... loading ...
پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات ماضی میں ایسے نہیں رہے جنھیں بہت زیادہ خوشگوار یا قریبی قرار دیاجاسکے لیکن 1971 کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر جمی برف توڑنے کی کوشش کی اور وہ بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی رہے جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے پہلے دور حکومت یعنی ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوران پاک روس تعاون کو عروج حاصل ہوا اور روس ہی کے تعاون سے پاکستان فولاد سازی کے دور میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔ابھی ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی پیداہوئی ہی تھی کہ فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر پورا منظر ہی بدل کر رکھ ڈالا اور پھر افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف امریکا کا بھرپور ساتھ دے کر اور روس کے خلاف لڑنے کے لیے طالبان کوتربیت اور امریکی اسلحہ کی فراہمی کا پلیٹ فارم مہیا کرکے جنرل ضیا نے روس کے ساتھ تعلقات کو انتہائی نچلی سطح پر پہنچا دیا ۔
9/11 کے بعد پاک روس تعلقات میں ایک دفعہ پھر بہتری کے آثار پیداہوئے اور2002 میں اسٹریٹیجک استحکام کے حوالے سے پاک روس مشاورتی گروپ کے قیام سے دونوںملکوں کے درمیان تعلقات میں کسی حد تک گرمجوشی کے آثار پیداہوئے،اس گروپ کے قیام کا مقصد علاقائی استحکام کو درپیش خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے کارروائی اور اقدامات کرنا تھا۔ اس گروپ کے قیام کے دوران روس اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے جس کے بعد 2011 میں دونوں ملکوں کے درمیان وفود کے تبادلون کے معاہدے سے باہمی تعلقات کو مزید فروغ ملا۔ باہمی تعلقات میں پیدا ہونے والی اس بہتری کے نتیجے میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے شنگھائی تعاون کونسل میں پاکستان کی مکمل رکنیت کی کھل کر حمایت کی اور اس طرح اس کونسل میں پاکستان کی مکمل رکنیت کی راہ ہموار ہوئی اور پاکستان کو کونسل کا مکمل رکن بنالیاگیا۔یہ واقعہ دراصل پاک روس تعلقات کے ایک نئے دورکا آغاز تھا،اس کے بعد پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعاون کے متعدد سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے اور روس کی جانب سے پاکستان کے مختلف اہم منصوبوں کے لیے تکنیکی تعاون کی پیشکش کی گئی جن میں گڈو اور مظفر گڑھ کے بجلی گھروں کی بحالی اور ان کی استعداد میں اضافے کے منصوبے شامل تھے۔
2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے دورہ روس کے موقع پر پاک روس تعلقات کے حقیقی معنوں میں ایک نئے دورکا آغاز ہوا ور روس کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی۔اس کے بعد پاک روس مشترکہ فوجی مشقوں سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں نمایاں تبدیلی ہوئی اور مختلف شعبوں میں روس کے ساتھ باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلنا شروع ہوگئے۔اس کے بعد پاکستان نے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے سلسلے کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور افغان جنگ کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیداہونے والی تلخیوں کے اثرات زائل کرنے اور روس کے ساتھ دوستی کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی خواہش کو اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کئے اور پاکستان اور روس کے عوام کے درمیان براہ راست تعلقات استوار کرنے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کے رشتوں کوفروغ دینے اور مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کئے۔
اس عرصے کے دوران روس نے بھی افغانستان میں ہزیمت کی صورت حال سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بامعنی اقدامات کئے اور بہت جلد عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی کی حیثیت سے اپنا مقام پیدا کرلیا،روسی رہنمائوں کو اس بات کااحساس تھا کہ امریکا روس سے اپنی فوجیں مکمل طور پر واپس بلائے یا نہ بلائے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی اور پاکستان اس خطے میں اہم کردار ادا کرتارہے گا۔اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا کے تعاون سے بحال کی جانے والی افغان حکومت میں بھارت نے غیر معمولی اثر ورسوخ حاصل کیاہے لیکن بھارت اپنی تمامتر کوششوں کے باوجود افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت اور حیثیت کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے ،اور علاقے میں امن اور استحکام کے قیام میں پاکستان کی اہمیت اب بھی مسلمہ اور ناقابل فراموش ہے یعنی اس خطے میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کونظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
پاکستان کے قرب وجوار میں جنم لینے والی مختلف جیو اسٹریٹیجک اور جیو پولٹیکل تبدیلیوں سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان ہی کو ہوسکتاہے اورپاکستان کے پالیسی ساز اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان نے اس خطے میں واقع تمام ممالک کے ساتھ جن میں روس سرفہرست ہے اسٹریٹیجک تعلقات قائم اور مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانستان میں سیاسی استحکام اور سیکورٹی کے معاملات کے پائیدار حل سے پاکستان کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوگا،کیونکہ پاکستان افغانستان کاسب سے قریبی پڑوسی ہے اور اپنے اسی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان نے افغان تنازع سے بھاری جانی ومالی نقصانات اٹھائے ہیں۔اس طرح افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کی صورت میں پاکستان سے قریبی تعلقات استوار رکھنے والے تمام ممالک کو فائدہ ہوگا۔
روس کو اب بھی ایک متبادل سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے،روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے اور اس طرح اسے ویٹو پاور بھی ہے اس کے علاوہ وہ ایس سی اوکابھی رکن ہے بھارت چوردروازے سے جس کی رکنیت حاصل کرکے پاکستان پر بالادستی حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے ، جس کی وجہ سے وہ علاقائی تنازعات کے تصفیے میں اہم کردار ادا کرسکتاہے۔ عالمی برادری میں روس کو حاصل اس اہم حیثیت کی بناپر پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات زیادہ مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتاہے۔خاص طورپر اس وقت جبکہ امریکا نے پاکستان سے رخ موڑ کر اس خطے میں بھارت کی ہمنوائی شروع کی ہے ۔پاک روس تعاون کے فروغ اور ان دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات اس پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس صورت حال نے امریکی رہنمائوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ امریکی رہنمائوں کو اس بات کی قطعی امید نہیں تھی کہ پاکستان اس تیزی سے اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرکے روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔
پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور عالی سطح پر روس کی جانب سے حمایت کو دیکھتے ہوئے امریکا کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے اور تمام اعلیٰ سطح کے امریکی حکام پاکستان کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے پیدا ہونے والے منفی اثرات اور اس کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات میں پیداہونے والی تلخیاں دور کرنے کی کوششوں میں مختلف تاویلات پیش کرنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات ایک مرتبہ پھر پہلے کی سطح پر لانے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے بے اعتناعی کے اظہار کے بعد چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کے ساتھ ہی روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیاں پر لے جانے کی کوشش کرکے خود کو بدلتے ہوئے عالمی پس منظر میں نمایاں طورپر فٹ کرلیاہے۔
موجودہ صورتحال کا تقاضہ یہی ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ روس کے تعلقات کو فروغ دینے اور باہمی تعلقات کو مضبوط ومستحکم کرنے کی جس راہ کا انتخاب کیا ہے وہ اس پر کاربند رہے اور امریکا کے ساتھ تعلقات معمول پر آجانے کی صورت میں بھی امریکا کی طرف غیر ضروری جھکائو کی پالیسی اختیار نہ کرے اوراس طرح تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرے ۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اور خاص طورپر امور خارجہ کے ماہرین اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دیں اور جیسا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ دنوں اپنے بیان میں واضح کیاہے کہ پاکستان کو اب کسی کے لیے قربانی کابکر ا نہیں بننے دیاجائے گاکسی بھی ملک کے معاملات میں اس حد تک ملوث ہونے سے گریز کیاجائے جس سے پاکستان کی اپنی سلامتی اور استحکام اور معاشی ترقی کی راہ پر منفی اثرات پڑنے کا اندیشہ ہو۔
موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...
چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...
عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...
تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...
یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...
بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...
سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...
مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...
میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...
25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...
نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...
بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...