وجود

... loading ...

وجود

موتیا بند کا علاج۔ صرف آپریشن

منگل 02 جنوری 2018 موتیا بند کا علاج۔ صرف آپریشن

معالجین کا کہنا ہے کہ آپ کی بینائی بالکل صاف ہونی چاہیے ، تاکہ آپ کو سب کچھ واضح نظر آئے اور آپ صحیح طور پر کام کرسکیں، مگر بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا، اس لیے کے وہ عدسہ جو ہماری آنکھ کی پتلی کے پیچھے ہوتا ہے اور روشنی کی شعاعوں کو آنکھ کی پتلی کے پیچھے پردہٴ چشم پر مرتکز کرنے اور ہمیں شفاف و واضح طریقے پر دیکھنے میں مدد دیتا ہے، دھندلا جاتا ہے۔یہ عدسہ پانی اور پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے۔ قدرتی صاف شفاف رہے اور روشنی اس میں سے گزرسکے ۔ ایسا عمر کے ہر حصے میں نہیں ہوتا، اس لئے کہ جب ہم بوڑھے ہونے لگتے ہیں توپروٹین جمنا شروع ہوجاتا ہے اور اس کا لوتھڑا سا بن جاتا ہے، جس سے عدسے کا ایک حصہ دھندلانے لگتا ہے۔ یہ دھند لاہٹ رفتہ رفتہ بڑھنے لگتی ہے۔ اس دھند لاہٹ کو موتیا بند کہتے ہیں۔ دھند لاہٹ بڑھنے پر دیکھنا دشوار ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے دوکروڑافراد موتیا بند میں مبتلا ہیں۔ یہ خرابی بتدریج پیدا ہوتی ہے اور اس کا احساس نہیں ہونے پاتا یا یہ کہ ہم اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ نظر انداز کرنے کی وجہ سے بصارت دھند لاجاتی یا کم زور ہوجاتی ہے۔ پھر کچھ عرصے بعد رات کو دیکھنے میں دشواری پیش آنے لگی ، روشنی کے چاروں طرف دھبّے بن جاتے یا ایک کے دو نظر آنے لگتے ہیں۔ جب بینائی میں یہ خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں تو آپ چشمہ ساز کے پاس جاتے ہیں اور چشمے کا نمبر تبدیل کرنے لگتے یا کانٹیکٹ لینز بدلوا دیتے ہیں۔ حقیقت سے لاعلم ہونے کی بنا پر موتیا بند کا مرض پھیلنے لگتا ہے اور پردہٴ چشم تک روشنی کم پہنچنے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں بصارت مزید دھندلا جاتی ہے۔ موتیا بند تعدیے کی بیماری نہیں ہے، مگر ایک سے دوسری آنکھ میں بھی ہوسکتی ہے۔ موتیا بند کے بڑھنے کی وجہ صرف بڑھاپا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ نے کبھی آپریشن کرایا ہو، موروثی طور پر والدین سے یہ مرض آپ تک پہنچ گیا ہو، آنکھ میں چوٹ لگ گئی ہو، آپ کو ذیابیطس ہوچکی ہو، آپ نشہ آور چیز استعمال کرنے لگے ہوں ، ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوں، آپ نے تمباکو نوشی شروع کردی ہو یاآپ پر مٹاپا طاری ہوگیا ہو، تب بھی موتیا بند کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ جب موتیا بند کا ابتدائی مرحلے میں علاج نہیں کرایا جاتا یا بیماری کے بارے میں علم نہیں ہوپاتا تو مریض نابینا ہوجاتا ہے۔ موتیا بند کا آپریشن کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہے۔ علاج سے ممکن ہے کہ معمولی سا فائدہ ہوجائے، لیکن موتیا بند آپریشن ہی سے ختم ہوتا ہے۔ آپریشن کرنے کا فیصلہ معالج ہی کرتا ہے کہ بصارت میں دھند لاہٹ کس تناسب سے گھٹ یا بڑھ رہی ہے۔ کسی وجہ سے وہ آپریشن کو وقتی طورپر ملتوی بھی کرسکتا ہے، مگر اسے ترک نہیں کرسکتا، چناں چہ مریض کو اس سے مستقل رابطہ رکھنا چاہیے۔ اگر بینائی چشمے کے شیشے تبدیل کرنے پردرست نہ ہو، مطالعے میں پریشانی ہورہی ہو، رات کو صحیح نظر نہ آرہا ہو یا ڈرائیونگ میں دشواری پیش آرہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لازماََ آپریشن کروالینا چاہیے۔ آپریشن عدسے کا کیا جاتا ہے اور اس کو ہٹا کر مصنوعی عدسہ لگادیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی معالج عدسے کو نہیں نکالتا اور بینائی کو درست رکھنے کے لیے کانٹیکٹ لینز لگادیتا ہے۔ اس کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ عدسے کو لیزر شعاعوں سے توڑ دیا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ اسپتال کے بستر پر نہیں لیٹنا پڑتا ۔ اس سرجری کوکرانے میں کوئی نقصان نہیں ہے اور مریض کوکوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑتی۔ عموماََ دس سے پندرہ روز میں زخم مندمل ہوجاتے ہیں۔ اگر دونوں آنکھوں میں موتیا بند ہوتو آپریشن باری باری کیا جاتا ہے او ر دو سے چار ہفتوں کا وقفہ رکھا جاتا ہے۔ مصنوعی لینزوں کی اب بہت سی اقسام بازار میں آچکی ہیں۔ آئی کیمپوں میں عموماََ مریضوں کو یہی لینز لگائے جاتے ہیں۔ مصنوعی لینزوں میں تہ کیے جانے والے لینزوں کی مانگ زیادہ ہے۔ آپریشن کرانے کے بعد پابندی سے ہر سال ماہر چشم سے آنکھوں کا معائنہ کرانا ضروری ہے، ایسے میں جب کہ عمر 40 برس سے تجاوز کرچکی ہو یہ معائنہ اور بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بینائی میں کوئی فرق محسوس ہوتو معالج سے فوری رابطہ کرنا چاہیے۔ تاریک شیشوں کا چشمہ لگائیں۔ کوشش کریں کہ آنکھوں پر براہ راست دھوپ نہ پڑے ۔ توانائی بخش غذائیں کھائیں، تمباکو نوشی ترک کردیں اور ذیابیطس کو قابو میں رکھیں ۔ ان احتیاطوں سے موتیا بند کا مرض تیزی سے نہیں بڑھے گا اور آپ کی بینائی تادیر قائم رہے گی۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر