وجود

... loading ...

وجود

انفلوئنزا (فلو)

منگل 16 جنوری 2018 انفلوئنزا  (فلو)

H1N1 انفلو ئنزا ایک ایسی بیماری ہے جو انفلوئنزا وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے ۔وائرس کی چار اہم اقسام ہیں ۔ انفلوئنزا وائرس اے A) ) انسان اور پرندوں کو متاثر کر سکتاہے ، انفلوئنزا وائرس بی (B) ، انفرادی انسان کو متاثر کرتا ہے ، انفلوئنزا وائرس سی (C) جو کہ انسانوں ، کتوں اور سور کو متاثر کرتا ہے اور انفلوائنزا وائرس ڈی (D) مویشیوں کو متاثر کرتا ہے ۔ انفلوئنزا وائرس (A) اے کی دو اصل اقسام ہوتی ہیں ۔ اور ان دو اقسام کے مختلف اسٹرین (Strains) ہوتے ہیں اور ان وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیماری کو فلو کہا جاتاہے ۔ یہ وائرس آر این اے (RNA) وائرس ہوتے ہیں ۔

انسانی تاریخ میں انفلوئنزا کی تاریخ بہت پرانی ہے اور انسانوں میں جتنی اموات اس وائرس کی وجہ سے ہوئی ہیں شائد ہی کسی اور بیماری کی وجہ سے ہوئی ہوں ۔ پرندوں میں انفلوئنزا کو پہلی مرتبہ ایک اطالوی سا ئنسد ان نے 1878 ء میں شناخت کیا ۔ جبکہ انسانوں میں اس انفلوئنزا نامی بیماری کا تذکرہ 2400 سال پہلے کی تاریخ میں بھی پایا گیا ہے ۔ انسانوں میں انفلوئنزا کی بیماری کا باقاعدہ ریکارڈ 1580 سے ملتا ہے جب انفلوئنزا کی وباء روس سے شروع ہو کر یورپ تک پھیل گئی ۔ انفلوئنزا کی وباء یا بیماری مسلسل سترویں اور اٹھارویں صدی میں بھی جاری رہی اور یورپ میں اس بیماری نے 1830 ء سے 1833 ء تک بہت زیادہ تباہی پھیلائی ۔ جبکہ 1918 ء میں اس انفلوئنزا بیماری کو عالمی وباء کے طور پر جانے جانا لگا جس کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دس کروڑ افراد لقمہ اجل بنے ۔ اس وائرس کی ایک قسم 2009 میں میکسیکو سے H1N1 پوری دنیا میں پھیل گیا جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

یہ ایک وائرل بیماری ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ انفلوئنزا وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد کو تنفسی نظام کے ذریعے ، کھانسنے ، چھینکنے اور تھوک وغیرہ کے ذریعے پھیلتا ہے ۔ اور اگر متاثرہ فرد کسی دوسرے فرد کو گندے ہاتھوں سے چھولے تو بھی یہ وائرس دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا وائرس سب سے پہلے متاثرہ فرد کے تنفسی قطروں (Respiratory Drops) سے منتقل ہوتا ہے اور وہ بذریعہ ہوا، کھانسی یا چھینک کے ذریعے ہوتا ہے ۔جبکہ انفلوئنزا سے متاثرہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن میں کسی بھی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتے ہیں ۔ لیکن ان افراد میں بھی یہ متعدی ہوتا ہے اور وہ افراد دوسرے افراد کو یہ جانے بغیر انفیکشن منتقل کر سکتے ہیں کہ وہ خود بھی اس انفلوئنزا انفیکشن میں مبتلا ہیں ۔ اور ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا کی بیماری سے متاثر ہونے والے افراد اس کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس وائرس کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں اور اس وائرل بیماری کی علامات عام طور پر پانچ سے سات دن تک رہتی ہیں ۔ فلو کا کوئی بھی مریض اس بیماری کی پیچیدگیوں سے گزر سکتا ہے مگر عمر دراز افراد، پانچ سال سے کم عمر کے چھوٹے بچے ، خاص طور پر دو سال سے کم عمر کے بچے ، صحت سے متعلق کچھ مخصوص امراض والے افراد جن میں ذیا بیطس، پھیپڑے اور دل کی بیماریو ں ، سکل سیل ا ینیما، دمہ اور سانس کی بیما ریا ں ، گردے اور جگر کی بیماری، کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد جن کو ایچ آئی وی یا کینسر کی بیماری میں مبتلا، موٹے افراد، حاملہ خواتین اورہیلتھ کیئر سے وابستہ افراد زیادہ جلدی اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک خاص فلو کے موسم میں 65 یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کا فلو سے اموات میں نوے (90) فیصد حصہ ہوتا ہے ۔

انفلوئنزا کی علامات موسمی فلو سے مماثلت رکھتی ہیں ۔ جس میں اچانک تیزبخار جو کہ عموماََ 98 ڈگری سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور بخار کے بعد کپکپی کی کیفیت ، کھانسی جو کہ عموماََ خشک ہوتی ہے اور یہ کھانسی زیادہ بھی ہو سکتی ہے جو کہ تقریباََ دو ہفتے یا اس سے زیادہ تک رہتی ہے ۔ فلو ، سردرد ، گلے میں خراش ، سردی ، سر درد، عضلات میں درد اور نظام تنفس کے اوپر ی حصے کا انفیکشن جبکہ بچوں میں قے اور اسہال کی پرابلم بھی ہو جاتی ہے ۔

انفلوئنزا سے ہونے والی بیماری ہلکی سے لے کر بہت سنگین بھی ہو سکتی ہے جس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے جس میں وائرل اسٹرین (Viral Strain) ،مریض کی عمر ، مریض کی حالت اور کچھ مخصوص بیماریوں پر مشتمل افراد فلو کی سنگین پیچیدگیوں سے دوچار ہو جاتے ہیں ۔ اگر یہ وائرس شدت اختیار کرلے تو نمونیہ ، پھیپھڑوں میں انفیکشن ، سانس لینے میں تکلیف اور پھر سانس رک جانے کی وجہ سے مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔ فلو کے شدید ہونے پر جلد کا رنگ نیلا یا سرمئی ہو سکتا ہے ۔

انفلوئنزا کی علامات ظاہر ہوتے ہی اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے ۔ اگر حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی خواتین ، دوسال سے کم عمر کے بچوں ، دمہ اور سانس کے مریضوں ،فربہی مائل یا موٹے افراد اور دیگر مزید کسی دوسری پیچیدہ بیماریوں یعنی ذیابیطس،دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد میں اگر انفلوئنزا کی علامات کی نشاندہی ہو جائے تو انہیں جتنی جلدی ممکن ہو سکے ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے ۔ انفلوئنزا بیماری کا علاج کرنے کے لئے ، عام طورپر آرام کرنا ، پانی کی زیادہ مقدار استعمال کرنا اور علامات کے ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے مشورے کے مطابق دوائیوں کا استعمال لازمی ہے ۔اور فلو کی حالت میں تازہ، صحت بخش اور متوازن غذائیں کھانی چاہیئے ۔ مکمل نیند جو کہ سات تا آٹھ گھنٹے پر محیط ہو لازمی لینا چاہیے ۔

انفلوئنزا کے متاثرہ مریض کو ورزش کو معمول بناتے ہوئے کھلی ہوا میں گہر ی سانسیں لینا چاہئے اور کسی بھی قسم کی ذہنی پریشانی اور تنائو سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے جسم میں موجود قوت مدافعت میں کمی آجاتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق انفلوئنزا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو میٹھے (Sweets) کا استعمال کم از کم یا بالکل بھی نہیں کرنا چاہیئے ۔کیونکہ اس سے خون کے سفید خلیوں (White Blood Cells) کا کام متاثر ہوتا ہے جو انسانی جسم میں کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

انفلوئنزا سے بچائو کے لئے سادہ اقدامات انفیکشن کی شرح کو کم کر سکتے ہیں ۔ اچھی، صاف ستھری اور کھلی ہوا اور جگہ جہاں مناسب وینٹی لیشن کا انتظام ہو، سورج کی روشنی اور باقاعدگی سے اور بہتر طریقے سے ہاتھوں کو باربار دھونا انفلوئنزا انفیکشن کو ایک فرد سے دوسرے فرد تک پھیلنے کو کم کر سکتا ہے ۔

بیمار افراد اور ان کے رشتہ داروں اور عزیزواقارب وغیرہ کو اسپتالوں وغیرہ میں تنفسی حفظان صحت کے اقدامات کا خیال رکھنا چاہیئے ۔ مریض کے سامنے یا اسپتال میں جب چھینک آئے تواپنی ناک اور منہ کو ٹشو سے ڈھک لینا چاہیئے اور استعمال کے بعد اسے پھینک دینا چاہیئے ۔ مریض کی دیکھ بھال کے وقت اپنے منہ کو ماسک سے ڈھک لیں اور ہاتھوں پر دستانے پہن لینا چاہیئے ۔ اور جتنا ممکن ہو سکے مریض کے کھانسی ، چھینک اور تھوک کے ذرات وغیرہ سے دور رہنا چاہیئے ۔ اب مارکیٹ میں ایسے ماسک بھی دستیاب ہیں جن کی مدد سے وائرس کے چھینک یا کھانسی وغیرہ کے ذریعے دوسرے شخص میں منتقلی کو روکا جاسکتا ہے ۔ جبکہ متاثرہ فرد کو چاہیئے کہ وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں تاکہ وائرس خاندان اور دیگر افراد تک منتقل نہ ہوسکیں ۔ خاص طور پر کھانسنے ، چھینکنے یا زیادہ رش والی جگہوں پر جانے کے بعد لازمی ہاتھوں کو صابن اور پانی سے درست طریقے سے دھونا چاہیئے ۔ اور ہاتھوں کو دھوئیں بغیر، آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونا نہیں چاہیئے اور دوسرے افراد سے روابط میں احتیاط اور حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہیئے اور اپنا گلاس ، پلیٹ ، کپ ، تولیہ ، موبائل اور ذاتی استعمال کی تمام اشیاء کو بھی دوسروں کے استعمال میں نہیں آنے دینا چاہیئے اور اینٹی بائیوٹک کا استعمال نہ کریںاور کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی دوانہیں استعمال کرنی چاہئے۔

انفلوئنزا وائرس کے مختلف ذیلی اقسام ہر وقت نت نئے منظر عام پر آتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے موسمی فلو کی ویکسین عام طور پر ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ ڈاکٹر کے مطابق موسمی انفلوئنزا سے بچنے کے لئے ہر سال ماہ اکتوبر میں ویکسینیشن کروانی چاہیئے کیونکہ یہ ویکسین پندرہ روز بعد اپنا اثر دکھاناشروع کرتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق وسط دسمبر سے انفلوئنزا کا موسم شروع ہوتا ہے اور وسط جنوری تک جاری رہتا ہے اور اگر اس دوران بارش ہو جائے تو یہ وائرس مر جاتا ہے ۔

انفلوئنزا فلو کی تشخیص کے لئے مریض کے گلے اور ناک کی رطوبتوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جاتا ہے ایک ٹیسٹ میں انفلوئنزا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی جاتی ہے جبکہ دوسرے میں اس کی قسم H1N1 کا تعین کیا جاتا ہے ۔اس وائرس کی بر وقت تشخیص ہو جائے تو فوری علاج ممکن ہوسکتا ہے جس میں مریض نہ صرف صحت یاب ہو جاتا ہے بلکہ فلو کو دوسروں تک منتقل ہونے سے بھی روکا جا سکتا ہے ۔

انفلوئنزا کی موجود ہ صورتحال میں جنوبی پنجاب میں موسمی انفلوئنزا اب تک کے اعداد شمار کے مطابق چوبیس افراد کی جان لے چکا ہے ۔ جن میں بارہ کا تعلق ملتا ن سے ، تین کا مظفر گڑھ سے جبکہ دو افراد کا تعلق وہاڑی اور راجن پور سے ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق موسمی فلو یا انفلوئنزا سے ہونے والی اموات میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہیں جن میں دو حاملہ خواتین بھی شامل ہیں ۔
ڈائریکٹرہیلتھ کراچی کے مطابق جنوبی پنجاب یعنی ملتا ن کے بعد کراچی میں بھی موسمی انفلوئنزا H1N1 کے کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور کراچی کے ایک نجی اسپتال میں تقر یباً اٹھائیس (28) مریض کے اس انفلوئنزا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری سطح پر کوئی ایسی لیبارٹری موجود نہیں ہے جو H1N1 وائرس کی تشخیص کر سکے لہذا ان انفلوئنزا کے مشتبہ کیسز کو تصدیق کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے ۔

مناسب احتیاط اور بر وقت علاج سے ہی اس مرض سے بچائو ممکن ہے اور بے احتیاطی کی صورت میں یہ مرض موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20لیٹر پیٹرول100 روپے قیمت پر دینے کا اعلان،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا، ٹرک، گڈز اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر سبسڈی ملے گی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے،وزیرپیٹرولیم، وزیر خزانہ...

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ وجود - جمعه 03 اپریل 2026

ایرانی اعلیٰ کمانڈر کی ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری ، دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے، ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا ، اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ زمی...

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم وجود - جمعه 03 اپریل 2026

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار عمران خان ، بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی سوالیہ نشان قرار،پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی، سیاسی صورتحال اور پیٹرول بحران سمیت متع...

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی وجود - جمعه 03 اپریل 2026

شہدا کی تعداد 1 ہزار 318 ہوگئی، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں پر تاڑ توڑ حملے کئے 48 فوجی زخمی ہونے کی اسرائیلی تصدیق، مجتبیٰ خامنہ ای کی حزب اللہ کو خراج تحسین پیش اسرائیل نے لبنان پر مزید فضائی حملے کئے، بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بمباری سے سولہ افراد شہید جبکہ چھبیس زخمی ہو...

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

کیس میں 2 مزید ملزمان اور 1 گواہ کا اضافہ ،آئندہ سماعت پر کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے گا چالان میں بانی پی ٹی آئی ودیگر ملزم نامزد ،تفتیشی افسر طبعیت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ک...

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا

مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

ایک سوال۔۔۔۔؟ وجود هفته 04 اپریل 2026
ایک سوال۔۔۔۔؟

4اپریل جب آتا ہے ! وجود هفته 04 اپریل 2026
4اپریل جب آتا ہے !

بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر