... loading ...
کہتے ہیں کہ تمام پرندوں میں سب سے زیادہ عقل مند پرندا کوّا ہوتا ہے اور جب تمام پرندے کسی دام میں پھنستے ہیں تو وہ ایک ٹانگ پھنسابیٹھتے ہیں لیکن عقل مند کوّا ہمیشہ دونوں ٹانگوں سے پھنستا ہے۔ یہی کچھ سینئر پولیس افسر غلام قادر تھیبو کے ساتھ ہوا ہے وہ اس وقت آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے بھی سینئر ہیں لیکن زیادہ عقل مندی کی وجہ سے گھر جاکر بیٹھ گئے ہیں۔ جب غلام حیدر جمالی آئی جی سندھ پولیس تھے تو اس وقت کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو تھے ۔ اس وقت دونوں کا آپس میں جھگڑا تھا اور یہ جھگڑا کسی اصول پر نہیں بلکہ پیسے اور حکمرانوں کے سامنے جی حضوری پر تھا۔ دونوں کی کوشش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسے کمائیں اور حکمرانوں کی سب سے زیادہ خوشامد کریں۔
خیر آگے چل کر سپریم کورٹ سے بے آبرو ہوکر غلام حیدر جمالی گھر چلے گئے اور اب تو وہ ریٹائرڈ بھی ہوگئے ہیں لیکن تاحال وہ نیب کے شکنجے میں ہیں ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اوروہ مسلسل احتساب عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ غلام قادر تھیبو نے جب دیکھا کہ وفاقی حکومت اور حکومت سندھ نے ان کے بجائے اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ پولیس بنادیا ہے۔ تو انہوں نے جاکر پی پی کے بڑوں کی منت سماجت کی اور محکمہ اینٹی کرپشن میں چیئرمین بن گئے ۔ تقریباً 2سال تک وہ چیئرمین کے عہدے پربرقرار رہے ۔
غلام قادر تھیبوکو اس دوران محکمہ آبپاشی،محکمہ ریونیو، محکمہ خزانہ سے دور رہنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے تابعداری کی انتہاکردی اوران اداروں کی کرپشن کی جانب آنکھ اُٹھاکر بھی نہیں دیکھا ۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ان محکموں میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے لیکن چونکہ وہ اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں لگے ہوئے تھے اس لیے ان محکموں کو مقدس گائے سمجھ کر ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ان کی یہ تابعداری رنگ لائی اورتقریبا ڈیڑھ ماہ قبل وہ وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال کی آشیربادسے دوبارہ کراچی پولیس چیف بنادیے گئے۔ حالانکہ غلام قادرتھیبو سنیارٹی میں آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے بھی سینئر ہیں۔ انھوں نے ایک جونیئر افسر کے ماتحتی صرف اس لیے قبول کی کہ وہ سہیل انور سیال کی خدمت کرنا اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو نیچا دِکھا نا چاہتے تھے۔ اس دوران میں ان کے حاشیہ برداروں نے ایس ایچ اوز لگوانے کے لیے مبینہ طور پر ریٹ مقرر کر لیے تھے۔
وسیم بیٹر نامی ایک پولیس اہلکار جو اے ڈی خواجہ کے آئی جی بننے کے بعد ملیشیا چلا گیا تھا ۔غلام قادرتھیبوکے پولیس چیف بننے کی اطلاع پر فوری طورپر واپس آگیا اور آتے ہی اس نے جوئے سٹے کے اڈے کھلوادیے اور پھر وسیم بیٹر نے تمام بند دھندے دوبارہ فعال کردیے دوسری جانب امن وامان تباہ ہونے لگا۔ بینکوں میں روزانہ ڈکیتیاں ہونے لگیں۔ ایسی صورتحال کا ایپکس کمیٹی کے ارکان نے نوٹس لیا اور آئی جی سندھ پولیس سے جواب طلبی کی ۔جس پر آئی جی نے جواب دیا کہ وہ بے بس ہیں کیونکہ کراچی پولیس ان کے بجائے وزیرداخلہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ اس پر ایپکس کمیٹی کے ارکان نے نوٹس لیا اور فوری طورپر وزیراعلیٰ سندھ کو اپنے خدشات اور تحفظات سے آگاہ کردیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے حقائق دیکھ کر غلام قادر تھیبو کو ایڈیشنل آئی جی ٹریفک مقرر کر دیا۔ یوں وہ صرف 34 دن کے لیے کراچی پولیس چیف بنے اور پھر جا کر ایڈیشنل آئی جی ٹریفک کا عہدہ سنبھال بیٹھے ۔
7 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ پولیس کو تین سال تک موجودہ عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دیا اور ساتھ ساتھ 7جولائی سے 7 ستمبر تک 67افسران کے تبادلے منسوخ کرنے کا بھی حکم دیا۔ آئی جی سندھ نے جاکر وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سے ملاقات کی ان کو پوری صورتحال بتائی ۔ لیکن وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی بے بسی کااظہارکرتے ہوئے تبادلے خود منسوخ کرنے سے معذوری ظاہر کی تو آئی جی سندھ کو ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں خود 67افسران کے تبادلے کرنے پڑے ۔اس طرح ایک بارپھر غلام قادر تھیبو کا بھی تبادلہ ہوگیا اور وہ 6جولائی کی پوزیشن میں آگئے جب وہ چیئرمین اینٹی کرپشن تھے۔
اب ان پر سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی لاگو نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو صرف پولیس کے لیے تھا لہٰذا غلام قادر تھیبو کو محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن میں رپورٹ کرادی گئی ۔ یوں عقلمندی کرنے والا افسر اپنی پوسٹنگ بھی گنوابیٹھا۔ غلام قادر تھیبو سینئر پولیس افسر ہیں۔ پہلے وہ تین مرتبہ آئی جی بنتے بنتے رہ گئے اور پھر دوسری دفعہ کراچی پولیس چیف بنے اور حکمرانوں کے گڈ بک میں شامل ہونے کے لیے آئی جی سے ٹکرلی۔ لیکن اب سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وہ گھر جاکر بیٹھ گئے ۔ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے دو ماہ تک صبرسے کام لیا اور اللہ کو ان کا صبر پسند آگیا۔ اب سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیرداخلہ سہیل انور سیال نے بھی چُپ کا روز ہ رکھ لیاہے اور دیگر کے بھی بیانات بند ہوگئے ہیں۔ فی الحال راوی چین ہی چین لکھ رہاہے ۔ آگے کیاہوگایہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ پراتناضرور طے ہے کہ غلام قادر تھیبو اس جنگ میں سب سے زیادہ اپنا نقصان کرواکر بیٹھے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...