وجود

... loading ...

وجود

سابق وزیراعظم کا دورہ ناکام، سعودی شاہ نے نوازشریف کو ہری جھنڈی دکھادی

پیر 30 اکتوبر 2017 سابق وزیراعظم کا دورہ ناکام، سعودی شاہ نے نوازشریف کو ہری جھنڈی دکھادی

حکمران مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نوازشریف حسب توقع سعودی عرب کا قریباً ایک ہفتہ طویل ناکام دورہ کرکے واپس برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔حیرت اس بات پر نہیں کہ سعودیوں نے ہری جھنڈی دکھا دی ہے، بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ نوازشریف نے سعودیوں کو کب سے اتنا بے وقوف سمجھ لیا کہ وہ اب بھی ان کی محبت میں گرفتار ہیں اور اس بار بھی نوازشریف کو بچانے کے لیے کوئی کردار ادا کریں گے۔ عین ممکن ہے کہ ان کو امریکیوں نے کوئی روشنی کی کرن دکھائی ہو کہ ہم سعودیوں سے تمہارا ایک بار پھر معاملہ کرا دیں گے، مگر یمن اور ایران کے معاملہ پر نوازشریف کے لگائے زخم ابھی تازہ ہیں کہ جس طریقہ سے ذلت آمیز طریقہ سے نوازشریف نے سعودیوں کی فوجی امداد کی درخواست رد کی تھی وہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، کیونکہ پاکستان نے اپنے ایک مخلص اور دیرینہ و قابل اعتماد دوست و برادر ملک کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اختیار کیا۔ اسی طرح جنرل راحیل شریف کے سعودیہ جانے کی راہ میں جو رکاوٹیں ڈالی گئیں وہ تو ابھی چند ماہ قبل کی بات ہے۔اب یہ کہنے میں کوئی باق نہیں ہے کہ سابق تین بار کے وزیراعظم نے بارہا ملکی مفاد کے خلاف محض اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے اور کئی بار امریکیوں و بھارت کو خوش کرنے کے لیے ملکی خارجہ پالیسی کے چیتھڑے اڑا دیے اور دفتر خارجہ کے مخلص سفارتکار دانتوں میں انگلیاں دبائے حیران و پشیمان ہوتے رہے۔ سعودیوں نے مدد کرنی تھی نہ کی۔ چنانچہ واپسی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا، ہاں یہ ضرور ہے کہ نوازشریف کو جیل کی سلاخیں سامنے نظر آرہی ہیں، جو ان کے لیے سوہان روح ہے، اس لیے وہ پاکستان آکر احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بجائے واپس لندن روانہ ہوگئے اور وہاں مشاورت کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ایک نئی مشاورت کے لیے مل بیٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ واپس آکر عدالت کا سامنا کریں یا لندن بیٹھ کر مفرور ہوجائیں، جہاں ایک جانب احتساب عدالت کا رویہ شریف خاندان کے ساتھ تاحال نرم ہے اور انہیں اس نرم رویہ پر پیپلزپاٹی سمیت دیگر سیاسی قوتوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔ وہیں پارٹی کے اندر سے نوازشریف پر بھی شدید دباؤ ہے کہ وہ واپس آئیں چاہے جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے، پارٹی رہنماؤں کے نزدیک نوازشریف کا واپس نہ آنا ان کی سیاست کے اختتام کا ہوگا۔ مگر نوازشریف کیا کریں جیل جانا ان کے لیے ممکن نہیں اور عدالتوں کو دباؤ میں لانے، بلیک میل کرنے یا حسب روایت خریدنے کی تمام کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔ وطن واپسی کے فیصلہ کے علاوہ انہیں کئی اور بنیادی نوعیت کے فیصلے فوری کرنے ہیں۔دوسرا اہم فیصلہ پارٹی کی صدارت کا ہے، جو وہ ہر صورت اپنے پاس رکھنے یا زیادہ سے زیادہ مریم نواز کو دینے کے خواہش مند ہیں۔ اس راہ میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ خود خاندان کے اندر سے بھی سخت مزاحمت درپیش ہے۔ تیسرا فیصلہ اپنے حلقہ این اے 120 سے متعلق ہے جہاں کلثوم نواز کی بیماری کے باعث مستعفی ہونے اور دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کا معاملہ درپیش ہے اس معاملہ میں بھی پارٹی واضح طور پر تقسیم ہے کہ طفیلی قسم کے وہ لیڈر جن کی سیاست حلقہ کی نہیں بلکہ شریف خاندان کی مرہون منت ہے، وہ سب مریم کو لڑاکر اسے وزیراعظم بنانے کے حق میں ہیں، جبکہ ووٹوں اور حلقوں سے جیت کر آنے والے بیشتر اراکین اسمبلی اس حق میں نہیں جن میں اکثریت وزراء بھی شامل تھیں۔ چوتھا فیصلہ انتخابی مہم شروع کرنے اور انتخابات کو اپنے مقررہ وقت پر کرانے کا ہے ،کیونکہ بگڑتے ہوئے پارٹی معاملات کے باعث یہ امکانات نظر آرہے ہیں کہ مارچ میں سینیٹ انتخابات سے قبل پارٹی کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث اسمبلیوں کا مدت مکمل کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ ہاں آخری فیصلہ انہوں نے یہ کرنا ہے کہ آیا وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوئے اسے مزید جارحانہ بنائیں یا مفاہمت کی کوئی راہ تلاش کریں، کیونکہ جتنی شدت سے وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف توپیں کھولتے ہیں دوسری جانب سے مکمل صبر اورخاموشی کے باعث نوازشریف کو ہی نقصان ہورہا ہے۔ ہاں جو مسئلہ ان کے نزدیک اہم نہیں وہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت ہے جسے سنبھالنا اب ممکن نہیں ہورہا، کیونکہ وزیر خزانہ بھی کرپشن کے کھلے مقدمات میں پھنس گئے ہیں، وہ نہ کام کرپارہے ہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔ نوازشریف کے نزدیک مشاورت میں معیشت سنبھالنا نہیں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو سنبھالنا یا متبادل تلاش کرنا۔ پانچواں فیصلہ ہے جو اس مشاورت میں انہیں کرنا ہے، کیونکہ یہ خبریں بھی ہیں کہ اسحاق ڈار سے استعفیٰ پیشگی لیا جاچکا ہے، اب صرف فیصلہ کرنا باقی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوازشریف 28 جولائی کے پاناما مقدمہ میں نااہلی سے بھی زیادہ سخت اور مشکل صورتحال کا شکار ہیں۔ حالیہ چند ماہ کی صورتحال یہ بتارہی ہے کہ وہ سیاسی طور پر کوئی بھی درست فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں اور ہر فیصلہ ان کے لیے مزید مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان کی مستقبل کی سیاست کا انحصار آئندہ 48 گھنٹوں میں لندن میں کیے جانے والے فیصلوں پر ہے۔ نوازشریف کے سیاسی حریف بھی خود مشکلات کا شکار ہیں۔ ایم کیو ایم میں الطاف حسین کے علاوہ کوئی ان کا حامی نہیں اور ایم کیو ایم الطاف حسین کے ہاتھ سے مکمل طور پر نکل چکی ہے۔ اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں جیتیں یا ہاریں مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف کی حمایت کا بوجھ ان کی سیاست کے لیے قاتل ہوگا۔ اس کا تجربہ وہ این اے 4 میں کرچکے ہیں کہ عمران اور نواز دونوں کے خلاف بیک وقت لڑکر بھی انہیں سیاسی طور پر فائدہ ہوا، جو ان کو اس حوالہ سے یکسو کر چکا ہے کہ نوازشریف کی ڈوبتی کشتی میں سواری نہیں کرنی۔مولانا فضل الرحمان خود مشکلات کا شکار ہیں اور نوازشریف سے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں مفادات حاصل کرنے اور اقتدار میں شراکت کے باوجود ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں۔ آہستہ آہستہ مکمل تنہائی کی جانب بڑھتے ہوئے نوازشریف اور ٹوٹتی بکھرتی ہوئی پارٹی نوازشریف کے سنگین مسائل ہیں، جن سے باہر نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ہاں ایک بات اور بتانا بہت ضروری ہے کہ نوازشریف کو یہ بھی پتہ ہے کہ آئندہ تین سے چار ہفتوں میں احتساب عدالت کے فیصلوں کے ساتھ ہی نوازشریف کی جائیدادوں کی ضبطی اور ملک میں واپسی کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر