وجود

... loading ...

وجود

ایٹمی سمجھوتے پر ایران امریکا تنازعہ‘ڈونلڈ ٹرمپ تنہا کھڑے ہیں

بدھ 11 اکتوبر 2017 ایٹمی سمجھوتے پر ایران امریکا تنازعہ‘ڈونلڈ ٹرمپ تنہا کھڑے ہیں

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ آئندہ ہفتے صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق نہیں کریں گے اور یہ معاملہ کانگریس کو بھیج دیں گے تاکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کی جا سکیں۔جوہری معاہدے کے تحت صدر ٹرمپ ہر تین ماہ بعد کانگریس کو یہ بتانے کے پابند ہیں کہ ایران اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کر رہا ہے۔امریکی صدر کو معاہدے پر عمل درآمد کی اگلی تصدیق 15 اکتوبر سے قبل کرنی ہے۔
امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جمعرات کو صحافیوں کو بتایا ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے موقف کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دیں گے۔امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اقدام کے نتیجے میں 2015میں طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم تو نہیں ہوگا البتہ اس کے بعد امریکی ارکانِ کانگریس کے پاس یہ طے کرنے کے لیے 60 روز کا وقت ہوگا کہ آیا ایران پر وہ پابندیاں دوبارہ عائد کی جائیں یا نہیں جنہیں اس معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی تصدیق نہ کرنے کی صورت میں معاہدے پر از سرِ نو مذاکرات کی راہ بھی کھل سکتی ہے لیکن ایران کے صدر حسن روحانی اس آپشن کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔ایران کے ساتھ یہ معاہدہ سابق صدربارک اوباما کی حکومت نے کیا تھا جس پر دستخط کرنے والوں میں ایران اور امریکا کے علاوہ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں،اور ان میں سے کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ معاہدے کو ختم کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے حق میں نہیں ہے اس لیے اس اہم مسئلے پر ایک دفعہ پھر امریکی صدر ڈونلڈ تنہا کھڑے نظر آرہے ہیں ،جو امریکا جیسی سپر پاور کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے پر ابتدا سے ہی کڑی تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی بارہا اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد یہ معاہدہ ختم کردیں گے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق ایران اس معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے ،جبکہ وائٹ ہائوس مسلسل یہ الزام لگاتا آیا ہے کہ ایران معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل پیرا نہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہاتھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی تعاون کے سمجھوتے کے حوالے سے فیصلے تک پہنچ گئے ہیںکہ آیا امریکا کو 2015کے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہو جانا چاہیے، جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار تشکیل دینے کا راستہ ترک کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔تاہم ٹرمپ نے یہ بتانے سے احتراز کیا آیا اْنھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔لیکن، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے ساتھ امریکا کی تلخی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جس سے ایک ہی روز قبل اْنھوں نے یہ کہتے ہوئے ایران کی مذمت کی تھی کہ، ’’معاشی طور پر کمزور من مانی کرنے والا یہ وہ ملک ہے، جس کی خاص برآمدات تشدد، خونریزی اور افراتفری‘‘ ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر، ایچ آر مک ماسٹر نے ایران کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خیالات کی تائید کی ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان خیالات کے حامی ہیں کہ امریکا کو 2015میں جوہری ہتھیاروں کی تشکیل ترک کرنے کے عوض ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہوجانا چاہئے۔ اْنھوں نے بتایا کہ فیصلہ ایران کے بارے میں امریکا کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔مک ماسٹر نے ’این بی سی‘ کے پروگرام ’ٹوڈے شو‘ نے کہا کہ ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان بنیادی طور پر یہ اْس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں ایران کے عدم استحکام پیدا کرنے کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم امریکی مفادات کے تحفظ کو اولیت دی جائے گی۔ایسے میں جب مک ماسٹر نے فیصلے پر روشنی نہیں ڈالی، اْنھوں نے تسلیم کیا کہ یہ بات ’’واضح ہے‘‘ کہ ٹرمپ سمجھوتے کے کچھ حصوں پر دوبارہ غور و خوض کرانا چاہتے ہیں جس کا تعلق معاہدے کی میعاد پوری ہونے اور ایران کے بیلسٹک میزائیل پروگرام سے ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں عالمی تنظیم کے 193 ملکوں کے سربراہان کے سالانہ اجتماع کو بتایا کہ ایران کسی کی دھمکی برداشت نہیں کرتا اور ٹرمپ کی شکایات سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ روحانی نے انھیں ’’بدنما، لاعلمی پر مبنی الفاظ‘‘ قرار دیا۔بظاہر امریکی سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے، روحانی نے کہا کہ دنیا کی سیاست میں ایک نووارد ’’آوارہ فرد‘‘ کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی ’’تباہی‘‘ سے ایران کو پیش قدمی اور ترقی کی راہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔روحانی نے کہا کہ ’’ایران سمجھوتے کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کرے گا۔ لیکن کسی فریق کی جانب سے اس کی خلاف ورزی پر وہ فیصلہ کْن اور پختہ جواب دے گا۔ بین الاقوامی فیصلوں کی خلاف ورزی کرکے، نئی امریکی انتظامیہ آئندہ نسلوں کی نظروں میں اپنی ساکھ گنوا دے گی‘‘۔ایک ٹوئٹر پیغام میں، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹرمپ کے دعووں کو ’’ لاعلمی، نفرت پر مبنی خطاب‘‘ قرار دیا، جس کا تعلق قرون وسطیٰ کے دور سے تھا، نہ کہ 21 ویں صدی کی اقوام متحدہ سے‘‘۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطالبات پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ کسی ملک کی اجازت لیے بغیر ایران میزائل کی اپنی استعداد بڑھائے گا۔ایران کے صدر روحانی نے ایک فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں، ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ 2000 کلومیٹر (1200میل) کے فاصلے تک مار کرنے والا ایک نیا بیلسٹک میزائل نمائش کے لیے آویزاں کیا گیا ہے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’تسنیم نیوز ایجنسی‘، نے یہ بات پاسدارانِ انقلاب کی ’ایئرواسپیس ڈویڑن‘ کے سربراہ، امیر علی حجازی زادہ کے حوالے سے کہی ہے۔ تاہم، میزائل کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اپنی میزائل صلاحیت بڑھا رہا ہے؛ اور الزام لگایا کہ وہ اپنی شدت پسند کارروائیاں یمن، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں کی جانب برآمد کر رہا ہے۔ٹرمپ نے 2015 میں امریکا اور چھ دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کے ساتھ طے کیے گئے جوہری معاہدے پر بھی نکتہ چینی کی، جس میں معاشی تعزیرات میں نرمی کے بدلے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا۔
سرکاری ٹیلی ویڑن پر نشر کردہ خطاب میں، روحانی نے کہا کہ ’’طاقت کے ضروری مظاہرے کے طور پر، ہم اپنی دفاعی طاقت بڑھائیں گے۔ ہم اپنی میزائل صلاحیتوں کو مضبوط کریں گے۔ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہم کسی سے اجازت نہیں لیں گے‘‘۔صدرروحانی کے الفاظ میں ’’اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں، ماسوائے امریکا اور (اسرائیل) کی یہودی حکومت کے‘‘، تمام ملکوں نے جوہری معاہدے کی حمایت کی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی کہا ہے کہ معاہدے کو تبدیل کیا جائے ورنہ امریکا اس کا پابند نہیں رہے گا۔ ایران نے کہا ہے کہ اْس کے جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔امریکا کی جانب سے معاہدے سے ہٹنے کے امکان نے امریکا کے اْن اتحادیوں کو پریشان کیا ہے جنھوں نے سمجھوتہ طے کرنے میں مدد کی تھی، خاص طور پر ایسے میں جب دنیا شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل سے نبردآزما ہے۔
چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے کہا ہے کہ جزیرہ کوریا کے بارے میں تناؤ ایرانی سمجھوتے کی اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے اور چین اْس کی حمایت جاری رکھے گا۔بیلسٹک میزائل کے تجربے کے بعد، ٹرمپ نے فروری میں ایران کو انتباہ جاری کیا تھا اور اْس کا میزائل پروگرام، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں اپنے عزائم کو بڑھاوا دینا تھا، کی پاداش میں جولائی میں نئی معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے یکطرفہ تعزیرات عائد کرنا ’’غیر قانونی اقدام ہے اور اجتماعی نوعیت کی بین الاقوامی کوششوں کے لیے نقصاندہ ہے‘‘۔
امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے ایران کے بارے میںصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات سے عدم اتفاق کرتے ہوئے اس بات پرزور دیا ہے کہ امریکا کو 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری سمجھوتے میں شامل رہنا چاہیئے، حالانکہ معاہدے کے بارے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ شدید تنقید کر چکے ہیں۔میٹس نے سینیٹ کی مسلح افواج کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’’اگر ہم اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ ایران سمجھوتے کی پاسداری کر رہا ہے، اگر ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ یہی ہمارے بہترین مفاد میں ہے، تو ہمیں اس میں رہنا چاہیئے‘‘۔اْنھوں نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ اس مرحلے پر، اس کے برعکس معاملے پر، یہ ایسی بات ہے کہ صدر کو اس میں رہنے پر غور کرنا چاہیئے‘‘۔امریکی محکمہ خارجہ دو ہفتے کے اندر اندر کانگریس کو اس بات کی تصدیق کرے گا آیا ایران معاہدے کی شرائط میں عمل کر رہا ہے، جسے باضابطہ طور پر مشترکہ مربوط اقدام کا طریقہ کار کہا جاتا ہے۔ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اْنھوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے، لیکن ابھی یورپی سربراہان کو اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، جن میں برطانیہ کی تھریسا مے شامل ہیں، جنھوں نے، اطلاعات کے مطابق، گذشتہ ماہ اقوام متحدہ میں ہونے والی ایک دوطرفہ ملاقات میں اس متعلق پوچھا تھا۔ ٹرمپ اپنے پیش رو، بارک اوباما کے سخت ناقد رہے ہیں، جو اِسے اپنی فخریہ خارجہ پالیسی کی کامیابی خیال کیا کرتے تھے۔گذشتہ سال، صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ اِسے ’’خراب سمجھوتہ‘‘ قرار دے چکے ہیں، جسے، بقول اْن کے، وہ ختم کر دیں گے۔ اور گذشتہ ماہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اْنھوں نے معاہدے کو ’’شرمندگی کا باعث‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکا کی جانب سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ بدترین اور سب سے زیادہ یک طرفہ نوعیت کا معاہدہ ہے‘‘۔
جہاںتک ایران کے ساتھ معاہدے کاتعلق ہے تو اس حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ یہ صرف امریکا اورایران کے درمیان دوملکی معاہدہ نہیں ہے بلکہ اس معاہدے میں ایران اور امریکا کے علاوہ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں ،اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ فیصلہ تصور کیاجائے گا اور امریکا ایران کے خلاف خود تو پابندیاں عاید کرسکے گا لیکن عالمی سطح پر کسی طرح کی پابندی عاید نہیں کراسکے گا ایسی صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ توڑنے کاسب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہی ہوگا، اور امریکی ادارے ایران کو کی جانے والی برآمدات سے ہونے والی آمدنی سے محروم ہوجائیں گے،جس سے امریکا کی کمزور پڑتی معیشت مزید زیر بار ہوگی اور اس کانقصان بحیثیت مجموعی پوری امریکی قوم کو برداشت کرنا پڑے گا جبکہ ایران دیگر ممالک سے اپنی پسند کی اشیا خرید کر اور ان ممالک کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کرکے ان پابندیوں سے ہونے والے نقصان کابآسانی ازالہ کرلے گا۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے اب تک کے بیانات اور کارروائیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ضدی مزاج کے مالک ہیں اور وہ امریکی معیشت اور امریکی عوام کو پہنچنے والے نقصان کو نظر انداز کرکے ایران کے خلاف پابندی لگانے کی اپنی ضد ضرور پوری کریں گے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر