وجود

... loading ...

وجود

انڈوں کی قیمت دگنی کرنے پرایران میں ہنگامے ‘حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل

جمعرات 04 جنوری 2018 انڈوں کی قیمت دگنی کرنے پرایران میں ہنگامے ‘حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل

شعیب عمر
ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے حکومت مخالف احتجاج میں تبدیل ہوگئے ۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک ہی ہفتے میں انڈوں کی قیمتیں دگنا ہونے اور ایرانی صدر کی جانب سے آئندہ بجٹ میں دیگر ممالک جانے والے اپنے مسافروں پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز کے بعد ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے ۔جنھیں روکنے کے لیے پولیس حرکت میںآئی اس کی طرف سے ہونے والی آنسوگیس کی شیلنگ کے باعث مظاہرین بپھرگئے اورانھوں نے املاک پرحملے شروع کردیے اس دوران چھوٹی چھوٹی جھڑہیں پرتشددمظاہروں میں بدل گئیں۔اس دوران ایرانی فورسزکی جانب سے فائرنگ کاسلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق پانچ روزسے جاری ان مظاہروں کے دوران تقریبابارہ افرادہلاک بھی ہوچکے ہیں ۔ جبکہ درجنوں زخمی ہیں
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کئی شہروں میں پر امن ریلی نکالی اور آمر کی موت کے نعرے بھی لگائے۔آن لائن افواہوں کی وجہ سے سفری پابندی بھی عائد کی جاچکی ہیں جبکہ مظاہروں کی جگہ پر میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی لہذا انٹرنیٹ پر آنے والی فوٹیجز کی تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔
شاہانہ طرز زندگی کے خلاف جمعرات کو مشہد میں مظاہروں کا آغاز ہوا جو جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔مظاہرین نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے نتیجے میں گرائی گئی شاہی حکومت کے حق میں بھی نعرے بازی کی جبکہ کچھ مظاہرین نے حکومت کو اندرونی مسائل کے بجائے فلسطینی اور دیگر علاقائی تحاریک کی حمایت کرنے کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین دورود کے مقام سے 2 جسد خاکی لے کرجانے والے مظاہرین ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے، تاہم اس ویڈیو فوٹیج کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے عالم آیت اللہ محسن اکاری نے تہران میں مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا دشمن ایک مرتبہ پھر پھوٹ ڈالنا چاہتا ہے اور سوشل میڈیا اور معاشی مسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیا فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ادھر ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب نے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام جاری رہنے پر مظاہرین سے سختی سے نمٹا جائے گا۔عرب میڈیا کے مطابق ایران کے علاقے لورستان میں دورود شہر میں احتجاج کے دوران مظاہرین قابو نہ آئے تو پولیس کو فائرنگ کرنا پڑگئی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں عرب میڈیا کے مطابق شہر الاھواز میں واقع عبدالحمید الخزعلی بازار میں ہونے والے ایک مظاہرے پر بھی پولیس کی فائرنگ سے متعدد شہری زخمی ہوگئے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔مظاہرین کے قتل کے بعد مشتعل افراد نے ایک مقامی حکومتی دفتر کو آگ لگا دی ۔ایذہ سے ایرانی پارلیمان نے رکن ہدایت اللہ خادمی نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار مظاہرین تھے یا پولیس۔اس سے قبل چار افراد مغربی صوبے لورستان کے شہر دورود میں مارے گئے تھے۔ بقیہ چار ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔صدر حسن روحانی کے خطاب کے بعد بھی اتوار کی شب ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
تہران کے علاوہ کرمان شاہ، خرم آباد، شاہین شہر اور زنجان میں بھی جلوس نکالے گئے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کی شب تہران کے میدانِ انقلاب میں ایک مظاہرے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور آبی توپ استعمال کی۔ان مظاہروں کا آغاز جمعرات کو ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد سے ہوا تھا۔ ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والے یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد ایران میں ہونے والایہ سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومت نے ایران نے انسٹاگرام اور پیغام رسانی کی ایپلیکیشن ٹیلی گرام پر پابندی عائد کر دی ہے۔سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن نے کہا ہے کہ حکام عارضی طور پر دونوں ایپلیکیشنز کو بلاک کر رہے ہیں، تاکہ زور پکڑتے مظاہرین کو کنٹرول کرکے امن قائم کیا جاسکے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پابندی لگانے کا مقصد ان عناصر کو روکنا ہے جو متعدد احتجاجی مظاہرین کی تصاویر اور وڈیو ز اِن ایپلیکینز کے ذریعے شیئر کر رہے ہیں۔ایران میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پراپنے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے امریکی صدرڈونلڈٹرمپ جلتی پرتیل کام کرنے میں مصروف ہوگئے اورانھوں نے ٹوئٹس کر ڈالاکہ ایرانی قوم اب بیدار ہوچکی ہے اور اسے احساس ہوگیا ہے کہ اقتدار پر مسلط ٹولہ کس طرح ان کے اموال اور وسائل کی لوٹ مار کر کے اسے دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔اپنی ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج کے بعد ایرانی قوم اپنے وسائل کی لوٹ مار کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ادھرکینیڈا نے ایران میں جاری عوامی انتفاضہ اور مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے تہران پر مظاہرین کے تمام جائز مطالبات پورے کرنے پر زور دیا ہے۔دوسری جانب ایران میں ملائیت پر مبنی حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا دائرہ مزید پھیل گیا ہے۔کینیڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں وسیع پیمانے پر جاری عوامی احتجاج شہریوں کا حق ہے۔ کینیڈا ایرانی مظاہرین کے تمام جائز اور آئینی مطالبات کی حمایت اور تائید کرتا ہے۔
امریکی صدرکے ٹوئٹ پرایرانی حکام کی جانب سے شدیدردعمل سامنے آیاہے اورایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی مظاہرین سے ہمدردی جتلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ ماضی میں انھیں دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں کہاکہ آج ہمارے عوام سے ہمدردی جتلانے کا خواہاں امریکا میں موجود شخص یہ بھول گیا ہے کہ اس نے ماضی میں ایرانی قوم کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ اس شخص کا تمام وجود ہی ایرانی قوم کے خلاف ہے۔اس کو ایران کے عوام کے لیے افسردہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔صدر روحانی نے سرکاری اداروں پر زور دیا ہے کہ انھیں تنقید کے لیے موقع فراہم کرنا چاہیے لیکن ساتھ ہی انھوں نے مظاہرین کو بھی خبردار کیا ہے کہ تشدد کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ تنقید تشدد اور سرکاری املاک کو تباہ کرنے سے ایک مختلف چیز ہے۔انھوں نے گذشتہ جمعرات سے مختلف ایرانی شہروں میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ حکومتی اداروں کو (لوگوں کو ) قانونی تنقید اور احتجاج کے لیے موقع فراہم کرنا چاہیے۔
ایران میں ہونے والے پرتشدد مظاہرے اورہلاکتیں اس لحاظ سے باعث تشویش ہے کہ موجودہ صورت میں جب امریکی صدرکی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد مسلمان ممالک خصوصاً وہاں رہنے والے ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیاہے انہی ممالک میں پاکستان اورایران بھی شامل ہیں ایسے میں ایران جیسے امریکا مخالف ملک میں بدامنی کا فائدہ ایران مخالف قوتوں کو پہنچ سکتا ہے ۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی وجود - بدھ 18 فروری 2026

سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت وجود - بدھ 18 فروری 2026

فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان وجود - منگل 17 فروری 2026

وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل وجود - منگل 17 فروری 2026

چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید وجود - منگل 17 فروری 2026

شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر حملے میں6جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے حماس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل ڈیفنس فورسز غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطین...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ وجود - پیر 16 فروری 2026

کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری وجود - پیر 16 فروری 2026

شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری

مضامین
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے وجود بدھ 18 فروری 2026
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان وجود بدھ 18 فروری 2026
روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان

وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار وجود بدھ 18 فروری 2026
وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر