وجود

... loading ...

وجود

تعلیمی اداروں میں دہشت گردوں کی نرسریاں؟

جمعه 15 ستمبر 2017 تعلیمی اداروں میں دہشت گردوں کی نرسریاں؟

سندھ ہمیشہ صوفیوں کی سرزمین رہی ہے اوریہاں کے شہری یا دیہی علاقے ہمیشہ مذہبی منافرت اور انتہاپسندی کے خلاف رہے ہیں حالانکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک سندھ میں مذہبی ولسانی فسادات کے بعض واقعات ضروررونماہوئے لیکن سندھ کے شہریوں نے ہمیشہ مذہبی بھائی چارے کو فروغ دیا ۔
مساجد، امام بارگاہوں پر دھماکے کرائے گئے، مذہبی شخصیات پر حملے ہوئے لیکن سندھ کے عوام نے صبرکادامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ آپس میں اتحاد قائم رکھا۔ محرم الحرام اور ربیع الاول کے جلوسوں پر حملے ہوئے ۔ لیکن اس کے باوجود کبھی مذہبی فسادات کو تقویت نہیں ملی۔ لیکن پچھلے چند ماہ سے سندھ کے تعلیمی اداروں میں انتہاپسندوں اوران کے سہولت کاروں کی موجودگی ثابت ہونا شرو ع ہوگئی ۔ یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم دہشت گردپکڑے جانے لگے ۔ طلباء اور طالبات کا مذہبی انتہاپسندی کی جانب رجحان بڑھنے لگا توصورتحال عوام وخواص دونوں نے کے لیے باعث تشویش ہوگئی۔
اس حوالے سے چندماہ قبل اس وقت سندھ میں دھماکا خیز صورتحال سامنے آئی جب لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کی طالبہ نورین لغاری اچانک گھر سے غائب ہوگئی اور سوشل میڈیاکے ذریعے اپنے اہل خانہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اسلامی سلطنت یعنی شام پہنچ گئی ہے ۔ اس اطلاع سے نورین لغاری کے والدین شدت غم سے نڈھال ہوگئے ۔نورین کے والد پروفیسر عبدالجبار لغاری نے آرمی چیف سے اپیل کی کہ ان کی بیٹی کو بازیاب کرایا جائے ۔جس پرپاک فوج نے لبیک کہااور جب ایک دن خفیہ اطلاع پر لاہورکے ایک گھر پر چھاپہ مارا گیاجہاں کرسمس کی تقاریب میں دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ تو مقابلے کے دوران ایک دہشت گرد ماراگیا اوراس کے تین ساتھی فرار ہو گئے ۔ اسی گھرسے فورسز نے ایک لڑکی کو گرفتار کیا جس کا نام نورین لغاری تھا۔بعدازاں اس لڑکی نے اپنے لیاقت میڈیکل کالج جامشوروکی لاپتہ طالبہ ہونے کااعتراف بھی کرلیا۔
آرمی چیف کی کوششوں سے نورین لغاری کو والدین کے حوالے کردیا گیا۔ نورین لغاری نے میڈیا کے سامنے اپنی جو کہانی سنائی وہ دل دہلادینے والی تھی، اس کی کہانی کو سن کر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو چاہیے تھا کہ وہ انتہاپسندی کی جانب دیکھتے بھی نہیں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں کے انتہاپسندی کی جانب راغب ہونے کاسلسلہ جاری رہا ۔ پولیس افسران اور اہلکاروں پر بھی تواترکے ساتھ حملے ہونے لگے۔ جس نے پولیس اور حساس اداروں کو پریشان کردیا کہ آخر ایسا کون سا گروپ سامنے آگیا جو صرف پولیس کی وردی والوں کوہی نشانا بنارہا ہے؟ فورسزکے اہلکاروں پرحملے تواس سے پہلے بھی ہوتے رہے تھے لیکن دہشت گردی کے حالیہ و اقعات میں نئی بات یہ سامنے آئی کہ دہشت گردی کی واردات کے بعد ایک پمفلٹ پھینکا جاتا اورذمہ داری قبول کی جاتی کہ کارکردگی انصارالشریعہ نے کی ہے۔ یہ صورتحال پولیس ، سیکیورٹی اداروں اورایجنسیوں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہ تھی۔
یہ گروپ کس نے بنایا کہاں بنایا؟ سرپرست کون ہے؟ فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات کہیں سے بھی نہیں مل رہے تھے، مگر ایک دن ایک الگ ہی واقعہ رونماہوا۔ سپرہائی وے کے ایک مقام پر پولیس اہلکار قتل ہوئے اورٹھیک دودن بعد اسی جگہ پر تین افراد کی لاشیں ملیں جن پر پمفلٹ رکھا گیا کہ ان کو انصارالشریعہ کا نام استعمال کرنے اور پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے پر ماردیا گیا ہے۔دہشت گردوں نے اصل میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکا دینے کے لیے ایسا کیا تھا۔
عیدالاضحی کے روز سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن جیسے ہی عید کی نما زپڑھ کر نکلے تو ان پر حملہ کیا گیا ۔ اس حملے میں خوش قسمتی سے خواجہ اظہارتومحفوظ رہے لیکن ایک پولیس اہلکار قتل اور ایک زخمی ہوگیا۔ایک نمازی بچہ بھی جان سے گیا۔ اس موقع پر عوام اور پولیس نے ایک ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن مزاحمت پر مقابلے کے دوران وہ ملزم ماراگیا۔ مارے گئے دہشت گرد کی شناخت حسان نامی پڑھے لکھے نوجوان کے طورپر ہوئی، وہ ایک یونیورسٹی میں پروفیسر اور پی ایچ ڈی ہولڈر تھا۔حسان کے والد بھی ریٹائرڈ پروفیسر ہیں جب حسان کے والد کو پکڑ اگیاتو پورا نیٹ ورک کھل کر سامنے آگیا۔
اس گروپ کا بانی عبداللہ نامی شخص تھا جس کو پکڑ لیا گیا۔ ایک کمانڈر عبدالکریم سروش صدیقی کو جب پکڑنے کے لیے کنیز فاطمہ سوسائٹی پر چھاپہ ماراگیا تو وہ پولیس اہلکاروں پر حملہ کرکے فرار ہوگیا۔ اس کی گرفتاری کے لیے ملک بھر میں چھاپے مارے گئے۔ اطلاعات ہیں کہ وہ جس خفیہ ٹھکانے میں چھپا ہوا ہے اس کے بارے میں پولیس اور رینجرز کو پتہ چل چکا ہے اور کسی بھی وقت عبدالکریم سروش کے بارے میں بڑی خبر آسکتی ہے۔ اس دوران بلوچستان، پنجاب سے بھی اس نیٹ ورک کے 15سے زائد جنگجوئوں کو پکڑلیا گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد دہشت گردی اور انتہاپسندی کی جانب کیوں راغب ہورہے ہیں؟ان کو اس جانب کون راغب کررہا ہے؟ ان سارے سوالات کے جواب اسی وقت مل سکیں گے جب پورا نیٹ ورک پکڑا جائے گا اورمفرور دہشت گرد گرفتار ہوں گے اور ان سے جو معلومات ملے گی اس سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پھیلتی ہوئی انتہاپسندی کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اس وقت صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں خوف کی کیفیت طاری ہے۔ اساتذہ، طلبا، طالبات اور والدین سخت الجھن کے شکار ہیں۔ والدین ، بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے یا نہ بھیجنے کے لیے سوچ رہے ہیں۔ اساتذہ بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے خوفزدہ ہیں، اب تعلیمی اداروںمیں حالات سازگار نہیں رہے ،تعلیم دینے اور تعلیم حاصل کرنے والے دونوں ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں ۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

مضامین
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید وجود هفته 02 مئی 2026
بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر