وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جنرل اسمبلی میں اسلام مخالف تقریر‘ٹرمپ دنیا میں فسادبرپاکرناچاہتے ہیں

اتوار 24 ستمبر 2017 جنرل اسمبلی میں اسلام مخالف تقریر‘ٹرمپ دنیا میں فسادبرپاکرناچاہتے ہیں

شہلاحیات نقوی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام مخالف تقریراورایران سمیت دیگر ممالک کو ان کی د ھمکیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ،تاہم اس سے ان کے مائنڈ سیٹ کا پتہ ضرور چلتاہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کاسنجیدگی سے جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹرمپ دنیا میں فسادات برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک طرف شمالی کوریا کو نیست ونابود کرنے کی دھمکی دیتے ہیں دوسری طرف پاکستان کو سرنہ جھکانے کی صورت میں سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی قیادت کے دعویدار ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ جانے کے بعد وہ اپنے ہوش وحواس کھوبیٹھے ہیں ، اس موقع پر امریکا کے حلیف ممالک کے سربراہوں اور خود امریکی فوج اور امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کو ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنا چاہئے کہ سپر پاور کی حیثیت سے پوری دنیا میں امریکی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ملکوں پر قبضے کرنے کی سوچ کو بدلنا ہوگااور ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرنے کی پالیسی اپنا نا ضروری ہے ۔ امریکی پالیسی ساز اداروں کو سوچنا ہوگاکہ ساری دنیا میں آگ اور خون کا کھیل کھیلنے سے خودامریکا کیسے محفوظ رہ سکتاہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں نائن الیوان کو بہانہ بناکر امریکا نے عراق اور افغانستان میںلاکھوں افراد کا قتل عام کیا لیکن اس سے امریکا کو رسوائی اور مالی وجانی نقصان کے سوا کیاملا، ایک عراق کو کچلنے کی کوشش میں انھوں نے داعش کی شکل میں پوری دنیا کے لیے ایک عفریت کو جنم دیدیا۔
برطانیہ کے اخبار فنانشل ٹائمز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تقریروں خاص طورپر پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں در آنے والی کشیدگی کو اس کے مستقبل پر اثرات کے حوالے سے ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے۔ مضمون نگار نے یہ رپورٹ واشنگٹن سے بھیجی ہے اور اس کی تیاری میں امریکا کے سرکاری اداروں کے مائنڈ سیٹ کو با آسانی پڑھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں پاک امریکا تعلقات کے بگاڑ کی کہانی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ ٹرمپ کی تقریر کے بعد امریکا پاکستان کے خلاف کئی سخت اقدامات اْٹھا سکتا ہے۔ جن میں سب سے اہم بات یہ کہ امریکا پاکستان کا اتحادی اور نان ناٹو اتحادی کا اسٹیٹس ختم کر سکتا ہے۔ فوجی امداد کی مکمل بندش، سویلین امداد میں مزید کمی، یک طرفہ ڈرون حملے، پاکستان کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا ملک قرار دینا اور عالمی مالیاتی اداروں تک پاکستان کی رسائی محدود کرنے جیسے اقدامات اْٹھائے جا سکتے ہیں لیکن اس کے جواب میںپاکستان نے بھی کچھ سخت اقدامات اْٹھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ جن میں پروٹول ضوابط کو تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ سینٹ کام کے جنرل کی طرف سے وزیر دفاع سے ملاقات کی بار بار درخواستوں کو پزیرائی نہ ملنا انہی اقدامات کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی یہ رپورٹ پاکستان اور امریکا کے درمیان پالیسی اور سوچ میں آنے والی تبدیلیوں اور تضادات کے باقاعدہ اختلافات میں ڈھلنے کا پتہ دے رہی ہے۔بالفرض محال اگربرطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ کوآنے والے حالات کی حقیقی تصویر تسلیم کرلیاجائے تو پھر یہ واضح ہوتاہے کہ اب ان دونوں ملکوں کا تعلق باقاعدہ دشمنی میں ڈھلتاجارہاہے۔اس سے یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ امریکا اپنی مردانگی کے اظہار اور شمالی کوریا اور دیگر ایسے چھوٹے ممالک کو جن کی پشت پر روس اور چین جیسی طاقتیں کھڑی ہیں دھمکانے کے لیے پاکستان کوقربانی کا بکرا بنانا چاہتاہے ،اور امریکا کی جانب سے حقانی نیٹ ورک، جیش محمد اور لشکر طیبہ وغیرہ کے خلاف کارروائی کے مطالبات محض بہانہ ہے اور امریکا دراصل پاکستان کی ایٹمی قوت کوختم کرنے کے لیے کسی نہ کسی بہانے کہوٹاکو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ یہ مطالبات کی پہلی پرت ہے۔ اگر بالفرض محال پاکستان امریکا کے اصرار پر حقانی نیٹ ورک یا اس جیسی کسی اور تنظیم کے خلاف کارروائی کربھی دے،اور پاکستان کے وزیر خارجہ اوروزیر اعظم امریکا کو کسی طرح یہ یقین دلانے میں کامیاب بھی ہوجائیں کہ وہ اپنے گھر کی صفائی کررہے ہیں تو بھی یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ بتدریج آگے بڑھتا جائے گا ۔ اس تصور کو فلسفہ سازش اور سازشی تھیوری کہنے والوں کی کمی نہیں مگر عراق اور لیبیا کی صورتحال ہمارے سامنے ہے ان ملکوں کی پریشاں حالی ہمیں ایک اور ہی کہانی سنارہی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکا نے ان دونوں ملکوں کونیست ونابود کرنے اوران کی دفاعی قوت کو زمین بوس کرکے خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچانے کافیصلہ کیوں کیا؟ اس کاجواب بہت واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دونوں ملک اسرائیل کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں تھے اور ماضی میں اسرائیل کو چیلنج کرتے بھی رہے تھے، اس لیے عراق کی جانب سے ایٹمی پروگرام شروع ہوتے جاتے ہی تباہ کردیاگیا۔ اسرائیلی جنگی جہاز آناً فاناً فضا میں نمودار ہوئے اور عراق کی ایٹمی تنصیبات کو ملبے کا ڈھیر بنا گئے۔ ایک آزاد اورخود مختار ملک پر اس طرح کے حملے کا دنیا کے کسی ملک نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور رسمی طورپر ہی صحیح اسرائیل کی اس کارروائی کی مذمت کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ، نہ کوئی عالمی سطح پر کوئی موثر صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ عراق کی سالمیت اور خود مختاری کا ماتم گسار بھی کوئی نہیں تھا۔ عقوبت اور عتاب کا یہ سلسلہ آنے والے ماہ وسال میں بھی ختم نہ ہو سکا۔ ایٹمی پروگرام پر خود سپردگی کے باجود لیبیا اور قذافی کا جو انجام ہوا وہ عبرت کی داستان ہے۔ مصر میں امریکا کے اشارے پر عوام کی منتخب حکومت کاجوحشر کیاگیا وہ بھی کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے،اب عالم اسلام میں لے دے کر پاکستان ہی ایک ایسا ملک بچاہے جو امریکا کے یکطرفہ اقداما ت اور مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں کے خلاف تن کر کھڑا ہوسکتاہے ،اس لیے امریکا نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے الزامات عاید کرکے افغانستان میں اپنی ناکامیوں کاتمام ملبہ پاکستان پر ڈال کر پاکستان کوقربانی کابکرا بنانے کافیصلہ کیا ہے،اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کوایک آسان ہدف تصور کررہے ہیں۔امریکا پاکستان کو ’’سینڈ بیگ‘‘ سمجھ کرمکے بازی کے کئی مظاہرے پہلے ہی کرچکا ہے اور یہ پاکستانی حکمرانوں کی جی جناب کی پالیسیوں کے سبب یہ سلسلہ ا ب بھی جاری ہے ۔
پاکستان کو دیوار سے لگانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے بیک وقت کئی محاذ کھول دئے ،سوئٹزر لینڈ میں آزاد بلوچستان کی مہم بھی پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے اور پاکستانی حکمرانوں کو امریکی اشاروں پر چلنے سے انکار کی صورت میں سنگین مسائل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کا ایک انتباہ ہے ،اس طرح امریکا پاکستان پر یہ واضح کرناچاہتاہے کہ امریکا عالمی سطح پر پاکستان کے لیے گوناگوں مسائل پیدا کرسکتاہے ،آزاد بلوچستان کے اشتہار جنیوا میں الیکٹرونک اشتہاری بورڈز اور بسوں پر لگائے گئے اور سوئس اشتہاری ایجنسی اے جی بی ایس اے ان اشتہاروں کی نمائش میں ملوث بتائی جاتی ہے۔ اس دوران انڈین ایکسپریس نے بہت اہتمام سے یہ خبر شائع کی ہے کہ واشنگٹن میں ورلڈ مہاجر کانگریس نے وہائٹ ہاؤس کے سامنے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور ان مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست ملک قرار دیا جائے۔ اس مظاہرے میں بلوچ، مہاجر، افغانی اور بھارتی باشندوں نے شرکت کی۔ سوئٹزر لینڈ اور واشنگٹن میں ہونے والی ان سرگرمیوں میں گہری مماثلت ہے۔ ان سرگرمیوں کا ریموٹ کسی ایک ہاتھ میں دکھائی دے رہا ہے۔ ظاہر ہے وہ ہاتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے جو انتہائی مہارت کے ساتھ بھارت کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔ بھارت اور پاکستان اس وقت مخاصمت اور مخالفت کی کیفیت ہیں مگر حیرت ان مغربی ملکوں پر ہورہی ہے جو دہشت گردی کے نام پر حد درجہ حساسیت کا شکار ہیں۔ انہیں کسی فرد اور ملک پر تشدد میں ملوث ہونے کا شائبہ ہو تو اسے اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے۔ اپنے ملکوں سے ایسے عناصر کو ڈی پورٹ کرنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کرتے اگر کوئی اس ریکارڈ کے ساتھ ان ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو یہ اسے مار بھگاتے ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں مغربی ممالک دہری پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ کئی ایسے لوگوں کواپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہیں جوپاکستان میں دہشت گردی کرارہے ہیں۔ بلوچ شدت پسندوں براہمداغ بگٹی، حیربیار مری اور میر داؤد سلیمان کا ہے جن کی مسلح تنظیمیں بلوچستان میں بدترین قتل عام اور حکومتی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں مگر بھارت کے یہ ’’اچھے طالبان‘‘ دہشت گردی کے خلاف سراپا جنگ اور انسانی حقوق کے عظیم علم بردار یورپ اور امریکا کے پنگھوڑوں میں جھول رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ پاکستان پر اچھے اور بْرے طالبان کی تفریق کا الزام لگانے والے اپنے پروں کے نیچے براہمداغ بگٹی اور ’’اچھے طالبان‘‘ کی ایک پوری فوج کو چھپائے ہی نہیں بلکہ سجائے ہوئے ہیں۔ اس دہرے میعار کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟۔
ہمارے حکمرانوںکو اس صورت حال کوسمجھنے کی سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہئے اوراس وقت جبکہ چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اورپاکستان کے حوالے سے روس کارویہ بھی کسی حد تک نرم پڑچکاہے پاکستا نی حکمرانوں کو امریکی غلامی کاطوق گلے سے اتار پھینکنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے، پاک فوج کے سربراہ نے امریکا کو یہ دوٹوک جواب دے کر پاکستانی حکمرانوں کے کام کو بہت آسان کردیاہے کہ پاکستان کو امریکا کی امداد کی ضرورت نہیں ہے وہ صرف یہ چاہتاہے کہ پاکستان نے دہشت گرد وں کے خلاف کارروائیوں کے دوران جو بیش بہا قربانیاں دی ہیں ان کااعتراف کیاجائے ۔
ہمارے حکمرانوں کوچاہئے کہ وہ امریکی حکام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان پر یہ واضح کردیں کہ جب تک ٹرمپ انتظامیہ جارحانہ اور منفی سوچ کو پروان چڑھاتی رہے گی،دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس بات کاواضح فیصلہ کرلے کہ وہ دنیا میں امن چاہتی ہے یاخون خرابہ چاہتی ہے۔ پاکستان ایک آزاد، خودمختار ایٹمی ریاست ہے۔ اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضرورت اس بات کی ہے ہماری سیاسی وعسکری قیادت ایسی پالیسیاں بنائے جن سے عوامی توقیر میں اضافہ ہو اور ملک وقوم کو تحفظ فراہم کیاجاسکے۔ہمارے حکمرانوں کو اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرکے ہی ایک دوسرے کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے مقتدر حلقوں کو اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاسکے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی ’’ڈومور‘‘ کے مطالبے کے جواب میں ’’نومور‘‘ کہا جائے۔ پاکستان کے عوام مختلف مواقع پر یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ امریکی غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برسر اقتدار آنے کے بعد بیانات اور اقدامات کے ذریعے اپنی اسلام دشمن پالیسی کا کھلم کھلا اظہار کررہا ہے اور بھارت اور اسرائیل کی پشت پناہی کرکے عالمی امن کو تباہ وبرباد کرنا چاہتا ہے۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان