... loading ...
مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی
قرآن پاک میں خالق کائنات نے عدل کو قائم کرنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے، عدل کو ہر جگہ پر قائم کرنے کا حکم دیا ہے چاہے وہ فردی زندگی میں ہو یا اجتماعی زندگی میں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
ترجمہ: اور جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔(سورۃ نساء )
انبیاء ورسل کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد، معاشرے میں لوگوں کی زندگیوں میں عدل کو قائم کرنابھی ہے کیونکہ عدل کے ذریعہ ایک معاشرہ پوری طرح سے پرامن اور ایک اچھا معاشرہ بن سکتا ہے اسی لیے رسولوں کے مبعوث کرنے کی ایک اہم وجہ عدل کے قیام کو قرار دیا گیا ہے جس کے بارے میںارشاد خداوندی ہے
ترجمہ:بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں(سورۃ حدید)
آیت مذکورہ میں یہ ہے کہ ہم نے ان کو کتاب کے ساتھ ساتھ میزان بھی دیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو عادلانہ نظام کے قیام کی تلقین کریں۔ گویا عدل و انصاف ہی انسانیت کی خوشحالی اور بقاء کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ نبی پاک ﷺکی ذات گرامی کو دیکھ لیجئے آپ صرف انسان کامل نہیں تھے بلکہ پوری نوع انسان کیلیے نمونہ عمل بھی تھے۔ آپ کی محبت کا دم بھرنے والوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں کردار و گفتار کے حوالے سے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ اب بھی دیندار طبقہ عدالت کو بیحد پسند کرتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش عدالت کا نفاذ ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ خود عدالت و انصاف کو جاری کرنے والے بن جائیں اوراس راہ کواپنے قدموں سے طے کریں اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب انسان اپنے اخلاق اور کردار میں عدل کو قائم کریں جب تک انسان اپنے اخلاق اور کردار میں عدل کو قائم نہیں کریگا اس وقت تک وہ معاشرے میں عدل کو قائم نہیں کرسکتا۔
کسی نے کیا ہی خوب کہاکہ اخلاقی عدالت یعنی انسان کے اندر عدالت کا ایک ایسا ملکہ پیدا ہوجائے جو اس کے اندار راسخ ہوجائے اور وہ اس کے ذریعہ اس کے باطن کی اصلاح ہوجائے
نبی پاک ﷺکی ذات مجسم ایک عدالت تھی کیونکہ آپ نے سخت ترین حالات میں بھی عدالت کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
آپﷺفرماتے ہیںکہ بے شک میں اخلاق کی خوبیوں کوتمام کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ نبی پاکﷺ کی اس حدیث کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخلاق کا ایک مصداق معاشرے میں عدالت کو قائم کرنا ہے۔آپ ﷺ کے بعد آپ کے خلفاء نے بھی عدل وانصاف کو قائم کیے رکھا جس کی وجہ سے ان کے ادوار میں امن وامان قائم تھا اور ان کا عدل وانصاف آج دنیا میں رہنے والے انسانوں کے لیے ایک نمونہ ہے ان کے عدل کی مثالیں آج دنیامیں مشہور ہیں ،
یاد رہے کہ انصاف جتنا سستا ہوگا اتنی ہی برائیاں اور بے انصافیاں دور تک نظر نہیں آئیں گیں جس معاشرہ میں انصاف مہنگا ہوجائے تو اس معاشرے میں پھرجرائم اور بدامنی سستی ہوجاتی ہے لہذاانصاف ہر فرد کی ضرورت اور ہر در پہ ملنا چاہیے ؎
عدل و انصاف فقط حشر پر موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
بے انصافی بدامنی کو لے کر آتی ہے اور انصاف امن بھائی چارگی واخوت کو لاتاہے ،پھر خون کے پیاسے پانی پلانے لگ جاتے ہیں ،دشمن دوست بن جاتے ہیں ،چور چوکیدار بن جاتے ہیں ،راہزن راہبر بن جاتے ہیں ۔انصاف سستا ہو تو معاشرہ اچھا بن جاتاہے آئیے سستا انصاف دیکھتے ہیں
مصر کے گورنر کا فیصلہ اوربڑھیا عورت:حضرت عمر ؓکے زمانے میں ایک صحابی حضرت قیسؓ مصر کے گورنر تھے، ایک دن ایک بوڑھی عورت نے حاضر ہوکر شکایت کی کہ میرے گھر میں کیڑے مکوڑے بہت کم ہیں۔ حضرت قیس ؓنے فوراً حکم دیاکہ اس بڑھیا کا گھر کھانے پینے کی چیزوں سے بھر دیا جائے۔در اصل یہ ایک سطر کازبانی مقدمہ گورنر کی عدالت میں ایک غریب مجبور لاچار بوڑھی عورت نے فاقہ کشی کے خلاف دائر کیاتھا جس کو حضرت قیس کی ذہانت نے سیکنڈوں میں فیصل کردیا نہ کوئی تحریر تھی نہ کوئی وکیل تھا نہ گواہ۔اور اس بوڑھی خاتون نے ایک نیا پیسہ خرچ کیے بغیر مقدمہ جیت لیاتھا۔
اسلامی تعزیرات قرآنی احکامات ہیں اور رسول اللہ کے ارشادات اور عمل ان کی تفسیرہیں۔ یہ ایک مکمل تعزیراتی ضابطہ حیات ہے جس کا اعتراف دنیا کے دانشوروں نے بھی کیاہے۔بلبل ہند سروجنی نائڈو نے کہا تھاقرآن کریم رواداری او رانصاف کا منشور ہے، آزادی کا چارٹر ہے، معاملات زندگی میں سچائی اور انصاف کی تعلیم دینے والی قانون کی عظیم کتاب ہے، قرآن کے علاوہ کوئی دوسری مذہبی کتاب زندگی کے سارے معاملات او رپہلووں کی عملی وضاحت اور حل پیش نہیں کرتی ہے ۔
مسلمان قاضی کافیصلہ اورغیر مسلموں کاقبولِ اسلام :ایک بار ایک شہر پر مسلمان فوج نے بلا خلیفہ کے حکم کے قبضہ کرلیا تھا۔ وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں بے چینیوں کی چنگاریاں چٹک رہی تھیں، دلوں میں حقارت و نفرت اور کرب و اضطراب کے شعلے بھڑکنے کے لیے بے تاب تھے لیکن بے بس و مجبور تھے۔ ان کی عسکری طاقت مفلوج ہو چکی تھی شہر پر مسلمان فوج قابض تھی اور اس کے چلے جانے کے آثار نظر نہیںآرہے تھے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ایک شخص واحد کی درخواست پر مسلمان قاضی نے مسلم فوج کو شہر خالی کرنے کافیصلہ سنادیا تھا۔ شہر کے باشندوںپرجو اس کمزور و نحیف دبلے پتلے قاضی کے ایسا فیصلہ کرنے پر یقین نہیں رکھتے تھے حیرتوں کاپہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ وہ لوگ حکم نافذ ہوتے ہی اسلامی فوج کے سپاہیوں کو سامان باندھتے اپنی سواریوں پر لادتے حیرت کی انتہائی منزل پر کھڑے دیکھ رہے تھے کہ اچانک ان کے قلوب کے مطلع پر ایک ایسا سورج طلوع ہوا جس نے ان کے ذہنوں اور دلوں کے اندھیرو ںمیں ایک ایسی روشنی بھر دی جس کو ایمان کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیںدیاجاسکتا۔ وہ سب اکٹھے ہو کر سپہ سالار کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اب آپ کو شہر خالی کرنے کی ضرور ت نہیں ہے ہم لوگوں کو آپ کے حسن اخلاق عد ل و انصاف اور قاضی کے حکم کی پابندی کے مقدس جذبوں نے بڑا متاثر کیاہے ۔ ہم سب ایمان لاتے ہیں۔
سستاترین انصاف : حضرت علی؈ کے دور میں دو آدمی ساتھ ساتھ سفر کررہے تھے، ایک مناسب مقام دیکھ کر وہ کھانا کھانے بیٹھے۔ ان میں سے ایک کے پاس تین اور دوسرے کے پاس پانچ روٹیاں تھیں۔ ایک تیسرا مسافر بھی ان دونوں کی دعوت پر کھانے میں شریک ہوا اس کے پاس ایک بھی روٹی نہ تھی، لیکن کھاناکھانے کے بعد اس تیسرے شخص نے آٹھ دینار پانچ روٹی والے کو دیے اور چل دیا۔ اس شخص نے دو دینار اپنے اس ساتھی کو دینا چاہے جس کی تین روٹیاں تھیں لیکن اس نے تین دینار لینے کی ضد کی، جب باہم فیصلہ نہ ہوسکا تو حضرت علی ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عدل کی درخواست کی۔ حضرت علی ؓنے فرمایا کہ تو ایک دینار کاحق دار ہے، اس شخص نے حیرت سے پوچھا کیسے؟ حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر روٹی کے تین ٹکڑے کیے، تیری تین روٹی کے نو ٹکڑے ہوئے اور اس کی کے پندرہ تم تینو ںنے برابر کھایا اس طرح ہر آدمی نے آٹھ ٹکڑے کھائے تو نے اپنے نو ٹکڑوں میں سے آٹھ تو خود کھالیے ایک تیرابچا اس نے آٹھ کھائے سات اس کے بچے ایک دینار کا تو حق دار ہے سات کا یہ شخص۔ یہی عدل ہے۔ ایک دینار پانے والا آدمی حضرت علی ؓکے فیصلہ سے بہت خوش ہوا۔ اب بتائیے اس مقدمہ میں فریقین کا کیاخرچ ہوا، ان کاوکیل کون تھا او رگواہ کون ٹھہرا تھا یہ ایمان کی روشنی تھی ذہانت تھی جس نے منٹوں میں جھگڑا نمٹادیا تھا۔
حضرت علی ؓکا یہ فیصلہ عدل کی دنیامیںایک روشن مثال ہے، ان کے سامنے کسی ملک کی تعزیرات نہیں تھی او رنہ کسی مقدمے میں کسی خاص دفعہ کا نفاذ ہوتا تھا جس کی روشنی میں مقدمے فیصل کیے جاتے۔ عدل و انصاف کے ایسے ہزاروں فیصلوں سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہے۔ ان قاضیوں کے سامنے صرف اسلامی تعزیرات تھی او رایمان کی روشنی او روہ فہم و فراست تھی، جس کی بنیاد پر انہو ںنے ایسے فقید المثال فیصلے دیے ہیں جو تاریخ کے سینے کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ان کے دلوں میں خوف خدا تھا، وہ لوگ ناانصافی کے خیال سے ہی پتے کی طرح لرزنے اور کانپنے لگتے تھے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائے اور بار گاہِ خداوندی میں شرمندہ اور سزاوار نہ ہونا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ انہو ںنے سماجی زندگی کی راہوں پر عدل وانصاف کے ایسے چراغ روشن کردیے ہیں جو صدیوں کی راہ میںجلتے رہیں گے۔
اللہ پاک ہمیں عدل وانصاف کی وہ بہاریں نصیب فرمائے جن سے معاشرے میں امن وامان قائم ہو اور ہر فردسکھ کا سانس لے سکے (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)
اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...
کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...
اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...
مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...
عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...
بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...
عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...
شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...
صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...
عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...
مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...
کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...