وجود

... loading ...

وجود

آئی جی سندھ پولیس کی بحالی، پورے ملک کے لیے قانون بن گیا !

منگل 12 ستمبر 2017 آئی جی سندھ پولیس کی بحالی، پورے ملک کے لیے قانون بن گیا !

حکومت سندھ کی عقل پر پردہ پڑ گیا ہے کیونکہ حکومت سندھ نے جس طرح بغیر کسی سبب کے آئی جی سندھ پولیس کے خلاف محاذ کھڑے کیے اس سے اب حکومت سندھ تو کیا تمام صوبوں کے لیے اب یہ قانون نافذ ہوگیا کہ کسی بھی آئی جی سندھ پولیس کو تین سال سے پہلے ہٹانا اب مشکل ہوگیا ہے۔
حکومت سندھ نے 19دسمبر 2016ء کو حکمران ٹولے کی سفارش پر آئی جی سندھ پولیس کو جبری چھٹی پر بھیج دیا اور پھر چھٹی ختم ہونے سے ایک روز قبل یعنی 2جنوری 2017ء کو ایپکس کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا ۔مجبوراً کڑوا گھونٹ پی کر آئی جی کو بھی بلایا گیا ۔ اسی دوران سندھ ہائی کورٹ نے بھی آئی جی کو ہٹانے کے خلاف حکم امتناعی بھی دے دیا۔ کہتے ہیں کہ ’’تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو‘‘کی طرح حکومت سندھ نے عدالتی حالات میں وفاقی حکومت کے تیور نہیں دیکھے اور چند ماہ تک خاموش رہنے کے بعد 4جولائی کو دو الگ الگ خطوط جاری کیے۔ ایک میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کی گئیں۔ دوسرے میں سردار عبدالمجید دستی کو قائم مقام آئی جی بنادیا گیا۔ 6جولائی کو سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ کو بحال کرتے ہوئے دونوں خطوط معطل کردیے او رحکم امتناعی بھی جاری کیا۔ اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں کیس چلتا رہا ۔بالآخر جمعرات 7؍ ستمبر کوسندھ ہائیکورٹ نے 98 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا یوں حکومت سندھ کی سبکی ہوئی۔
دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت سندھ کو جس طرح ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے سہانے خواب دِکھائے تھے اس سے واضح ہوگیا ہے کہ حکومت سندھ حقائق سے بے خبر ہے کیونکہ حقیقی معنوں میں مضبوط کیس بھی نہیں لڑاگیا اور صرف سرسری واقعات بتاکر حکومت سندھ کا کیس کمزور انداز میں پیش کیا گیا۔ حکومت سندھ میں بھی صحیح ہوم ورک نہیں کیا گیا۔ یہ کیس اصل میںخطرہ مول لے کر لڑ اگیا کیونکہ اب جو فیصلہ آیا ہے وہ پورے ملک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ اب انیتا تراب کیس پھر سے نافذ ہوگیا ہے اور اب تو کوئی بھی صوبائی حکومت کسی بھی چیف سیکریٹری آئی جی کو تین برس تک ہٹانے کی وفاقی حکومت سے کوئی درخواست نہیں کرسکتی۔ حکومت سندھ نے جو جوا کھیلا اس میں نہ صرف اُسے بری طرح شکست ہوئی بلکہ اب مستقبل میں آنے والی حکومتوں کے لیے کئی پریشانیاں بڑھ گئیں۔ اب تووفاقی حکومت بھی کسی چیف سیکریٹری یا آئی جی پولیس کو تین سال سے پہلے نہیں ہٹاسکے گی ۔کیونکہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے نے تمام صورتحال واضح کردی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب کیس چل رہا تھا تو حکومت سندھ نے سہیل انوار سیال کو وزیرداخلہ سندھ بنادیا جنہوں نے بچگانہ اقدامات اُٹھائے جس سے حکومت سندھ کی صرف جگ ہنسائی ہوئی۔ آئی جی کوخط لکھا کہ وہ کراچی سے باہر جائیں تو چیف سیکریٹری سے اجازت لیں، اور صرف گریڈ 17تک کے پولیس افسران یعنی اے ایس پی اور ڈی ایس پی کے تبادلے وتقرریاں کریں، آئی جی کے اسٹاف افسر ہٹادیے گئے ۔الغرض آئی جی کو تنگ کرنے کے تمام حربے استعمال کیے گئے مگر اب سندھ ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں حکومت سندھ منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 6جولائی سے 6ستمبر تک جتنے بھی پولیس افسران وایس ایس پیز ، ڈی آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جیز کے تبادلے کیے گئے ہیں وہ منسوخ کیے جائیں، جب چھان بین کی گئی تو پتہ چلا کہ ان دو ماہ میں وزیرداخلہ سہیل انور سیال نے 67پولیس افسران کے تبادلے کیے ہیں۔ اب وہ سب کے سب منسوخ ہوجائیں گے۔ اس کے باوجود آئی جی سندھ پولیس نے کوئی جلد بازی نہیں کی اور ایڈیشنل آئی جی کرائم برانچ آفتاب پٹھان کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی ہے ، تاکہ تبادلوں کی چھان بیان کرکے رپورٹ لی جاسکے۔
سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے قبل آئی جی نے ایک خط وزیراعلیٰ کو لکھا کہ جناب ایسا نہ کیا جائے کہ تبادلوں میں آئی جی آفس کو بے خبر رکھا جائے اور پولیس افسران کو وزیرداخلہ کے آفس میں بلاکر ہراساں کیا جائے۔ ا س سے پولیس کا مورال خراب ہوگا۔ اس پر وزیراعلیٰ ہائوس پر دبائو ڈال کر آئی جی سندھ سے جواب طلبی کی گئی اور پھر آئی جی نے گریڈ 18کے ایک پولیس افسر کو بیرون ممالک جانے کی اجازت دے دی اس پر وزیرداخلہ سہیل انور سیال نے آئی جی سے جواب طلبی کی ہے۔ بہر کیف اب سندھ ہائی کورٹ نے تمام اختیارات کے ساتھ آئی جی کو بحال کردیا ہے۔ فیصلے کے ایک دن بعد یعنی جمعہ 8ستمبر کو وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی کو اپنے دفتر میں بلاکر بات چیت کی ۔آئی جی نے ان سے 19دسمبر 2016ء کے بعد تین ملاقاتوں کی طرح اس ملاقات میں بھی واضح کیا کہ میرا آپ کے والد سید عبداللہ شاہ کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ وہ ایک دبنگ انسان تھے ،میں ان کو اپنا محسن سمجھتا ہوں اور پھر میں قطعی طورپر آپ سے ٹکرائو میں نہیں آیا اور آئندہ بھی آپ کی ذات سے کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔ میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ میں حکومت سندھ کی قدر کرتا ہوں پھر میں کیسے آپ سے ٹکرلے سکتا ہوں۔ آئی جی نے واضح الفاظ میں کہا کہ عزت، ذلت کا مالک اللہ ہے وہ کسی بھی صورت میں کسی کی دل آزاری نہیں کریں گے۔ اس فیصلے میں بھی وہ کسی کی ہار جیت نہیں سمجھتے بلکہ وہ اس فیصلے کے بعد حکومت سندھ سے تمام مشاورت کے بعد معاملات چلانا چاہتے ہیں۔ وہ تبادلوں پر بھی کوئی تنازع کھڑا نہیں کرنا چاہتے جس طرح حکومت سندھ کی پالیسی ہوگی اس پر عمل کیا جائے گا ۔آئی جی نے کہا کہ میںنے تو خود ہائی کورٹ میں جاکر اپنا حلف نامہ دیا تھاکہ مجھے وفاقی حکومت میں جانے کی اجازت دی جائے ،لیکن ہائی کورٹ نے میری استدعا مسترد کرتے ہوئے کام کرنے کی ہدایت کی۔ اس طرح اب بھی میں حکومت سندھ کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ان کے لیے کوئی غلط بات دل میں نہیں رکھتے۔ انتظامی معاملات میں بعض اوقات کئی فیصلے کرنا پڑتے ہیں ۔اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں اس ملاقات میں بہتر ہم آہنگی کے ساتھ صوبائی معاملات چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس طرح اب ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لیا جارہا ہے اس طرح19؍دسمبر 2016ء کو لیا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر