وجود

... loading ...

وجود

پاک روس تعاون ،عروج کی نئی بلندیوں نے امریکا کوبوکھلا کر رکھ دیا

منگل 26 ستمبر 2017 پاک روس تعاون ،عروج کی نئی بلندیوں نے امریکا کوبوکھلا کر رکھ دیا

پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات ماضی میں ایسے نہیں رہے جنھیں بہت زیادہ خوشگوار یا قریبی قرار دیاجاسکے لیکن 1971 کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر جمی برف توڑنے کی کوشش کی اور وہ بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی رہے جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے پہلے دور حکومت یعنی ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوران پاک روس تعاون کو عروج حاصل ہوا اور روس ہی کے تعاون سے پاکستان فولاد سازی کے دور میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔ابھی ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی پیداہوئی ہی تھی کہ فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر پورا منظر ہی بدل کر رکھ ڈالا اور پھر افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف امریکا کا بھرپور ساتھ دے کر اور روس کے خلاف لڑنے کے لیے طالبان کوتربیت اور امریکی اسلحہ کی فراہمی کا پلیٹ فارم مہیا کرکے جنرل ضیا نے روس کے ساتھ تعلقات کو انتہائی نچلی سطح پر پہنچا دیا ۔
9/11 کے بعد پاک روس تعلقات میں ایک دفعہ پھر بہتری کے آثار پیداہوئے اور2002 میں اسٹریٹیجک استحکام کے حوالے سے پاک روس مشاورتی گروپ کے قیام سے دونوںملکوں کے درمیان تعلقات میں کسی حد تک گرمجوشی کے آثار پیداہوئے،اس گروپ کے قیام کا مقصد علاقائی استحکام کو درپیش خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے کارروائی اور اقدامات کرنا تھا۔ اس گروپ کے قیام کے دوران روس اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے جس کے بعد 2011 میں دونوں ملکوں کے درمیان وفود کے تبادلون کے معاہدے سے باہمی تعلقات کو مزید فروغ ملا۔ باہمی تعلقات میں پیدا ہونے والی اس بہتری کے نتیجے میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے شنگھائی تعاون کونسل میں پاکستان کی مکمل رکنیت کی کھل کر حمایت کی اور اس طرح اس کونسل میں پاکستان کی مکمل رکنیت کی راہ ہموار ہوئی اور پاکستان کو کونسل کا مکمل رکن بنالیاگیا۔یہ واقعہ دراصل پاک روس تعلقات کے ایک نئے دورکا آغاز تھا،اس کے بعد پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعاون کے متعدد سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے اور روس کی جانب سے پاکستان کے مختلف اہم منصوبوں کے لیے تکنیکی تعاون کی پیشکش کی گئی جن میں گڈو اور مظفر گڑھ کے بجلی گھروں کی بحالی اور ان کی استعداد میں اضافے کے منصوبے شامل تھے۔
2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے دورہ روس کے موقع پر پاک روس تعلقات کے حقیقی معنوں میں ایک نئے دورکا آغاز ہوا ور روس کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی۔اس کے بعد پاک روس مشترکہ فوجی مشقوں سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں نمایاں تبدیلی ہوئی اور مختلف شعبوں میں روس کے ساتھ باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلنا شروع ہوگئے۔اس کے بعد پاکستان نے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے سلسلے کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور افغان جنگ کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیداہونے والی تلخیوں کے اثرات زائل کرنے اور روس کے ساتھ دوستی کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی خواہش کو اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کئے اور پاکستان اور روس کے عوام کے درمیان براہ راست تعلقات استوار کرنے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کے رشتوں کوفروغ دینے اور مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کئے۔
اس عرصے کے دوران روس نے بھی افغانستان میں ہزیمت کی صورت حال سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بامعنی اقدامات کئے اور بہت جلد عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی کی حیثیت سے اپنا مقام پیدا کرلیا،روسی رہنمائوں کو اس بات کااحساس تھا کہ امریکا روس سے اپنی فوجیں مکمل طور پر واپس بلائے یا نہ بلائے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی اور پاکستان اس خطے میں اہم کردار ادا کرتارہے گا۔اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا کے تعاون سے بحال کی جانے والی افغان حکومت میں بھارت نے غیر معمولی اثر ورسوخ حاصل کیاہے لیکن بھارت اپنی تمامتر کوششوں کے باوجود افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت اور حیثیت کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے ،اور علاقے میں امن اور استحکام کے قیام میں پاکستان کی اہمیت اب بھی مسلمہ اور ناقابل فراموش ہے یعنی اس خطے میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کونظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
پاکستان کے قرب وجوار میں جنم لینے والی مختلف جیو اسٹریٹیجک اور جیو پولٹیکل تبدیلیوں سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان ہی کو ہوسکتاہے اورپاکستان کے پالیسی ساز اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان نے اس خطے میں واقع تمام ممالک کے ساتھ جن میں روس سرفہرست ہے اسٹریٹیجک تعلقات قائم اور مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانستان میں سیاسی استحکام اور سیکورٹی کے معاملات کے پائیدار حل سے پاکستان کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوگا،کیونکہ پاکستان افغانستان کاسب سے قریبی پڑوسی ہے اور اپنے اسی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان نے افغان تنازع سے بھاری جانی ومالی نقصانات اٹھائے ہیں۔اس طرح افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کی صورت میں پاکستان سے قریبی تعلقات استوار رکھنے والے تمام ممالک کو فائدہ ہوگا۔
روس کو اب بھی ایک متبادل سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے،روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے اور اس طرح اسے ویٹو پاور بھی ہے اس کے علاوہ وہ ایس سی اوکابھی رکن ہے بھارت چوردروازے سے جس کی رکنیت حاصل کرکے پاکستان پر بالادستی حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے ، جس کی وجہ سے وہ علاقائی تنازعات کے تصفیے میں اہم کردار ادا کرسکتاہے۔ عالمی برادری میں روس کو حاصل اس اہم حیثیت کی بناپر پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات زیادہ مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتاہے۔خاص طورپر اس وقت جبکہ امریکا نے پاکستان سے رخ موڑ کر اس خطے میں بھارت کی ہمنوائی شروع کی ہے ۔پاک روس تعاون کے فروغ اور ان دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات اس پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس صورت حال نے امریکی رہنمائوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ امریکی رہنمائوں کو اس بات کی قطعی امید نہیں تھی کہ پاکستان اس تیزی سے اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرکے روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔
پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور عالی سطح پر روس کی جانب سے حمایت کو دیکھتے ہوئے امریکا کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے اور تمام اعلیٰ سطح کے امریکی حکام پاکستان کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے پیدا ہونے والے منفی اثرات اور اس کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات میں پیداہونے والی تلخیاں دور کرنے کی کوششوں میں مختلف تاویلات پیش کرنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات ایک مرتبہ پھر پہلے کی سطح پر لانے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے بے اعتناعی کے اظہار کے بعد چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کے ساتھ ہی روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیاں پر لے جانے کی کوشش کرکے خود کو بدلتے ہوئے عالمی پس منظر میں نمایاں طورپر فٹ کرلیاہے۔
موجودہ صورتحال کا تقاضہ یہی ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ روس کے تعلقات کو فروغ دینے اور باہمی تعلقات کو مضبوط ومستحکم کرنے کی جس راہ کا انتخاب کیا ہے وہ اس پر کاربند رہے اور امریکا کے ساتھ تعلقات معمول پر آجانے کی صورت میں بھی امریکا کی طرف غیر ضروری جھکائو کی پالیسی اختیار نہ کرے اوراس طرح تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرے ۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اور خاص طورپر امور خارجہ کے ماہرین اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دیں اور جیسا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ دنوں اپنے بیان میں واضح کیاہے کہ پاکستان کو اب کسی کے لیے قربانی کابکر ا نہیں بننے دیاجائے گاکسی بھی ملک کے معاملات میں اس حد تک ملوث ہونے سے گریز کیاجائے جس سے پاکستان کی اپنی سلامتی اور استحکام اور معاشی ترقی کی راہ پر منفی اثرات پڑنے کا اندیشہ ہو۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر