وجود

... loading ...

وجود

روپے کی قدر میں کمی دولت مندوں نے ڈالر جمع کرنا شروع کردیے

هفته 28 اکتوبر 2017 روپے کی قدر میں کمی دولت مندوں نے ڈالر جمع کرنا شروع کردیے

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کاسلسلہ مسلسل جاری ہے، جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں بھی غیر محسوس طریقے سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ،روپے کی قدر میں غیر سرکاری سطح پر غیر محسوس طریقے سے کمی نے مہنگائی میں اضافے میں نمایاں کردار ادا کیاہے جس کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،دوسری جانب بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹ پر منافع کی شرح میں کوئی اضافہ نہ ہونے بلکہ ،ڈیپازٹس پر منافع کی شرح میں پہلے کے مقابلے میں کمی ہونے کی وجہ سے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ سال کمرشیل بینک ہر طرح کے ڈیپازٹس پر کم وبیش3.30 فیصد تک منافع ادا کررہے تھے لیکن گزشتہ سال اگست میں بینکوں کی جانب سے دئے جانے والے منافع کی اس شرح کے مقابلے رواں سال اگست میں بینکوں کی جانب سے دئے جانے والے منافع کی شرح سکڑ کر صرف 3.2 فیصد رہ گئی،جبکہ رواں سال اگست میں افراط زر کی شرح 3.4 فیصد ریکارڈ کی گئی اس سے واضح ہوتاہے کہ بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹس پر دیاجانے والا منافع افراط زر کی شرح سے بھی کم ہے،اس صورت حال کے پیش نظر بینکوں میں رقم ڈیپازٹ کرانے والے اب اپنی رقم سے زیادہ بہتر شرح پر منافع حاصل کرنے کے لیے پراپرٹی کی خریداری کی جانب راغب ہورہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں موجود غیریقینی حالات اور حکومت کی جانب سے پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکسوں میں اضافے کے باوجود پراپرٹی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمتوں میں ،مسلسل اضافے کے رجحان اور پاکستانی کرنسی کی قیمت میں جلد یابدیر متوقع کمی کئے جانے کی قیاس آرائیوں سے متاثر ہوکر متمول طبقے نے ڈالر کی خریداری شروع کردی ہے اور اپنے مقامی اکاؤنٹس کو غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں تبدیل کرنے کے رجحان کو بھی فروغ مل رہاہے، بڑے پیمانے پر ڈالر کی خریداری کی وجہ سے ڈالر کی قیمتوں میں بھی اضافہ کی شرح توقع سے زیادہ ہے۔
بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹس پر منافع کی شرح میں کمی کا فائدہ بینکوں سے قرض حاصل کرنے والے بڑے سرمایہ داروں ، اور صنعت کاروں کو ہورہاہے کیونکہ بینکوں کے منافع کی شرح میں کمی کی وجہ سے انھیں اب بینک سے حاصل کیے گیے قرض پر نسبتاً کم شرح سے منافع ادا کرنا پڑتاہے اس طرح ان کے اپنے منافع کی شرح میں خود بخود اضافہ ہورہاہے۔سرمایہ کاروں کو کم شرح منافع پر قرض کی فراہمی معیشت کے لیے ایک نیک فال ہے لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہاہے کہ بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹس پر کم شرح سے منافع کی ادائیگی کی وجہ سے بچت کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔دوسری جانب یہ تلخ حقیقت بھی موجود ہے کہ بینکوں کی جانب سے کم شرح منافع پر قرضوں کی فراہمی کے باوجود بینکوں سے قرض لینے کے رجحان میں کمی ہوئی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ سال کے دوران سرمایہ کاروں نے مختلف بینکوں سے مجموعی طورپر 296 ارب روپے کے قرض حاصل کیے تھے لیکن حکومت کے ان دعووں کے مطابق کہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہورہاہے رواں سال کے دوران بینکوں سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 92 ارب روپے کم قرض حاصل کیاگیا۔اس حوالے سے ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ رواں سال کے دوران بینکوں کے قرض چکانے کی شرح بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی سرمایہ کار دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر کاربند ہیں اور نہ صرف یہ کہ سرمایہ کاری سے گریز کررہے ہیں بلکہ اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں ۔دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے بینکوں سے قرض کے حصول کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے، اور اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں سال یکم جولائی سے 22 ستمبر کے دوران بینکوں سے مجموعی طورپر 215ارب روپے کے قرض حاصل کیے۔
ایک طرف ملک میں سرمایہ کاری کی یہ صورت حال ہے کہ سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریز کررہے ہیں دوسری جانب ملک میں جاری سیاسی غیر یقینی کی صورت حال نے اسٹاک مارکیٹ کونڈھال کردیاہے اوراسٹاک مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر سرمایہ کاروں کے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے ڈوب رہے ہیں اوربڑے بڑے اسٹاک بروکر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ۔ اگرچہ گزشتہ چندماہ کے دوران پراپرٹی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن پراپرٹی ڈیلرز کاکہناہے کہ حکومت کی جانب سے پراپرٹی کی خریداری کے قواعد وضوابط میں تبدیلی اور مختلف ٹیکسوں میں اضافے کے بعد اب لوگ پراپرٹی میں سرمایہ کاری میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے ہیں اور پراپرٹی بیچنے والوں کے مقابلے میں خریداروں کی تعداد کم ہے۔اس صورت حال میں ڈالر ہی سرمایہ کاروں کو اپنے سرمائے کومحفوظ رکھنے کا قابل اعتماد متبادل نظر آرہاہے۔اگرچہ رواں سال جون اور ستمبر کے دوران فارن کرنسی اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی رقم میں بہت زیادہ فرق نظر نہیں آرہاہے لیکن روپے کی دن بدن گرتی ہوئی قدر نے سرمایہ کاروں کی نظر میں ڈالر کی وقعت بڑھادی ہے، اوروہ اپنے فاضل سرمائے کو ڈالر میں منتقل کراکے ہی اسے زیادہ محفوظ اورروپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے سرمائے کی وقعت میں ہونے والی متوقع کمی سے محفوظ رکھنے کا زیادہ آسان راستہ تصور کرنے لگے ہیں ۔
اس وقت ہماری معیشت کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ جون میں ہمارے زرمبادلے کے ذخائر کی مالیت 21.402 بلین ڈالرکے مساوی بتائی گئی تھی لیکن 29 ستمبر کو یہ ذخائر کم ہوکر 19.763 بلین ڈالر رہ گئے تھے یعنی صرف 2 ماہ کے اندر زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.639 بلین ڈالر کی کمی ہوگئی رواں مالی سال کے ابتدائی دوماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باوجود جولائی سے ستمبر کے دوران ادائیگیوں کاتوازن 1.385 بلین ڈالر کے مساوی سرپلس رہا،رواں مالی سال کے ابتدائی دوماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی 1.287 بلین ڈالر سے بڑھ کر2.601 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔موجودہ صورت حال میں اگر جولائی اور ستمبر کے دوران یعنی رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید اضافہ ہوااور ادائیگیوں کے توازن میں کمی واقع ہوئی توظاہر ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرپر دباؤ میں اضافہ ہوگاجس کے نتیجے میں ہوسکتاہے کہ حکومت بالآخر روپے کی قدر پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوجائے، یہ وہ توقعات اور خدشات ہیں جن کی بنیادپر پاکستانی کرنسی کو ڈالر میں تبدیل کرنے والوں کو اپنی رقم زیادہ محفوظ اور منافع بخش نظر آرہی ہے اور روپے کو ڈالر میں تبدیل کرانے کے رجحان میں اضافہ ہوتاجارہاہے ۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر