وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ پرلکھی گئی کتاب نے اشاعت سے قبل دنیابھرمیں تہلکہ مچادیا

بدھ 10 جنوری 2018 ٹرمپ پرلکھی گئی کتاب نے اشاعت سے قبل دنیابھرمیں تہلکہ مچادیا

جرات اسپیشل رپورٹ
امریکاکی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازعہ صدر ڈونلڈٹرمپ کے جواپنے بیانات اور ای میل پیغامات کی وجہ سے دنیا بھرمیں خبرو ںکی زینت بنے رہتے ہیں ۔ ان کی شخصیت پرمعروف صحافی مائیکل وولف کی کتاب فائر اینڈ فیوری: انسائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اقتباسات منظر عام پر آئے جس نے اپنی اشاعت سے قبل ہی تہلکہ مچادیاہے۔
جلد شائع ہونے والی کتاب میں دعوے کیے گئے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی کامیابی پر انتہائی حیران تھے۔ انھیں اپنی تقریبِ حلف برداری میں بالکل لطف نہیں آیا اور وہ وائٹ ہاؤس جانے کے بارے میں خوفزدہ اور پریشان تھے۔
صحافی مائیکل وولف کی کتاب ’فائر اینڈ فیوری: انسائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس‘ جلد شائع ہونے والی ہے۔ اِس کتاب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے صدارتی امیدوار بننے کے منصوبے کو بھی فاش کیا جائے گا۔
کتاب میں بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ میڈیا ٹائٹن روپرٹ مرڈوک کے بہت بڑے مداح ہیں تاہم روپرٹ مرڈوک ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند نہیں کرتے۔
اطلاعات کے مطابق اس کتاب کو لکھنے کے لیے مصنف نے 200 خصوصی انٹرویو کیے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز کا کہنا ہے کہ یہ کتاب ’جھوٹ سے بھری‘ ہوئی ہے۔
اس کتاب میں سامنے آنے والے دس دلچسپ انکشافات مندرجہ ذیل ہیں:
1 ٹرمپ جونیئر کی ملاقاتیں ملک
سے ’غداری‘ کے مترادف تھیں
نئی کتاب میں ا سٹیو بینن سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے بیٹے کی روسی حکام سے ملاقات ‘غداری’ کے زمرے میں آتی ہے۔
جون 2016 میں ہونے والی اس ملاقات میں روسی حکام نے ڈونلڈ ٹرمپ جونئیر کو امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کے خلاف معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
مائیکل وولف نے لکھا ہے کہ بینن نے انھیں اس میٹنگ کے بارے میں بتایا کہ:
’انتخابی مہم کے تین سینیئر اہلکاروں کا خیال تھا کہ ٹرمپ ٹاور کے 25ویں فلور پر ایک غیر ملکی حکومت سے بغیر کسی وکیل کی موجودگی میں ملنا ایک اچھا خیال تھا۔ وہاں کوئی بھی وکیل موجود نہیں تھے۔ آپ کے خیال میں اگر یہ غداری یا حب الوطنی کے منافی، یا بیوقوفی نہیں بھی تھی جو کہ میرے خیال میں یہ تینوں تھیں، تب بھی آپ کو فوری طور پر ایف بی آئی کو بتانا چاہیے تھا۔
اسٹیو بینن نے صحافی مائیکل وولف سے امریکی انتخاب میں روسی مداخلت کے بارے میں جاری تفتیش کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی توجہ کا مرکز منی لانڈرنگ ہوگا اور وہ لوگ ڈونلڈ جونیئر کو قومی ٹی وی پر انڈے کی طرح توڑ دیں گے۔
2 ۔ٹرمپ اپنی کامیابی سے
’انتہائی پریشان‘ ہوگئے تھے
نیویارک میگ نامی جریدے میں اس کتاب کے ایک حصے کو بطور ایک آرٹیکل شائع کیا گیا ہے جس میں اپنی انتخابی کامیابی پر ٹرمپ کی حیرانگی اور پریشانی قلمبند کی گئی ہے۔
’الیکشن نائٹ پر رات آٹھ بجے کے بعد، جب ایک غیر متوقع رجحان کی تائید ہونے لگی کہ ٹرمپ جیت سکتے ہیں تو ڈونلڈ جونیئر نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے والد نے کوئی جن دیکھ لیا ہے۔ میلانیا کے آنسو نکل آئے اور یہ خوشی کے آنسو نہیں تھے۔ ا سٹیو بینن کے جائزے کے مطابق ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک پریشان ٹرمپ ایک حیران ٹرمپ بن گئے اور پھر ایک خوفزدہ ٹرمپ بن گئے۔ اور کچھ ہی دیر میں ڈونلڈ ٹرمپ ماننے لگے کے نہ صرف صدارت ان کا حق ہے بلکہ وہ اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مصنف لکھتے ہیں:
’ ٹرمپ اپنی تقریبِ حلف برداری پر انتہائی غصے میں تھے۔ انھیں غصہ تھا کہ سب سے بڑے ستاروں نے اس موقعے پر آنے سے انکار کر دیا تھا، انھیں بلیئر ہاؤس کے کمرے پسند نہیں آ رہے تھے اور وہ اپنی بیوی سے لڑ رہے تھے جو کہ واضح طور پر رونے کے قریب تھیں۔
4 ۔ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس
سے خوف آتا ہے
مصنف کا کہنا ہے کہ’ ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے انتہائی ناخوش رہتے ہیں اور یہاں تک کہ انھیں اس سے خوف آتا ہے۔ انھوں نے اپنا علیحدہ بیڈ روم تیار کروا لیا ہے جو کہ کینیڈی صدارت کے بعد سے پہلا موقع ہے کہ صدارتی جوڑے نے دو علیحدہ بیڈ روم استعمال کیے ہوں۔ انھوں نے کمرے میں موجود ٹی وی ا سکرین کے علاوہ دو اضافی ا سکرینوں کا آرڈر دیا اور اس دروازے پر تالا لگوانے کی کوشش کی تو سیکریٹ سروس کے ساتھ لڑائی ہوئی کیونکہ سیکریٹ سروسوالوں کا کہنا تھا انھیں کمرے تک رسائی درکار ہے۔
5 ۔ٹرمپ کا محبوب مشغلہ دوستوں
کی ’بیویوں پر نظر‘ رکھنا ہے
کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہا کرتے تھے کہ ’دوستوں کی بیویوں کے ساتھ سونا ہی زندگی کا مزہ ہے‘۔
کتاب میں صدر ٹرمپ کے ایک دوست کا ذکر کیا گیا ہے جو کہتے ہیں ‘ٹرمپ اپنے دوست کی بیوی پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اْن کا شوہر وہ نہیں جو وہ سمجھتی ہیں۔
اِس کوشش میں وہ دوست کی بیوی کو بلا کر ان کے شوہر کے ساتھ اپنی گفتگو فون کے ا سپیکر پر سنواتے ہیں۔ ٹرمپ جان بوجھ کر اِس امید میں اپنے دوست سے ایسے سوالات کرتے ہیں کہ شاید وہ کوئی ایسا جواب دیں جو بیوی کو اچھا نہ لگے۔ مثلاً ’کیا آپ اب بھی اپنی بیوی کے ساتھ سیکس کرتے ہیں؟ کتنی مرتبہ؟‘
6 ۔ایونکا کو صدر بننے کی امید ہے
مصنف کے مطابق ایونکا اور ان کے شوہر کے درمیان مبینہ طور پر یہ معاہدہ ہوا ہے کہ مستقبل میں وہ صدارتی دوڑ میں حصہ لیں گی۔
’نفع نقصان کا اندازہ رکھتے ہوئے دونوں ایونکا ٹرمپ اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر نے شاید اپنے دوست احباب کے مشوروں کے خلاف وائٹ ہاؤس میں کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ اس جوڑے کا مشترکہ فیصلہ تھا اور ایک طرح سے ایک مشترکہ کام ہے۔ شاید دونوں نے آپس میں ایک فیصلہ کر رکھا ہے۔ اگر مستقبل میں موقع ملا تو وہ صدر کا الیکشن لڑیں گی۔ ایونکا ٹرمپ نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ پہلی خاتون صدر ہلیری کلنٹن نہیں ایونکا ٹرمپ ہوں گی۔ بظاہر دونوں کے اس معاہدے کا جب ا سٹیو بینن کو پتا چلا تو وہ انتہائی ناخوش ہوئے۔
7 ۔ایونکا والد کے بالوں
کا مذاق اڑاتی ہیں
کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایوانکا اپنے والد کا ذکر خاصی لاتعلقی بلکہ کچھ طنز کے ساتھ بھی کرتی ہیں اور اْن کے ہروقت بنے سنورے بالوں کا مذاق اڑاتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہیئرا سٹائل کے بارے میں وہ اپنی دوستوں کو کچھ یوں بتاتی ہیں:
’چندیا گھٹانے کی سرجری کے بعد اْن کا سر ایک ایسا چکنا جزیرہ لگتا ہے جسے تین اطراف سے بالوں نے گھرا ہوا ہو۔ اِن سارے گیسوؤں کے سِروں کو سر کے بیچ میں جمع کرکے پیچھے کی جانب سنوارا جاتا ہے اور پھر بال ٹھہرانے والے اسپرے کے ذریعے اِسے مستقل سنبھال کررکھا جاتا ہے۔
کتاب میں کہا گیا ہے:
’بالوں کے مخصوص رنگ کے بارے میں مذاق میں کہتی تھیں کہ یہ صرف ‘جسٹ فور مین’ نامی ایک پروڈکٹ کے ذریعے ممکن ہے جسے جتنا لمبا عرصہ بالوں پر لگا رہنے دیا جائے اتنا ہی رنگ چوکھا ہوتا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جلد بازی کا نتیجہ اْن کے بالوں کا اورینج بلونڈ ہونا ہے۔
8 ۔ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی
ترجیحات کا اندازہ ہی نہیں ہے
وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی چیف آف ا سٹاف کیٹی والس نے صدر کے سینئر مشیر کے طور پر جیرڈ کشنر سے پوچھا کہ ان کی انتظامیہ کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ مگر اس کتاب کے مطابق کشنر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
’کیٹی والش نے پوچھا کہ ’بس مجھے ان تین چیزوں کا بتا دیں جس پر صدر ٹرمپ اپنی توجہ سب سے زیادہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ اس وائٹ ہاؤس کی تین ترجیحات کیا ہیں؟ یہ ایک انتہائی بنیادی سوال ہے جس کے بارے میں صدر بننے کے اہل کسی بھی امیدوار کو وائٹ ہاؤس میں رہائش حاصل کرنے سے کہیں پہلے سوچ لینا چاہیے۔ صدارت کے چھ ہفتے بعد بھی جیرڈ کشنر کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ انھوں نے کیٹی والس سے کہا ’ہاں، ہمیں اس کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔‘
9 ۔روپرٹ مرڈوک
کے لیے ٹرمپ کی محبت
مائیکل وولف ماضی میں روپرٹ مرڈوک کی سوانح عمری لکھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روپرٹ مرڈوک کی بہت زیادہ عزت کرتے ہیں۔
’ایک مرتبہ روپرٹ مرڈوک نو منتخب صدر سے ملنے کے لیے جا رہے تھے کہ انھیں تاخیر ہوگئی۔ جب محفل سے کچھ دیگر مہمان جانے لگے اور ظاہری طور پر انتہائی ناخوش ٹرمپ نے مہمانوں کو یقین دہانی کروائی کہ مرڈوک آ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ ایک عظیم آدمی ہیں، شاید عظیم آدمیوں میں سے آخری۔ آپ کو ان سے ملنے کے لیے رکنا چاہیے۔‘ ٹرمپ شاید یہ سمجھ ہی نہیں سکے تھے کہ اب وہ دنیا کے طاقتور ترین انسان تھے اور وہ اب بھی اس میڈیا موگل کے سامنے اچھا بننے کی کوشش کر رہے تھے جو کہ خود ان کو ایک بیوقوف کے طور پر دیکھتا تھا۔
10 ۔مرڈوک ٹرمپ کو ’احمق‘ سمجھتے ہیں
تاہم یہ محبت باہمی نہیں ہے۔ وولف کا کہنا ہے کہ روپرٹ مرڈوک سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’سیلیکون ویلی کو میری بڑی ضرورت ہے کیونکہ اوباما نے ان پر بہت سختی کی تھی‘۔ مرڈوک نے انھیں سمجھایا کہ ’گذشتہ آٹھ سال میں تو صدر ان کی جیب میں تھا، انھیں تمھاری ضرورت نہیں‘۔ فون کال کے اختتام پر فون رکھتے ہی مرڈوک نے کہا کہ ’یہ آدمی کتنا احمق ہے۔
11 ۔فلِن کو معلوم تھا کہ روسیوں
سے پیسے لینا مسئلہ بنے گا
اس کتاب کے مطابق سابق نیشنل سکیورٹی مشیر مائیک فلن کو معلوم تھا کہ روسیوں سے تقاریر کے لیے پیسے لینا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس بارے میں انھوں نے ایک ساتھی سے کہا ’مسئلہ تو تب بنے گا اگر ہم جیت گئے۔
٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

مضامین
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو وجود پیر 30 مارچ 2026
میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر