وجود

... loading ...

وجود

افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت

جمعه 29 دسمبر 2017 افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت

پاکستان اور چین نے افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی ہے، بیجنگ میں سہ فریقی کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام فریق باہمی روابط کو فروغ دیں گے۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا،تینوں ممالک کے مابین سیاسی مصالحتی عمل کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا،چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے انتہا پسندی کا خاتمہ بہت ضروری ہے،پاکستان اور چین افغانسان میں امن چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین خطے میں امن کو فرغ دینے کے لیے اربوں ڈالر مالیت کے اقتصادی راہداری منصوبے کو افغانستان تک وسعت دینا چاہتا ہے اور امید ہے وہ اِس منصوبے کا حصہ بن جائے گا۔ سی پیک کی وجہ سے خطے میں ترقی ہو گی، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن و استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے، ہماری سرحدیں ملتی ہیں اِس لیے امن ہمارا مشترکہ مشن ہے، ہم چین کے پْرامن ہمسائیگی کے نظریئے سے متفق ہیں، مستقبل کی ترقی اور امن ہم سب کے مفاد میں ہے، مذاکرات میں سرحدی انتظام اور معلومات کے تبادلے پر زور دیا گیا اور افغانستان سے تعاون کو فروغ دینے کے لیے راستے تلاش کیے گئے۔ پاکستان اور چین نے افغانستان کو اقتصادی راہداری کے منصوبے میں شمولیت کی جو دعوت دی ہے توقع کرنی چاہئے کہ افغانستان کی طرف سے اس کا مثبت جواب آئے گا،کیونکہ سی پیک، چینی صدر کے وڑن ’’وَن بیلٹ ون روڈ‘‘ کا ہی حصہ ہے، جس کے تحت تین براعظم آپس میں خشکی کے راستے مل جائیں گے اور ساٹھ سے زیادہ ممالک اِس سے مستفید ہوں گے اِس لیے اگر افغانستان بھی اِس منصوبے میں شامل ہوتا ہے تو اِس کا سب سے زیادہ فائدہ اْسے یہ ہو گا کہ گوادر کی بندرگاہ تک رسائی بھی مل جائے گی، جہاں سے اْس کی برآمدات اور درآمدات براستہ سڑک افغانستان سے آ اور جا سکیں گی۔

اِس وقت بھی اْس کی درآمدات و برآمدات پاکستان کے ذریعے ہی آتی جاتی ہیں،کیونکہ افغانستان کی اپنی کوئی بندرگاہ نہیں اور وہ خشکی سے گِھرا ہْوا مْلک ہے، تاہم افغان تجارت کی وجہ سے پاکستان میں سمگلنگ کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا ہے،کیونکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت،افغانستان جو اشیا درآمد کرتا ہے، اْن کی وہاں کوئی مارکیٹ نہیں اور نہ ہی اْن اشیائے تعیش کا کوئی خریدار ہے، اور اگر ہیں تو بہت ہی کم،بلکہ نہ ہونے کے برابر،افغانستان کا یہ مال پاکستان کے قبائلی علاقے میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں سے پورے مْلک میں پھیل جاتا ہے، اگر یہ مال باقاعدہ طور پر درآمد ہو تو پاکستان کو کسٹمز اور ڈیوٹیوں کی مد میں کروڑوں روپے کی آمدنی ہو سکتی ہے،لیکن قبائلی تاجروں اور افغان حکام کے باہمی گٹھ جوڑ کی وجہ سے یہ تجارت ہوتی ہے جو حقیقت میں سمگلنگ ہی ہے، طرفہ تماشا یہ ہے کہ جب یہی مال فروخت کے لیے قبائلی علاقوں سے باہر نکل کر دوسرے شہروں میں جاتا ہے تو کسٹمز حکام جگہ جگہ چھاپے مارتے ہیں اور اِس مال کو یا تو ضبط کر لیتے ہیں یا اس پر بھاری ڈیوٹی اور جرمانہ عائد کر دیتے ہیں۔اگر سی پیک کے منصوبوں کے ذریعے افغانستان پاکستان کے ساتھ منسلک ہو جائے تو گوادر کی بندرگاہ اس کے تجارتی سامان کے لیے بآسانی استعمال ہو سکتی ہے،بلکہ آگے بڑھ کر وسط ایشیائی ممالک تک اس رابطے کو وسعت دی جا سکتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے حکام جہاں کہیں بھی ملتے ہیں اْن میں پْرجوش مصافحے اور معانقے ہوتے ہیں۔گرمجوشی کا اظہار بھی ہوتا ہے وعدے وعید بھی کیے جاتے ہیں، ایک دوسرے کو برادر مسلمان مْلک کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے،لیکن جونہی یہ اپنے اپنے ممالک میں واپس آتے ہیں کبھی حامد کرزئی اور کبھی اشرف غنی پاکستان کے خلاف الزام تراشی پر اْتر آتے ہیں اور افغانستان کی مشکلات کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں،ہر بار یہ عہد بھی کیا جاتا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا،لیکن بھارت افغانستان میں بیٹھ کر یہی کام کر رہا ہے اس کے تربیت یافتہ دہشت گرد پاکستان میں آ کر کارروائیاں کرتے ہیں۔گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اِس راز سے تفصیلی پردہ اٹھا دیا ہے، بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ادارے کے باہمی روابط بھی آشکار ہو چکے ہیں،اِن سب حقائق کے باوجود پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت جاسوس یادیو کے اہلِ خانہ کی اسلام آباد میں ملاقات کرائی تو بھارتی حکام نے اْن کے جوتوں میں میٹل چِپ لگا کر بھیج دی جب لیبارٹری تجزیئے کے لیے یہ جوتے روک لیے گئے تو بھارتی حکام نے ملاقات کی نیکی کو سرے سے نظر انداز کر کے پاکستان پر نئی الزام تراشی شروع کر دی اور بھارتی میڈیا بھی اِس مہم میں اپنی حکومت کا ہمنوا ہو گیا، حالانکہ اِس فراخ دِلی پر پوری دْنیا میں پاکستان کے اقدام کی تعریف ہو رہی ہے۔

امریکا نے بھارت کو افغانستان میں جو نیا کردار دیا ہے اس کا فائدہ اْٹھا کر بھی بھارت نئی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے،ایسے میں یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ اگر افغانستان کو سی پیک کے منصوبوں میں شامل کیا جائے گا تو وہ بھارت کے ساتھ مل کر اِن منصوبوں کو تار پیڈو نہیں کرے گا، افغانستان کو کی جانے والی پیشکش اپنی جگہ جتنی بھی نیک نیتی سے کی گئی ہو، بھارت اپنے خبثِ باطن سے باز آنے والا نہیں،کیونکہ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کانفرنس کے لیے جب بھارت کو بیجنگ کانفرنس میں دعوت دی گئی تو اس نے یہ دعوت مسترد کر دی تھی اور بعد میں سی پیک پر بھی لایعنی اعتراض جڑ دیا جو چین کے صدر شی چنگ پنگ نے مسترد کر دیا اِس کے باوجود چینی قیادت نے عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی،لیکن اِس منصوبے پر بھارت کی تیوڑی ابھی تک چڑھی ہوئی ہے،اِس لیے جب افغانستان کو منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے تو یہ پس منظر بھی سامنے رکھا جائے،کہیں کل کلاں بھارت افغانستان کے ذریعے ہی کوئی واردات نہ کر ڈالے۔اگر افغانستان خلوصِ نیت سے اور بھارتی سحر سے آزاد ہو کر منصوبے میں شامل ہوتا ہے تو چشمِ ما روشن دِل ماشاد۔
(تجزیہ)


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر