وجود

... loading ...

وجود

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

اتوار 17 دسمبر 2017 اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

ظریف بلوچ
مکران کے ساحلی علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں اور یہاں سمندری معدنیات کے وسیع ذخائر زمانہ قدیم سے موجود ہیں جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکران کے سمندر میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ جیوانی سے گڈانی تک پھیلا ہوا سمندر تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے ایک اہم خطہ ہے۔ ساحلِ مکران کے دیدہ زیب حسن میں ایک جزیرہ ’’اسٹولا‘‘ بھی شامل ہے۔ اسٹولا جزیرہ تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جزیرہ نہ صرف قدرتی حسن کے دلفریب مناظر کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہاں نایاب نسل کی سمندری مخلوقات پائی جاتی ہیں اور اسٹولا کو مونگے کی چٹانوں (coral reef) کا گھر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کئی اقسام کے کورل ریف موجود ہیں۔
بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی سے 39 کلومیٹر جنوب مشرق کی طرف واقع اسٹولا جزیرہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ ماہرین اسے ایک درمیانے درجے کا جزیرہ کہتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ’’ہفت تلار‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہفت تلار بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ایسی ’’سات چوٹیاں‘‘ ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں۔ اس نام کے بارے میں مقامی لوگوں کی مختلف آراء ہیں اور جب میں نے مقامی لوگوں سے پوچھا تو اْن کا کہنا تھا کہ یہ نام ان سے کئی نسلوں پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یعنی ہفت تلار کا نام کئی نسل پہلے کے لوگوں نے رکھا تھا۔
ماضی بعید میں یہ ساحلی علاقہ نہ صرف ایک تجارتی مرکز تھا بلکہ تجارتی گزرگاہ کا درجہ بھی رکھتا تھا۔ یہاں زیادہ تر ہندو اور اسماعیلی لوگ کاروبار اور تجارت کیا کرتے تھے۔ مکران کے ساحلی شہر پسنی سے اسٹولا کا سفر کشتیوں سے تین سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے جبکہ اسپیڈ بوٹ پر اسٹولا کا سفر ایک گھنٹے سے کم کی مسافت پر ہے۔ اسٹولا جانے والے سیاحوں کو اسپیڈ بوٹ کی بکنگ پسنی ہی سے کروانی پڑتی ہے۔ کراچی سے سیاحوں کی بڑی تعداد اسٹولا کی سفر کو آتی ہے۔
اسٹولا جزیرہ 6.7 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے جس کی لمبائی 6.7 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی 2.3 کلومیٹر ہے۔ یہ سطح سمندر سے 246 فٹ تک بلند ہے۔ اسٹولا کی قدیم تواریخ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہاں ہزاروں سال پہلے انسانوں کی آمدورفت تھی۔ اسٹولا کی دریافت کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ 325 قبل مسیح کے یونانی دور میں یہ جزیرہ دریافت ہوا لیکن اس کی تصدیق میں تاریخی دستاویز دستیاب نہیں۔ مکران کے ساحلی علاقوں میں آنے والے زلزلوں سے اسٹولا کا پچھلا حصہ سمندر برد ہوتا جارہا ہے اور سمندر کی تیز لہروں کے بھی جزیرے کے عقبی حصے سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کا ایک حصہ سمندر کی نذر ہوتا جارہا ہے جس کے باعث جزیرے پر پڑنے والی بڑی دراڑیں بھی نمایاں نظر آنے لگی ہیں۔
پانچویں صدی عیسوی کے معروف یونانی مؤرخ ’ہیروڈوٹس‘ نے اپنی مرتب کردہ تواریخ میں مکران کا ذکر کرتے ہوئے اس ساحل کے قریب جن چار جزیروں کی نشاندہی کی ہے ان میں ایک اسٹولا بھی تھا۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ جن چار جزیروں کی ہیروڈوٹس نے نشاندہی کی تھی، ان میں سے تین سمندر برد ہو چکے ہیں جبکہ اسٹولا چوتھا جزیرہ ہے، جو آج بھی موجود ہے۔
یونانی تاریخ میں غالباً مکران کے جس جزیرے کو ’’نوسالا‘‘ کہا گیا ہے، وہ آج کا اسٹولا ہے۔ یونانیوں کے مطابق اس جزیرے پر دیوی ’افریدس‘ کا گھر تھا اور جب بھی کوئی کشتی جزیرے کے قریب سے گزرتی تو افریدس، کشتی پر موجود لوگوں کو مچھلی بنا کر سمندر میں چھوڑ دیتی تھی۔
تاریخ میں ایک اور روایت یہ ہے کہ سکندرِاعظم کی مقدونیائی بحری فوج جب یہاں پہنچی تو اس فوج کے سربراہ کے مطابق اس جزیرے میں بیش بہا قیمتی ہیرے اور جواہرات موجود تھے۔ اس کے بعد مصر اور یونان سے بڑی تعداد میں بیوپاریوں نے جزیرہ اسٹولا کا رخ کرلیا لیکن وہ ناکام ہوکر واپس چلے گئے۔ اگرچہ ہیرے جواہرات کا قیاس ناقص سہی، مگر آج کے دور میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے سمندر میں تیل و گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں جو مکران کے ساحل سے لے کر خلیج فارس تک جاتے ہیں۔ سمندر میں لاوا اْبلنے اور جزیرے نمودار ہونے کی ایک وجہ یہ ذخائر بھی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مکران کے ساحلی علاقوں میں میتھین گیس کے ذخائر موجود ہیں جن کے اچانک پھٹ پڑنے سے سمندر کی تہہ سے جزیرے نکلتے ہیں جو کچھ عرصے کے بعد واپس سمندر برد ہوجاتے ہیں۔ حال ہی میں گوادر کے قریب ایک جزیرہ برآمد ہوا ہے جبکہ ہنگول کے علاقے میں آتش فشاں پہاڑ بھی موجود ہیں جن پر ہر وقت لاوا ابلتا رہتا ہے۔
اسٹولا جزیرے کے بارے میں بعض لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ یہ ایک زمانے میں باقاعدہ خشکی کا حصہ تھا جو ایک طاقت ور زلزلے کے بعد جدا ہو کر سمندر میں جا پہنچا۔ اس روایت سے ملحقہ اپنی رائے کی مضبوطی کے لیے وہ پسنی کے شمال میں سمندر کے کنارے پر موجود ’’ذرین‘‘ نامی پہاڑ کو اسٹولا کا بچھڑا ہوا حصہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب اسٹولا جزیرے کی قدیم تواریخ پر محدود تحقیق کی وجہ سے بعض آراء کی دستاویزی تصدیق ممکن نہیں۔ مقامی لوگ تعلیم اور تحقیق سے کم واقفیت کی وجہ سے اسٹولا کی تاریخ کے حوالے سے صرف روایت پر یقین رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں قدیم ادوار میں اسٹولا پر کی گئی تحقیق کا بیشتر حصہ غیرملکی مؤرخین اور محققین کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ اس کے برعکس اسٹولا کے بارے میں مقامی افراد یا تو سینہ بہ سینہ تواریخ پر انحصار کرتے ہیں یا روایات پر جو وہ نسل درنسل اپنے بزرگوں سے سنتے آرہے ہیں۔ ایسے میں اسٹولا کی درست تاریخ کا تعین خاصا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔البتہ غالب امکان ہے کہ پسنی کی حالیہ آبادی دو سو سے تین سو سال سے یہاں موجود ہے جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پسنی سے ملحقہ علاقہ کلمت ماضی میں تجارتی حوالے سے اہم علاقہ تھا اور سولہویں صدی کے حمل جہند اور پرتگیزیوں کی جنگ سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔
عرب اسٹولا جزیرے کو ’’استالو‘‘ کے نام سے جانتے ہیں جبکہ ہندو روایات میں اس کا نام ’ستادیپ‘ ہے۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا عقیدہ ہے کہ ’’مہاکالی‘‘ المعروف ’’بھوانی‘‘ کا مندر اس جزیرے پر تھا اور مہاکالی ہر روز نہانے کیلیے یہاں سے ہنگلاج جایا کرتی تھی۔ اس وقت بھی اسٹولا جزیرے پر ہندوؤں کا ایک مندر موجود ہے جبکہ اس کے علاوہ پسنی شہر میں ہندوؤں کا کوئی بھی مندر موجود نہیں۔ (ہنگلاج میں ہندوؤں کا مندر ’نانی پیر‘ ہے جو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے ہنگول میں واقع ہے۔ یہاں ہنگول دریا بھی بہتا ہے۔ ہنگلاج میں ہر سال ہزاروں ہندو یاتری زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مہاکالی دراصل نانی پیر نامی عبادت گزار خاتون کو دیکھنے کیلیے جزیرہ اسٹولا سے ہنگلاج جاتی تھی۔)
اس جزیرے پر ساحل کے راستے داخل ہوتے ہی سامنے حضرت خضر سے منسوب ایک مزار آج بھی موجود ہے جس کے بارے میں مقامی روایت یہ ہے کہ وہ علاقے کو ناگہانی طوفانوں سے بچاتا ہے۔ اسٹولا کے علاوہ پسنی شہر کے دیگر مقامات پر بھی حضرت خضر کے مبینہ ٹھکانے موجود ہیں اور علاقے میں اس روایت کے ماننے والے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ حضرت خضر زندہ پیر ہیں۔
حکومت پاکستان نے 1982 میں جزیرے پر لائٹ ہاؤس سسٹم بھی نصب کیا تھا اور 1987 میں اس سسٹم کو شمسی توانائی سے منسلک کیا؛ آج جزیرے پر اس کی باقیات ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کا تحفظ تھا کہ وہ رات کے اوقات میں جزیرے سے ٹکرا نہ جائیں۔ مقامی ماہی گیر کہتے ہیں کہ ماضی میں راستہ تلاش کرنے میں یہ سسٹم کارآمد ثابت ہوا۔ اس وقت ماہی گیروں کے پاس جدید آلات کی کمی تھی اور یہ ساحل ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ بھی ہے۔
اسٹولا جزیرے پر آبی پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جبکہ اس جزیرے کا ساحل بعض آبی پرندوں کا قدرتی مسکن بھی ہے۔ سائبیریا سے ہر سال نقل مکانی کرکے مکران کے ساحل کا رخ کرنے والے آبی پرندے بھی اسٹولا کے ساحل کو اپنا عارضی ٹھکانہ بناتے ہیں جبکہ سردیوں کے موسم میں یہاں نایاب ہجرتی پرندے (مائیگریٹری برڈز) بھی آتے ہیں۔
اسٹولا جزیرے کے ساحل پر سبز کچھوے اور ہاک بل کچھوے بھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ سبز کچھووں اور ہاک بل کچھووں کے بِل بھی ساحل کے قریب موجود ہیں جبکہ وہ انڈے بھی اسٹولا کے ساحل پر دیتے ہیں۔ حیاتیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ساحل سبز کچھووں کی افزائشِ نسل کا علاقہ (نیسٹگ ایریا) ہے کیونکہ یہ مکران کے دیگر ساحلوں کی نسبت خاصا محفوظ ہے۔ اسٹولا کے ساحل پر جا بجا سبز کچھووں کے بِل (نیسٹ) نظر آتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سبز کچھووں کی نسل دنیا بھر سے معدوم ہوتی جارہی ہے اور اس تناظر میں اسٹولا کے ساحل پر آبادی نہ ہونے کی وجہ سے یہ جگہ سبز کچھووں کو افزائشِ نسل کے لیے بہترین پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں اس بات پر شدید تشویش بھی ہے کہ یہاں آنے والے سیاح بحری حیات (میرین لائف) کے بارے میں آگہی نہ ہونے کے باعث سبز کچھووں کیلیے خطرہ بن رہے ہیں۔
اسٹولا کے ساحل کے قریب ماہی گیر بھی شکار کرتے ہیں اور وقتا فوقتاً ساحل پر کیمپ لگاتے ہیں جس سے سمندری مخلوق کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سبز کچھوے کی مادہ اس وقت انڈے دیتی ہے جب روشنی اور شور نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹولا کے جزیرے کو ماہرین سبز کچھووں کی بقاکیلیے بہترین مقام تصور کرتے ہیں۔ البتہ ماہرین اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ ماہی گیروں کے جالوں میں کچھوے پھنس جاتے ہیں اور امدادی انتظام نہ ہونے کے باعث ان میں سے بیشتر کچھوے مرجاتے ہیں۔ حال ہی میں حکومت پاکستان نے جون 2017 میں اسٹولا کو ’’میرین لائف پروٹیکٹڈ ایریا‘‘ قرار دیا ہے جہاں ہر اس عمل کی ممانعت ہے جس سے بحری حیات (میرین لائف) کو خطرہ ہو۔ اس ضمن میں اسٹولا پاکستان کا واحد میرین لائف پروٹیکٹڈ ایریا ہے۔
ماہرِینِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ اسٹولا جزیرہ مونگے کی چٹانوں (Coral reefs) کا گھر اور مختلف الاقسام آبی حیات کیلیے بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ساحل بہت سی اقسام کے آبی پرندوں اور جانوروں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے جو مختلف اقسام کی آبی حیات کیلیے بہت ضروری ہے۔جزیرے کے قریب ماہی گیر اکثر شکار کرکے رات اسٹولا کے ساحل پر گزارتے ہیں مگر بعض ماہرین کی اس بارے میں رائے یہ ہے کہ جزیرے کے قریب ماہی گیروں کے جال کچھووں کیلیے نقصان دہ ہیں جو اْن کی نسل خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ کچھووں کی محفوظ افزائش نسل یقینی بنانے کیلیے ضروری ہے کہ جزیرے کے قریب شکار نہ کیا جائے اور جزیرے کے قریب سے جال کے ٹکڑے صاف کیے جاتے رہیں۔
اسٹولا جزیرہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایک سیاحتی مقام ہے جہاں سیاح سیر کرنے اور ماہرین تحقیق کرنے آتے رہتے ہیں۔ تاہم سیاحوں کے کم تعداد میں یہاں آنے کی اہم وجوہ میں یہ باتیں بھی شامل ہیں کہ اسٹولا جانے والوں کو اپنی کیمپنگ خود کرنا پڑتی ہے اور بوٹ کی بکنگ بھی خود ہی کروانی ہوتی ہے۔ اسٹولا جزیرے پر میٹھے پانی کے ذخائر موجود نہیں اس لیے وہاں جانے والوں کو اپنے ساتھ میٹھا پانی بھی وافر مقدار میں لے جانا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جزیرے پر سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے اقدامات کرے مگر سیاحت یا کسی اور قسم کی سرگرمی کا انتظام کرتے ہوئے اس چیز کا خیال بھی رکھا جائے کہ جزیرے کے قدرتی حسن اور یہاں موجود آبی حیات بشمول پرندوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔


متعلقہ خبریں


اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

مضامین
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے وجود پیر 16 مارچ 2026
منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ وجود پیر 16 مارچ 2026
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر