وجود

... loading ...

وجود

قصور میں سفاکیت شقی القلب شخص کو عبرت کا نشان بنانا ناگزیر

جمعه 12 جنوری 2018 قصور میں سفاکیت شقی القلب شخص کو عبرت کا نشان بنانا ناگزیر

اشعرنوید
قصور میں کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بچی 5 روز قبل ٹیوشن پرھنے کے لیے گھرسے نکلی تھی کہ لاپتا ہوگئی ۔منگل اوربدھ کی درمیانی رات اس کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔ اس سانحے کی خبر سن کر اہلِ علاقہ بڑی تعداد مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔ ورثا اور مظاہرین نے انتظامیہ اور پولیس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بچی پانچ روز سے لاپتا تھی‘ اس دوران پولیس نے اس کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے؟ قصور میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے‘ پچھلے ایک سال میں کم از کم 12 کم سن بچیاں حیوانیت کا شکار ہو چکی ہیں۔جن میں ایک کے سواتمام کی تمام بچیاں قتل بھی کردی گئیں۔ بلند و بانگ دعوو ں کے باجودپولیس کسی ایک بھی ملزم کوگرفتارنہیں کرسکی۔
اتنی بڑی تعدادمیں بچیوں کا اغوا اوران کوقتل کیے جانے کے بعد قصورکے عوام میں غیض وغضب پایا جاتاتھا۔ تازہ ترین واقعے کے بعد عوام کاصبرجواب دے گیا ۔ ا س مذموم واقعے کے خلاف پورا شہر سراپا احتجاج بن گیا، جگہ جگہ مظاہرے، عوام گیٹ توڑ کر ڈی سی آفس میں داخل ہو گئے، پولیس کی مبینہ فائرنگ سے دو افراد جاں بحق3 زخمی ہوگئے، حالات بے قابو ہونے پر رینجرز کو طلب کر لیا گیالیکن اس سب کے باوجودعوام کاغصہ ٹھنڈانہ ہوا۔ پولیس فائرنگ سے دوافرادکی ہلاکت نے مزید جلتی پرتیل کاکام کیا۔ قصورمیں دوسرے روزبھی ہنگامے جاری رہے ۔تادم تحریرمظاہرین نے ڈسٹرکٹ اسپتال پر دھاوا بول دیاتھا اوروہاں توڑ پھوڑ بھی کی ،مشتعل افرادنے اسی پربس نہیں کی حکومتی بینرز اور بورڈ اکھاڑ پھینکے۔ اورپنجاب حکومت وانتظامیہ کے خلاف نعرے بازی بھی کی ۔قصورشہرکے تمام تجارتی مراکزاورتعلیمی ادار ے بندرہے ‘ ڈنڈا برداروں کاسڑکوں پرراج اور ٹریفک نہ ہونے کے برابررہا۔
شہریوں کا موقف ہے کہ شہر میں ایک سال کے دوران 11کمسن بچیوں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا لیکن پولیس تاحال ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔

ڈی پی او قصور ذوالفقار احمدکا کہنا ہے، اجتماعی زیادتی کے بعد قتل ہونیوالی یہ آٹھویں بچی ہے۔ پنجاب خصوصا قصورمیں معصوم بچوں سے درندگی کے یہ واقعات نئے نہیں ہیں ۔ اس سے قبل قصور کے گائوں حسین والا میں بچوں سے زیادتی کا ایک بڑا سکینڈل دو سال قبل سامنے آیا تھا۔ زیادتی کی 100 سے زائد ویڈیوز بھی میڈیا میں گردش کرتی رہیں۔ یہ بچے اب کس ذہنی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں یہ انکو پتہ ہو گا یا انکے والدین کو‘ مگر پولیس نے کتنے مجرموں کو نشان عبرت بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا اس کا جواب آسانی سے مل سکتا ہے۔ اگر پولیس اور متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہوتی تو ایک چھوٹے سے ایریا میں دوبارہ بچیوں سے زیادتی کے 11 واقعات نہ ہوتے۔

اس اندوہناک واقعے کی معاشرے کے ہرطبقے کی جانب سے مذمت جاری ہے ۔ سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے بھی غم وغصے کا اظہارکیاجارہاہے ۔ عوام وسول سوسائٹی ملزم کوگرفتارکرکے سرعام پھانسی دینے کامطالبہ کررہی ہے ۔ ن لیگ کے سربراہ میاں نوازشریف ان کی صاحبزادی مریم نوازکی جانب سے بھی متاثرہ خاندان سے اظہارہمدردی کے ساتھ ملوث ملزمان کو گرفتارکرکے عبرتناک سزا دینے کامطالبہ کیاگیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے واقعے کونوٹس لے کررپورٹ طلب کی اوراگلے ہی روز صبح سویرے زینب کے گھر جا پہنچے جہاں انہوں نے مقتولہ کے اہلخانہ سے تعزیت کی۔ وزیر اعلی پنجاب کے ہمراہ ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان اور پولیس کے اعلی افسران بھی موجود تھے۔ شہباز شریف نے زینب کے اہل خانہ خصوصاوالدسے کہاکہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

قبل ازیں آرمی چیف جنر ل قمرجاوید باجوہ نے بھی پاک فوج کوقصورواقعے میں ملوث ملزم کی گرفتار ی کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے کاحکم دیاہے جبکہ چیف جسٹس نے اس بھیانک واقعہ کا نوٹس لیا ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ نااہل انتظامیہ کیخلاف تادیبی کارروائی کے ساتھ سفاک مجرم کو بھی عبرت کا نشان بنانے میں قانون کو بروئے عمل لایا جائیگا۔یہ سب اپنی جگہ پرحیرت اس بات پرہے کہ پنجاب خصوصا قصورجیسے چھوٹے شہرمیں بچوں کے اغواء‘زیادتی اورقتل کے مسلسل واقعات کے باوجودپنجاب پولیس اورانتظامیہ ہاتھ ہاتھ پرہاتھ رکھے کیوں بیٹھی رہی ۔ اورجب پانی سرسے اونچا ہو گیا تو بجائے معاملے کودرست طریقے سے ہینڈل کرنے کے مظاہرین پر گولیاں برساکرکون سا کارنامہ انجام دیا۔ اگر2015سامنے آنے والے اسکینڈل کے بعد ہی گرفتار ملزمان کونشان عبرت بنا دیا جاتا تو صورت حا ل یکسرمختلف ہوتی ۔ اس بات سے انکارممکن نہیں کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات صرف پنجاب میں ہی نہیں پیش آرہے ملک بھرسے سنگین خبریں مل رہی ہیں ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس جنوری سے جون تک ملک بھر میں 1764 بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آئے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے ہر برس بچوں کے خلاف جرائم میں 10 فیصد اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اوسطاً ہر روز 9 سے زائد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن کہیں پر کوئی ہنگامی کارروائی‘ ادارہ جاتی فعالیت نظر نہیں آ رہی۔ہرمعاملے کوسیاسی بنا کر چھوڑنے اوراس میں کسی کی سازش ڈھونڈنے کے بجائے وفاق اورصوبائی حکومتوں کوفوری متحرک ہوجاناچاہیے اورپولیس و انتظامیہ کوحرکت میں لاکرمجرموں کو کیفر کردارتک پہنچانا چاہیے اسی طرح معاشرے سے یہ بھیانک ناسورختم ہوسکے گا۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان وجود - پیر 06 اپریل 2026

حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست اوروڈیرہ شاہی کو تقویت ملی حافظ نعیم الرحمان ام رباب چانڈیو کو کوئی نقصان پہنچا تواس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی، گفتگو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں سندھ کی مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو سے ملاقات کے ...

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 06 اپریل 2026

پاکستان کو پختونوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا،غلط پالیسیوں سے پٹرول،ڈیزل مہنگا ہوا عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ پختونخوا کاامن جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ میں منعقدہ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون "ڈالر...

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا وجود - پیر 06 اپریل 2026

جارحیت جاری رہی تو خطے کو امریکا، اسرائیل کیلئے دوزخ بنادیں گے،ایران کا دوٹوک جواب مزید جارحیت کا جواب خطے میں شدید رد عمل کی صورت میں دیا جائیگا، ترجمان ابراہیم ذوالفقاری ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا،ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ...

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ وجود - اتوار 05 اپریل 2026

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم وجود - اتوار 05 اپریل 2026

15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب وجود - اتوار 05 اپریل 2026

جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو) وجود - اتوار 05 اپریل 2026

مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو)

مضامین
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے! وجود پیر 06 اپریل 2026
ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر