وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اسلام کا نظام عدل اورقیام امن

جمعه 12 جنوری 2018 اسلام کا نظام عدل اورقیام امن

مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی
قرآن پاک میں خالق کائنات نے عدل کو قائم کرنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے، عدل کو ہر جگہ پر قائم کرنے کا حکم دیا ہے چاہے وہ فردی زندگی میں ہو یا اجتماعی زندگی میں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
ترجمہ: اور جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔(سورۃ نساء )
انبیاء ورسل کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد، معاشرے میں لوگوں کی زندگیوں میں عدل کو قائم کرنابھی ہے کیونکہ عدل کے ذریعہ ایک معاشرہ پوری طرح سے پرامن اور ایک اچھا معاشرہ بن سکتا ہے اسی لیے رسولوں کے مبعوث کرنے کی ایک اہم وجہ عدل کے قیام کو قرار دیا گیا ہے جس کے بارے میںارشاد خداوندی ہے
ترجمہ:بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں(سورۃ حدید)
آیت مذکورہ میں یہ ہے کہ ہم نے ان کو کتاب کے ساتھ ساتھ میزان بھی دیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو عادلانہ نظام کے قیام کی تلقین کریں۔ گویا عدل و انصاف ہی انسانیت کی خوشحالی اور بقاء کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ نبی پاک ﷺکی ذات گرامی کو دیکھ لیجئے آپ صرف انسان کامل نہیں تھے بلکہ پوری نوع انسان کیلیے نمونہ عمل بھی تھے۔ آپ کی محبت کا دم بھرنے والوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں کردار و گفتار کے حوالے سے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ اب بھی دیندار طبقہ عدالت کو بیحد پسند کرتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش عدالت کا نفاذ ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ خود عدالت و انصاف کو جاری کرنے والے بن جائیں اوراس راہ کواپنے قدموں سے طے کریں اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب انسان اپنے اخلاق اور کردار میں عدل کو قائم کریں جب تک انسان اپنے اخلاق اور کردار میں عدل کو قائم نہیں کریگا اس وقت تک وہ معاشرے میں عدل کو قائم نہیں کرسکتا۔
کسی نے کیا ہی خوب کہاکہ اخلاقی عدالت یعنی انسان کے اندر عدالت کا ایک ایسا ملکہ پیدا ہوجائے جو اس کے اندار راسخ ہوجائے اور وہ اس کے ذریعہ اس کے باطن کی اصلاح ہوجائے
نبی پاک ﷺکی ذات مجسم ایک عدالت تھی کیونکہ آپ نے سخت ترین حالات میں بھی عدالت کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
آپﷺفرماتے ہیںکہ بے شک میں اخلاق کی خوبیوں کوتمام کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ نبی پاکﷺ کی اس حدیث کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخلاق کا ایک مصداق معاشرے میں عدالت کو قائم کرنا ہے۔آپ ﷺ کے بعد آپ کے خلفاء نے بھی عدل وانصاف کو قائم کیے رکھا جس کی وجہ سے ان کے ادوار میں امن وامان قائم تھا اور ان کا عدل وانصاف آج دنیا میں رہنے والے انسانوں کے لیے ایک نمونہ ہے ان کے عدل کی مثالیں آج دنیامیں مشہور ہیں ،
یاد رہے کہ انصاف جتنا سستا ہوگا اتنی ہی برائیاں اور بے انصافیاں دور تک نظر نہیں آئیں گیں جس معاشرہ میں انصاف مہنگا ہوجائے تو اس معاشرے میں پھرجرائم اور بدامنی سستی ہوجاتی ہے لہذاانصاف ہر فرد کی ضرورت اور ہر در پہ ملنا چاہیے ؎
عدل و انصاف فقط حشر پر موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
بے انصافی بدامنی کو لے کر آتی ہے اور انصاف امن بھائی چارگی واخوت کو لاتاہے ،پھر خون کے پیاسے پانی پلانے لگ جاتے ہیں ،دشمن دوست بن جاتے ہیں ،چور چوکیدار بن جاتے ہیں ،راہزن راہبر بن جاتے ہیں ۔انصاف سستا ہو تو معاشرہ اچھا بن جاتاہے آئیے سستا انصاف دیکھتے ہیں
مصر کے گورنر کا فیصلہ اوربڑھیا عورت:حضرت عمر ؓکے زمانے میں ایک صحابی حضرت قیسؓ مصر کے گورنر تھے، ایک دن ایک بوڑھی عورت نے حاضر ہوکر شکایت کی کہ میرے گھر میں کیڑے مکوڑے بہت کم ہیں۔ حضرت قیس ؓنے فوراً حکم دیاکہ اس بڑھیا کا گھر کھانے پینے کی چیزوں سے بھر دیا جائے۔در اصل یہ ایک سطر کازبانی مقدمہ گورنر کی عدالت میں ایک غریب مجبور لاچار بوڑھی عورت نے فاقہ کشی کے خلاف دائر کیاتھا جس کو حضرت قیس کی ذہانت نے سیکنڈوں میں فیصل کردیا نہ کوئی تحریر تھی نہ کوئی وکیل تھا نہ گواہ۔اور اس بوڑھی خاتون نے ایک نیا پیسہ خرچ کیے بغیر مقدمہ جیت لیاتھا۔
اسلامی تعزیرات قرآنی احکامات ہیں اور رسول اللہ کے ارشادات اور عمل ان کی تفسیرہیں۔ یہ ایک مکمل تعزیراتی ضابطہ حیات ہے جس کا اعتراف دنیا کے دانشوروں نے بھی کیاہے۔بلبل ہند سروجنی نائڈو نے کہا تھاقرآن کریم رواداری او رانصاف کا منشور ہے، آزادی کا چارٹر ہے، معاملات زندگی میں سچائی اور انصاف کی تعلیم دینے والی قانون کی عظیم کتاب ہے، قرآن کے علاوہ کوئی دوسری مذہبی کتاب زندگی کے سارے معاملات او رپہلووں کی عملی وضاحت اور حل پیش نہیں کرتی ہے ۔
مسلمان قاضی کافیصلہ اورغیر مسلموں کاقبولِ اسلام :ایک بار ایک شہر پر مسلمان فوج نے بلا خلیفہ کے حکم کے قبضہ کرلیا تھا۔ وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں بے چینیوں کی چنگاریاں چٹک رہی تھیں، دلوں میں حقارت و نفرت اور کرب و اضطراب کے شعلے بھڑکنے کے لیے بے تاب تھے لیکن بے بس و مجبور تھے۔ ان کی عسکری طاقت مفلوج ہو چکی تھی شہر پر مسلمان فوج قابض تھی اور اس کے چلے جانے کے آثار نظر نہیںآرہے تھے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ایک شخص واحد کی درخواست پر مسلمان قاضی نے مسلم فوج کو شہر خالی کرنے کافیصلہ سنادیا تھا۔ شہر کے باشندوںپرجو اس کمزور و نحیف دبلے پتلے قاضی کے ایسا فیصلہ کرنے پر یقین نہیں رکھتے تھے حیرتوں کاپہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ وہ لوگ حکم نافذ ہوتے ہی اسلامی فوج کے سپاہیوں کو سامان باندھتے اپنی سواریوں پر لادتے حیرت کی انتہائی منزل پر کھڑے دیکھ رہے تھے کہ اچانک ان کے قلوب کے مطلع پر ایک ایسا سورج طلوع ہوا جس نے ان کے ذہنوں اور دلوں کے اندھیرو ںمیں ایک ایسی روشنی بھر دی جس کو ایمان کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیںدیاجاسکتا۔ وہ سب اکٹھے ہو کر سپہ سالار کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اب آپ کو شہر خالی کرنے کی ضرور ت نہیں ہے ہم لوگوں کو آپ کے حسن اخلاق عد ل و انصاف اور قاضی کے حکم کی پابندی کے مقدس جذبوں نے بڑا متاثر کیاہے ۔ ہم سب ایمان لاتے ہیں۔
سستاترین انصاف : حضرت علی؈ کے دور میں دو آدمی ساتھ ساتھ سفر کررہے تھے، ایک مناسب مقام دیکھ کر وہ کھانا کھانے بیٹھے۔ ان میں سے ایک کے پاس تین اور دوسرے کے پاس پانچ روٹیاں تھیں۔ ایک تیسرا مسافر بھی ان دونوں کی دعوت پر کھانے میں شریک ہوا اس کے پاس ایک بھی روٹی نہ تھی، لیکن کھاناکھانے کے بعد اس تیسرے شخص نے آٹھ دینار پانچ روٹی والے کو دیے اور چل دیا۔ اس شخص نے دو دینار اپنے اس ساتھی کو دینا چاہے جس کی تین روٹیاں تھیں لیکن اس نے تین دینار لینے کی ضد کی، جب باہم فیصلہ نہ ہوسکا تو حضرت علی ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عدل کی درخواست کی۔ حضرت علی ؓنے فرمایا کہ تو ایک دینار کاحق دار ہے، اس شخص نے حیرت سے پوچھا کیسے؟ حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر روٹی کے تین ٹکڑے کیے، تیری تین روٹی کے نو ٹکڑے ہوئے اور اس کی کے پندرہ تم تینو ںنے برابر کھایا اس طرح ہر آدمی نے آٹھ ٹکڑے کھائے تو نے اپنے نو ٹکڑوں میں سے آٹھ تو خود کھالیے ایک تیرابچا اس نے آٹھ کھائے سات اس کے بچے ایک دینار کا تو حق دار ہے سات کا یہ شخص۔ یہی عدل ہے۔ ایک دینار پانے والا آدمی حضرت علی ؓکے فیصلہ سے بہت خوش ہوا۔ اب بتائیے اس مقدمہ میں فریقین کا کیاخرچ ہوا، ان کاوکیل کون تھا او رگواہ کون ٹھہرا تھا یہ ایمان کی روشنی تھی ذہانت تھی جس نے منٹوں میں جھگڑا نمٹادیا تھا۔
حضرت علی ؓکا یہ فیصلہ عدل کی دنیامیںایک روشن مثال ہے، ان کے سامنے کسی ملک کی تعزیرات نہیں تھی او رنہ کسی مقدمے میں کسی خاص دفعہ کا نفاذ ہوتا تھا جس کی روشنی میں مقدمے فیصل کیے جاتے۔ عدل و انصاف کے ایسے ہزاروں فیصلوں سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہے۔ ان قاضیوں کے سامنے صرف اسلامی تعزیرات تھی او رایمان کی روشنی او روہ فہم و فراست تھی، جس کی بنیاد پر انہو ںنے ایسے فقید المثال فیصلے دیے ہیں جو تاریخ کے سینے کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ان کے دلوں میں خوف خدا تھا، وہ لوگ ناانصافی کے خیال سے ہی پتے کی طرح لرزنے اور کانپنے لگتے تھے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائے اور بار گاہِ خداوندی میں شرمندہ اور سزاوار نہ ہونا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ انہو ںنے سماجی زندگی کی راہوں پر عدل وانصاف کے ایسے چراغ روشن کردیے ہیں جو صدیوں کی راہ میںجلتے رہیں گے۔
اللہ پاک ہمیں عدل وانصاف کی وہ بہاریں نصیب فرمائے جن سے معاشرے میں امن وامان قائم ہو اور ہر فردسکھ کا سانس لے سکے (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)


متعلقہ خبریں


سرور کائناتﷺ کی بے مثل تعلیمات انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے ، عمران خان وجود - جمعه 30 اکتوبر 2020

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرور کائناتﷺ کی حیثیت بے مثال آفتاب کی ہے ، مغرب نے ریاست مدینہ سے رہنمائی لے کر انسانی فلاح کے لیے کام کیا ہماری کوشش ہے کہ ریاست مدینہ کے تصورسے مکمل رہنمائی حاصل کریں۔جشن عید میلادالنبیؐ کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حضرت محمدؐ خاتم النبیین کے یوم ولادت پر قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، سرور کائناتﷺ کی حیثیت بے مثال آفتاب کی ہے ، آپؐ کی بے مثل تعلیمات انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں، آپؐ کی حیات مبارکہ جہد مسلسل...

سرور کائناتﷺ کی بے مثل تعلیمات انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے ، عمران خان

امریکا کو بھارت کے ساتھ ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، چین وجود - جمعه 30 اکتوبر 2020

چین کے سفارت خانے میں بھارت کے دورے پر امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ہمارے معاملات میں مداخلت سے باز رہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں قائم چینی سفارت خانے کی جانب سے پومپیو کے بیان پر کہا گیا کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ چاہتے ہیں کہ خطے میں چین کے دوسرے ممالک سے تعلقات میں کشیدگی ہو۔بیان میں کہا گیا کہ امریکا کی سرد جنگ والی ذہنیت اور نظریاتی تقسیم ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہوگئی ہے لیکن چین اس کی بھر پور مخالفت کرت...

امریکا کو بھارت کے ساتھ ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، چین

آزادی اظہار کے ساتھ مذاہب کا احترام بھی ضروری ہے ، اقوام متحدہ وجود - جمعه 30 اکتوبر 2020

اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیب کے نمائندہ اعلی مگیل اینجل موراتینو نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بے چینی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن اور بھاری چارے کی فضا پیدا کرنے کیلئے مذاہب کا باہمی احترام بہت ضروری ہے ،مذاہب اور مقدس شخصیات کی توہین سے سوسائٹی میں منافرت اور شدت پسندی کو بڑھاوا ملتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آزادی اظہار کا استعمال اس انداز میں ہونا چاہیے جس میں مذاہب ، ان کی تعلیمات اور اصولوں کا ...

آزادی اظہار کے ساتھ مذاہب کا احترام بھی ضروری ہے ، اقوام متحدہ

عالمی ثالثی عدالت نے عمر اکمل کی پبلک میں سماعت کی درخواست مستردکردی وجود - جمعه 30 اکتوبر 2020

کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت نے کرکٹر عمر اکمل اپیل کیس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)کی ورچوئل سماعت کی درخواست منظور کر لی ہے جبکہ عمر اکمل کی پبلک میں کیس کی سماعت کی درخواست مسترد کر دی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں فریقین کی جانب سے دائر اپیل کیس کی سماعت اب ورچوئل ہو گی، اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے درخواست دی تھی جسے تسلیم کر لیا گیا ہے ۔ کرکٹر عمر اکمل نے بھی پبلک میں سماعت کی درخواست کی تھی جسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر ا...

عالمی ثالثی عدالت نے عمر اکمل کی پبلک میں سماعت کی درخواست مستردکردی

عمران خان دنیا بھر میں فیس بک پر فالو کیے جانے والے چوتھے سیاستدان وجود - جمعه 30 اکتوبر 2020

سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک پر وزیراعظم عمران خان کے آفیشل پیج کے فالوورز کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے ۔ جس کے ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان پہلے اور واحد پاکستانی سیاستدان بن گئے ہیں جنہیں فیس بک پر ایک کروڑ افراد نے فالو کیا ہے ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان دنیا بھر میں فیس بک پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے چوتھے سیاستدان بھی بن گئے ہیں۔خیال رہے کہ امریکا کے سابق صدر باراک اوباما فیس بک پر دنیا میں سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے سیاستدان ہیں اور ان کے فالوو...

عمران خان دنیا بھر میں فیس بک پر فالو کیے جانے والے چوتھے سیاستدان

دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، آرمی چیف وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مدرسے پر حملہ دراصل اسلام دشمنی ہے ، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک نہ پہنچائیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپر دیر مالاکنڈ ڈویژن کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے ان کا استقبال کیا۔آرمی چیف کو استحکام آپریشنز اور بارڈر مینجمنٹ پر بریفنگ دی گئی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے سنگل...

دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، آرمی چیف

ججوں کے انتظامی فیصلے انفرادی نہیں بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ، سپریم کورٹ وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ہائیکورٹس اور ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات فیصلے بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ۔ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے 16 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات کے حوالے سے فیصلہ جاری کردیا، 42 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس ہائی کورٹس اور ہائی کورٹ ججز کے ...

ججوں کے انتظامی فیصلے انفرادی نہیں بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ، سپریم کورٹ

قومی اسمبلی،اجلاس بلانے کیلئے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی جانب سے کرائی جانے والی یقین دہانی کے بعد واپس لی ۔ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ (آج)اپوزیشن رہنماں کو بات کرنے کا زیادہ موقع دیں گے ۔قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا جائیگا۔اپوزیشن کی جانب سے جو ریکوزیشن دی گئی تھی اس میں اجلاس کے لیے اپنا ایجنڈا دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی،اجلاس بلانے کیلئے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی

بیمار ہونے پر چمگادڑیں بھی آئسولیٹ ہوجاتی ہیں، تحقیق وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

امریکا میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چمگادڑیں جب بیمار ہوتی ہیں تو وہ سماجی دوری اختیارکرلیتی ہیں۔کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں جب ماہرین نے متاثرہ افرادکو سماجی دوری اور قرنطینہ کا مشورہ دیا تو بعض افراد نے اس طریقہ کار پر انگلیاں بھی اٹھائیں اور اسے غیرفطری قرار دیا کہ کسی کو بیمار ہونے پر تنہاکردیا جائے تاہم اب امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ جھنڈ میں رہنے والی چمگادڑیں بھی بیماری کی صورت میں سماجی دوری اختیار کرتی ہیں۔امریکی اور...

بیمار ہونے پر چمگادڑیں بھی آئسولیٹ ہوجاتی ہیں، تحقیق

گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

گلشن اقبال مسکن چورنگی دھماکے کے متاثرین کو تاحال کوئی معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم نہیں کی جاسکی جب کہ عمارت بھی منہدم کردی گئی ہے ۔گلشن اقبال مسکن چورنگی پر واقع عمارت اللہ نور اپارٹمنٹس میں 21 اکتوبر بروز بدھ کو ہونے والے دھماکے کے متاثرین کو تاحال حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ اور رہائش گاہ فراہم نہیں کی گئی، عمارت کے متاثرہ حصے کے اطراف ٹیپ لگا کر سیل کیا ہوا ہے جسکی وجہ سے عمارت سے متصل قائم ایک ریسٹورانٹ اور کیفے بھی گزشتہ ایک ہفتے سے بند پڑا ہے ۔عمارت کے متاثرہ خاندانوں...

گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان کا فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غور وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غورشروع کردیا ہے ،حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے ،کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم کے باعث پاکستان بھارت سے مذاکرات نہیں کرسکتا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فرانس سے اپنے سفیر کو مشاورت کیلئے بلوانا پڑا تو بلائیں گے اور پارلیمنٹ سے رہنمائی لیں گے ۔حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں بھا...

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان کا فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غور

مودی حکومت کا یوم سیاہ پر کشمیریوں پر ایک اورحملہ وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں یوم سیاہ کے موقع پر ایک اور کشمیری مخالف اقدام اٹھاتے ہوئے منگل کوزمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کردیااور اب مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ میں کوئی بھی غیر مقامی شہری زمین خرید سکتا ہے ۔تاہم اس میں ذرعی زمین شامل نہیں ہے ۔ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جاری حکمنامے کو مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ ری آرگنازیشن 2020کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔یہ اس سلسلے میں پاس کئے گئے قوانین کا تیسر...

مودی حکومت کا یوم سیاہ پر کشمیریوں پر ایک اورحملہ