... loading ...
رابعہ عظمت
’’ہمارے لیے اپنے خاندان کو چلانا بہت مشکل کام ہے۔ میرے بچے زیادہ تر بھوکے ہی رہتے ہیں اور مجھے کام حاصل کرنے اور کچھ کمانے کے لیے گھر سے باہر ہی رہنا پڑتا ہے۔ حکومت نے ہم سے پانچ لاکھ فی گھرانہ امداد دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج اتنے سال گزرنے کے بعد بھی امداد کے نام پر ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں دی گئی ہے‘‘۔یہ جملے بھارتی ریاست اتر پردیش کے مسلم اکثریتی علاقے مظفر نگر فساد کی متاثرہ عمرانہ کے ہیں۔ 2013ء میں ہوئے مسلم کش فسادات نے ان کی اور ان کے بچوں کی زندگیوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ انہیں دھمکیاں دی گئیں، ان پر حملہ کیا گیا اور اپنا گھر، گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جن کے وہ کبھی مالک تھے۔ 2013ء میں اتر پردیش کی ریاستی حکومت نے معاوضے کے نام پر انہیں 5 لاکھ بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک انہیں وہ رقم نہیں مل پائی ہے۔
7 ستمبر 2013ء کو مظفر نگر شہر کے باہر ایک گاؤں کے ایک بڑے اجتماع میں وہاں کی بااثر جاٹ کمیونٹی کے ہندو سیاسی رہنماؤں نے لوگوں کے ایک مجمع سے خطاب کیا۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ ایک تنازع میں ہونے والے دو ہندوؤں کے قتل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما اور اس کے ذریعے اشتعال انگیر تقریریں کی گئیں، بس اس قتل کا بدلہ لینے کے لیے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا گیا۔
اس اجتماع کے بعد مسلم رہائشی علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی اور آناََ فاناََ مسلمانوں کے گھر نذرآتش، املاک کی لوٹ مار اور خواتین کی عصمت دری کا وحشیانہ کھیل کھیلا گیا۔ آج چار سال گزرنے کے بعد بھی یہاں خوف کا ماحول قائم ہے۔ مسلم کش فساد میں ملوث ہندو جاٹ بی جے پی رہنما سنجیو بالیان کو انعام کے طور پر رکن اسمبلی بنادیا گیا اور مسلمان خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث دیگر مجرم بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔
ان میں سے بیشتر بھگوا حکومت کا سیاسی حصہ بن چکے ہیں۔مظفر نگر فساد میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھورنا پڑا اور آج بھی وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ فساد سے متاثر مسلمان خاندان پناہ گزینوں کی طرح اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ان میں شامل بچے اپنے خاندان گھر اور بچپن سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی بستی میں رہائش پذیر اب واپس اپنے علاقوں میں نہیں جانا چاہتے۔
46 سالہ مناظرہ کا کہنا ہے کہ چار سال پہلے وہاں ایک علاقے کو ٹبا میں رہتی تھی لیکن اب فساد متاثرین کی ایک بستی میں ہے۔ موجودہ ایم پی اور وزیر سنجوبالیان کا تعلق اسی گاؤں کوٹبا سے ہے۔ آج سے چار سال پہلے ہندو بلوائیوں نے پہلا حملہ اسی گاؤں پر کیا تھا اور 8 مسلمانوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔اس گاؤں کی آبادی 8 ہزار سے زائد ہے اس گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملہ کیا گیا تھا۔
فساد متاثرین مومن کا کہنا ہے کہ یہاں رہنے والے تمام مسلمان جاٹوں کو ووٹ دیتے تھے۔ اور کہا کہ گاؤں لا پردھان ہمارے گھر آیا اور کہا تھا کہ کوئی مسلمان بالکل نہ ڈرے آپ لوگوں کو کچھ نہیں ہوگا۔ مومن نے مزید بتایا کہ جگہ جگہ سے فساد کی خبریں آرہی تھیں۔ صبح کو پردھان نہیں آیا تو ہم ان کے گھر گئے۔ ہم وہاں ہی تھے کہ ’’باہر شور مچا اور بھیڑ ہمارے محلے کی طرف بڑھ گئی۔
‘‘65 سالہ قدیم الدین نے اس فساد میں اپنی بیوی کو کھویا وہ بتا رہے تھے جیسے ہی ہجوم آیا اس نے اندھا دھند فائرنگ کی جس میں میری بیوی کی گردن میں گولی لگی۔ وہ وہیں مرگئی، ہم سب ایک چھت پر چڑھ گئے ، پولیس کو گاؤں میں آنے کی جرات نہیں ہوئی، فوج آئی تب ہمیں اپنے ساتھ لے گئی۔ مہدی حسن کہتے ہیں پہلے ہمیں تھانے میں لے جایا گیا،پھر ہمیں گاؤں کے پردھان مدرسے میں لے گئے جہاں ہم کئی دنوں تک ڈرے سہمے رہے۔
محمد یعقوب کہتے ہیں وہ بہت برادن تھا، گاؤ ں میں دو مسجدیں ہیں وہ بھی بند کردی گئی ہیں۔ گاؤں میں لڑکے پستول لے کر گھوم رہے تھے اور کسی نے انہیں نہیں روکا،ہمیں پہلے ہی آجانا چاہیے تھا۔ واضح رہے کہ اس گاؤں میں مسلمانوں کے قتل میں ملوث ملزموں کی ضمانتیں ہوچکی ہیں اور وہ آزاد ہیں۔ تاہم بے گھر خاندانوں کے لیے حکومتی معاوضہ اور انصاف ایک مذاق بن چکا ہے اور وہ آج بھی پناہ گزین کیمپوں میں خستہ حالی اور غلاظت کے ڈھیر پر رہ رہے ہیں کیونکہ انہیں ریاستی حکومت کی جانب سے معاوضہ نہیں دیا گیا کہ وہ ایک خاندان کی تصدیق پر پورا نہیں اترتے ہیں۔
65 سالہ یامین حمید کو اس لیے معاوضہ دینے سے انکار کردیا گیا کہ اس کے والد کو پہلے ہی امداددی جا چکی ہے ۔حالانکہ یامین کے والد کا 1985ء میں انتقال ہوچکا ہے۔ خاندان نے معاوضہ کے حصول کے لیے موت کے سرٹیفیکیٹ کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہے۔ محمد شفیع کو بھی حکومتی معاوضہ نہیں ملا کہ اس کے والد پہلے ہی وصول کرچکے ہیں، اس کے والد کی وفات 30 سال قبل ہوچکی ہے۔
انسانی حقوق کا رکن اکرم اختر چودھری کا کہنا ہے کہ ریاست کے بہت سے ایسے خاندانوں کو نظر انداز کرنا ہے کہ جو معاوض کے اہل ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ بتائیں چار بھائی جنہوں نے اپنی زمین اپنا گھر سمیت ہر وہ چیز جس کے مالک تھے چھوڑ دیا ہے اور جو شادی شدہ ہیں اور ان کے پاس بچے ہیں؟ یہاں تک کہ بہت سے خاندانوں کو ریاست کی طرف سے اس بات کا جواب بھی نہیں ملا ہے انہیں معاوضہ دینے سے کیوں منع کردیا گیا ہے۔
فساد متاثرین کے مطابق حکومت کی جانب سے کئے گئے سروے تعصب پر مبنی تھے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے ہندو پڑوسیوں کی گواہیوں پر اعتما د کیا جن کے بارے میں امکان ہے کہ وہ خود ان فسادار میں ملوث رہے ہیں۔ پناہ گزین بستیوں میں قیام پذیر مسلمانوں کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ بستیاں بنیادی سہولیات سے ہنوز محروم ہیں صاف پانی پینے کی دقت ہے۔
بیت الخلاء کی سہولت میسر نہیں ، بجلی تو بالکل نہیںآ تی ، پانی کے پمپ سے آنے والا پانی پیلا ہوتا ہے۔ بستی میں رہائش پذید وسیلہ کا کہنا ہے کہ ’’براہ مہربانی ہمیں بتائیں کہ ہم اس پانی کو کھانا پکانے اور پینے کے لیے کیسے استعمال کرسکتے ہیں۔‘‘ فساد متاثرہ خاندانوں کی مناسب رہائش ، پانی اور صفائی کے آئینی حقوق صرف کاغذوں پر موجود ہیں۔
اتر پردیش کی ریاستی حکومت اور موجودہ بی جے پی حکومت بھی ان بے گھر مسلمانوں کی دوبارہ بحالی میں ناکام ہوچکی ہیں۔ ان چار برسوں میں مسلم متاثرین کو بھی ووٹر آئی کارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا تھا اسی وجہ سے 2014ء کے عام انتخابات میں یہ سب حق رائے دہی سے محروم رہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق مظفر نگر فساد میں جن خواتین کو بے آبرو کیا گیا تھا ملوث ملزموں میں ایک کو بھی سزا نہیں مل سکی۔
کئی خواتین نے دھمکیوں کی وجہ سے اپنے مقدمات بھی واپس لے لیے ہیں۔ اجتماعی عصمت دری کا شکار ہونے والی خواتین میں کچھ نے اعتراف کیا کہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا کیونکہ ان کی اور ان کے خاندانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی تھیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ’’ ہم ابھی بھی گھر سے باہر نکلتے وقت خوف محسوس کرتے ہیں۔
قابل ذکر تو یہ ہے کہ ریاستی پولیس نے عصمت دری کے معاملات درج ہی نہیں کئے۔ ایف آئی آر درج کروانے طبی معائنہ کروانے اور ضلعی مجسٹریٹ کے سامنے بیان درج کروانے میں بھی تاخیر سے کام لیا گیا تھا۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون آرزو کی جانب سے چارج شیٹ ہی فائل نہ ہوسکی۔ دوسری متاثرہ خاتون بانو کا بھی یہی معاملہ ہے ان کا مقدمہ 2014ء میں بند کردیا گیا تھا۔
پھر سپریم کورٹ سے انہیں اجازت ملی کہ وہ ملزم کے خلاف اپنا بیان ریکارڈ کروائے۔ اس کیس میں عدالے نے بھی کوئی چارج فریم نہیں کیا اور عدالت میں ابھی ٹرائل شروع ہونے ہیں۔ تیسری متاثرہ خاتون چمن ہے جنہوں نے جان کے خطرے کے پیش نظر اپنا بیان بدل لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ ملزم نہیں ہیں جنہوں نے ان پر تشدد کیا۔ چوتھی متاثرہ خاتون دلنا ز ہے انہوں نے بھی بیان دیا تھا اور ان کے خلاف جرم میں ملوث ملزم رہا ہوچکے ہیں۔
پانچویں متاثرہ ایشا ہے جن کا اگست 2016ء میں بچے کی پیدائش کے دوران انتقال ہوچکا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ فسادات میں خواتین سے زیادتی اجتماعی تذلیل اور اہانت کا ایک ہتھیار بن گیاب ہے اور مجرموں کو سزا نہ ملنے کے باعث پوری برادری خوف کے سائے میں زندگی گزاررہی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق خواتین زیادتی کیسوں میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی اور بیشتر مقدمات کی ابھی تک سماعت ہی نہیں مکمل ہوسکی ہے۔
زیادتی کے ملزموں کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے اور بعض مقدمات میں تو چار برس گزرنے کے بعد بھی فرد جرم عائد تک نہیں کی گئی۔ متاثرین کے وکیل کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف سنگین جرائم کے چار برس بعد بھی ہم پر بھی حملے ہوچکے ہیں۔ ایک بار تو عدالت میں ہی ہوا تھا کیونکہ میں مقدمے کی پیروی کررہا ہوں۔ میں نہیں رہوں گا تو مقدمے کی پیروی کون کرے گا؟۔
بہت سی خواتین نے سماج کے خلاف اور ڈرسے اپنا مقدمہ ہی درج نہیں کروایا۔ انسانی حقوق کے ایک گروپ آل انڈیا ڈیمو کریٹک ویمنز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی بعض خواتین نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس تک پہنچیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اجتماع عصمت دری میں ملوث درندوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی تو اس دیگر خواتین کے بھی حوصلے ٹوٹ گئے اور انہوں نے ایسے واقعات کی پولیس تھانوں میں رپورٹ کروانا ہی چھوڑ دی۔
جب 2012میں چلتی بس میں تشدد کا شکار ہونے والی نربھیا کے مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو پھر مسلمان عورتوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے والے ان وحشی درندوں کو سزا کیوں نہیں مل سکتی؟ اس لیے کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اور نربھیا ایک ہندو تھی۔ تاحال ان پناہ گزینوں کی بستیوں میں رہ رہے مفلسی وبدحالی کی تصویر بنے مہاجر مسلمان اپنی بے بسی ولاچاری پر آنسو بہارہے ہیں۔
آج چار سال گزرنے کے بعد بھی وہ اپنے گھروں کو لوٹ نہ سکے۔ نہ ہی معاوضہ ملا اور نہ ہی انہیں انصاف ، ان میں فسادات سے متاثرہ ہر شخص اپنے سینے میں ظلم کی ایک الگ داستان چھپائے بیٹھا ہوا ہے۔ کوئی اپنے بیٹے کو کھو چکا ہے کسی کی بیوی چھن گئی کوئی عورت اپنے شوہر کے قتل پر غمزدہ ہے اور اس کے ملزموں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا چاہتی ہیں۔ ہزاروں مسلمانوں کے اثاثے لوٹ لیے گئے۔ درجنوں شیر خوار بچوں کو اپنے والدین سے چھین کر جان سے ماردیا گیا۔ کئی خواتین کی عصمتیں تارتار کردی گئیں وہ ہنوز انصاف کے منتظر ہیں۔
ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...
پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...
گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...
حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...
خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...
8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...
خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...
پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...
کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...
اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...
بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...
سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...