... loading ...
حکومت سندھ کی عقل پر پردہ پڑ گیا ہے کیونکہ حکومت سندھ نے جس طرح بغیر کسی سبب کے آئی جی سندھ پولیس کے خلاف محاذ کھڑے کیے اس سے اب حکومت سندھ تو کیا تمام صوبوں کے لیے اب یہ قانون نافذ ہوگیا کہ کسی بھی آئی جی سندھ پولیس کو تین سال سے پہلے ہٹانا اب مشکل ہوگیا ہے۔
حکومت سندھ نے 19دسمبر 2016ء کو حکمران ٹولے کی سفارش پر آئی جی سندھ پولیس کو جبری چھٹی پر بھیج دیا اور پھر چھٹی ختم ہونے سے ایک روز قبل یعنی 2جنوری 2017ء کو ایپکس کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا ۔مجبوراً کڑوا گھونٹ پی کر آئی جی کو بھی بلایا گیا ۔ اسی دوران سندھ ہائی کورٹ نے بھی آئی جی کو ہٹانے کے خلاف حکم امتناعی بھی دے دیا۔ کہتے ہیں کہ ’’تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو‘‘کی طرح حکومت سندھ نے عدالتی حالات میں وفاقی حکومت کے تیور نہیں دیکھے اور چند ماہ تک خاموش رہنے کے بعد 4جولائی کو دو الگ الگ خطوط جاری کیے۔ ایک میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کی گئیں۔ دوسرے میں سردار عبدالمجید دستی کو قائم مقام آئی جی بنادیا گیا۔ 6جولائی کو سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ کو بحال کرتے ہوئے دونوں خطوط معطل کردیے او رحکم امتناعی بھی جاری کیا۔ اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں کیس چلتا رہا ۔بالآخر جمعرات 7؍ ستمبر کوسندھ ہائیکورٹ نے 98 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا یوں حکومت سندھ کی سبکی ہوئی۔
دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت سندھ کو جس طرح ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے سہانے خواب دِکھائے تھے اس سے واضح ہوگیا ہے کہ حکومت سندھ حقائق سے بے خبر ہے کیونکہ حقیقی معنوں میں مضبوط کیس بھی نہیں لڑاگیا اور صرف سرسری واقعات بتاکر حکومت سندھ کا کیس کمزور انداز میں پیش کیا گیا۔ حکومت سندھ میں بھی صحیح ہوم ورک نہیں کیا گیا۔ یہ کیس اصل میںخطرہ مول لے کر لڑ اگیا کیونکہ اب جو فیصلہ آیا ہے وہ پورے ملک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ اب انیتا تراب کیس پھر سے نافذ ہوگیا ہے اور اب تو کوئی بھی صوبائی حکومت کسی بھی چیف سیکریٹری آئی جی کو تین برس تک ہٹانے کی وفاقی حکومت سے کوئی درخواست نہیں کرسکتی۔ حکومت سندھ نے جو جوا کھیلا اس میں نہ صرف اُسے بری طرح شکست ہوئی بلکہ اب مستقبل میں آنے والی حکومتوں کے لیے کئی پریشانیاں بڑھ گئیں۔ اب تووفاقی حکومت بھی کسی چیف سیکریٹری یا آئی جی پولیس کو تین سال سے پہلے نہیں ہٹاسکے گی ۔کیونکہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے نے تمام صورتحال واضح کردی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب کیس چل رہا تھا تو حکومت سندھ نے سہیل انوار سیال کو وزیرداخلہ سندھ بنادیا جنہوں نے بچگانہ اقدامات اُٹھائے جس سے حکومت سندھ کی صرف جگ ہنسائی ہوئی۔ آئی جی کوخط لکھا کہ وہ کراچی سے باہر جائیں تو چیف سیکریٹری سے اجازت لیں، اور صرف گریڈ 17تک کے پولیس افسران یعنی اے ایس پی اور ڈی ایس پی کے تبادلے وتقرریاں کریں، آئی جی کے اسٹاف افسر ہٹادیے گئے ۔الغرض آئی جی کو تنگ کرنے کے تمام حربے استعمال کیے گئے مگر اب سندھ ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں حکومت سندھ منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 6جولائی سے 6ستمبر تک جتنے بھی پولیس افسران وایس ایس پیز ، ڈی آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جیز کے تبادلے کیے گئے ہیں وہ منسوخ کیے جائیں، جب چھان بین کی گئی تو پتہ چلا کہ ان دو ماہ میں وزیرداخلہ سہیل انور سیال نے 67پولیس افسران کے تبادلے کیے ہیں۔ اب وہ سب کے سب منسوخ ہوجائیں گے۔ اس کے باوجود آئی جی سندھ پولیس نے کوئی جلد بازی نہیں کی اور ایڈیشنل آئی جی کرائم برانچ آفتاب پٹھان کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی ہے ، تاکہ تبادلوں کی چھان بیان کرکے رپورٹ لی جاسکے۔
سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے قبل آئی جی نے ایک خط وزیراعلیٰ کو لکھا کہ جناب ایسا نہ کیا جائے کہ تبادلوں میں آئی جی آفس کو بے خبر رکھا جائے اور پولیس افسران کو وزیرداخلہ کے آفس میں بلاکر ہراساں کیا جائے۔ ا س سے پولیس کا مورال خراب ہوگا۔ اس پر وزیراعلیٰ ہائوس پر دبائو ڈال کر آئی جی سندھ سے جواب طلبی کی گئی اور پھر آئی جی نے گریڈ 18کے ایک پولیس افسر کو بیرون ممالک جانے کی اجازت دے دی اس پر وزیرداخلہ سہیل انور سیال نے آئی جی سے جواب طلبی کی ہے۔ بہر کیف اب سندھ ہائی کورٹ نے تمام اختیارات کے ساتھ آئی جی کو بحال کردیا ہے۔ فیصلے کے ایک دن بعد یعنی جمعہ 8ستمبر کو وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی کو اپنے دفتر میں بلاکر بات چیت کی ۔آئی جی نے ان سے 19دسمبر 2016ء کے بعد تین ملاقاتوں کی طرح اس ملاقات میں بھی واضح کیا کہ میرا آپ کے والد سید عبداللہ شاہ کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ وہ ایک دبنگ انسان تھے ،میں ان کو اپنا محسن سمجھتا ہوں اور پھر میں قطعی طورپر آپ سے ٹکرائو میں نہیں آیا اور آئندہ بھی آپ کی ذات سے کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔ میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ میں حکومت سندھ کی قدر کرتا ہوں پھر میں کیسے آپ سے ٹکرلے سکتا ہوں۔ آئی جی نے واضح الفاظ میں کہا کہ عزت، ذلت کا مالک اللہ ہے وہ کسی بھی صورت میں کسی کی دل آزاری نہیں کریں گے۔ اس فیصلے میں بھی وہ کسی کی ہار جیت نہیں سمجھتے بلکہ وہ اس فیصلے کے بعد حکومت سندھ سے تمام مشاورت کے بعد معاملات چلانا چاہتے ہیں۔ وہ تبادلوں پر بھی کوئی تنازع کھڑا نہیں کرنا چاہتے جس طرح حکومت سندھ کی پالیسی ہوگی اس پر عمل کیا جائے گا ۔آئی جی نے کہا کہ میںنے تو خود ہائی کورٹ میں جاکر اپنا حلف نامہ دیا تھاکہ مجھے وفاقی حکومت میں جانے کی اجازت دی جائے ،لیکن ہائی کورٹ نے میری استدعا مسترد کرتے ہوئے کام کرنے کی ہدایت کی۔ اس طرح اب بھی میں حکومت سندھ کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ان کے لیے کوئی غلط بات دل میں نہیں رکھتے۔ انتظامی معاملات میں بعض اوقات کئی فیصلے کرنا پڑتے ہیں ۔اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں اس ملاقات میں بہتر ہم آہنگی کے ساتھ صوبائی معاملات چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس طرح اب ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لیا جارہا ہے اس طرح19؍دسمبر 2016ء کو لیا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...
یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...
فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...
عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...
7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...
ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...
امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...
پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...