وجود

... loading ...

وجود

تھکاوٹ (Fatigue)

منگل 02 جنوری 2018 تھکاوٹ (Fatigue)

زندگی جیسے جیسے آسان اور سہل ہوتی جارہی ہے ویسے ویسے اس دورِ جدید میں انسانی مصروفیات اس قدربڑھتی جارہی ہیں کہ ہر پل ہر لمحہ انسان مصروف رہتا ہے ۔ اور پھر یہ مصروفیت انسان کی جسمانی اور دماغی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے اور اسی تھکاوٹ کی وجہ سے انسان کی صحت تنزلی کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور اس کی اوسط عمر بھی کم ہونے لگتی ہے ۔ ہم اپنی روزمرہ طرز زندگی میں کچھ ایسا کر رہے ہوتے ہیں کہ جو ہمیں تھکاوٹ کا شکار بنا دیتی ہیں ۔تھکاوٹ ایک عام شکایت اور مرض بنتا جارہا ہے اور بوڑھے اور بڑی عمر کے افراد تو درکنار آج کل نوجوان اوربچے بھی اس مرض کا شکار نظر آتے ہیں ۔ تھکاوٹ کا ایک اہم سبب ذہنی پریشانی اور ڈپریشن بھی ہے جس سے دماغ کے خلیات اور ہارمونز ڈسٹرب ہوجانے سے بدن میں سستی اور پٹھوں میں کھنچائو اور تھکاوٹ ہو جاتی ہے ۔
پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈ ریشن بھی جسم میں توانائی کو کم کر دیتی ہے ۔ پانی کی کمی سے جسم میں خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور پھر اس کے باعث دل کی کار کردگی بھی کم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پٹھوں اور اعضاء کو آکسیجن کی فراہمی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان تھکاوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے ۔
ورزش اور جسمانی سرگرمیوں سے دوری بھی تھکاوٹ کی ایک اہم وجہ ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق صحت مند مگر سست رفتار طرز زندگی کے حاصل افراد اگر ہفتہ میں تین بار کی ورزش کو اپنا معمول بنا لیں تو خود میں بھر پور توانائی اور تھکاوٹ کا کم احساس محسوس کرتے ہیں ۔ روزمرہ کی بنیادپر کی جانے والی ورزش جسمانی مضبوطی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ دل کے نظام کو بھی بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہیں ۔ اس کے علاوہ جسم میں آئرن یا فولاد کی کمی بھی انسان کو کمزور سست اور چڑچڑا بنا دیتی ہے ۔ فولاد کی کمی سے جسم کے خلیات اور عضلات کو آکسیجن کم ملتی ہے جو تھکاوٹ کا باعث بنتے ہیں ۔ اور آئرن کی مستقل کمی سے جسم میں مختلف پیچیدہ مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ آئرن کی کمی جسمانی موٹاپے کا سبب بنتے کے ساتھ ساتھ جسمانی کمزوری اور تھکاوٹ کا باعث بھی بنتی ہے ۔ آئرن کی کمی کو سبز پتوں والی سبزیوں ، انڈوں ، خشک میوہ جات ، اور وٹامن سی کے حامل غذائوں کے استعمال کرنے سے پورا کیا جاسکتا ہے ۔ جبکہ جسم میں وٹامن بی کی کمی بھی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے جس کی کمی کو انڈے ، دودھ ، پنیر، گوشت ، مچھلی اور مرغی وغیرہ سے پور ا کرسکتے ہیں ۔
ناشتہ نہ کرنے کی عادت بھی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے کیونکہ رات کو کھانے کے بعد سونے کے دوران جسم سے حاصل ہونے والی توانائی کو خون کی فراہمی اور آکسیجن کو پھیلانے کے لئے استعمال ہوتی ہے اور صبح کا مکمل اوربھرپور ناشتہ دن بھر اس توانائی کو پور اکرنے میںمدد دیتا ہے جس کی وجہ سے تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا ہے ۔ ناشتے میں دودھ ، فریش جوسسز ، پھل ، انڈے ، اور مغزیات وغیرہ دن بھر کی مصروفیات کے لئے مناسب توانائی فراہم کرتے ہیں ۔
جنک فوڈ یا بہت زیادہ تیل اور چینی والی خوراک جسم میں بلڈ شوگر کو بڑھادیتی ہیں اور پھر کچھ دیر بعد اچانک بلڈ شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے مگر یہ اتارچڑھائو تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے ۔ جبکہ متوازن غذا کا استعمال جسم کو چاق و چو بند رکھنے کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
ہر چیز ہر میدان میں خود کو مکمل اور ماہر ثابت کرنا بھی تھکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق کسی ایسے مقصد کا حصول یا ہدف جس کا حصول نا ممکن ہو تو زندگی میں اس کو حاصل کرنے کے لئے کی جانے والی محنت بلا مقصد اور تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے اور پھر ڈپریشن میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ جبکہ بہت سے لوگوں میں انکار کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے اور وہ ہر شخص کے کہے ہوئے کام کو کرنے کے لئے ہمہ وقت ر ضا مند ہوجاتے ہیں ۔ خاص طور پر اپنے پیاروں ، دوستوں اور عزیزوں میں سے کوئی کسی کام کو کرنے کا کہے تو وہ منع نہیں کر پاتے ہیں اور پھر یہ عادت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو افسر دہ اور چڑچڑاہٹ میں رکھنے کا باعث بن جاتی ہے ۔
کیفین کا زیادہ استعمال بھی جسمانی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ درحقیقت دن کے آغاز میں یعنی نہار منہ کافی یا چائے پینا صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے ۔ کافی سے جسم میں طاقت کم اور تھکاوٹ میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ دن بھرمیں دو سے تین کپ کافی سے زیادہ استعمال نیند اور جاگنے کے سائیکل کو متاثر کر سکتا ہے جس کی وجہ سے تھکاوٹ کا احساس بڑھ جاتا ہے ۔
اس کے علاوہ گھر یا دفتر کی بے ترتیبی بھی ذہنی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے جو فرد کی توجہ ، کام اور صلاحیتوں پر مرکوز کرنے کے بجائے بے ترتیب کر دیتی ہے اور دماغی صلاحیتوں کو بھی محدود کردیتی ہے جبکہ آفس کا کام گھر پر کرنے یا گھر میں آرام کے دوران باربار ای میلز چیک کرنے یا دماغ مسلسل دفتری کاموں میں لگے رہنے کے باعث بھی جسمانی توانائی سے محرومی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ لہذا گھر میں آرام کے دوران جسم اور دماغ کو دفتری امور سے آزاد چھوڑ کر ہی جسم کو اگلے دن کے لئے بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق جسمانی تھکاوٹ کی ایک اہم وجہ نیند کی کمی بھی ہے کیونکہ نیند جسم کی تھکاوٹ دور کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ جسم کو تھکاوٹ سے محفوظ رکھنے کے لئے وقتوں وقتوں میں نیند لینا بہتر اور مناسب نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک گہری اور مکمل نیند کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے نیند پوری کرنے کی کوشش میں انسان مزید تھکاوٹ کاشکار ہو سکتا ہے ۔ سونے کی جگہ یا سونے کے اوقات میںموبائل فون یا لیپ ٹاپ کا استعمال بھی تھکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے ۔ موبائل فون وغیرہ سے خارج ہونے والی مضر صحت شعاعیں جسم میں نیند کو ریگولیٹ کرنے والے ہارمونز کو متاثر کرتی ہیں ،جو نیند پر براہ راست اثر انداز ہو تے ہیں ۔ اور پھر تھکاوٹ کا احساس غالب آجاتا ہے ۔
تھکاوٹ کی ایک بڑی وجہ توانائی کی کمی بھی ہے جو درست خوراک بر وقت نہ لینے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ غذائوں کو غیر فطری انداز میں زیادہ دیر تک پکانے سے ان میںموجود وٹامنز اور معدنی اجزاء ختم ہو جاتے ہیں جن کی انسانی جسم کو ضرورت ہوتی ہے ۔ اور جس کی کمی کی وجہ سے تونائی میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ ذہنی اور جسمانی بیماریاں مثلاََ لوبلڈ پریشر، بلڈشوگر میں کمی ، مختلف انفیکشنز ، جگر کی خرابی اور مختلف ادویات اور غذائوں سے الرجی ، بے خوابی ، ذہنی دبائو اور جذباتی افسردگی وغیرہ بھی تھکاوٹ کا باعث بنتے ہیں ۔
تھکاوٹ سے دور رہنے کے لئے توانائی سے بھر پور ایسی غذائیں استعمال کرنے چاہیئے جن میں مختلف پروٹینز اور فائبر سے بھر پور اجزاء موجود ہوں ۔ نیوٹریشن اسٹڈی (Nutrition Study) نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی کمی جو تھکاوٹ کی ایک بنیادی وجہ ہے ۔ اس سے بچنے کے لئے تربوز کا استعمال بے حد فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ تربوز میں 90 فیصد پانی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ مختلف اقسام کے وٹامنز اور منرلز سے بھی بھر پور ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ پروٹین سے بھرپور غذائیں جسم کو چست اور توانارکھتی ہیں ۔ کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق پنیر کا روزانہ استعمال جسم میں پروٹین کی مقدار کو نارمل رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ جبکہ سبز چائے کا استعمال بھی توانائی فراہم کرتا ہے کیونکہ اس میں Theanine نامی اما ئنو ایسڈ موجود ہوتا ہے جو کسی بھی بیماری کی صورت میں توانائی کے ضیاع کو روکتا ہے ۔
تھکاوٹ کو ختم کرنے کے لئے پوٹاشیم اور کیلشیم پر مشتمل سبزیاں اور پھل بھی فائدہ مند ہوتے ہیں ۔ کیلشیم جسم کو سکون اور آسودگی فراہم کرتے ہیں اور بے خوابی اور تنائو کی کیفیت کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی چیزیں ، پتوں پر مشتمل سبزیاں ، اخروٹ اور بادام وغیرہ کیلشیم کے اچھے ماخذ ہوتے ہیں ۔
طبی تحقیق کے مطابق جوافراد کھانوں کے درمیان اسنکیس کھاتے رہتے ہیں وہ تھکاوٹ کا بہت کم شکار ہوتے ہیں ۔ اوران میں سوچنے کی صلاحیت زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ چست اور مستعد ہوتے ہیں مگر یہ اسنکیس تازہ یا خشک پھلوں، تازہ پھلوں اور سبزیوں کے جوسسز وغیرہ پر مشتمل ہونے چاہیئے۔
سورج کی روشنی میں وقت گزارنے سے بھی تھکاوٹ کے احساس کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق جوافراد سورج کی روشنی میں کم اور گھر پر زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ زیادہ تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق سورج کی روشنی میں کم از کم 15 سے 20 منٹ تک تیز چہل قدمی کرنی چاہیئے جس سے جسم کو مطلوبہ وٹامن ڈی بھی حاصل ہوسکتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق چیونگم چبانے سے انسانی جسم میں چستی اور پھرتی کی سطح بڑھ جاتی ہے ۔ جس سے موڈ پر مثبت اثرات پڑنے کے ساتھ ساتھ توانائی اور دل کی دھڑکن بھی بہتر ہو جاتی ہے ۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر