وجود

... loading ...

وجود

ایٹمی سمجھوتے پر ایران امریکا تنازعہ‘ڈونلڈ ٹرمپ تنہا کھڑے ہیں

بدھ 11 اکتوبر 2017 ایٹمی سمجھوتے پر ایران امریکا تنازعہ‘ڈونلڈ ٹرمپ تنہا کھڑے ہیں

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ آئندہ ہفتے صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق نہیں کریں گے اور یہ معاملہ کانگریس کو بھیج دیں گے تاکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کی جا سکیں۔جوہری معاہدے کے تحت صدر ٹرمپ ہر تین ماہ بعد کانگریس کو یہ بتانے کے پابند ہیں کہ ایران اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کر رہا ہے۔امریکی صدر کو معاہدے پر عمل درآمد کی اگلی تصدیق 15 اکتوبر سے قبل کرنی ہے۔
امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جمعرات کو صحافیوں کو بتایا ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے موقف کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دیں گے۔امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اقدام کے نتیجے میں 2015میں طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم تو نہیں ہوگا البتہ اس کے بعد امریکی ارکانِ کانگریس کے پاس یہ طے کرنے کے لیے 60 روز کا وقت ہوگا کہ آیا ایران پر وہ پابندیاں دوبارہ عائد کی جائیں یا نہیں جنہیں اس معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی تصدیق نہ کرنے کی صورت میں معاہدے پر از سرِ نو مذاکرات کی راہ بھی کھل سکتی ہے لیکن ایران کے صدر حسن روحانی اس آپشن کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔ایران کے ساتھ یہ معاہدہ سابق صدربارک اوباما کی حکومت نے کیا تھا جس پر دستخط کرنے والوں میں ایران اور امریکا کے علاوہ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں،اور ان میں سے کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ معاہدے کو ختم کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے حق میں نہیں ہے اس لیے اس اہم مسئلے پر ایک دفعہ پھر امریکی صدر ڈونلڈ تنہا کھڑے نظر آرہے ہیں ،جو امریکا جیسی سپر پاور کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے پر ابتدا سے ہی کڑی تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی بارہا اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد یہ معاہدہ ختم کردیں گے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق ایران اس معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے ،جبکہ وائٹ ہائوس مسلسل یہ الزام لگاتا آیا ہے کہ ایران معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل پیرا نہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہاتھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی تعاون کے سمجھوتے کے حوالے سے فیصلے تک پہنچ گئے ہیںکہ آیا امریکا کو 2015کے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہو جانا چاہیے، جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار تشکیل دینے کا راستہ ترک کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔تاہم ٹرمپ نے یہ بتانے سے احتراز کیا آیا اْنھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔لیکن، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے ساتھ امریکا کی تلخی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جس سے ایک ہی روز قبل اْنھوں نے یہ کہتے ہوئے ایران کی مذمت کی تھی کہ، ’’معاشی طور پر کمزور من مانی کرنے والا یہ وہ ملک ہے، جس کی خاص برآمدات تشدد، خونریزی اور افراتفری‘‘ ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر، ایچ آر مک ماسٹر نے ایران کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خیالات کی تائید کی ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان خیالات کے حامی ہیں کہ امریکا کو 2015میں جوہری ہتھیاروں کی تشکیل ترک کرنے کے عوض ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہوجانا چاہئے۔ اْنھوں نے بتایا کہ فیصلہ ایران کے بارے میں امریکا کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔مک ماسٹر نے ’این بی سی‘ کے پروگرام ’ٹوڈے شو‘ نے کہا کہ ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان بنیادی طور پر یہ اْس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں ایران کے عدم استحکام پیدا کرنے کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم امریکی مفادات کے تحفظ کو اولیت دی جائے گی۔ایسے میں جب مک ماسٹر نے فیصلے پر روشنی نہیں ڈالی، اْنھوں نے تسلیم کیا کہ یہ بات ’’واضح ہے‘‘ کہ ٹرمپ سمجھوتے کے کچھ حصوں پر دوبارہ غور و خوض کرانا چاہتے ہیں جس کا تعلق معاہدے کی میعاد پوری ہونے اور ایران کے بیلسٹک میزائیل پروگرام سے ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں عالمی تنظیم کے 193 ملکوں کے سربراہان کے سالانہ اجتماع کو بتایا کہ ایران کسی کی دھمکی برداشت نہیں کرتا اور ٹرمپ کی شکایات سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ روحانی نے انھیں ’’بدنما، لاعلمی پر مبنی الفاظ‘‘ قرار دیا۔بظاہر امریکی سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے، روحانی نے کہا کہ دنیا کی سیاست میں ایک نووارد ’’آوارہ فرد‘‘ کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی ’’تباہی‘‘ سے ایران کو پیش قدمی اور ترقی کی راہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔روحانی نے کہا کہ ’’ایران سمجھوتے کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کرے گا۔ لیکن کسی فریق کی جانب سے اس کی خلاف ورزی پر وہ فیصلہ کْن اور پختہ جواب دے گا۔ بین الاقوامی فیصلوں کی خلاف ورزی کرکے، نئی امریکی انتظامیہ آئندہ نسلوں کی نظروں میں اپنی ساکھ گنوا دے گی‘‘۔ایک ٹوئٹر پیغام میں، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹرمپ کے دعووں کو ’’ لاعلمی، نفرت پر مبنی خطاب‘‘ قرار دیا، جس کا تعلق قرون وسطیٰ کے دور سے تھا، نہ کہ 21 ویں صدی کی اقوام متحدہ سے‘‘۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطالبات پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ کسی ملک کی اجازت لیے بغیر ایران میزائل کی اپنی استعداد بڑھائے گا۔ایران کے صدر روحانی نے ایک فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں، ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ 2000 کلومیٹر (1200میل) کے فاصلے تک مار کرنے والا ایک نیا بیلسٹک میزائل نمائش کے لیے آویزاں کیا گیا ہے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’تسنیم نیوز ایجنسی‘، نے یہ بات پاسدارانِ انقلاب کی ’ایئرواسپیس ڈویڑن‘ کے سربراہ، امیر علی حجازی زادہ کے حوالے سے کہی ہے۔ تاہم، میزائل کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اپنی میزائل صلاحیت بڑھا رہا ہے؛ اور الزام لگایا کہ وہ اپنی شدت پسند کارروائیاں یمن، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں کی جانب برآمد کر رہا ہے۔ٹرمپ نے 2015 میں امریکا اور چھ دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کے ساتھ طے کیے گئے جوہری معاہدے پر بھی نکتہ چینی کی، جس میں معاشی تعزیرات میں نرمی کے بدلے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا۔
سرکاری ٹیلی ویڑن پر نشر کردہ خطاب میں، روحانی نے کہا کہ ’’طاقت کے ضروری مظاہرے کے طور پر، ہم اپنی دفاعی طاقت بڑھائیں گے۔ ہم اپنی میزائل صلاحیتوں کو مضبوط کریں گے۔ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہم کسی سے اجازت نہیں لیں گے‘‘۔صدرروحانی کے الفاظ میں ’’اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں، ماسوائے امریکا اور (اسرائیل) کی یہودی حکومت کے‘‘، تمام ملکوں نے جوہری معاہدے کی حمایت کی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی کہا ہے کہ معاہدے کو تبدیل کیا جائے ورنہ امریکا اس کا پابند نہیں رہے گا۔ ایران نے کہا ہے کہ اْس کے جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔امریکا کی جانب سے معاہدے سے ہٹنے کے امکان نے امریکا کے اْن اتحادیوں کو پریشان کیا ہے جنھوں نے سمجھوتہ طے کرنے میں مدد کی تھی، خاص طور پر ایسے میں جب دنیا شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل سے نبردآزما ہے۔
چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے کہا ہے کہ جزیرہ کوریا کے بارے میں تناؤ ایرانی سمجھوتے کی اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے اور چین اْس کی حمایت جاری رکھے گا۔بیلسٹک میزائل کے تجربے کے بعد، ٹرمپ نے فروری میں ایران کو انتباہ جاری کیا تھا اور اْس کا میزائل پروگرام، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں اپنے عزائم کو بڑھاوا دینا تھا، کی پاداش میں جولائی میں نئی معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے یکطرفہ تعزیرات عائد کرنا ’’غیر قانونی اقدام ہے اور اجتماعی نوعیت کی بین الاقوامی کوششوں کے لیے نقصاندہ ہے‘‘۔
امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے ایران کے بارے میںصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات سے عدم اتفاق کرتے ہوئے اس بات پرزور دیا ہے کہ امریکا کو 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری سمجھوتے میں شامل رہنا چاہیئے، حالانکہ معاہدے کے بارے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ شدید تنقید کر چکے ہیں۔میٹس نے سینیٹ کی مسلح افواج کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’’اگر ہم اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ ایران سمجھوتے کی پاسداری کر رہا ہے، اگر ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ یہی ہمارے بہترین مفاد میں ہے، تو ہمیں اس میں رہنا چاہیئے‘‘۔اْنھوں نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ اس مرحلے پر، اس کے برعکس معاملے پر، یہ ایسی بات ہے کہ صدر کو اس میں رہنے پر غور کرنا چاہیئے‘‘۔امریکی محکمہ خارجہ دو ہفتے کے اندر اندر کانگریس کو اس بات کی تصدیق کرے گا آیا ایران معاہدے کی شرائط میں عمل کر رہا ہے، جسے باضابطہ طور پر مشترکہ مربوط اقدام کا طریقہ کار کہا جاتا ہے۔ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اْنھوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے، لیکن ابھی یورپی سربراہان کو اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، جن میں برطانیہ کی تھریسا مے شامل ہیں، جنھوں نے، اطلاعات کے مطابق، گذشتہ ماہ اقوام متحدہ میں ہونے والی ایک دوطرفہ ملاقات میں اس متعلق پوچھا تھا۔ ٹرمپ اپنے پیش رو، بارک اوباما کے سخت ناقد رہے ہیں، جو اِسے اپنی فخریہ خارجہ پالیسی کی کامیابی خیال کیا کرتے تھے۔گذشتہ سال، صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ اِسے ’’خراب سمجھوتہ‘‘ قرار دے چکے ہیں، جسے، بقول اْن کے، وہ ختم کر دیں گے۔ اور گذشتہ ماہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اْنھوں نے معاہدے کو ’’شرمندگی کا باعث‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکا کی جانب سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ بدترین اور سب سے زیادہ یک طرفہ نوعیت کا معاہدہ ہے‘‘۔
جہاںتک ایران کے ساتھ معاہدے کاتعلق ہے تو اس حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ یہ صرف امریکا اورایران کے درمیان دوملکی معاہدہ نہیں ہے بلکہ اس معاہدے میں ایران اور امریکا کے علاوہ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں ،اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ فیصلہ تصور کیاجائے گا اور امریکا ایران کے خلاف خود تو پابندیاں عاید کرسکے گا لیکن عالمی سطح پر کسی طرح کی پابندی عاید نہیں کراسکے گا ایسی صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ توڑنے کاسب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہی ہوگا، اور امریکی ادارے ایران کو کی جانے والی برآمدات سے ہونے والی آمدنی سے محروم ہوجائیں گے،جس سے امریکا کی کمزور پڑتی معیشت مزید زیر بار ہوگی اور اس کانقصان بحیثیت مجموعی پوری امریکی قوم کو برداشت کرنا پڑے گا جبکہ ایران دیگر ممالک سے اپنی پسند کی اشیا خرید کر اور ان ممالک کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کرکے ان پابندیوں سے ہونے والے نقصان کابآسانی ازالہ کرلے گا۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے اب تک کے بیانات اور کارروائیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ضدی مزاج کے مالک ہیں اور وہ امریکی معیشت اور امریکی عوام کو پہنچنے والے نقصان کو نظر انداز کرکے ایران کے خلاف پابندی لگانے کی اپنی ضد ضرور پوری کریں گے۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر