وجود

... loading ...

وجود

ایٹمی سمجھوتے پر ایران امریکا تنازعہ‘ڈونلڈ ٹرمپ تنہا کھڑے ہیں

بدھ 11 اکتوبر 2017 ایٹمی سمجھوتے پر ایران امریکا تنازعہ‘ڈونلڈ ٹرمپ تنہا کھڑے ہیں

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ آئندہ ہفتے صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق نہیں کریں گے اور یہ معاملہ کانگریس کو بھیج دیں گے تاکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کی جا سکیں۔جوہری معاہدے کے تحت صدر ٹرمپ ہر تین ماہ بعد کانگریس کو یہ بتانے کے پابند ہیں کہ ایران اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کر رہا ہے۔امریکی صدر کو معاہدے پر عمل درآمد کی اگلی تصدیق 15 اکتوبر سے قبل کرنی ہے۔
امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جمعرات کو صحافیوں کو بتایا ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے موقف کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دیں گے۔امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اقدام کے نتیجے میں 2015میں طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم تو نہیں ہوگا البتہ اس کے بعد امریکی ارکانِ کانگریس کے پاس یہ طے کرنے کے لیے 60 روز کا وقت ہوگا کہ آیا ایران پر وہ پابندیاں دوبارہ عائد کی جائیں یا نہیں جنہیں اس معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی تصدیق نہ کرنے کی صورت میں معاہدے پر از سرِ نو مذاکرات کی راہ بھی کھل سکتی ہے لیکن ایران کے صدر حسن روحانی اس آپشن کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔ایران کے ساتھ یہ معاہدہ سابق صدربارک اوباما کی حکومت نے کیا تھا جس پر دستخط کرنے والوں میں ایران اور امریکا کے علاوہ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں،اور ان میں سے کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ معاہدے کو ختم کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے حق میں نہیں ہے اس لیے اس اہم مسئلے پر ایک دفعہ پھر امریکی صدر ڈونلڈ تنہا کھڑے نظر آرہے ہیں ،جو امریکا جیسی سپر پاور کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے پر ابتدا سے ہی کڑی تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی بارہا اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد یہ معاہدہ ختم کردیں گے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق ایران اس معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے ،جبکہ وائٹ ہائوس مسلسل یہ الزام لگاتا آیا ہے کہ ایران معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل پیرا نہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہاتھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی تعاون کے سمجھوتے کے حوالے سے فیصلے تک پہنچ گئے ہیںکہ آیا امریکا کو 2015کے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہو جانا چاہیے، جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار تشکیل دینے کا راستہ ترک کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔تاہم ٹرمپ نے یہ بتانے سے احتراز کیا آیا اْنھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔لیکن، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے ساتھ امریکا کی تلخی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جس سے ایک ہی روز قبل اْنھوں نے یہ کہتے ہوئے ایران کی مذمت کی تھی کہ، ’’معاشی طور پر کمزور من مانی کرنے والا یہ وہ ملک ہے، جس کی خاص برآمدات تشدد، خونریزی اور افراتفری‘‘ ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر، ایچ آر مک ماسٹر نے ایران کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خیالات کی تائید کی ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان خیالات کے حامی ہیں کہ امریکا کو 2015میں جوہری ہتھیاروں کی تشکیل ترک کرنے کے عوض ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہوجانا چاہئے۔ اْنھوں نے بتایا کہ فیصلہ ایران کے بارے میں امریکا کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔مک ماسٹر نے ’این بی سی‘ کے پروگرام ’ٹوڈے شو‘ نے کہا کہ ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان بنیادی طور پر یہ اْس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں ایران کے عدم استحکام پیدا کرنے کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم امریکی مفادات کے تحفظ کو اولیت دی جائے گی۔ایسے میں جب مک ماسٹر نے فیصلے پر روشنی نہیں ڈالی، اْنھوں نے تسلیم کیا کہ یہ بات ’’واضح ہے‘‘ کہ ٹرمپ سمجھوتے کے کچھ حصوں پر دوبارہ غور و خوض کرانا چاہتے ہیں جس کا تعلق معاہدے کی میعاد پوری ہونے اور ایران کے بیلسٹک میزائیل پروگرام سے ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں عالمی تنظیم کے 193 ملکوں کے سربراہان کے سالانہ اجتماع کو بتایا کہ ایران کسی کی دھمکی برداشت نہیں کرتا اور ٹرمپ کی شکایات سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ روحانی نے انھیں ’’بدنما، لاعلمی پر مبنی الفاظ‘‘ قرار دیا۔بظاہر امریکی سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے، روحانی نے کہا کہ دنیا کی سیاست میں ایک نووارد ’’آوارہ فرد‘‘ کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی ’’تباہی‘‘ سے ایران کو پیش قدمی اور ترقی کی راہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔روحانی نے کہا کہ ’’ایران سمجھوتے کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کرے گا۔ لیکن کسی فریق کی جانب سے اس کی خلاف ورزی پر وہ فیصلہ کْن اور پختہ جواب دے گا۔ بین الاقوامی فیصلوں کی خلاف ورزی کرکے، نئی امریکی انتظامیہ آئندہ نسلوں کی نظروں میں اپنی ساکھ گنوا دے گی‘‘۔ایک ٹوئٹر پیغام میں، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹرمپ کے دعووں کو ’’ لاعلمی، نفرت پر مبنی خطاب‘‘ قرار دیا، جس کا تعلق قرون وسطیٰ کے دور سے تھا، نہ کہ 21 ویں صدی کی اقوام متحدہ سے‘‘۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطالبات پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ کسی ملک کی اجازت لیے بغیر ایران میزائل کی اپنی استعداد بڑھائے گا۔ایران کے صدر روحانی نے ایک فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں، ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ 2000 کلومیٹر (1200میل) کے فاصلے تک مار کرنے والا ایک نیا بیلسٹک میزائل نمائش کے لیے آویزاں کیا گیا ہے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’تسنیم نیوز ایجنسی‘، نے یہ بات پاسدارانِ انقلاب کی ’ایئرواسپیس ڈویڑن‘ کے سربراہ، امیر علی حجازی زادہ کے حوالے سے کہی ہے۔ تاہم، میزائل کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اپنی میزائل صلاحیت بڑھا رہا ہے؛ اور الزام لگایا کہ وہ اپنی شدت پسند کارروائیاں یمن، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں کی جانب برآمد کر رہا ہے۔ٹرمپ نے 2015 میں امریکا اور چھ دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کے ساتھ طے کیے گئے جوہری معاہدے پر بھی نکتہ چینی کی، جس میں معاشی تعزیرات میں نرمی کے بدلے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا۔
سرکاری ٹیلی ویڑن پر نشر کردہ خطاب میں، روحانی نے کہا کہ ’’طاقت کے ضروری مظاہرے کے طور پر، ہم اپنی دفاعی طاقت بڑھائیں گے۔ ہم اپنی میزائل صلاحیتوں کو مضبوط کریں گے۔ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہم کسی سے اجازت نہیں لیں گے‘‘۔صدرروحانی کے الفاظ میں ’’اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں، ماسوائے امریکا اور (اسرائیل) کی یہودی حکومت کے‘‘، تمام ملکوں نے جوہری معاہدے کی حمایت کی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی کہا ہے کہ معاہدے کو تبدیل کیا جائے ورنہ امریکا اس کا پابند نہیں رہے گا۔ ایران نے کہا ہے کہ اْس کے جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔امریکا کی جانب سے معاہدے سے ہٹنے کے امکان نے امریکا کے اْن اتحادیوں کو پریشان کیا ہے جنھوں نے سمجھوتہ طے کرنے میں مدد کی تھی، خاص طور پر ایسے میں جب دنیا شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل سے نبردآزما ہے۔
چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے کہا ہے کہ جزیرہ کوریا کے بارے میں تناؤ ایرانی سمجھوتے کی اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے اور چین اْس کی حمایت جاری رکھے گا۔بیلسٹک میزائل کے تجربے کے بعد، ٹرمپ نے فروری میں ایران کو انتباہ جاری کیا تھا اور اْس کا میزائل پروگرام، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں اپنے عزائم کو بڑھاوا دینا تھا، کی پاداش میں جولائی میں نئی معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے یکطرفہ تعزیرات عائد کرنا ’’غیر قانونی اقدام ہے اور اجتماعی نوعیت کی بین الاقوامی کوششوں کے لیے نقصاندہ ہے‘‘۔
امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے ایران کے بارے میںصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات سے عدم اتفاق کرتے ہوئے اس بات پرزور دیا ہے کہ امریکا کو 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری سمجھوتے میں شامل رہنا چاہیئے، حالانکہ معاہدے کے بارے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ شدید تنقید کر چکے ہیں۔میٹس نے سینیٹ کی مسلح افواج کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’’اگر ہم اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ ایران سمجھوتے کی پاسداری کر رہا ہے، اگر ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ یہی ہمارے بہترین مفاد میں ہے، تو ہمیں اس میں رہنا چاہیئے‘‘۔اْنھوں نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ اس مرحلے پر، اس کے برعکس معاملے پر، یہ ایسی بات ہے کہ صدر کو اس میں رہنے پر غور کرنا چاہیئے‘‘۔امریکی محکمہ خارجہ دو ہفتے کے اندر اندر کانگریس کو اس بات کی تصدیق کرے گا آیا ایران معاہدے کی شرائط میں عمل کر رہا ہے، جسے باضابطہ طور پر مشترکہ مربوط اقدام کا طریقہ کار کہا جاتا ہے۔ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اْنھوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے، لیکن ابھی یورپی سربراہان کو اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، جن میں برطانیہ کی تھریسا مے شامل ہیں، جنھوں نے، اطلاعات کے مطابق، گذشتہ ماہ اقوام متحدہ میں ہونے والی ایک دوطرفہ ملاقات میں اس متعلق پوچھا تھا۔ ٹرمپ اپنے پیش رو، بارک اوباما کے سخت ناقد رہے ہیں، جو اِسے اپنی فخریہ خارجہ پالیسی کی کامیابی خیال کیا کرتے تھے۔گذشتہ سال، صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ اِسے ’’خراب سمجھوتہ‘‘ قرار دے چکے ہیں، جسے، بقول اْن کے، وہ ختم کر دیں گے۔ اور گذشتہ ماہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اْنھوں نے معاہدے کو ’’شرمندگی کا باعث‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکا کی جانب سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ بدترین اور سب سے زیادہ یک طرفہ نوعیت کا معاہدہ ہے‘‘۔
جہاںتک ایران کے ساتھ معاہدے کاتعلق ہے تو اس حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ یہ صرف امریکا اورایران کے درمیان دوملکی معاہدہ نہیں ہے بلکہ اس معاہدے میں ایران اور امریکا کے علاوہ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں ،اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ فیصلہ تصور کیاجائے گا اور امریکا ایران کے خلاف خود تو پابندیاں عاید کرسکے گا لیکن عالمی سطح پر کسی طرح کی پابندی عاید نہیں کراسکے گا ایسی صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ توڑنے کاسب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہی ہوگا، اور امریکی ادارے ایران کو کی جانے والی برآمدات سے ہونے والی آمدنی سے محروم ہوجائیں گے،جس سے امریکا کی کمزور پڑتی معیشت مزید زیر بار ہوگی اور اس کانقصان بحیثیت مجموعی پوری امریکی قوم کو برداشت کرنا پڑے گا جبکہ ایران دیگر ممالک سے اپنی پسند کی اشیا خرید کر اور ان ممالک کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کرکے ان پابندیوں سے ہونے والے نقصان کابآسانی ازالہ کرلے گا۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے اب تک کے بیانات اور کارروائیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ضدی مزاج کے مالک ہیں اور وہ امریکی معیشت اور امریکی عوام کو پہنچنے والے نقصان کو نظر انداز کرکے ایران کے خلاف پابندی لگانے کی اپنی ضد ضرور پوری کریں گے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر