وجود

... loading ...

وجود

من پسند افسران کو بچانے کی کوششیں تیز

پیر 30 اکتوبر 2017 من پسند افسران کو بچانے کی کوششیں تیز

کہاجاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا محبوب مشغلہ کرپشن ہے دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پیپلز پارٹی پر 1988 ء لے کر اب تک صرف کرپشن کا ہی سنگین الزام لگتا آ رہا ہے ،اورپیپلزپارٹی کی قیادت اب تک اس الزام سے جان نہیں چھڑا سکی ہے۔باربارلگنے والے الزاما ت کے بعدپی پی پی کے رہنمائوں کی جانب سے ان کی تردیدبھی کی جاتی ہے ۔ لیکن الزام لگانے والے بعض نہیں آتے۔اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ سندھ میں ہرسطح پر کرپشن کے اسکینڈلز سامنے آئے ہیں اورپیپلزپارٹی کے کئی صوبائی اراکین ان الزامات کی زدمیں ہیں ۔ سابق صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن محکمہ اطلاعات میں اربوں کی کرپشن کے الزام میں زیرحراست ہیں اوران کے خلاف احتساب عدالت میں کیس کی سماعت بھی جاری ہے ۔
پیپلزپارٹی کے مخالفین توکھل کر پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہی رہتے ہیں ۔ لیکن اس حوالے سے اب خود پیپلزپارٹی کے اندرسے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں ۔ کئی رہنماڈھکے چھپے الفاظ میں اپنی رائے اظہارکرتے نظرآتے ہیں ۔لیکن پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدر ہی ایسے ملنگ اور درویش صفت لیڈر ہیں جنہوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے دوستوں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو، ڈاکٹر شاہد مسعود اور مرتضیٰ سولنگی جیسے لوگوں نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ تاج حیدر جیسے صاف ستھرے اور نازک مزاج لیڈرکی جانب سے واشگاف الفاظ میں اظہارخیال کے بعد ان اپنی پارٹی کے دیگررہنمائوں کوسانپ سونگھ گیا ہے ۔ کسی میں ان کوجوا ب دینے کی ہمت نہیں ۔
تاج حیدرجیسے رہنما جب پیپلزپارٹی کے بعض لوگوں پرالزامات عائدکررہے ہیں تو پھر بتایا جائے کہ عام کارکنوں کی کیا محسوسیات ہوگی عام لیڈر یا کارکن کیا سوچتا ہوگا؟ تاریخ گواہ ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے پی پی پی نے ہمیشہ ایسے افرادکے تحفظ اور دفاع کے لیے میدان میں اتری ہے جن پرکرپشن اورقومی خزانے کی لوٹ مارکے الزامات ہوں۔جس اس الزام کوبھی تقویت ملتی ہے کہ جن لوگوں نے بھی قومی خزانے کونقصان پہنچایا ان کوقیادت کی حمایت حاصل تھی اسی لیے ان کوپارٹی سمیت ہرسطح پرمکمل سپورٹ کی جاتی رہی ہے۔ اب توکھلم کھلاکرپشن میں ملوث عناصرکو پیپلزپارٹی انتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھاجانے لگاہے ۔ ان کے خلاف تحقیقات کی بجائے انھیں اہم عہدے دے دیئے جاتے ہیں۔
سندھ میں جب غلام حیدر جمالی آئی جی پولیس تھے تو اس وقت کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے تھے انہوں نے کانسٹیبل سے لے کر اعلیٰ افسران تک کرپشن کا جال بچھایا۔اسی لیے آج ایس ایس پی فدا حسین شاہ، ایس ایس پی تنویر طاہر جیسے افسر بھی نیب کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں اور احتساب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ یہ بات بھی پی پی پی کے دور حکومت میں زبان زد عام ہوئی کہ نیب میں ایک فہرست ہے جس میں 1565 سرکاری افسران نے تین ارب روپے کی کرپشن کی رقم رضاکارانہ طور پر واپس کی ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت سندھ ایسے تمام سرکاری ملازمین کو ملازمت سے ریٹائرڈ کرتی یا پھر قبل از وقت ریٹائرڈ کرتی اور اگر یہ دونوں کام نہ بھی کرسکتی تھی تو کم از کم ان کو اہم عہدوں پر تو تعینات نہ کرتی مگر چونکہ یہ کمائو پوت تھے اس لیے ان کو فوری طور پر آنکھوں پر بٹھادیا گیا اور ان کو من پسند عہدے دے دیئے گئے اور ان کے ناز نخرے بھی اٹھائے گئے لیکن اب چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات کے مصداق ان سرکاری ملازمین کے لیے مشکل وقت شروع ہوگیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے متعدد بار حکومت سندھ کو حکم دیا کہ فوری طور پر ایسے تمام افسران کو پوسٹنگ سے ہٹادیا جائے جنہوں نے نیب کو رضاکارانہ طور پر رقومات واپس کی تھیں چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن طلب کیے جانے پر سندھ ہائی کورٹ پہنچے تو ان کے پاس حلف نامہ بھی نہ تھا تو نیب کو رقومات واپس کرنے والے افسران کی فہرستیں بھی نہ تھیں بس پھر کیا تھا سندھ ہائی کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور چیف سیکریٹری کو دو تین گھنٹوں کا وقت دیا کہ ان افسران کو موجودہ عہدوں سے ہٹا کر سندھ ہائی کورٹ میں لسٹیں پیش کی جائیں ۔ ہائی کورٹ کے حکم پرپوری بیوروکریسی حرکت میں آگئی۔ بندالماریاں کھلنے لگیں ۔ لسٹیں باہرآئیں اورچیف سیکرٹری فہرستیںسندھ ہائی کورٹ میں جمع کرادیں یوں پہلے مرحلے میں 468 سرکاری ملازمین کی فہرستیں سندھ ہائی کورٹ کو دے دی گئیں کہ ان کو موجودہ عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حالانکہ ایسے ملازمین کی تعداد 1565 ہے۔463 افرادکے خلاف کارروائی کی گئی ہے 1100 سے زائد سرکاری ملازمین کو بچانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیر گھمرو نے میڈیا کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے صرف سرکاری ملازمین کو موجودہ عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے ان کو برطرف کرنے کے لیے نہیں کہا۔ تو حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کردیا ہے۔
واقفان حال کہتے ہیں کہ اصل حقائق کچھ اور ہیں کیونکہ اس فہرست میں وزیر اعلیٰ سندھ کے دو بہنوئی بھی شامل ہیں۔ ایک ڈی سی کورنگی مہدی علی شاہ تو دوسرے بہنوئی ڈی سی گھوٹکی اعجاز علی شاہ شامل ہیں۔ اب وزیر اعلیٰ کس طرح اپنے دو بہنوئی ملازمت سے برطرف کردیں؟ حکومت سندھ وزیر اعلیٰ کے دو بہنوئیوں سمیت دس بارہ من پسند افسران کی خاطر ان 1565 سرکاری ملازمین کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہے اور اب سننے میں آیا ہے کہ وزیر قانون سندھ، سیکریٹری قانون سندھ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی راستہ نکالیں جس سے یہ افسران بچ جائیں اس کے بعد انہوں نے ایک رائے بنالی ہے جو اعلیٰ ترین عدالتوں میں پیش کی جائے گی کہ جناب دیکھیں ایک جرم کی ایک سزا ہوتی ہے دو سزائیں دینا انصاف کے خلاف ہے ان ملازمین کو ایک سزا مل چکی ہے وہ پیسے واپس کرچکے ہیں اب دوسری سزا کیوں دی جائے؟۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر