروں تک منتقل ہونے سے بھی روکا جا سکتا ہے ۔
انفلوئنزا کی موجود ہ صورتحال میں جنوبی پنجاب میں موسمی انفلوئنزا اب تک کے اعداد شمار کے مطابق چوبیس افراد کی جان لے چکا ہے ۔ جن میں بارہ کا تعلق ملتا ن سے ، تین کا مظفر گڑھ سے جبکہ دو افراد کا تعلق وہاڑی اور راجن پور سے ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق موسمی فلو یا انفلوئنزا سے ہونے والی اموات میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہیں جن میں دو حاملہ خواتین بھی شامل ہیں ۔
ڈائریکٹرہیلتھ کراچی کے مطابق جنوبی پنجاب یعنی ملتا ن کے بعد کراچی میں بھی موسمی انفلوئنزا H1N1 کے کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور کراچی کے ایک نجی اسپتال میں تقر یباً اٹھائیس (28) مریض کے اس انفلوئنزا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے ۔
ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری سطح پر کوئی ایسی لیبارٹری موجود نہیں ہے جو H1N1 وائرس کی تشخیص کر سکے لہذا ان انفلوئنزا کے مشتبہ کیسز کو تصدیق کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے ۔
مناسب احتیاط اور بر وقت علاج سے ہی اس مرض سے بچائو ممکن ہے اور بے احتیاطی کی صورت میں یہ مرض موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...
خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...
پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...
کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...
اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...
بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...
سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...
موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...
اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...
حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...
بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...
رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...