وجود

... loading ...

وجود

من پسند افسران کو بچانے کی کوششیں تیز

پیر 30 اکتوبر 2017 من پسند افسران کو بچانے کی کوششیں تیز

کہاجاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا محبوب مشغلہ کرپشن ہے دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پیپلز پارٹی پر 1988 ء لے کر اب تک صرف کرپشن کا ہی سنگین الزام لگتا آ رہا ہے ،اورپیپلزپارٹی کی قیادت اب تک اس الزام سے جان نہیں چھڑا سکی ہے۔باربارلگنے والے الزاما ت کے بعدپی پی پی کے رہنمائوں کی جانب سے ان کی تردیدبھی کی جاتی ہے ۔ لیکن الزام لگانے والے بعض نہیں آتے۔اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ سندھ میں ہرسطح پر کرپشن کے اسکینڈلز سامنے آئے ہیں اورپیپلزپارٹی کے کئی صوبائی اراکین ان الزامات کی زدمیں ہیں ۔ سابق صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن محکمہ اطلاعات میں اربوں کی کرپشن کے الزام میں زیرحراست ہیں اوران کے خلاف احتساب عدالت میں کیس کی سماعت بھی جاری ہے ۔
پیپلزپارٹی کے مخالفین توکھل کر پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہی رہتے ہیں ۔ لیکن اس حوالے سے اب خود پیپلزپارٹی کے اندرسے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں ۔ کئی رہنماڈھکے چھپے الفاظ میں اپنی رائے اظہارکرتے نظرآتے ہیں ۔لیکن پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدر ہی ایسے ملنگ اور درویش صفت لیڈر ہیں جنہوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے دوستوں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو، ڈاکٹر شاہد مسعود اور مرتضیٰ سولنگی جیسے لوگوں نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ تاج حیدر جیسے صاف ستھرے اور نازک مزاج لیڈرکی جانب سے واشگاف الفاظ میں اظہارخیال کے بعد ان اپنی پارٹی کے دیگررہنمائوں کوسانپ سونگھ گیا ہے ۔ کسی میں ان کوجوا ب دینے کی ہمت نہیں ۔
تاج حیدرجیسے رہنما جب پیپلزپارٹی کے بعض لوگوں پرالزامات عائدکررہے ہیں تو پھر بتایا جائے کہ عام کارکنوں کی کیا محسوسیات ہوگی عام لیڈر یا کارکن کیا سوچتا ہوگا؟ تاریخ گواہ ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے پی پی پی نے ہمیشہ ایسے افرادکے تحفظ اور دفاع کے لیے میدان میں اتری ہے جن پرکرپشن اورقومی خزانے کی لوٹ مارکے الزامات ہوں۔جس اس الزام کوبھی تقویت ملتی ہے کہ جن لوگوں نے بھی قومی خزانے کونقصان پہنچایا ان کوقیادت کی حمایت حاصل تھی اسی لیے ان کوپارٹی سمیت ہرسطح پرمکمل سپورٹ کی جاتی رہی ہے۔ اب توکھلم کھلاکرپشن میں ملوث عناصرکو پیپلزپارٹی انتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھاجانے لگاہے ۔ ان کے خلاف تحقیقات کی بجائے انھیں اہم عہدے دے دیئے جاتے ہیں۔
سندھ میں جب غلام حیدر جمالی آئی جی پولیس تھے تو اس وقت کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے تھے انہوں نے کانسٹیبل سے لے کر اعلیٰ افسران تک کرپشن کا جال بچھایا۔اسی لیے آج ایس ایس پی فدا حسین شاہ، ایس ایس پی تنویر طاہر جیسے افسر بھی نیب کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں اور احتساب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ یہ بات بھی پی پی پی کے دور حکومت میں زبان زد عام ہوئی کہ نیب میں ایک فہرست ہے جس میں 1565 سرکاری افسران نے تین ارب روپے کی کرپشن کی رقم رضاکارانہ طور پر واپس کی ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت سندھ ایسے تمام سرکاری ملازمین کو ملازمت سے ریٹائرڈ کرتی یا پھر قبل از وقت ریٹائرڈ کرتی اور اگر یہ دونوں کام نہ بھی کرسکتی تھی تو کم از کم ان کو اہم عہدوں پر تو تعینات نہ کرتی مگر چونکہ یہ کمائو پوت تھے اس لیے ان کو فوری طور پر آنکھوں پر بٹھادیا گیا اور ان کو من پسند عہدے دے دیئے گئے اور ان کے ناز نخرے بھی اٹھائے گئے لیکن اب چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات کے مصداق ان سرکاری ملازمین کے لیے مشکل وقت شروع ہوگیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے متعدد بار حکومت سندھ کو حکم دیا کہ فوری طور پر ایسے تمام افسران کو پوسٹنگ سے ہٹادیا جائے جنہوں نے نیب کو رضاکارانہ طور پر رقومات واپس کی تھیں چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن طلب کیے جانے پر سندھ ہائی کورٹ پہنچے تو ان کے پاس حلف نامہ بھی نہ تھا تو نیب کو رقومات واپس کرنے والے افسران کی فہرستیں بھی نہ تھیں بس پھر کیا تھا سندھ ہائی کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور چیف سیکریٹری کو دو تین گھنٹوں کا وقت دیا کہ ان افسران کو موجودہ عہدوں سے ہٹا کر سندھ ہائی کورٹ میں لسٹیں پیش کی جائیں ۔ ہائی کورٹ کے حکم پرپوری بیوروکریسی حرکت میں آگئی۔ بندالماریاں کھلنے لگیں ۔ لسٹیں باہرآئیں اورچیف سیکرٹری فہرستیںسندھ ہائی کورٹ میں جمع کرادیں یوں پہلے مرحلے میں 468 سرکاری ملازمین کی فہرستیں سندھ ہائی کورٹ کو دے دی گئیں کہ ان کو موجودہ عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حالانکہ ایسے ملازمین کی تعداد 1565 ہے۔463 افرادکے خلاف کارروائی کی گئی ہے 1100 سے زائد سرکاری ملازمین کو بچانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیر گھمرو نے میڈیا کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے صرف سرکاری ملازمین کو موجودہ عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے ان کو برطرف کرنے کے لیے نہیں کہا۔ تو حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کردیا ہے۔
واقفان حال کہتے ہیں کہ اصل حقائق کچھ اور ہیں کیونکہ اس فہرست میں وزیر اعلیٰ سندھ کے دو بہنوئی بھی شامل ہیں۔ ایک ڈی سی کورنگی مہدی علی شاہ تو دوسرے بہنوئی ڈی سی گھوٹکی اعجاز علی شاہ شامل ہیں۔ اب وزیر اعلیٰ کس طرح اپنے دو بہنوئی ملازمت سے برطرف کردیں؟ حکومت سندھ وزیر اعلیٰ کے دو بہنوئیوں سمیت دس بارہ من پسند افسران کی خاطر ان 1565 سرکاری ملازمین کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہے اور اب سننے میں آیا ہے کہ وزیر قانون سندھ، سیکریٹری قانون سندھ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی راستہ نکالیں جس سے یہ افسران بچ جائیں اس کے بعد انہوں نے ایک رائے بنالی ہے جو اعلیٰ ترین عدالتوں میں پیش کی جائے گی کہ جناب دیکھیں ایک جرم کی ایک سزا ہوتی ہے دو سزائیں دینا انصاف کے خلاف ہے ان ملازمین کو ایک سزا مل چکی ہے وہ پیسے واپس کرچکے ہیں اب دوسری سزا کیوں دی جائے؟۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر