وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ایٹمی سمجھوتے پر ایران امریکا تنازعہ‘ڈونلڈ ٹرمپ تنہا کھڑے ہیں

بدھ 11 اکتوبر 2017 ایٹمی سمجھوتے پر ایران امریکا تنازعہ‘ڈونلڈ ٹرمپ تنہا کھڑے ہیں

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ آئندہ ہفتے صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق نہیں کریں گے اور یہ معاملہ کانگریس کو بھیج دیں گے تاکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کی جا سکیں۔جوہری معاہدے کے تحت صدر ٹرمپ ہر تین ماہ بعد کانگریس کو یہ بتانے کے پابند ہیں کہ ایران اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کر رہا ہے۔امریکی صدر کو معاہدے پر عمل درآمد کی اگلی تصدیق 15 اکتوبر سے قبل کرنی ہے۔
امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جمعرات کو صحافیوں کو بتایا ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے موقف کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دیں گے۔امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اقدام کے نتیجے میں 2015میں طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم تو نہیں ہوگا البتہ اس کے بعد امریکی ارکانِ کانگریس کے پاس یہ طے کرنے کے لیے 60 روز کا وقت ہوگا کہ آیا ایران پر وہ پابندیاں دوبارہ عائد کی جائیں یا نہیں جنہیں اس معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی تصدیق نہ کرنے کی صورت میں معاہدے پر از سرِ نو مذاکرات کی راہ بھی کھل سکتی ہے لیکن ایران کے صدر حسن روحانی اس آپشن کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔ایران کے ساتھ یہ معاہدہ سابق صدربارک اوباما کی حکومت نے کیا تھا جس پر دستخط کرنے والوں میں ایران اور امریکا کے علاوہ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں،اور ان میں سے کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ معاہدے کو ختم کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے حق میں نہیں ہے اس لیے اس اہم مسئلے پر ایک دفعہ پھر امریکی صدر ڈونلڈ تنہا کھڑے نظر آرہے ہیں ،جو امریکا جیسی سپر پاور کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے پر ابتدا سے ہی کڑی تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی بارہا اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد یہ معاہدہ ختم کردیں گے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق ایران اس معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے ،جبکہ وائٹ ہائوس مسلسل یہ الزام لگاتا آیا ہے کہ ایران معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل پیرا نہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہاتھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی تعاون کے سمجھوتے کے حوالے سے فیصلے تک پہنچ گئے ہیںکہ آیا امریکا کو 2015کے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہو جانا چاہیے، جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار تشکیل دینے کا راستہ ترک کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔تاہم ٹرمپ نے یہ بتانے سے احتراز کیا آیا اْنھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔لیکن، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے ساتھ امریکا کی تلخی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جس سے ایک ہی روز قبل اْنھوں نے یہ کہتے ہوئے ایران کی مذمت کی تھی کہ، ’’معاشی طور پر کمزور من مانی کرنے والا یہ وہ ملک ہے، جس کی خاص برآمدات تشدد، خونریزی اور افراتفری‘‘ ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر، ایچ آر مک ماسٹر نے ایران کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خیالات کی تائید کی ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان خیالات کے حامی ہیں کہ امریکا کو 2015میں جوہری ہتھیاروں کی تشکیل ترک کرنے کے عوض ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہوجانا چاہئے۔ اْنھوں نے بتایا کہ فیصلہ ایران کے بارے میں امریکا کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔مک ماسٹر نے ’این بی سی‘ کے پروگرام ’ٹوڈے شو‘ نے کہا کہ ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان بنیادی طور پر یہ اْس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں ایران کے عدم استحکام پیدا کرنے کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم امریکی مفادات کے تحفظ کو اولیت دی جائے گی۔ایسے میں جب مک ماسٹر نے فیصلے پر روشنی نہیں ڈالی، اْنھوں نے تسلیم کیا کہ یہ بات ’’واضح ہے‘‘ کہ ٹرمپ سمجھوتے کے کچھ حصوں پر دوبارہ غور و خوض کرانا چاہتے ہیں جس کا تعلق معاہدے کی میعاد پوری ہونے اور ایران کے بیلسٹک میزائیل پروگرام سے ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں عالمی تنظیم کے 193 ملکوں کے سربراہان کے سالانہ اجتماع کو بتایا کہ ایران کسی کی دھمکی برداشت نہیں کرتا اور ٹرمپ کی شکایات سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ روحانی نے انھیں ’’بدنما، لاعلمی پر مبنی الفاظ‘‘ قرار دیا۔بظاہر امریکی سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے، روحانی نے کہا کہ دنیا کی سیاست میں ایک نووارد ’’آوارہ فرد‘‘ کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی ’’تباہی‘‘ سے ایران کو پیش قدمی اور ترقی کی راہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔روحانی نے کہا کہ ’’ایران سمجھوتے کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کرے گا۔ لیکن کسی فریق کی جانب سے اس کی خلاف ورزی پر وہ فیصلہ کْن اور پختہ جواب دے گا۔ بین الاقوامی فیصلوں کی خلاف ورزی کرکے، نئی امریکی انتظامیہ آئندہ نسلوں کی نظروں میں اپنی ساکھ گنوا دے گی‘‘۔ایک ٹوئٹر پیغام میں، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹرمپ کے دعووں کو ’’ لاعلمی، نفرت پر مبنی خطاب‘‘ قرار دیا، جس کا تعلق قرون وسطیٰ کے دور سے تھا، نہ کہ 21 ویں صدی کی اقوام متحدہ سے‘‘۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطالبات پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ کسی ملک کی اجازت لیے بغیر ایران میزائل کی اپنی استعداد بڑھائے گا۔ایران کے صدر روحانی نے ایک فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں، ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ 2000 کلومیٹر (1200میل) کے فاصلے تک مار کرنے والا ایک نیا بیلسٹک میزائل نمائش کے لیے آویزاں کیا گیا ہے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’تسنیم نیوز ایجنسی‘، نے یہ بات پاسدارانِ انقلاب کی ’ایئرواسپیس ڈویڑن‘ کے سربراہ، امیر علی حجازی زادہ کے حوالے سے کہی ہے۔ تاہم، میزائل کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اپنی میزائل صلاحیت بڑھا رہا ہے؛ اور الزام لگایا کہ وہ اپنی شدت پسند کارروائیاں یمن، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں کی جانب برآمد کر رہا ہے۔ٹرمپ نے 2015 میں امریکا اور چھ دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کے ساتھ طے کیے گئے جوہری معاہدے پر بھی نکتہ چینی کی، جس میں معاشی تعزیرات میں نرمی کے بدلے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا۔
سرکاری ٹیلی ویڑن پر نشر کردہ خطاب میں، روحانی نے کہا کہ ’’طاقت کے ضروری مظاہرے کے طور پر، ہم اپنی دفاعی طاقت بڑھائیں گے۔ ہم اپنی میزائل صلاحیتوں کو مضبوط کریں گے۔ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہم کسی سے اجازت نہیں لیں گے‘‘۔صدرروحانی کے الفاظ میں ’’اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں، ماسوائے امریکا اور (اسرائیل) کی یہودی حکومت کے‘‘، تمام ملکوں نے جوہری معاہدے کی حمایت کی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی کہا ہے کہ معاہدے کو تبدیل کیا جائے ورنہ امریکا اس کا پابند نہیں رہے گا۔ ایران نے کہا ہے کہ اْس کے جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔امریکا کی جانب سے معاہدے سے ہٹنے کے امکان نے امریکا کے اْن اتحادیوں کو پریشان کیا ہے جنھوں نے سمجھوتہ طے کرنے میں مدد کی تھی، خاص طور پر ایسے میں جب دنیا شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل سے نبردآزما ہے۔
چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے کہا ہے کہ جزیرہ کوریا کے بارے میں تناؤ ایرانی سمجھوتے کی اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے اور چین اْس کی حمایت جاری رکھے گا۔بیلسٹک میزائل کے تجربے کے بعد، ٹرمپ نے فروری میں ایران کو انتباہ جاری کیا تھا اور اْس کا میزائل پروگرام، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں اپنے عزائم کو بڑھاوا دینا تھا، کی پاداش میں جولائی میں نئی معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے یکطرفہ تعزیرات عائد کرنا ’’غیر قانونی اقدام ہے اور اجتماعی نوعیت کی بین الاقوامی کوششوں کے لیے نقصاندہ ہے‘‘۔
امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے ایران کے بارے میںصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات سے عدم اتفاق کرتے ہوئے اس بات پرزور دیا ہے کہ امریکا کو 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری سمجھوتے میں شامل رہنا چاہیئے، حالانکہ معاہدے کے بارے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ شدید تنقید کر چکے ہیں۔میٹس نے سینیٹ کی مسلح افواج کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’’اگر ہم اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ ایران سمجھوتے کی پاسداری کر رہا ہے، اگر ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ یہی ہمارے بہترین مفاد میں ہے، تو ہمیں اس میں رہنا چاہیئے‘‘۔اْنھوں نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ اس مرحلے پر، اس کے برعکس معاملے پر، یہ ایسی بات ہے کہ صدر کو اس میں رہنے پر غور کرنا چاہیئے‘‘۔امریکی محکمہ خارجہ دو ہفتے کے اندر اندر کانگریس کو اس بات کی تصدیق کرے گا آیا ایران معاہدے کی شرائط میں عمل کر رہا ہے، جسے باضابطہ طور پر مشترکہ مربوط اقدام کا طریقہ کار کہا جاتا ہے۔ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اْنھوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے، لیکن ابھی یورپی سربراہان کو اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، جن میں برطانیہ کی تھریسا مے شامل ہیں، جنھوں نے، اطلاعات کے مطابق، گذشتہ ماہ اقوام متحدہ میں ہونے والی ایک دوطرفہ ملاقات میں اس متعلق پوچھا تھا۔ ٹرمپ اپنے پیش رو، بارک اوباما کے سخت ناقد رہے ہیں، جو اِسے اپنی فخریہ خارجہ پالیسی کی کامیابی خیال کیا کرتے تھے۔گذشتہ سال، صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ اِسے ’’خراب سمجھوتہ‘‘ قرار دے چکے ہیں، جسے، بقول اْن کے، وہ ختم کر دیں گے۔ اور گذشتہ ماہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اْنھوں نے معاہدے کو ’’شرمندگی کا باعث‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکا کی جانب سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ بدترین اور سب سے زیادہ یک طرفہ نوعیت کا معاہدہ ہے‘‘۔
جہاںتک ایران کے ساتھ معاہدے کاتعلق ہے تو اس حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ یہ صرف امریکا اورایران کے درمیان دوملکی معاہدہ نہیں ہے بلکہ اس معاہدے میں ایران اور امریکا کے علاوہ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں ،اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ فیصلہ تصور کیاجائے گا اور امریکا ایران کے خلاف خود تو پابندیاں عاید کرسکے گا لیکن عالمی سطح پر کسی طرح کی پابندی عاید نہیں کراسکے گا ایسی صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ توڑنے کاسب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہی ہوگا، اور امریکی ادارے ایران کو کی جانے والی برآمدات سے ہونے والی آمدنی سے محروم ہوجائیں گے،جس سے امریکا کی کمزور پڑتی معیشت مزید زیر بار ہوگی اور اس کانقصان بحیثیت مجموعی پوری امریکی قوم کو برداشت کرنا پڑے گا جبکہ ایران دیگر ممالک سے اپنی پسند کی اشیا خرید کر اور ان ممالک کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کرکے ان پابندیوں سے ہونے والے نقصان کابآسانی ازالہ کرلے گا۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے اب تک کے بیانات اور کارروائیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ضدی مزاج کے مالک ہیں اور وہ امریکی معیشت اور امریکی عوام کو پہنچنے والے نقصان کو نظر انداز کرکے ایران کے خلاف پابندی لگانے کی اپنی ضد ضرور پوری کریں گے۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی مظاہرین کیخلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی وجود - بدھ 03 جون 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں بڑی تعداد میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں بے امنی انتہائی ذلت آمیز ہے، لاقانونیت اور تشدد کے خاتمے کے لیے فوج کو متحرک کیا جائے گا، بطور صدر میری پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری امریکا اور اس کے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوٹ مار، جلاو ٔگھیراؤ کو روکنے کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کر رہا ہوں...

ٹرمپ کی مظاہرین کیخلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی

ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے کمزور پڑنے کے دعوے مسترد کر دیے وجود - بدھ 03 جون 2020

عالمی ادارہ صحت نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا ہے کہ کورونا وائرس اپنی طاقت کھو رہا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی میں ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ وائرس اب کم جان لیوا ہو گیا ہے ۔ پروفیسر البرٹو زنگریلو جو کہ سین رافائل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ کے سربراہ ہیں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اب کلینیکلی موجود نہیں ہے ۔تاہم کئی سائنسدانوں جن میں ڈبلیو ایچ او کے ماہرین بھی شامل ہیں کا کہنا تھا کہ اس خیال کے کوئء شواہد موجود نہیں ہیں...

ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے کمزور پڑنے کے دعوے مسترد کر دیے

سیاہ فام شہری کا قتل،بطوراحتجاج فیس بک نے اپنا لوگو سیاہ کر دیا وجود - بدھ 03 جون 2020

امریکا میں پولیس کی حراست میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر فسادات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ احتجاج میں فیس بک سمیت کئی کمپنیاں بھی شریک ہو گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک نے سیاہ فام شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئی اپنا لوگو سیاہ کر دیا جب کہ کمپنی کے بانی نے اس حوالے سے ایک طویل مضمون بھی تحریر کیا ۔فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اپنی طویل پوسٹ میں کہا کہ ہم سیاہ فارم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان تمام کے ساتھ بھی جو انصاف کیلئے کام کر رہے ہیں جارج فلوئیڈ، بریونا ٹیلر، احمود آر...

سیاہ فام شہری کا قتل،بطوراحتجاج فیس بک نے اپنا لوگو سیاہ کر دیا

انہیں سانس لینے دیں، ایران کا امریکا سے عوام پر تشدد روکنے کا مطالبہ وجود - بدھ 03 جون 2020

ایران نے امریکا میں جاری احتجاج کی لہر میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ اپنے عوام پر تشدد بند کرے ۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ امریکا پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے اپنے ہی لوگوں پر تشدد کو بند کرے ۔انہوں نے امریکی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ریاست کے جبر پر دنیا نے آپ کی چیخ پکار سن لی ہے ، دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ترجمان نے امریکی حکام اور پولیس کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ...

انہیں سانس لینے دیں، ایران کا امریکا سے عوام پر تشدد روکنے کا مطالبہ

امارات ائیرلائن کو سابقہ مقامات پر پروازوں کی بحالی میں چار سال لگیں گے وجود - بدھ 03 جون 2020

دبئی کی قومی فضائی کمپنی امارات ائیرلائن کے سبکدوش ہونیوالے صدر ٹِم کلارک نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ان کی فضائی کمپنی کو اپنے تمام سابقہ مقامات اور نیٹ ورک پر پروازوں کی بحالی میں کم سے کم چار سال لگیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹِم کلارک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں چارسال تک ہم چیزوں کو معمول پر آتا ہوا دیکھ سکیں گے ۔امید ہے کہ تب تک امارات اپنے نیٹ ورک پر پروازیں چلا رہی ہوگی اور پہلے کی طرح کامیاب ہوچکی ہوگی۔ٹِم کلارک نے کہا کہ ہوابازی کی صنعت آیندہ سال ...

امارات ائیرلائن کو سابقہ مقامات پر پروازوں کی بحالی میں چار سال لگیں گے

باراک اوباما کی امریکا میں پرتشدد احتجاج کی شدید مذمت وجود - بدھ 03 جون 2020

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے پیر کے روز ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں تشدد کے استعمال کی مذمت کی تاہم اصلاحات کے خواہاں پرامن مظاہرین کے اقدامات کی تعریف کی ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اوباما نے آن لائن میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ مظاہرین کی اکثریت پر امن ہے لیکن ایک مٹھی بھر عناصر لوگوں اور اصلاحات کے لیے پرامن احتجاج کرنے والوں کے لیے خطرہ ہیں۔ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے قبل دو بار امریکا کے صدر رہنے والے ڈیمو...

باراک اوباما کی امریکا میں پرتشدد احتجاج کی شدید مذمت

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور دو وزرا کا کرونا کا شکار ہونے کا شبہ وجود - بدھ 03 جون 2020

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور ان کی حکومت کیدو وزرا کے کرونا کیمریض سے میل جول کی وجہ سے خود کرونا کی وبا کا شکار ہونے کا شبہ ہے جس کیبعد انہیں الگ تھلگ کیا جاسکتا ہے ۔اسرائیل کے ٹی وی نے بتایا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر میں کام کرنے والے ایک ملازم کو کرونا وائرس کا انفکشن ہوا تھا۔ اس کا طبی معائنہ کیا گیا جس پر وہ کرونا کا مصدقہ مریض نکلا۔ طبی تحقیقات کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ ملازم وزیراعظم کے دفتر میں ڈیوٹی پر تھا۔ حکام اس بات کی چھان بین کررہے ہیں کہ آیا کر...

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور دو وزرا کا کرونا کا شکار ہونے کا شبہ

امریکا، کرفیو کے باوجود سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج وجود - منگل 02 جون 2020

امریکا کے کئی شہروں میں کرفیو اور پابندیوں کے باوجود پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج اور ریلیاں نکالی گئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سیاٹل سے نیو یارک تک ہزاروں افراد نے مارچ کیا، مظاہرین رکاوٹیں اور جنگلے گرا کر وائٹ ہاوس کے قریب پہنچ گئے ۔ امریکی دارالحکومت میں رات کا کرفیو لگادیا گیا۔واشنگٹن ڈی سی میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کر فیو رہے گا۔ ہفتے کی رات پولیس پر حملے ، ہنگاموں، جلاوگھیراو کے بعد 15 ریاستوں میں نیشنل گارڈز کا گشت جاری ہے ۔پرتشدد مظا...

امریکا، کرفیو کے باوجود سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج

کورونا وائرس اب پہلے جیسا جان لیوا نہیں رہا، اطالوی ڈاکٹروں کا دعویٰ وجود - منگل 02 جون 2020

اٹلی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے کورونا وائرس اب اتنا جان لیوا نہیں رہا جتنا عالمی وبا کے آغاز پر تھا۔مییا رپورٹ کے مطابق میلان کے سان ریفایلی ہاسپٹل کے سربراہ ڈاکٹر البرٹو زینگریلو نے ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ طبی لحاظ سے یہ وائرس اب اٹلی میں موجود نہیں۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ 10 دن کے دوران سواب ٹیسٹوں میں جو وائرل لوڈ دیکھا گیا وہ ایک یا 2 ماہ قبل کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔انہوں نے اطالوی حکومت پر لاک ڈاؤن کی پابندیاں اٹھانے...

کورونا وائرس اب پہلے جیسا جان لیوا نہیں رہا، اطالوی ڈاکٹروں کا دعویٰ

کورونا کے مریضوں کو کئی ماہ تک سانس کے مسائل ہوسکتے ہیں، تحقیق وجود - منگل 02 جون 2020

کورونا وائرس کے مریضوں کو صحتیابی کے بعد کئی ماہ تک بہت زیادہ تھکاوٹ اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ایک مقالے میں بتائی۔برطانوی حکومت کے سائنٹیفک ایڈوائزری گروپ آن ایمرجنسیز کی جانب سے جاری مقالے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ وائرس طویل المعیاد بنیادوں پر طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے ۔سائنسدانوں نے 7 مئی کو ملاقات کرکے کورونا وائرس سے منسلک متعدد پیچیدگیوں بشمول فالج، گردوں کے امراض اور اعضا کے ا...

کورونا کے مریضوں کو کئی ماہ تک سانس کے مسائل ہوسکتے ہیں، تحقیق

امریکی ریاستوں کے گورنر تخریب کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، ٹرمپ وجود - منگل 02 جون 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب ریاستی گورنرز پر زور دیا کہ وہ تشدد اور تخریب کاری کے مرتکب عناصر سے سختی سے نمٹیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹرپر پوسٹ کردہ متعدد ٹویٹس میں انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پرتشدد اور خونی مظاہروں کی روک تھام کے لیے نیشنل گارڈ کو طلب کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ انتشار پسندوں کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ تخریب کاروں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا جائے ۔ ان کا ک...

امریکی ریاستوں کے گورنر تخریب کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، ٹرمپ

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت وجود - اتوار 31 مئی 2020

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ دو ماہ سے بند مسجد بنوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دیدی۔سعودی میڈیا کے مطابق مسجد نبوی میں 31 مئی سے عام نمازیوں کے داخلے کی اجازت ہوگی اور خادمین الحرمین الشریفین نے اس فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔سعودی حکام کے مطابق احتیاطی تدابیرکے ساتھ مسجد نبوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کے احکامات دئیے گئے ۔ مسجد نبوی میں 40 فیصد نمازیوں کو ابتدائی دنوں میں داخلے کی اجازت ہو گی اور حکام کی جانب س...

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت