وجود

... loading ...

وجود

مریم صفدر اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ‘سینئر رہنما قبول کرنے کوتیار نہیں

جمعه 27 اکتوبر 2017 مریم صفدر اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ‘سینئر رہنما قبول کرنے کوتیار نہیں

مریم صفدر جنھیں کچھ عرصہ پیشتر تک اس ملک کے سیاہ وسفید کامالک تصورکیاجاتاتھااور جن کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کونواز شریف کے منہ سے نکلی ہوئی بات تصورکرکے حرف آخر تصور کیاجاتا تھا جو ملک کے ہر چھوٹے بڑے فیصلوں میں شریک ہوتی تھیں اور اپنے والد کی تشہیر اور حکومت کے کارناموں کو اجاگر کرنے اورخامیوں اور خرابیوں کی پردہ پوشی کرنے کے لیے منظم انداز میں میڈیا سیل چلاتی تھیں ،اپنے والد پر ان کا اتنا اثر ورسوخ تھا کہ نواز شریف بعض اوقات ان کی بات اور مشوروں کو دوسروں یہاں تک کہ چوہدری نثار جیسے اپنے قریبی ساتھیوں کی رائے پر ترجیح دیاکرتے تھے جس کی وجہ سے مسلم لیگی حلقے ہی نہیں بلکہ عام لوگوں میں بھی یہ تاثر گہرا ہوگیاتھا کہ مریم نواز ہی اپنے والد کی جانشین ثابت ہوں گی اور ہوسکتاہے کہ اگلے عام انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کا تاج ان کے سر پر سجادیا جائے ،لیکن آج وہ خود اپنی شناخت میں سرگرداں نظر آتی ہیں ، اورسینئرمسلم لیگی حلقے نواز دور حکومت میں ہونے والے بہت سی غلطیوں جن میں سینئر اور وفادار مسلم لیگی رہنماؤں کو پس پشت ڈالناان کی رائے کو نظر انداز کرنا یا ان کو اہمیت نہ دینا، ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی سیاست شامل ہے، کی ذمے داربھی مریم صفدرکو قرار دینے لگے ہیں ۔ اب مسلم لیگی حلقے کھلے عام یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ نواز شریف نے مریم صفدر کی اچھی طرح سیاسی تربیت کرکے انھیں سیات کے اتار چڑھاؤ سے آگاہ کرکے انھیں میدان سیاست میں اتارنے کے بجائے ان کو غیر ضروری اہمیت دے کر خود سر بنادیا اور ان کی غلطیوں کی سزا آج نواز شریف کو اس طرح بھگتنا پڑ رہی ہے کہ خود اپنے خاندان کے افراد دلی طور پر ان کے ساتھ نہیں ہیں ،سینئر مسلم لیگی حلقوں کی متفقہ رائے یہی ہے کہ نواز شریف نے جتنی زیادہ سنگین غلطی کی اس کی اتنی ہی سنگین سزا انھیں بھگتنا پڑ رہی ہے ۔جبکہ خاندانی حلقے میں انھیں وعدہ خلاف اور خود غرض قرار دیاجارہاہے۔
نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد اگرچہ انھوں نے اپنے والد کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی نشست پرہونے والے ضمنی انتخابات میں اپنی والدہ کی انتخابی مہم کامیابی کے ساتھ چلائی اور بہت ہی کم مارجن سے سہی پی ٹی آئی کی نامزد طاقتور حریف کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں لیکن اس انتخابی مہم کے دوران ہی یہ بات کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئی تھی کہ سرکاری مشینری تو کجا اب خود وزرا کی اکثریت بھی مریم صفدر کو وہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے جو نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں انھیں حاصل تھی،مریم صفدر نے اس صورت حال کو نہ صرف اچھی طرح محسوس کیا بلکہ اس کاان پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ وہ اپنی والدہ کی انتخابی مہم کے دوران ہی برملا یہ کہنے پر مجبور ہوگئیں کہ انھیں اس مہم کے دوران بعض ابن الوقت ساتھیوں کوپہچاننے کا موقع مل گیا۔
آج مریم صفدر عملاً پارٹی کے معاملات پر اپنے کنٹرول سے محروم ہوچکی ہیں یہی نہیں بلکہ اب پارٹی میں اپنے وجود کااحساس دلانے کے لیے انھیں جدوجہد کرنا پڑرہی ہے۔اس صورت حال کی وجہ سے اب یہ سوال سر اٹھارہاہے کہ کیا مریم صفدر مسلم لیگ ن میں اپنی پہلی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی؟۔ مسلم لیگ ن کے سینئر ارکان اس کاجواب نفی میں دیتے ہیں ، ان کاکہناہے کہ مریم صفدر نے اپنے والد کے دور حکومت میں اپنے مزاج کو جس طرح ڈھالا ہے اور اپنے والد کی طاقت کے بل پر مسلم لیگی کارکنوں یہاں تک کہ نواز شریف کے گرم وسرد کے ساتھی اور وفادار سینئر رہنماؤں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیے رکھا تھا اس کی وجہ سے یہ بات اب قطعی ناممکن نظر آتی ہے کہ وہ پارٹی میں اپنی پہلی سی پوزیشن بحال کرنے میں کامیاب ہوسکیں ۔
مسلم لیگی رہنماؤں اور سیاسی حلقوں کاکہناہے کہ اول تو مریم صفدر پر بھی نواز شریف اوران کے بیٹوں ، حسن اور حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ سنگین الزامات کے تحت فرد جرم عاید کی جاچکی ہے جس سے بری ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتاہے،دوسری جانب شہباز شریف اور ان کے بیٹوں یااہل خانہ پر پانامہ پیپرز کے حوالے سے کوئی مقدمہ نہیں ہے ،جس کی وجہ سے ان کو خاص طورپر حمزہ شریف کو مریم نواز پر سبقت حاصل ہوگئی ہے اور اگر شہباز شریف حدیبیہ پیپر ملز اور ڈاکٹر طاہر القادری کی پارٹی کا قتل عام کرانے کے مقدمے میں پھنس بھی گئے تو بھی حمزہ شریف صاف ہاتھوں کے ساتھ میدان میں آکر سیاست کو آگے بڑھا سکتے ہیں ،جبکہ پانامہ پیپرز میں سزاہوجانے کی صورت میں نواز شریف کے ساتھ ہی مریم نواز کاسیاسی مستقبل بھی تاریک ہوجائے گا۔ کیونکہ نواز شریف ، کیپٹن صفدر اور مریم نواز کو سزا ہونے کی صورت میں میڈیا کے ذریعے انھیں سیاسی طورپر زندہ رکھنے کاکوئی قابل اعتماد ذریعہ باقی نہیں بچے گا جبکہ سزاؤں کااعلان ہوتے ہی نواز شریف دور میں مریم صفدر کی مہربانیوں سے بھاری فوائد حاصل کرنے والوں کی اکثریت بھی اپنی کرپشن چھپانے اورخود کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے ان کی اچھائیوں اورنیکیوں کونظر انداز کرکے ان کی خامیاں گنوانا شروع کردیں گے۔
جہاں تک شہباز شریف یا حمزہ شریف سے یہ توقع رکھنے کی بات ہے کہ وہ نواز شریف ،ان کے داماد اور بیٹی کو سزائیں ہوجانے کے بعد بھی انھیں سیاسی طورپر زندہ رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں تو یہ توقع اس لیے عبث معلوم ہوتی ہے کہ نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد وزارت عظمیٰ کی ذمے داری اپنے انتہائی وفادار بھائی شہباز شریف کو سونپنے کے بجائے پارٹی کے ایک دوسرے فرد کو ان پر ترجیح دی اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں نہ دینے کایہ فیصلہ مریم نواز کے مشورے اور دباؤ کی بنیاد پر کیاتھا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ شہباز شریف نے پنجاب کے وزیر اعلی کی حیثیت پنجاب کے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے اور طاقت اور اقتدار کے سرچشمہ پنجاب میں انھیں نواز شریف سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے یہ وجہ ہے کہ پنجاب مسلم لیگ کے کارکنوں کی اکثریت بھی نواز شریف کے مقابلے میں شہباز شریف کے زیادہ قریب ہے۔ کیونکہ نواز شریف کے برعکس جو پارٹی کارکنوں یہاں تک کہ پارٹی رہنماؤں سے دوری قائم رکھنے کے قائل ہیں ،شہباز شریف ہر اچھے اور برے مرحلے میں پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤ ں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں شہباز شریف اور نواز شریف کے رویوں کا یہ فرق پارٹی کارکنوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگی کارکن شہباز شریف ہی کو اپنا لیڈر اور قائد تسلیم کرتے ہیں ۔
مریم صفدر اس صورت حال سے بے خبر نہیں ہیں اور غالبا ً یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز وہ اچانک اپنے چچا شہباز شریف کے پاس پہنچ گئی تھیں اوراطلاعات کے مطابق اس ملاقات کے دوران انھوں نے شہباز شریف اور اپنے کزن حمزہ شہباز کی ناراضگی دور کرنے اور انھیں منانے کی بھی کوشش کی،انھوں نے شہباز شریف اور حمزہ سے اپنی ملاقات کی بھرپور تشہیر بھی کرائی لیکن خاندانی حلقوں کاکہناہے کہ مریم کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں اور شہباز شریف اور حمزہ کی جانب سے انھیں سرد مہری کے رویئے کاسامنا کرنا پڑا۔یہاں تک کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے اس ملاقات کے بارے میں کھلے عام کسی مثبت تبصرے سے بھی گریز کیا اور اس حوالے سے میڈیا کی جانب سے کیے گئے سوالوں کے گول مول جواب دے کر ٹالتے رہے۔
سیاسی میدان میں دوبارہ پہلی سی اہمیت حاصل کرنے کی مریم صفدر کی کوششوں کے کامیاب نہ ہونے کا ایک او ربڑا سبب یہ بھی ہے کہ مریم صفدر نے پارٹی میں اپنی پہلی والی پوزیشن محض نواز شریف کی بیٹی ہونے کے ناتے حاصل کی تھی اور سیاست یا پارٹی کے لیے نہ تو ان کی کوئی قربانیاں ہیں اور نہ ہی انھیں سیاست کاکوئی تجربہ ہے، یہی وجہ ہے کہ پارٹی میں سندھ کے گورنر محمد زبیر، طلال چوہدری اور دانیال عزیز جیسے دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے رہنماؤں کے علاوہ پارٹی کے سینئر ارکان انھیں کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں بلکہ بعض رہنماؤں نے کھل کر ٹی وی تبصروں کے دوران یہ واضح کردیا ہے کہ مریم سیاست میں نووارد ہیں ابھی ان کو تربیت کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے سابق سربراہ کنور دلشاد کایہ کہنا بالکل درست معلوم ہوتاہے کہ 30 سال قبل مسلم لیگ ن کے موجودہ سینئر رہنماؤں نے نواز شریف سے ہاتھ ملایاتھا ،اس وقت مریم کو سیاست کی ابجد کا بھی علم نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ چوہدری نثار ، راجہ ظفر الحق ، موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال اور ان کے دیگر ساتھی رہنما مریم صفدر کو کوئی اہمیت دینے کوتیار نہیں ہیں ۔پارٹی کے یہ تمام سینئر رہنما ہر بات پر ایک دوسرے متفق نہیں ہیں لیکن جب بات مریم کی قیادت کی آتی ہے تو اس کی مخالفت میں سب یکجا اور یک زبان نظر آتے ہیں ۔تاہم یہ بات واضح ہے اور شہباز شریف نے انتہائی مشکل دنوں میں بھی یہ ثابت کیاہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے خلاف کھڑا ہونا پسند نہیں کرتے اور شہباز شریف اب اسی وقت پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے پر تیار ہوں گے جب نواز شریف کو عدالت سے سزا ہوجائے اور انھیں جیل جانے یا جلاوطن ہونے پر مجبور ہونا پڑے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ پانامہ پیپرز پر احتساب عدالت کا فیصلہ آنے اور اس فیصلے کے خلاف ممکنہ اپیلوں اور نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلوں تک مریم صفدر پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوششیں کرتی رہیں گی۔
اس کے ساتھ ہی سیاسی تجزیہ نگار یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر نواز شریف احتساب عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد بھی شہباز شریف کو پارٹی کی قیادت سونپنے پرتیار نہیں ہوئے تو یہ شہباز شریف از خود یا پارٹی رہنماؤں کے اصرار پر یہ عہدہ قبول کرنے کوشاید تیار نہ ہوں اور ایسی صورت میں اس پارٹی کاشیرازہ بکھرجانا یقینی ہوگا۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر