وجود

... loading ...

وجود

بچوں کے ساتھ شفقت اور حسن سلوک کی فضیلت

جمعه 29 دسمبر 2017 بچوں کے ساتھ شفقت  اور حسن سلوک کی فضیلت

مفتی محمد وقاص رفیعؔ
اسلام جس طرح بڑوں ، بوڑھوں اور بزرگوںکی عزت کرنے اور اُن کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے ، اسی طرح چھوٹے ،کم سن،اور معصوم بچوں کے ساتھ بھی شفقت و مہربانی اور حسن سلوک کی ترغیب دیتا ہے۔ اورجس طرح ہمارے بڑے، بو ڑھے، اور عمر رسیدہ بزرگ حضرات ہماری توجہ کا مرکز ہیں اسی طرح ہمارے کم سن ، چھوٹے اور معصوم بچے بھی ہمارے لاڈ پیار، شفقت و محبت اور حسن سلوک کے حق دار ہیں۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر شعبۂ زندگی کے افراد کے ساتھ حسن سلوک مثالی اور قابل تقلید تھا ہی،لیکن کم سن، چھوٹے اور معصوم بچوں کے ساتھ جو آپ کا حسن سلو ک اورلاڈ پیارتھاوہ بھی خاصا قابل رشک و قابل دید تھا۔

چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضورؐ منبر پر بیٹھے ہوئے لوگوں میں بیان فرمارہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسینؓ بن علی ؓ (گھر سے) نکلے ، اُن کے گلے میں کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جو لٹک رہا تھا اور زمین پر گھسٹ رہا تھا کہ اُس میں اُن کا پاؤں اُلجھ گیااور وہ زمین پر چہرے کے بل گرگئے ۔ حضورؐ اُنہیں اُٹھانے کے ارادے سے منبر سے نیچے اُترنے لگے۔صحابہؓ نے جب حضرت حسینؓ کو گرتے ہوئے دیکھا تو اُنہیں اُٹھا کرحضورؐ کے پاس لے آئے ، حضور ؐ نے اُنہیں لے کر اُٹھا لیا، اور فرمایا : ’’شیطان کو اللہ مارے ! اولاد تو بس فتنہ اور آزمائش ہی ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ میں منبر سے کب نیچے اُتر آیا، مجھے تو بس اُس وقت پتہ چلا جب لوگ اس بچے کو میرے پاس لے آئے۔‘‘(معجم طبرانی)
حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ حضورؐ سجدے میں تھے کہ حضرت حسنؓ بن علیؓ آکر آپؐ کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے، پھر حضورؐ اُنہیں ہاتھ سے پکڑ کر کھڑے ہوگئے ، پھر جب حضورؐ رکوع میں گئے تو وہ حضورؐ کی پشت پر کھڑے ہوگئے، پھر حضورؐ نے اُٹھ کر اُنہیں چھوڑدیاتو وہ چلے گئے۔‘‘ (مسند بزار)

حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضورؐ سجدے میں ہیں کہ اتنے میں حضرت حسنؓ بن علیؓ آکر حضورؐ کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے، آپؐ نے اُنہیں نیچے نہ اُتارا(بلکہ یوں ہی آپؐ سجدے میں رہے) یہاں تک کہ وہ خود ہی نیچے اُترے ۔ اور آپؐ اُن کے لیے دونوں ٹانگیں کھول دیا کرتے اور وہ ایک طرف سے آکر حضورؐ کے نیچے سے گزر کر دوسری طرف سے نکل جاتے۔‘‘(معجم طبرانی)

حضرت اسود بن خلفؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ حضور ؐ نے حضرت حسن ؓبن علیؓ کو پکڑ کر اُن کا بوسہ لیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’آدمی اولاد کی وجہ سے کنجوسی کرتا ہے اور نادانی والے کام کرتا ہے( بچوں کی وجہ سے لڑ پڑتا ہے) اور اولاد کی وجہ سے آدمی بزدلی اختیار کرلیتا ہے(کہ میں مرگیا تو میرے بعد بچوں کا کیا ہوگا؟)(مسند بزار)
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’حضورؐ اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ شفقت کرتے تھے۔ حضورؐ کا ایک صاحب زادہ تھا جو مدینہ کے کنارے کے محلے میں کسی عورت کا دودھ پیا کرتا تھا ، اس عورت کا خاوند لوہار تھا ، ہم اُسے ملنے جایا کرتے تو اُس لوہار کا سارا گھر بھٹی میں اِذخر نامی گھاس جلانے کی وجہ سے دھوئیں سے بھرا ہوا ہوتا تھا ۔ حضورؐ اپنے اس بیٹے کو چوما کرتے اور ناک لگاکر اسے سونگھا کرتے تھے۔‘‘(الادب المفرد)

حضرت ابو قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ نبی کریمؐ باہر ہمارے پاس تشریف لائے ، آپؐ کے کندھے پر ( آپؐ کی نواسی) حضرت اُمامہ بنت ابی العاصؓ بیٹھی ہوئی تھیں، آپؐ نے اسی طرح نماز پڑھنی شروع کردی، جب رکوع میں جاتے تو اُنہیں نیچے اُتار دیتے ، اور جب (سجدے سے) سر اُٹھاتے تو اُنہیں پھر اُٹھاکر بٹھالیتے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲/۸۸۷)

حضرت معاویہؓ فرماتے ہیں کہ : ’’میں نے دیکھا کہ حضور ؐ حضرت حسنؓ بن علیؓ کی زبان اور ہونٹ کو چوس رہے تھے،اور جس زبان اور ہونٹ کو حضورؐ نے چوسا ہو اُسے کبھی عذاب نہیں ہوسکتا۔‘‘ (مسند احمد)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک دن ہم (میں، میری والدہ اور میری خالہ اُم حرام) نبی کریم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے…آپؐ کے گھر والوں نے ہمارے لیے دُنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی دعاء کی۔ میری والدہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہؐ! آپؐ کا یہ چھوٹا سا خادم انس ہے،آپؐ اس کے لیے دُعاء فرمایئے! اس پر آپؐ نے میرے لیے ہر طرح کی بھلائی کی دُعاء فرمائی اور آخر میں فرمایا: ’’اے اللہ! اس کے مال اور اس کی اولاد میں میں کثرت عطاء فرمااور اس کو برکت نصیب فرما!۔‘‘ (الادب المفرد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک آدمی حضور ؐ کی خدمت میں آیا، اُس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا ، جسے وہ (ازراہِ شفقت) اپنے ساتھ چمٹانے لگا۔ حضورؐ نے پوچھا: ’’کیا تم اِس بچے پر رحم کر رہے ہو؟‘‘اُس نے کہا: ’’جی ہاں!۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا: ’’تم اس پر جتنا رحم کھا رہے ہو ، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ تم پر رحم فرمارہے ہیں۔ وہ تو ارحم الراحمین ہیں۔ تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘ (الادب المفرد)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیاں لے کرحضرت عائشہ ؓ کے پاس آئی، حضرت عائشہؓ نے اُسے تین کھجوریں دیں ،اُس نے ہر بیٹی کو ایک کھجور دی اور ایک کھجور اپنے منہ میں رکھنے لگی ، وہ دونوں بچیاں اُسے دیکھنے لگیں ، اِس پر اُس نے (اِس کھجور کو نہ کھایا بلکہ) اُس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا اور چلی گئی۔ پھر حضورؐ تشریف لائے تو اُس عورت کا یہ قصہ اُنہوں نے حضورؐ کو بتایا۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’وہ اپنے اِس (مشفقانہ رویہ کی) وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی ہے۔‘‘(مسند بزار)

حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ نبی کریمؐ نے حضرت حسن کا بوسہ لیا تو حضرت اقرع بن حابسؓ نے حضورؐ سے عرض کیا: ’’میرے تو دس بچے پیدا ہوئے ہیں ، میں نے تو اُن میں سے ایک کا بھی کبھی بوسہ نہیں لیا۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا: ’’جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اُس پر رحم نہیں فرماتے۔‘‘(معجم طبرانی)

حضرت نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں اُن کے والد (ایک مرتبہ بچپن میں) اُن کو لے کر رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ اُنہیں گود میں لیے ہوئے تھے، اُن کے والد نے رسول اللہ ؐ سے عرض کیا : ’’یا رسول اللہؐ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے نعمان کو یہ یہ چیزیں دے دیں۔‘‘ آپؐ نے پوچھا: ’’تم نے اپنے سارے بچوں کو دیا ہے؟۔‘‘ عرض کیا کہ: ’’نہیں!۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’تو پھر کسی اور کو گواہ بناؤ!۔‘‘اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہارے سارے بچے تمہارے ساتھ حسن سلوک کرنے میں برابر ہوں ؟۔‘‘ عرض کیا: ’’کیوں نہیں!۔‘‘ تو آپؐ نے فرمایاکہ : ’’ پھر ایسا نہ کرو!۔‘‘(الادب المفرد)
حاصل یہ کہ بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کرنا،اُن کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا، اُن پر شفقت و مہربانی کرنا،اُن کے ساتھ حسن سلوک میں برابری کرنا قرآن و حدیث اوراسلامی تعلیمات کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے ، اس سے جہاں ایک طرف بچوں سے معمور گھر ہنستا مہکتا ہے تو وہیں دوسری طرف اِس سے خوش ہوکر اللہ تعالیٰ رحمتوں ا ور برکتوں کی ٹھنڈی اور تازہ ہوائیں چلادیتے ہیں۔
ژ ژ


متعلقہ خبریں


آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا وجود - منگل 10 مارچ 2026

100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

مضامین
منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ وجود بدھ 11 مارچ 2026
بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ

ایران پر حملے وجود بدھ 11 مارچ 2026
ایران پر حملے

امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر