وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

انفلوئنزا (فلو)

منگل 16 جنوری 2018 انفلوئنزا  (فلو)

H1N1 انفلو ئنزا ایک ایسی بیماری ہے جو انفلوئنزا وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے ۔وائرس کی چار اہم اقسام ہیں ۔ انفلوئنزا وائرس اے A) ) انسان اور پرندوں کو متاثر کر سکتاہے ، انفلوئنزا وائرس بی (B) ، انفرادی انسان کو متاثر کرتا ہے ، انفلوئنزا وائرس سی (C) جو کہ انسانوں ، کتوں اور سور کو متاثر کرتا ہے اور انفلوائنزا وائرس ڈی (D) مویشیوں کو متاثر کرتا ہے ۔ انفلوئنزا وائرس (A) اے کی دو اصل اقسام ہوتی ہیں ۔ اور ان دو اقسام کے مختلف اسٹرین (Strains) ہوتے ہیں اور ان وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیماری کو فلو کہا جاتاہے ۔ یہ وائرس آر این اے (RNA) وائرس ہوتے ہیں ۔

انسانی تاریخ میں انفلوئنزا کی تاریخ بہت پرانی ہے اور انسانوں میں جتنی اموات اس وائرس کی وجہ سے ہوئی ہیں شائد ہی کسی اور بیماری کی وجہ سے ہوئی ہوں ۔ پرندوں میں انفلوئنزا کو پہلی مرتبہ ایک اطالوی سا ئنسد ان نے 1878 ء میں شناخت کیا ۔ جبکہ انسانوں میں اس انفلوئنزا نامی بیماری کا تذکرہ 2400 سال پہلے کی تاریخ میں بھی پایا گیا ہے ۔ انسانوں میں انفلوئنزا کی بیماری کا باقاعدہ ریکارڈ 1580 سے ملتا ہے جب انفلوئنزا کی وباء روس سے شروع ہو کر یورپ تک پھیل گئی ۔ انفلوئنزا کی وباء یا بیماری مسلسل سترویں اور اٹھارویں صدی میں بھی جاری رہی اور یورپ میں اس بیماری نے 1830 ء سے 1833 ء تک بہت زیادہ تباہی پھیلائی ۔ جبکہ 1918 ء میں اس انفلوئنزا بیماری کو عالمی وباء کے طور پر جانے جانا لگا جس کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دس کروڑ افراد لقمہ اجل بنے ۔ اس وائرس کی ایک قسم 2009 میں میکسیکو سے H1N1 پوری دنیا میں پھیل گیا جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

یہ ایک وائرل بیماری ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ انفلوئنزا وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد کو تنفسی نظام کے ذریعے ، کھانسنے ، چھینکنے اور تھوک وغیرہ کے ذریعے پھیلتا ہے ۔ اور اگر متاثرہ فرد کسی دوسرے فرد کو گندے ہاتھوں سے چھولے تو بھی یہ وائرس دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا وائرس سب سے پہلے متاثرہ فرد کے تنفسی قطروں (Respiratory Drops) سے منتقل ہوتا ہے اور وہ بذریعہ ہوا، کھانسی یا چھینک کے ذریعے ہوتا ہے ۔جبکہ انفلوئنزا سے متاثرہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن میں کسی بھی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتے ہیں ۔ لیکن ان افراد میں بھی یہ متعدی ہوتا ہے اور وہ افراد دوسرے افراد کو یہ جانے بغیر انفیکشن منتقل کر سکتے ہیں کہ وہ خود بھی اس انفلوئنزا انفیکشن میں مبتلا ہیں ۔ اور ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا کی بیماری سے متاثر ہونے والے افراد اس کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس وائرس کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں اور اس وائرل بیماری کی علامات عام طور پر پانچ سے سات دن تک رہتی ہیں ۔ فلو کا کوئی بھی مریض اس بیماری کی پیچیدگیوں سے گزر سکتا ہے مگر عمر دراز افراد، پانچ سال سے کم عمر کے چھوٹے بچے ، خاص طور پر دو سال سے کم عمر کے بچے ، صحت سے متعلق کچھ مخصوص امراض والے افراد جن میں ذیا بیطس، پھیپڑے اور دل کی بیماریو ں ، سکل سیل ا ینیما، دمہ اور سانس کی بیما ریا ں ، گردے اور جگر کی بیماری، کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد جن کو ایچ آئی وی یا کینسر کی بیماری میں مبتلا، موٹے افراد، حاملہ خواتین اورہیلتھ کیئر سے وابستہ افراد زیادہ جلدی اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک خاص فلو کے موسم میں 65 یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کا فلو سے اموات میں نوے (90) فیصد حصہ ہوتا ہے ۔

انفلوئنزا کی علامات موسمی فلو سے مماثلت رکھتی ہیں ۔ جس میں اچانک تیزبخار جو کہ عموماََ 98 ڈگری سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور بخار کے بعد کپکپی کی کیفیت ، کھانسی جو کہ عموماََ خشک ہوتی ہے اور یہ کھانسی زیادہ بھی ہو سکتی ہے جو کہ تقریباََ دو ہفتے یا اس سے زیادہ تک رہتی ہے ۔ فلو ، سردرد ، گلے میں خراش ، سردی ، سر درد، عضلات میں درد اور نظام تنفس کے اوپر ی حصے کا انفیکشن جبکہ بچوں میں قے اور اسہال کی پرابلم بھی ہو جاتی ہے ۔

انفلوئنزا سے ہونے والی بیماری ہلکی سے لے کر بہت سنگین بھی ہو سکتی ہے جس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے جس میں وائرل اسٹرین (Viral Strain) ،مریض کی عمر ، مریض کی حالت اور کچھ مخصوص بیماریوں پر مشتمل افراد فلو کی سنگین پیچیدگیوں سے دوچار ہو جاتے ہیں ۔ اگر یہ وائرس شدت اختیار کرلے تو نمونیہ ، پھیپھڑوں میں انفیکشن ، سانس لینے میں تکلیف اور پھر سانس رک جانے کی وجہ سے مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔ فلو کے شدید ہونے پر جلد کا رنگ نیلا یا سرمئی ہو سکتا ہے ۔

انفلوئنزا کی علامات ظاہر ہوتے ہی اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے ۔ اگر حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی خواتین ، دوسال سے کم عمر کے بچوں ، دمہ اور سانس کے مریضوں ،فربہی مائل یا موٹے افراد اور دیگر مزید کسی دوسری پیچیدہ بیماریوں یعنی ذیابیطس،دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد میں اگر انفلوئنزا کی علامات کی نشاندہی ہو جائے تو انہیں جتنی جلدی ممکن ہو سکے ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے ۔ انفلوئنزا بیماری کا علاج کرنے کے لئے ، عام طورپر آرام کرنا ، پانی کی زیادہ مقدار استعمال کرنا اور علامات کے ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے مشورے کے مطابق دوائیوں کا استعمال لازمی ہے ۔اور فلو کی حالت میں تازہ، صحت بخش اور متوازن غذائیں کھانی چاہیئے ۔ مکمل نیند جو کہ سات تا آٹھ گھنٹے پر محیط ہو لازمی لینا چاہیے ۔

انفلوئنزا کے متاثرہ مریض کو ورزش کو معمول بناتے ہوئے کھلی ہوا میں گہر ی سانسیں لینا چاہئے اور کسی بھی قسم کی ذہنی پریشانی اور تنائو سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے جسم میں موجود قوت مدافعت میں کمی آجاتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو میٹھے (Sweets) کا استعمال کم از کم یا بالکل بھی نہیں کرنا چاہیئے ۔کیونکہ اس سے خون کے سفید خلیوں (White Blood Cells) کا کام متاثر ہوتا ہے جو انسانی جسم میں کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

انفلوئنزا سے بچائو کے لئے سادہ اقدامات انفیکشن کی شرح کو کم کر سکتے ہیں ۔ اچھی، صاف ستھری اور کھلی ہوا اور جگہ جہاں مناسب وینٹی لیشن کا انتظام ہو، سورج کی روشنی اور باقاعدگی سے اور بہتر طریقے سے ہاتھوں کو باربار دھونا انفلوئنزا انفیکشن کو ایک فرد سے دوسرے فرد تک پھیلنے کو کم کر سکتا ہے ۔

بیمار افراد اور ان کے رشتہ داروں اور عزیزواقارب وغیرہ کو اسپتالوں وغیرہ میں تنفسی حفظان صحت کے اقدامات کا خیال رکھنا چاہیئے ۔ مریض کے سامنے یا اسپتال میں جب چھینک آئے تواپنی ناک اور منہ کو ٹشو سے ڈھک لینا چاہیئے اور استعمال کے بعد اسے پھینک دینا چاہیئے ۔ مریض کی دیکھ بھال کے وقت اپنے منہ کو ماسک سے ڈھک لیں اور ہاتھوں پر دستانے پہن لینا چاہیئے ۔ اور جتنا ممکن ہو سکے مریض کے کھانسی ، چھینک اور تھوک کے ذرات وغیرہ سے دور رہنا چاہیئے ۔ اب مارکیٹ میں ایسے ماسک بھی دستیاب ہیں جن کی مدد سے وائرس کے چھینک یا کھانسی وغیرہ کے ذریعے دوسرے شخص میں منتقلی کو روکا جاسکتا ہے ۔ جبکہ متاثرہ فرد کو چاہیئے کہ وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں تاکہ وائرس خاندان اور دیگر افراد تک منتقل نہ ہوسکیں ۔ خاص طور پر کھانسنے ، چھینکنے یا زیادہ رش والی جگہوں پر جانے کے بعد لازمی ہاتھوں کو صابن اور پانی سے درست طریقے سے دھونا چاہیئے ۔ اور ہاتھوں کو دھوئیں بغیر، آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونا نہیں چاہیئے اور دوسرے افراد سے روابط میں احتیاط اور حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہیئے اور اپنا گلاس ، پلیٹ ، کپ ، تولیہ ، موبائل اور ذاتی استعمال کی تمام اشیاء کو بھی دوسروں کے استعمال میں نہیں آنے دینا چاہیئے اور اینٹی بائیوٹک کا استعمال نہ کریںاور کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی دوانہیں استعمال کرنی چاہئے۔

انفلوئنزا وائرس کے مختلف ذیلی اقسام ہر وقت نت نئے منظر عام پر آتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے موسمی فلو کی ویکسین عام طور پر ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ ڈاکٹر کے مطابق موسمی انفلوئنزا سے بچنے کے لئے ہر سال ماہ اکتوبر میں ویکسینیشن کروانی چاہیئے کیونکہ یہ ویکسین پندرہ روز بعد اپنا اثر دکھاناشروع کرتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق وسط دسمبر سے انفلوئنزا کا موسم شروع ہوتا ہے اور وسط جنوری تک جاری رہتا ہے اور اگر اس دوران بارش ہو جائے تو یہ وائرس مر جاتا ہے ۔

انفلوئنزا فلو کی تشخیص کے لئے مریض کے گلے اور ناک کی رطوبتوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جاتا ہے ایک ٹیسٹ میں انفلوئنزا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی جاتی ہے جبکہ دوسرے میں اس کی قسم H1N1 کا تعین کیا جاتا ہے ۔اس وائرس کی بر وقت تشخیص ہو جائے تو فوری علاج ممکن ہوسکتا ہے جس میں مریض نہ صرف صحت یاب ہو جاتا ہے بلکہ فلو کو دوسروں تک منتقل ہونے سے بھی روکا جا سکتا ہے ۔

انفلوئنزا کی موجود ہ صورتحال میں جنوبی پنجاب میں موسمی انفلوئنزا اب تک کے اعداد شمار کے مطابق چوبیس افراد کی جان لے چکا ہے ۔ جن میں بارہ کا تعلق ملتا ن سے ، تین کا مظفر گڑھ سے جبکہ دو افراد کا تعلق وہاڑی اور راجن پور سے ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق موسمی فلو یا انفلوئنزا سے ہونے والی اموات میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہیں جن میں دو حاملہ خواتین بھی شامل ہیں ۔
ڈائریکٹرہیلتھ کراچی کے مطابق جنوبی پنجاب یعنی ملتا ن کے بعد کراچی میں بھی موسمی انفلوئنزا H1N1 کے کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور کراچی کے ایک نجی اسپتال میں تقر یباً اٹھائیس (28) مریض کے اس انفلوئنزا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری سطح پر کوئی ایسی لیبارٹری موجود نہیں ہے جو H1N1 وائرس کی تشخیص کر سکے لہذا ان انفلوئنزا کے مشتبہ کیسز کو تصدیق کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے ۔

مناسب احتیاط اور بر وقت علاج سے ہی اس مرض سے بچائو ممکن ہے اور بے احتیاطی کی صورت میں یہ مرض موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ،چیف جسٹس وجود - منگل 15 جون 2021

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور کیس میں نسلہ ٹاور کے وکلا سے کمشنر کراچی کی رپورٹ پر جواب طلب کرلیا۔ پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل لارجر بنچ نے نسلہ ٹاور کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ کراچی کا سسٹم کینیڈا سے چلایا جارہا ہے ، کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ، یونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے ، وہی چلارہا ہے سارا سسٹم ، ایڈوکی...

کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ،چیف جسٹس

مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دینے والا بی جے پی کا ترجمان مقرر وجود - منگل 15 جون 2021

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے ذمہ دار اور ہجومی تشدد کے ذریعے مسلمانوں کے قتل کی حمایت کرنے والے شخص کو بھارتی ریاست ہریانہ میں بی جے پی کا ترجمان مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت بھر میں کورونا وبا کے بے قابو ہونے کے بعد مسلمانوں کی جانب سے ہندو مسلم رواداری کے عظیم الشان اور مثالی رویے کا بھارت بھر میں اظہار کیا جارہا تھا۔ مگر اس دوران میں ہندو انتہا پسند کورونا وبا سے زیادہ خطرناک وبا یعنی مسلم دشمنی کے شکار ہندؤں نے اپنے روایتی تعص...

مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دینے والا بی جے پی کا ترجمان مقرر

پاکستان نے افرادی قوت باہر بھیجنے میں بھارت، بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 15 جون 2021

وزارت سمندر پار پاکستانیز نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2020 میں افرادی قوت بیرون ملک بھیجنے میں بھارت اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور کورونا کے باوجود 2 لاکھ 24 ہزار 705 افراد کو مختلف ممالک بھیج کر خطے کا لیڈر بن گیا ہے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزارت سمندر پار پاکستانیز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2020 میں بنگلہ دیش نے 2 لاکھ 17 ہزار 699 شہریوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک بھیجا اور بھارت سے اسی دوران 94 ہزار 145 افراد روزگار کی غرض دیگر ممالک گئے ۔ٹوئٹ میں مزید ک...

پاکستان نے افرادی قوت باہر بھیجنے میں بھارت، بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا

نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج وجود - منگل 15 جون 2021

سابق وزیراعظم نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا احتساب عدالت کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔احتساب عدالت اسلام آباد نے توشہ خانہ ریفرنس میں اشتہاری ملزم نواز شریف کی جائیداد ضبطگی اور نیلامی کے احکامات جاری کیے تھے جس پر نواز شریف کی جائیدادوں کے تین دعویدار سامنے آئے اور انہوں نے احتساب عدالت سے رجوع کیا تاہم ٹرائل کورٹ نے ان کی درخواستیں مسترد کریں۔ درخواست گزاروں میاں اقبال برکت، اسلم عزیز اور اشرف ملک نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے ر...

نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کیلیے درست راہ پرگامزن ہے ، عالمی بینک وجود - منگل 15 جون 2021

عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ناجی بنہاسین نے کہا ہے کہ پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کے لیے درست سمت پر گامزن ہے ، تاہم کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ڈیجیٹالائزشن بہت ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرمایہ کاری بورڈ کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ تقریب سے خطاب میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹین ٹرنرنے کہاکہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں اورمیری ترجیح معیشت اور سرمایہ کاری ہے پاکستان کو جی ڈی پی کے دوگنا سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ...

پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کیلیے درست راہ پرگامزن ہے ، عالمی بینک

راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ہجوم کا حملہ وجود - منگل 15 جون 2021

بھارتی ریاست راجستھان میں ہجوم نے گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل اور دوسرے کو زخمی کردیا۔بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دو افراد بابو لال بھیل اور پنٹو اپنی گاڑی میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے ، چھتیس گڑھ کے عاقے بیگو میں ہجوم نے زبردستی ان کا راستہ روک لیا اور موبائل فون اور دستاویزات چھیننے کے بعد ان کو مارنا شروع کردیا۔ادے پور پولیس کے انسپکٹر جنرل ستیاویر سنگھ نے بتایا کہ آدھی رات کے لگ بھگ پولیس اسٹیشن انچارج...

راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ہجوم کا حملہ

عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ وجود - منگل 15 جون 2021

دی اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری)نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔ جرمن ٹی وی رپورٹ کے مطابق سپری نے بتایا ہے کہ امریکا، روس اور چین جیسی عالمی طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید مہلک اور جدید تر کر رہی ہیں۔ اسٹاک ہوم میں واقع عالمی امن پر تحقیق کرنے والے ادارے سپری 'دی اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ(ایس آئی پی آر آئی) کا کہنا ہے کہ گرچہ گزشتہ برس کے بعد سے مجموعی طور پر دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی آئی ہے تاہم عملی طور پر ایسے جو...

عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ

بھارت ،مسلمانوں کی فیملی پلاننگ پر بی جے پی کا نیا شوشہ وجود - منگل 15 جون 2021

بھارتی انتہاہ پسندہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے رہنما اور آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ اقلیتی فرقے (مسلمانوں)کو اپنی غربت اور دھرتی پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے خاطر فیملی پلاننگ کے مناسب طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ مسلم سماجی اور سیاسی تنظیموں نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی کے خلاف شرمناک رویہ قرار دیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی بالخصوص آسام میں مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مسلمان تارکین وطن ک...

بھارت ،مسلمانوں کی فیملی پلاننگ پر بی جے پی کا نیا شوشہ

20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ وجود - پیر 14 جون 2021

یکم جولائی سے فلورملز پر ٹرن اوور ٹیکس 1.25 فیصد ہونے سے 20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ ہے ۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں فلور ملز کیلئے ٹرن اوور ٹیکس میں دی گئی رعایت ختم کردی گئی ہے ، جس کے بعد ٹیکس بڑھنے سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 30 روپے اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔آئندہ مالی سال کے فنانس بل کے مطابق آٹے کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری کی امپورٹ پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد اور ...

20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی، شوکت ترین وجود - پیر 14 جون 2021

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالیں گے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی۔ ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بڑی تحقیقات اور محنت کے بعد بہترین بجٹ بنایا ہے ، امید رکھتے ہیں بجٹ میں طے کیے گئے خدوخال مکمل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پرپٹرول قیمتیں گریں گی توپٹرول لیوی رکھنا شروع کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب سے رعایتی قیمت پر تیل جلد ملنا شروع ہو جائے گا، امید ہے پٹرولیم لیوی میں اضافے کی ضرورت نہ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی، شوکت ترین

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان وجود - پیر 14 جون 2021

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان کر دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دنیا بھر سے 2026 تک پولیو کے مکمل خاتمے کا اعادہ کیا گیا ہے اور مختص کردہ عالمی فنڈ کا بڑا حصہ پاکستان اور افغانستان میں انسدادِ پولیو مہم پر صرف ہوگا۔واضح رہے کہ اس وقت صرف پاکستان اور افغانستان میں ہی پولیو موجود ہے ورنہ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ کیا جا چکا ہے ۔پولیو کے خاتمے سے متعلق حکومتوں، غیر سرکاری اداروں اور صحت کی تنظیموں کے مشترکہ عالمی پروگرام ''گلوبل پولیو اریڈیکیشن ا...

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان

دنیا کی قسمت کا فیصلہ جی سیون جیسے چھوٹے گروپ نہیں کرسکتے، چین وجود - پیر 14 جون 2021

چین نے جیـ7 ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن چلے گئے جب دنیا کی قسمت کا فیصلہ چھوٹے گروپ کے ہاتھ میں تھا۔عالمی میڈیاکے مطابق چین نے دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے گروپ جیـ7 کے ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔چین نے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا متبادل لانے کی جیـسیون کے منصوبے کو ناممکن، جبری مشقت کے الزام کو جھوٹا اور سنگیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بہتان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پر چھوٹے گروپ کی حکمرانی نہیں چلتی۔چین نے...

دنیا کی قسمت کا فیصلہ جی سیون جیسے چھوٹے گروپ نہیں کرسکتے، چین