... loading ...
پاکستانی سیاست اور معاشرہ میں مذہبی جماعتیں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ مذہبی حوالوں سے ان کا کام مستقلاً جاری ہے جبکہ سیاسی حوالوں سے بھی ملک کی مذہبی قوتیں اہم مسائل پر اپنا مؤقف دینے کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی قوتوں خصوصاً سیکولر قوتوں کی راہ میں مزاحم رہی ہیں۔ ملکی قوانین کو سیکولر بنانے اور معاشرہ کو لامذہبیٹ کی را ہ پر لے جانے کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت انہی مذہبی قوتوں نے کی۔ کبھی مشترکہ جدوجہد کے ذریعہ اور کبھی انفرادی حیثیت میں۔ ملکی سیاست میں ان جماعتوں اور ان کے قائدین کا اثر کبھی بھی کم نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی ہر سیاسی تحریک یا جدوجہد میں مذہبی جماعتوں کے قائدین ہر اول دستہ میں رہے ہیں حتیٰ کہ کہیں نہ کہیں شراکت داری میں حکومتوں میں بھی شریک رہے ہیں۔ تاہم اب یہ صاف نظر آرہا ہے کہ ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار محدود سے محدود ہوتا چلاجارہا ہے۔ وہ سلسلہ جو 2008 میں اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد کم ہونا شروع ہوا اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ پاکستان کے عوام مذہبی سیاسی جماعتوں سے بڑی حد تک بیزار ہوچکے ہیں، اب کسی بھی حلقے میں مذہبی جماعتوں کا ووٹ متاثر کن نہیں رہا حتیٰ کہ اپنی مضبوط ترین جنم بھومی صوبہ کے پی کے میں بھی اس حد تک کمزور ہوگیا ہے کہ عوام مذہبی جماعتوں کے بجائے سیکولر یا قوم پرست جماعتوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
آج سے محض دو انتخابات قبل تک جب مذہبی جماعتیں مل جل کر اپنے ووٹ مجتمع کرکے اقتدار میں بھی آگئی تھیں، اب اس حال کو پہنچی ہیں کہ کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی کاسہ لیسی پر مجبور ہیں۔ اور جو جماعتیں تن تنہا پرواز کی شوقین تھیں وہ اپنا ٹین بجوا چکی ہیں ،یہ تاثر محض پچھلے چند ضمنی انتخابات کی بناء پر قائم نہیں ہوا بلکہ تمام رائے عامہ کے جائزے، بلدیاتی انتخابات اور سیاسی ہماہمی میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مذہبی جماعتیں اور ان کے سیاسی مطالبات نقار خانے میں طوطی کے مترادف ہیں۔ ان سب کی بنیادی وجوہات بہت سی ہیں جن میں بنیادی وجہ ان جماعتوں کا پاکستانی معاشرہ کے عام رجحانات سے لاتعلق ہونا ہے۔ مذہبی جماعتیں طویل عرصہ سے پاکستانی عوام کی زبان نہیں بن سکیں ان کی سوچ عوام کی سوچ سے مختلف بلکہ بہت سے معاملات میں متضاد رہی ہے۔ رائے عامہ کی تشکیل میں اگر مذہبی جماعتوں کا کوئی کردار تھا بھی تو اب وہ بہت حد تک محدود ہوچکا ہے۔ یہ کام اب میڈیا اور دیگر اداروں نے چھین لیا ہے۔ صورتحال اب اس جگہ پہنچ چکی ہے کہ بیشتر مذہبی قوتوں کو اس چیز کا ادراک یا احساس تک نہیں کہ دنیا بدل چکی ہے اور انہیں اس بدلی ہوئی دنیا میں اپنی حکمت عملی اپنے رویے اور اپنے اسٹائل کو تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ سمجھ نہ ہونے کے سبب یہ جماعتیں حقائق کا ادراک کیے بغیر ریس میں دوڑ کر نہ صرف اپنی توانائیاں ضائع کررہی ہیں بلکہ بری طرح بھد بھی اڑوا رہی ہیں نتیجہ یہ ہے کہ جوان کی رہی سہی اہمیت ہے وہ بھی ضائع کررہی ہیں۔
سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ عام انتخابات سر پر ہیں اور اس کا بھی امکان ہے کہ یہ عام انتخابات کسی قدر قبل از وقت بھی ہوسکتے ہیں جس میں آنکھیں بند کرکے مذہبی جماعتیں بھی کودنے کو تیار ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ موجودہ ماحول میں وہ اپنا رہا سہا اعتبار، اپنا نام اور پوزیشن سب کچھ گنوا بیٹھیں گی۔ ان میں سب سے زیادہ خطرناک صورتحال جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی ہے کہ یہ دو جماعتیں ابھی تک ماضی میں جی رہی ہیں۔ عامۃ الناس سے قطعی لا تعلق یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی بات سنی او تسلیم کی جارہی ہے۔ ان کے عوام تک پہنچنے کے ذرائع منبر اور میڈیا ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے سے دور اور بیزار ہیں۔ عوام کا یہ حال ہے کہ مذہبی طور پر چاہے وہ کسی بھی مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھتے ہوں اور اپنے مذہبی عمائدین کو کتنا ہی پسند کیوں نہ کرتے ہوں، انہیں سیاسی قائد ماننے اور ووٹ دینے کو تیار نہیں۔ گویا عوام کے مذہبی اور سیاسی قائد الگ الگ ہوچکے ہیں۔ رہی سہی کسر میڈیا نے پوری کردی ہے کہ وہ ان مذہبی قوتوں کو اپنی ضرورت اور برانڈ کے طور پر کوریج اور اہمیت دیتا ہے مگر مذہبی جماعتیں اس کوریج کو اپنی مقبولیت کا معیار سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوگئیں۔
پاکستان کی عمومی سیاست ایک دوسرے ہی رخ پر جارہی ہے جس میں مذہبی یا شرعی ایشوزکے بجائے کرپشن، قومیت اور عوام کے روزمرہ مسائل بنیادی نکات ہیں۔ اور انہی بنیادوںپر قومی سیاست ایک بار پھر سے پولرائز یعنی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ اس تقسیم میں مذہبی جماعتوں، مذہبی قوتوں اور ان کے ووٹ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی کردار، اگر خدا نخواستہ یہ صورتحال برقرار رہی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتیں اور غیر سیاسی مذہبی قوتیں دونوں آئندہ انتخابات میں اس بری طرح پِٹیں گی کہ شاید دہائیوں تک سر نہ اٹھا سکیں۔ یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ماضی میں ملکی سیاست میں مذہبی قوتیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے اپنے حصہ سے زیادہ سیاست کرتی رہی ہیں مگر اس بار ملک کی کوئی سیاسی قوت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں کھڑی بلکہ زیادہ تر نے اپنا وزن اس کی مخالفت میں نوازشریف کے پلڑے میں ڈال رکھا ہے۔ یہ کوئی دین ایمان کا مسئلہ نہیں بلکہ حکمت عملی کی بات ہے مگر عوامی رائے کے میدان میں خطرناک گراوٹ کا شکار مذہبی قوتوں کا اپنی حمایت نوازشریف جیسی ڈوبتی ہوئی سیاسی قوت کے ساتھ منسلک کرنا مزید خطرناک کام ہے۔ اورجو باقی ہیں وہ عملاً لاتعلق بلکہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ سے نالاں بھی ہیں۔ اب درس نظامی، فتوحات الشام، مشکوۃ المصابیح، کنزالاعمال اور سید مودریؒ کی تعلیمات کی حامل یہ قوتیں چونکہ عقل کل ہیں اس لیے انہیں مشورے تو دیے نہیں جاسکتے ہاں یہ ضرور بتایا جاسکتا ہے کہ آپ سب تاریخ کے اوراق میں دفن ہونے میں چند دنوں اور ایک آدھ فیصلہ کی دوری پر ہیں۔ فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے اور یہ بات بھی یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ایک بار یہ منزل پار کرلی تو آپ کی مسالک دین یا مکتبہ ہائے فکر کی قیادت بھی چھن جائے گی۔ اگر کوئی سوچ سمجھ والا عنصر باقی ہے تو اسے معلوم ہوکہ تاریخ سے سبق نہ لینے والے اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے فیصلے کرنے والے خود تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اگر یقین نہیں توعام انتخابات کون سے دور ہیں۔ دو دو ہاتھ کرلیں۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...