وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جنرل اسمبلی میں اسلام مخالف تقریر‘ٹرمپ دنیا میں فسادبرپاکرناچاہتے ہیں

اتوار 24 ستمبر 2017 جنرل اسمبلی میں اسلام مخالف تقریر‘ٹرمپ دنیا میں فسادبرپاکرناچاہتے ہیں

شہلاحیات نقوی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام مخالف تقریراورایران سمیت دیگر ممالک کو ان کی د ھمکیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ،تاہم اس سے ان کے مائنڈ سیٹ کا پتہ ضرور چلتاہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کاسنجیدگی سے جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹرمپ دنیا میں فسادات برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک طرف شمالی کوریا کو نیست ونابود کرنے کی دھمکی دیتے ہیں دوسری طرف پاکستان کو سرنہ جھکانے کی صورت میں سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی قیادت کے دعویدار ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ جانے کے بعد وہ اپنے ہوش وحواس کھوبیٹھے ہیں ، اس موقع پر امریکا کے حلیف ممالک کے سربراہوں اور خود امریکی فوج اور امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کو ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنا چاہئے کہ سپر پاور کی حیثیت سے پوری دنیا میں امریکی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ملکوں پر قبضے کرنے کی سوچ کو بدلنا ہوگااور ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرنے کی پالیسی اپنا نا ضروری ہے ۔ امریکی پالیسی ساز اداروں کو سوچنا ہوگاکہ ساری دنیا میں آگ اور خون کا کھیل کھیلنے سے خودامریکا کیسے محفوظ رہ سکتاہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں نائن الیوان کو بہانہ بناکر امریکا نے عراق اور افغانستان میںلاکھوں افراد کا قتل عام کیا لیکن اس سے امریکا کو رسوائی اور مالی وجانی نقصان کے سوا کیاملا، ایک عراق کو کچلنے کی کوشش میں انھوں نے داعش کی شکل میں پوری دنیا کے لیے ایک عفریت کو جنم دیدیا۔
برطانیہ کے اخبار فنانشل ٹائمز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تقریروں خاص طورپر پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں در آنے والی کشیدگی کو اس کے مستقبل پر اثرات کے حوالے سے ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے۔ مضمون نگار نے یہ رپورٹ واشنگٹن سے بھیجی ہے اور اس کی تیاری میں امریکا کے سرکاری اداروں کے مائنڈ سیٹ کو با آسانی پڑھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں پاک امریکا تعلقات کے بگاڑ کی کہانی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ ٹرمپ کی تقریر کے بعد امریکا پاکستان کے خلاف کئی سخت اقدامات اْٹھا سکتا ہے۔ جن میں سب سے اہم بات یہ کہ امریکا پاکستان کا اتحادی اور نان ناٹو اتحادی کا اسٹیٹس ختم کر سکتا ہے۔ فوجی امداد کی مکمل بندش، سویلین امداد میں مزید کمی، یک طرفہ ڈرون حملے، پاکستان کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا ملک قرار دینا اور عالمی مالیاتی اداروں تک پاکستان کی رسائی محدود کرنے جیسے اقدامات اْٹھائے جا سکتے ہیں لیکن اس کے جواب میںپاکستان نے بھی کچھ سخت اقدامات اْٹھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ جن میں پروٹول ضوابط کو تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ سینٹ کام کے جنرل کی طرف سے وزیر دفاع سے ملاقات کی بار بار درخواستوں کو پزیرائی نہ ملنا انہی اقدامات کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی یہ رپورٹ پاکستان اور امریکا کے درمیان پالیسی اور سوچ میں آنے والی تبدیلیوں اور تضادات کے باقاعدہ اختلافات میں ڈھلنے کا پتہ دے رہی ہے۔بالفرض محال اگربرطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ کوآنے والے حالات کی حقیقی تصویر تسلیم کرلیاجائے تو پھر یہ واضح ہوتاہے کہ اب ان دونوں ملکوں کا تعلق باقاعدہ دشمنی میں ڈھلتاجارہاہے۔اس سے یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ امریکا اپنی مردانگی کے اظہار اور شمالی کوریا اور دیگر ایسے چھوٹے ممالک کو جن کی پشت پر روس اور چین جیسی طاقتیں کھڑی ہیں دھمکانے کے لیے پاکستان کوقربانی کا بکرا بنانا چاہتاہے ،اور امریکا کی جانب سے حقانی نیٹ ورک، جیش محمد اور لشکر طیبہ وغیرہ کے خلاف کارروائی کے مطالبات محض بہانہ ہے اور امریکا دراصل پاکستان کی ایٹمی قوت کوختم کرنے کے لیے کسی نہ کسی بہانے کہوٹاکو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ یہ مطالبات کی پہلی پرت ہے۔ اگر بالفرض محال پاکستان امریکا کے اصرار پر حقانی نیٹ ورک یا اس جیسی کسی اور تنظیم کے خلاف کارروائی کربھی دے،اور پاکستان کے وزیر خارجہ اوروزیر اعظم امریکا کو کسی طرح یہ یقین دلانے میں کامیاب بھی ہوجائیں کہ وہ اپنے گھر کی صفائی کررہے ہیں تو بھی یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ بتدریج آگے بڑھتا جائے گا ۔ اس تصور کو فلسفہ سازش اور سازشی تھیوری کہنے والوں کی کمی نہیں مگر عراق اور لیبیا کی صورتحال ہمارے سامنے ہے ان ملکوں کی پریشاں حالی ہمیں ایک اور ہی کہانی سنارہی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکا نے ان دونوں ملکوں کونیست ونابود کرنے اوران کی دفاعی قوت کو زمین بوس کرکے خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچانے کافیصلہ کیوں کیا؟ اس کاجواب بہت واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دونوں ملک اسرائیل کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں تھے اور ماضی میں اسرائیل کو چیلنج کرتے بھی رہے تھے، اس لیے عراق کی جانب سے ایٹمی پروگرام شروع ہوتے جاتے ہی تباہ کردیاگیا۔ اسرائیلی جنگی جہاز آناً فاناً فضا میں نمودار ہوئے اور عراق کی ایٹمی تنصیبات کو ملبے کا ڈھیر بنا گئے۔ ایک آزاد اورخود مختار ملک پر اس طرح کے حملے کا دنیا کے کسی ملک نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور رسمی طورپر ہی صحیح اسرائیل کی اس کارروائی کی مذمت کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ، نہ کوئی عالمی سطح پر کوئی موثر صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ عراق کی سالمیت اور خود مختاری کا ماتم گسار بھی کوئی نہیں تھا۔ عقوبت اور عتاب کا یہ سلسلہ آنے والے ماہ وسال میں بھی ختم نہ ہو سکا۔ ایٹمی پروگرام پر خود سپردگی کے باجود لیبیا اور قذافی کا جو انجام ہوا وہ عبرت کی داستان ہے۔ مصر میں امریکا کے اشارے پر عوام کی منتخب حکومت کاجوحشر کیاگیا وہ بھی کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے،اب عالم اسلام میں لے دے کر پاکستان ہی ایک ایسا ملک بچاہے جو امریکا کے یکطرفہ اقداما ت اور مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں کے خلاف تن کر کھڑا ہوسکتاہے ،اس لیے امریکا نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے الزامات عاید کرکے افغانستان میں اپنی ناکامیوں کاتمام ملبہ پاکستان پر ڈال کر پاکستان کوقربانی کابکرا بنانے کافیصلہ کیا ہے،اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کوایک آسان ہدف تصور کررہے ہیں۔امریکا پاکستان کو ’’سینڈ بیگ‘‘ سمجھ کرمکے بازی کے کئی مظاہرے پہلے ہی کرچکا ہے اور یہ پاکستانی حکمرانوں کی جی جناب کی پالیسیوں کے سبب یہ سلسلہ ا ب بھی جاری ہے ۔
پاکستان کو دیوار سے لگانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے بیک وقت کئی محاذ کھول دئے ،سوئٹزر لینڈ میں آزاد بلوچستان کی مہم بھی پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے اور پاکستانی حکمرانوں کو امریکی اشاروں پر چلنے سے انکار کی صورت میں سنگین مسائل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کا ایک انتباہ ہے ،اس طرح امریکا پاکستان پر یہ واضح کرناچاہتاہے کہ امریکا عالمی سطح پر پاکستان کے لیے گوناگوں مسائل پیدا کرسکتاہے ،آزاد بلوچستان کے اشتہار جنیوا میں الیکٹرونک اشتہاری بورڈز اور بسوں پر لگائے گئے اور سوئس اشتہاری ایجنسی اے جی بی ایس اے ان اشتہاروں کی نمائش میں ملوث بتائی جاتی ہے۔ اس دوران انڈین ایکسپریس نے بہت اہتمام سے یہ خبر شائع کی ہے کہ واشنگٹن میں ورلڈ مہاجر کانگریس نے وہائٹ ہاؤس کے سامنے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور ان مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست ملک قرار دیا جائے۔ اس مظاہرے میں بلوچ، مہاجر، افغانی اور بھارتی باشندوں نے شرکت کی۔ سوئٹزر لینڈ اور واشنگٹن میں ہونے والی ان سرگرمیوں میں گہری مماثلت ہے۔ ان سرگرمیوں کا ریموٹ کسی ایک ہاتھ میں دکھائی دے رہا ہے۔ ظاہر ہے وہ ہاتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے جو انتہائی مہارت کے ساتھ بھارت کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔ بھارت اور پاکستان اس وقت مخاصمت اور مخالفت کی کیفیت ہیں مگر حیرت ان مغربی ملکوں پر ہورہی ہے جو دہشت گردی کے نام پر حد درجہ حساسیت کا شکار ہیں۔ انہیں کسی فرد اور ملک پر تشدد میں ملوث ہونے کا شائبہ ہو تو اسے اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے۔ اپنے ملکوں سے ایسے عناصر کو ڈی پورٹ کرنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کرتے اگر کوئی اس ریکارڈ کے ساتھ ان ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو یہ اسے مار بھگاتے ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں مغربی ممالک دہری پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ کئی ایسے لوگوں کواپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہیں جوپاکستان میں دہشت گردی کرارہے ہیں۔ بلوچ شدت پسندوں براہمداغ بگٹی، حیربیار مری اور میر داؤد سلیمان کا ہے جن کی مسلح تنظیمیں بلوچستان میں بدترین قتل عام اور حکومتی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں مگر بھارت کے یہ ’’اچھے طالبان‘‘ دہشت گردی کے خلاف سراپا جنگ اور انسانی حقوق کے عظیم علم بردار یورپ اور امریکا کے پنگھوڑوں میں جھول رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ پاکستان پر اچھے اور بْرے طالبان کی تفریق کا الزام لگانے والے اپنے پروں کے نیچے براہمداغ بگٹی اور ’’اچھے طالبان‘‘ کی ایک پوری فوج کو چھپائے ہی نہیں بلکہ سجائے ہوئے ہیں۔ اس دہرے میعار کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟۔
ہمارے حکمرانوںکو اس صورت حال کوسمجھنے کی سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہئے اوراس وقت جبکہ چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اورپاکستان کے حوالے سے روس کارویہ بھی کسی حد تک نرم پڑچکاہے پاکستا نی حکمرانوں کو امریکی غلامی کاطوق گلے سے اتار پھینکنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے، پاک فوج کے سربراہ نے امریکا کو یہ دوٹوک جواب دے کر پاکستانی حکمرانوں کے کام کو بہت آسان کردیاہے کہ پاکستان کو امریکا کی امداد کی ضرورت نہیں ہے وہ صرف یہ چاہتاہے کہ پاکستان نے دہشت گرد وں کے خلاف کارروائیوں کے دوران جو بیش بہا قربانیاں دی ہیں ان کااعتراف کیاجائے ۔
ہمارے حکمرانوں کوچاہئے کہ وہ امریکی حکام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان پر یہ واضح کردیں کہ جب تک ٹرمپ انتظامیہ جارحانہ اور منفی سوچ کو پروان چڑھاتی رہے گی،دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس بات کاواضح فیصلہ کرلے کہ وہ دنیا میں امن چاہتی ہے یاخون خرابہ چاہتی ہے۔ پاکستان ایک آزاد، خودمختار ایٹمی ریاست ہے۔ اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضرورت اس بات کی ہے ہماری سیاسی وعسکری قیادت ایسی پالیسیاں بنائے جن سے عوامی توقیر میں اضافہ ہو اور ملک وقوم کو تحفظ فراہم کیاجاسکے۔ہمارے حکمرانوں کو اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرکے ہی ایک دوسرے کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے مقتدر حلقوں کو اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاسکے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی ’’ڈومور‘‘ کے مطالبے کے جواب میں ’’نومور‘‘ کہا جائے۔ پاکستان کے عوام مختلف مواقع پر یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ امریکی غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برسر اقتدار آنے کے بعد بیانات اور اقدامات کے ذریعے اپنی اسلام دشمن پالیسی کا کھلم کھلا اظہار کررہا ہے اور بھارت اور اسرائیل کی پشت پناہی کرکے عالمی امن کو تباہ وبرباد کرنا چاہتا ہے۔


متعلقہ خبریں


نئی دہلی میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق بیگ بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ نئی دہلی کے علاقے اناج منڈی میں پیش آیا۔حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہو سکا ہے تاہم اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آگ فیکٹری کی ورک شاپ میں لگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ صبح 5 بجے اس وقت پیش آیا جب زیادہ تر ملازمین سو رہے تھے ، واقعہ میں 43 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ریسکیو حکام کے مطا...

نئی دہلی میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے ، ایران نے چینی نژاد امریکی سکالر زیو وانگ جبکہ امریکا نے ایک ایرانی سائنس دان مسعود سلیمانی کو رہا کیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا یہ تبادلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں شدید تنا ئوپایا جاتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وانگ کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ قیدیوں کے معاملے پر زیاہ اہمیت دیتے ہیں۔ ایران میں قید دوسرے امریکیوں کی رہائی کے ب...

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

شمالی کوریا کا امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذکرات سے انکار وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

شمالی کوریا نے امریکا کے ساتھ اپنے متنازع جوہری پروگرام پر مزید بات چیت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر کِم سانگ نے کہا کہ جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق امریکا سے مزید کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ا نہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ طویل مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔کِم سانگ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے مستقل اور ٹھوس بات چیت کی کوشش اس کے اندرونی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور وقت بچانے کی ایک چال ہے ۔بیان میں مزید کہ...

شمالی کوریا کا امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذکرات سے انکار

بھارت ، ڈانس کرتے کرتے رکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

ریاست اتر پردیش میں شادی کی تقریب میں ڈانس روکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی۔ لڑکی ہسپتا ل میں زیرعلاج ہے ۔ انتہا پسند بھارتی وزیراعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور زیادتی کے واقعات میں حد درجہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ انسانیت سوز واقعہ پیش آیا یکم دسمبر کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک گائوں میں جہاں شادی کی تقریب کے دوران اسٹیج پر ایک ڈانسرکو درندوں نے گولی اس لیے مار دی کیونکہ وہ ڈانس کرتے کرتے رک گئی تھی۔ پولیس نے کہا کہ گولی مارنے والے کی...

بھارت ، ڈانس کرتے کرتے رکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ہاؤس کی عدلیہ کمیٹی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے دفعات وضع اور مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی صدر کا یوکرین پراپنے ڈیموکریٹک سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش پر مواخذہ کیا جارہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیلوسی نے ایک نشری بیان میں کہا کہ حقائق ناقابل تردید ہیں۔صدر نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔انھوں نے اوول آفس میں ایک اہم اجلاس کو مو...

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

بیجنگ کے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں کہاگیا ہے کہ چین میں شہری، چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ہیں۔سروے میں شامل تقریباً 74 فیصد افراد نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی بجائے روایتی شناختی طریقوں کو استعمال کیا جانا چاہیے۔سروے میں شامل چھ ہزار سے زائد افراد کو بنیادی طور پر بائیو میٹرک ڈیٹا کے ہیک کیے جانے یا بصورت دیگر لیک ہونے کے خدشات تھے۔ ملک بھر کے سٹیشنوں، سکولوں او...

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے ایران برائن ہْک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے ملک میں وسط نومبر کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز ایک خصوصی گفتگومیں بتایاکہ اب کہ ایران سے سچائی باہرآرہی ہے تو یہ لگ رہا ہے کہ نظام نے مظاہروں کیا آغاز کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کو ماردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا نے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش ا...

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں اکثریت یعنی 88.5 فیصد لوگ، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں کی پرزور یا کسی حد تک حمایت کرتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق 2019 کے لیے ایشیا فاؤنڈیشن کے سروے میں افغانستان بھر سے 18 سال اور اسے زیادہ کے 17 ہزار 812 مرد و خواتین نے حصہ لیا۔اس سروے کے نتائج میں یہ سامنے آیا کہ 64 فیصد جواب دہندگان سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت ممکن تھی۔علاقائی طور پر مشرقی افغانستان میں 76.9 فیصد اور جنوب مغربی حص...

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شدت پسند گروپ داعش یرغمال بنائے گئے لوگوں کو بے دردی اور بھیانک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارنے کی وجہ سے مشہور ہے مگر عراق اور شام میں اس گروپ کی شکست کے بعد لوگوں کو ذبح کرنے یا اجتماعی طور پر قتل کرنے کے واقعات تقریبا ختم ہوگئے تھے۔عرب ٹی وی کے مطابق داعش نے ایک بارپھر قیدیوں کو ذبح کرنے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کا بھیانک سلسلہ شروع کردیا ۔لیبیا میں داعش سے وابستہ گروپ نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں سرکاری ملازمین اور دیگر یرغمال بنائے گئے افراد کو بے دردی کے ساتھ موت ...

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شمال مشرقی چین میں ہیشان کاؤنٹی کی رہائشی 15 سالہ نوجوان لڑکی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے کہ وہ دکھنے میں ایک بوڑھی خاتون کی طرح نظر آتی ہے اور اس بیماری نے اس کے روز مرہ معاملات زندگی کو بری طرح متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق 15سالہ چینی لڑکی ایک سال کی عمر سے ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا نام ہٹچنسن گلفورڈ پروگیرہ سینڈروم ہے اور یہ بیماری بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق شیاؤ فینگ نامی لڑکی کی بیماری کی وجہ سے اس کے چہرے پر جھریاں ...

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

امریکاکی ریاست منی سوٹا میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گرنے سے 3 فوجی ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹیسٹ فلائٹ کے دوران حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر کا ائیر کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ واقعہ مقامی وقت دوپہر دو بجے پیش آیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام تین فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا ملبہ کھلے میدان میں گرا اور اس کو تلاش کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگا۔متعلقہ حکام نے حادثے کی وجہ اور ہلاک ہونے والوں کے نام نہیں بتائے تاہم واقعہ کی تحقیقات...

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

بھارت میں لیڈی ڈاکٹر کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چاروں ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے شہر حیدر آباد میں لیڈی ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی اور قتل میں ملوث چاروں ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ پولیس ملزمان کو لاش ملنے کی جگہ پر تفتیش کے لیے لے کر گئی جہاں انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر چاروں ملزمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔لیڈی ڈاکٹر کو اٹھائیس نومبر کو 4 افراد نے ویرانے میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا او...

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک