... loading ...
سندھ ہمیشہ صوفیوں کی سرزمین رہی ہے اوریہاں کے شہری یا دیہی علاقے ہمیشہ مذہبی منافرت اور انتہاپسندی کے خلاف رہے ہیں حالانکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک سندھ میں مذہبی ولسانی فسادات کے بعض واقعات ضروررونماہوئے لیکن سندھ کے شہریوں نے ہمیشہ مذہبی بھائی چارے کو فروغ دیا ۔
مساجد، امام بارگاہوں پر دھماکے کرائے گئے، مذہبی شخصیات پر حملے ہوئے لیکن سندھ کے عوام نے صبرکادامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ آپس میں اتحاد قائم رکھا۔ محرم الحرام اور ربیع الاول کے جلوسوں پر حملے ہوئے ۔ لیکن اس کے باوجود کبھی مذہبی فسادات کو تقویت نہیں ملی۔ لیکن پچھلے چند ماہ سے سندھ کے تعلیمی اداروں میں انتہاپسندوں اوران کے سہولت کاروں کی موجودگی ثابت ہونا شرو ع ہوگئی ۔ یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم دہشت گردپکڑے جانے لگے ۔ طلباء اور طالبات کا مذہبی انتہاپسندی کی جانب رجحان بڑھنے لگا توصورتحال عوام وخواص دونوں نے کے لیے باعث تشویش ہوگئی۔
اس حوالے سے چندماہ قبل اس وقت سندھ میں دھماکا خیز صورتحال سامنے آئی جب لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کی طالبہ نورین لغاری اچانک گھر سے غائب ہوگئی اور سوشل میڈیاکے ذریعے اپنے اہل خانہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اسلامی سلطنت یعنی شام پہنچ گئی ہے ۔ اس اطلاع سے نورین لغاری کے والدین شدت غم سے نڈھال ہوگئے ۔نورین کے والد پروفیسر عبدالجبار لغاری نے آرمی چیف سے اپیل کی کہ ان کی بیٹی کو بازیاب کرایا جائے ۔جس پرپاک فوج نے لبیک کہااور جب ایک دن خفیہ اطلاع پر لاہورکے ایک گھر پر چھاپہ مارا گیاجہاں کرسمس کی تقاریب میں دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ تو مقابلے کے دوران ایک دہشت گرد ماراگیا اوراس کے تین ساتھی فرار ہو گئے ۔ اسی گھرسے فورسز نے ایک لڑکی کو گرفتار کیا جس کا نام نورین لغاری تھا۔بعدازاں اس لڑکی نے اپنے لیاقت میڈیکل کالج جامشوروکی لاپتہ طالبہ ہونے کااعتراف بھی کرلیا۔
آرمی چیف کی کوششوں سے نورین لغاری کو والدین کے حوالے کردیا گیا۔ نورین لغاری نے میڈیا کے سامنے اپنی جو کہانی سنائی وہ دل دہلادینے والی تھی، اس کی کہانی کو سن کر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو چاہیے تھا کہ وہ انتہاپسندی کی جانب دیکھتے بھی نہیں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں کے انتہاپسندی کی جانب راغب ہونے کاسلسلہ جاری رہا ۔ پولیس افسران اور اہلکاروں پر بھی تواترکے ساتھ حملے ہونے لگے۔ جس نے پولیس اور حساس اداروں کو پریشان کردیا کہ آخر ایسا کون سا گروپ سامنے آگیا جو صرف پولیس کی وردی والوں کوہی نشانا بنارہا ہے؟ فورسزکے اہلکاروں پرحملے تواس سے پہلے بھی ہوتے رہے تھے لیکن دہشت گردی کے حالیہ و اقعات میں نئی بات یہ سامنے آئی کہ دہشت گردی کی واردات کے بعد ایک پمفلٹ پھینکا جاتا اورذمہ داری قبول کی جاتی کہ کارکردگی انصارالشریعہ نے کی ہے۔ یہ صورتحال پولیس ، سیکیورٹی اداروں اورایجنسیوں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہ تھی۔
یہ گروپ کس نے بنایا کہاں بنایا؟ سرپرست کون ہے؟ فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات کہیں سے بھی نہیں مل رہے تھے، مگر ایک دن ایک الگ ہی واقعہ رونماہوا۔ سپرہائی وے کے ایک مقام پر پولیس اہلکار قتل ہوئے اورٹھیک دودن بعد اسی جگہ پر تین افراد کی لاشیں ملیں جن پر پمفلٹ رکھا گیا کہ ان کو انصارالشریعہ کا نام استعمال کرنے اور پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے پر ماردیا گیا ہے۔دہشت گردوں نے اصل میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکا دینے کے لیے ایسا کیا تھا۔
عیدالاضحی کے روز سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن جیسے ہی عید کی نما زپڑھ کر نکلے تو ان پر حملہ کیا گیا ۔ اس حملے میں خوش قسمتی سے خواجہ اظہارتومحفوظ رہے لیکن ایک پولیس اہلکار قتل اور ایک زخمی ہوگیا۔ایک نمازی بچہ بھی جان سے گیا۔ اس موقع پر عوام اور پولیس نے ایک ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن مزاحمت پر مقابلے کے دوران وہ ملزم ماراگیا۔ مارے گئے دہشت گرد کی شناخت حسان نامی پڑھے لکھے نوجوان کے طورپر ہوئی، وہ ایک یونیورسٹی میں پروفیسر اور پی ایچ ڈی ہولڈر تھا۔حسان کے والد بھی ریٹائرڈ پروفیسر ہیں جب حسان کے والد کو پکڑ اگیاتو پورا نیٹ ورک کھل کر سامنے آگیا۔
اس گروپ کا بانی عبداللہ نامی شخص تھا جس کو پکڑ لیا گیا۔ ایک کمانڈر عبدالکریم سروش صدیقی کو جب پکڑنے کے لیے کنیز فاطمہ سوسائٹی پر چھاپہ ماراگیا تو وہ پولیس اہلکاروں پر حملہ کرکے فرار ہوگیا۔ اس کی گرفتاری کے لیے ملک بھر میں چھاپے مارے گئے۔ اطلاعات ہیں کہ وہ جس خفیہ ٹھکانے میں چھپا ہوا ہے اس کے بارے میں پولیس اور رینجرز کو پتہ چل چکا ہے اور کسی بھی وقت عبدالکریم سروش کے بارے میں بڑی خبر آسکتی ہے۔ اس دوران بلوچستان، پنجاب سے بھی اس نیٹ ورک کے 15سے زائد جنگجوئوں کو پکڑلیا گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد دہشت گردی اور انتہاپسندی کی جانب کیوں راغب ہورہے ہیں؟ان کو اس جانب کون راغب کررہا ہے؟ ان سارے سوالات کے جواب اسی وقت مل سکیں گے جب پورا نیٹ ورک پکڑا جائے گا اورمفرور دہشت گرد گرفتار ہوں گے اور ان سے جو معلومات ملے گی اس سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پھیلتی ہوئی انتہاپسندی کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اس وقت صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں خوف کی کیفیت طاری ہے۔ اساتذہ، طلبا، طالبات اور والدین سخت الجھن کے شکار ہیں۔ والدین ، بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے یا نہ بھیجنے کے لیے سوچ رہے ہیں۔ اساتذہ بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے خوفزدہ ہیں، اب تعلیمی اداروںمیں حالات سازگار نہیں رہے ،تعلیم دینے اور تعلیم حاصل کرنے والے دونوں ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں ۔
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...
سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...
گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...