وجود

... loading ...

وجود

بھارت نے سکم پر کیسے قبضہ کیا

پیر 09 اکتوبر 2017 بھارت نے سکم پر کیسے قبضہ کیا

6 اپریل 1975 کی صبح سِکّم کے راجہ چوگیال کو اپنے شاہی محل کے گیٹ کے باہر بھارتی فوجیوں کے ٹرکوں کی آواز سنائی دی۔وہ دوڑ کر کھڑکی کے پاس پہنچے۔ ان کے شاہی محل کا چاروں طرف سے بھارتی فوجیوں نے محاصرہ کر رکھا تھا۔اس کے بعد مشین گنوں کے چلنے کی آواز گونجی اور شاہی محل کے دروازے پر تعینات بسنت کمار چیتری گولی کھا کر نیچے گرے۔ 5 ہزار بھارتی فوجیوں کو شاہی محل کے 243 محافظوں کو قابو کرنے میں صرف 30 منٹ لگے۔اسی روز تقریباً پونے ایک بجے کے بعد سِکّم کا بطور ایک آزاد ریاست کا درجہ ختم ہوگیا۔ چوگیال نے پوری دنیا کو ریڈیو پر خود ہی خبر دی اور کئی ملکوں میں ان کے اس ایمرجنسی پیغام کو سنا گیا۔
بعد ازاںسِکّم کے راجا چوگیال کو ان کے اپنے ہی محل میں نظربند کر دیا گیا۔دہلی کے میونسپلکمشنر بی ایس داس جب لنچ کر رہے تھے تو ان کے پاس بھارتی خارجہ سیکریٹری کیول سنگھ کا فون آیا کہ وہ ان سے ملنے فوری طور پر دفتر آجائیں۔یہ 7 اپریل، 1973 کادن تھا۔ جب داس وزارت خارجہ کے دفتر پہنچے تو کیول سنگھ نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہا: ‘آپ کو سِکّم حکومت کی ذمہ داری لینے کے لیے فوری طور پر گینگٹاک بھیجا جا رہا ہے۔ آپ کے پاس تیاری کے لیے صرف 24 گھنٹے ہیں۔بی ایس داس گینگٹاک پہنچے اور انھیں ایک جلوس کی شکل میں پیدل ان کی رہائش گاہ پر لے جایا گیا۔ اگلے روز جب انھوں نے چوگیال سے ملنے کا وقت مانگا تو انھوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ اپنے جوتشیوں سے صلاح و مشورے کے بعد ملاقات کے بارے میں سوچیں گے۔داس کہتے ہیں: ‘یہ ایک بس عذر تھا، دراصل وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ مجھے یا میرے عہدے کو تسلیم نہیں کرتے۔’اگلے روز چوگیال نے داس کو خود بلایا، لیکن میٹنگ ایک بہت ہی سخت ماحول میں ہوئی۔ چوگیال کا پہلا جملہ تھا: ‘مسٹر داس اس مغالطے میں مت رہیے گا کہ سکّم گوا ہے۔’
چوگیال کی پوری کوشش تھی کہ انھیں بھی بھوٹان جیسا ہی درجہ دیا جائے۔ ‘ چوگیال کا کہناتھا کہ ہم ایک آزاد، خودمختار ملک ہیں، آپ کو ہمارے آئین کے تحت ہی کام کرنا ہوگا، بھارت نے آپ کی سروسز ہماری حکومت کو سونپی ہیں، اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں کبھی دبانے کی کوشش مت کیجیے گا۔’
معروف سیاسی تجزیہ کارندر ملہوترا کا خیال تھا کہ سکّم کوبھار ت میں ضم کرنے کا خیال 1962 میں چین کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد آیا تھا۔ اسٹریٹیجک امور کے ماہرین نے محسوس کیا تھا کہ چین کی ‘چمبی وادی’ کے قریب بھارت کا صرف 21 میل کا علاقہ ہے جسے ‘سلّی گوڑی نیک’ کہا جاتا ہے۔اگر چینی چاہیں تو ایک گھنٹے میں اس علاقے کو الگ کر کے شمالی بھارت میں داخل ہوسکتے ہیں۔ سِکّم تو چین کی چمبی وادی سے بالکل جڑا ہوا ہے۔
سِکّم کے راجہ چوگیال نے ایک امریکی لڑکی ‘ہوپ کک’ سے شادی کی تھی۔ انھوں نے ہی چوگیال کو اکسانا شروع کیا تھا اور راجہ کو محسوس ہوا کہ اگر سِکّم کو مکمل طور پر آزاد کرنے کا مطالبہ کریں گے تو امریکاان کی حمایت کرے گا۔ لیکن بھارت اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
چوگیال کو ضرورت سے زیادہ شراب پینے کی عادت تھی جس کی وجہ سے ان کی اپنی اہلیہ کے ساتھ لڑائیاں ہونے لگیں۔ آخر میں، ہوپ کک نے سکّم کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور امریکہ واپس لوٹ گئیں۔ حالانکہ چوگیال نے ان سے اس مشکل گھڑی میں ساتھ رہنے کی درخواست کی لیکن محترمہ کک نے ان کی بات نہیں تسلیم کی۔داس انھیں چھوڑنے کے لیے گئے تھے۔ ان کے آخری الفاظ تھے: ‘مسٹر داس، میرے شوہر کا خیال رکھنا۔ اب میرا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔’
داس کہتے ہیں کہ8 مئی کو معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بھی چوگیال نے اسے دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انھوں نے اس سلسلے میں بہت سے لوگوں سے مدد بھی طلب کی۔اسی دوران سِکّم میں انتخابات کرانے کا اعلان ہوا جس میں چوگیال کی نیشنلسٹ پارٹی کو 32 میں سے صرف ایک سیٹ ملی۔اس دوران وہ نیپال کے بادشاہ کی تاجپوشی میں سرکاری مہمان کے طور پر کھٹمنڈو گئے۔ وہاں انھوں نے پاکستانی سفیر اور چین کے نائب وزیر اعظم چن سی لیو سے ملاقات کی اور ان سے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے تعاون کی درخواست کی۔
بی ایس داس نے انھیں تحریری طور پر بتایا کہ وہ بیرونی تعاون لینے کے چکر میں نہ پڑیں۔ ‘آپ کی خاندانی بادشاہت برقرار رہے گی۔ آپ کا بیٹا آپ کا جانشین بنے گا۔ لیکن آپ کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ پروٹیکٹیڈ ہیں اور آٹھ مئی کے معاہدے کو تسلیم کرتے ہیں۔’لیکن سِکّم کے راجا چوگیال نے ان کی نہیں سنی اور اس بات پر اصرار کیا کہ ‘میرا تو ایک آزاد ملک ہے اور میں اسے ترک کرنے والا نہیں ہوں
اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے سیکریٹری پی این ایس دھر نے اپنی کتاب ‘اندرا گاندھی، دی ایمرجنسی اینڈ انڈین ڈیموکریسی’ میں لکھتے ہیں اس معاملے میں ‘جس انداز سے چوگیال نے اندرا گاندھی کے سامنے اپنا موقف پیش کیا اس سے میں بہت متاثر ہوا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت سکّم میں جن سیاستدانوں پر انحصار کرتا ہے وہ اعتماد کے قابل نہیں ہیں۔لیکن بات بن نہیں پائی اور بالآخر اندرا گاندھی اور ان کی ملاقات بے معنی رہی۔داس کہتے ہیں کہ صرف ایک ہی بار انھوں نے چوگیال کو شکست خوردہ دیکھا۔ جب ان کا بیٹا اور ان کا وارث ایک حادثے میں ہلاک ہوگیا تو انھوں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔پھر 1982 میں کینسر سے ان کی موت ہوگئی۔
جب سِکّم کے بھارت میں انضمام کی مہم شروع ہوئی تو چین نے اس کا موازنہ روس کے چیکوسلوواکیا کے خلاف 1968 کے حملے سے کیا۔اس وقت اندرا گاندھی نے چین کو تبت پر حملہ یاد دلایا۔ بھوٹان اس سے یقینا خوش ہوا۔ لیکن نیپال میں اس کے خلاف سب سے زیادہ احتجاج ہوا۔ چونکہ سِکّم میں 75 فیصد آبادی نیپالی نژاد لوگوں کی تھی اس لیے وہاں اس پر ردِعمل بہت سخت ہوا تھا۔بھار ت میں بھی بعض حلقوں کی جانب سے اندرا گاندھی کے ان اقدام پر شدید نکتہ چینی ہوئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ سِکّم کو بھارت کے ساتھ ضم کرنے کی پوری مہم میں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی را نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
23 اپریل 1975 کوبھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا میں سِکّم کوبھارت کی 22ویں ریاست بنانے کا ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ اسی روز یہ بل 11 کے مقابلے 299 ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
اس وقت کے صدر فخرالدین علی احمد نے 15 مئی 1975 کو اس بل پر دستخط کیے اور اس کے ساتھ ہی سکّم سے نامگیال شاہی خاندان کا اقتدار ختم ہو گیا۔


متعلقہ خبریں


مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ وجود - اتوار 05 اپریل 2026

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم وجود - اتوار 05 اپریل 2026

15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب وجود - اتوار 05 اپریل 2026

جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو) وجود - اتوار 05 اپریل 2026

مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو)

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز وجود - اتوار 05 اپریل 2026

ملک بھر میں توانائی کی بچت کیلئے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز صوبائی حکومتیں کی چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت جاری ، ذرائع وزارتِ توانائی نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا۔ وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں چی...

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

مضامین
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا ! وجود اتوار 05 اپریل 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا !

امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر