وجود

... loading ...

وجود

ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضوں سے شروع ہونے والے 3.4 ارب ڈالر کے منصوبے تاخیر کاشکار

پیر 11 ستمبر 2017 ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضوں سے شروع ہونے والے 3.4 ارب ڈالر کے منصوبے تاخیر کاشکار

ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضوں سے شروع ہونے والے 3.4 ارب ڈالر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کاانکشاف ہواہے، اطلاعات کے مطابق حکومت کی عدم توجہی اور مناسب منصوبہ بندی نہ کیے جانے کے سبب تاخیر کاشکارہونے والے بیشتر منصوبوں کاتعلق بجلی کی تیاری اور تقسیم سے ہے جسے مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہے۔اس صورت حال سے موجودہ حکومت کے قول وفعل کی قلعی ایک دفعہ پھر کھل کر سامنے آگئی ہے۔تاخیر کاشکار ہونے والے منصوبوں میں بجلی کی تیاری اور تقسیم کاری کے علاوہ جو دوسرے منصوبے شامل ہیں ان میں پانی، زراعت، ٹرانسپورٹ اور سوشل سیکٹر کے منصوبے شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق رواں سال جون کے آخر تک پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے مجموعی طورپر 37 پراجیکٹس پر کام جاری تھا۔ جن پر مجموعی طورپرلاگت کااندازہ 6.7 بلین ڈالر یعنی 6 ارب 70 کروڑ ڈالر لگایاگیاہے۔ان 37 پراجیکٹس میں 32 کی لاگت کا اندازہ5.83 بلین یعنی 5 ارب 83 کروڑ لگایاگیاہے اوران پر کام جاری ہے جبکہ ان میں سے18 پراجیکٹس جن پر لاگت کا اندازہ 3.6 بلین یعنی 3 ارب60 کروڑ لگایاگیا ہے مشکلات کاشکار بتائے جاتے ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے ان میں سے1.2 بلین ڈالر یعنی ایک ارب20 کروڑ ڈالر کی8 اسکیموں کومشکلات کاشکار قرار دیاہے جبکہ 1.7 بلین ڈالر یعنی ایک ارب 70 کروڑ ڈالر مالیت کے 4 پراجیکٹس کو واچ لسٹ پر رکھاگیاہے،اگرچہ مجموعی طورپر 7 پراجیکٹس کو واچ لسٹ پر رکھا گیاہے لیکن 3 کو سنگین مشکلات کاشکار قرار دیاجاچکاہے۔
واچ لسٹ کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے زیر تکمیل منصوبوں میں سے60 فیصد منصوبوںیعنی مجموعی طورپر21 منصوبوں کو ٹریک پر یعنی معمول کے مطابق قابل عمل قرار دیاہے جبکہ گزشتہ سال دسمبر میںٹریک پر قرار دیے گئے منصوبوں کی شرح 80 فیصد تھی یعنی صرف 6 ماہ کے اندر مزید 20 فیصد منصوبوں پر کام کی رفتار میں رکاوٹ پڑی یا بوجوہ رکاوٹ پیدا کی گئی۔اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے شروع کیے گئے منصوبوں پر کام کی رفتار خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک نے یہ نوٹ کیاہے کہ کام کی سست روی کاسبب ٹھیکے دینے میں تاخیراور 2017 کی پہلی ششماہی کے دوران رقم کی فراہمی میں رکاوٹ تھا،جبکہ افسرشاہی کی لیت ولعل کے سبب ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پراجیکٹس کی منظوری اور اس کے موثر ہونے کا اندازہ لگانے پر ایک سال ضائع ہوگیا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار کااندازہ منصوبے کی تکمیل کے لیے ٹھیکے کی منظوری اور اس کے لیے رقم کی فراہمی سے لگاتاہے،پراجیکٹس کی تکمیل میں تاخیر اور سست روی سے حکومت کی گورننس کی خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں بجلی کی ٹرانسمیشن کاپورا نیٹ ورک فرسودہ ہوچکاہے جس کی وجہ سے بجلی کی ترسیل میں مشکلات پیش آتی ہیں اور ترسیل کے دوران بجلی ضائع ہونے کی شرح زیادہ ہے۔ٹرانسمیشن کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں بھی اپنے نیٹ ورک کو بہتر بنائیں۔جبکہ فنڈز موجود ہونے کے باوجود متعلقہ ادارے کام کی رفتار تیز کرکے سسٹم کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما لوگوں کوبجلی کی قلت سے نجات دلانے کے وعدے پر برسراقتدار آئے تھے اور اب بھی ہر جگہ اپنے دور حکومت میں لوگوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مکمل طورپر نجات دلانے کا وعدہ دہراتے رہتے ہیں لیکن اب جبکہ موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے میں صرف 9 ماہ باقی رہ گئے ہیں اس وعدے کی تکمیل کی جانب کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔موجودہ حکومت نے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر تو توجہ دی ہے لیکن بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت کو مکمل طور پر نظر انداز کررکھا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے زیر تکمیل 43 فیصد منصوبوں کاتعلق بجلی سے ہے اور ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 3 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک کی امداد کادوسرا بڑا شعبہ ٹرانسپورٹ کاہے جس کے منصوبوں کی شرح 26 فیصد ہے اس طرح بجلی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے ملاکر منصوبوں کی مجموعی شرح69 فیصد بنتی ہے جس کے لیے دسمبر2017 تک سرگرمی کے ساتھ کام کیاگیا اوربینک کی جانب سے رقم فراہم کی گئی ۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پبلک سیکٹر انٹرپرائز ریفارم پروجیکٹ کو اصل مشکلات کاحامل قرار دیاہے بینک نے مختلف اداروں کی نجکاری یا ان کی حالت بہتر بنانے کے لیے 2014 میں قرض کی منظوری دی تھی۔اطلاعات کے مطابق فاٹا میں پانی کے وسائل کو ترقی دینے اور بہتر بنانے کے منصوبے کے لیے 42 ملین ڈالر یعنی 4 کروڑ20 لاکھ ڈالر کی منظوری دی گئی تھی 6 ماہ قبل تک اس پراجیکٹ پر اطمینان بخش طریقے سے کام جاری تھا لیکن اب یہ پراجیکٹ بھی مشکلات کاشکار بتایاجاتاہے۔
کراچی میں تیز رفتار بس ٹرانزٹ ڈیزائن کے منصوبے کو بھی مشکلات کاشکار بتایاجارہاہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ کراچی کے شہریوں کوجلد ٹرانسپورٹ کی مشکلات سے نجات ملنے کاامکان کم ہے ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈکے لیے 200 ملین ڈالر یعنی 20 کروڑ ڈالر کی منظوری دی تھی لیکن یہ منصوبہ بھی تعطل کاشکار ہے،سیلاب سے قبل قومی شاہراہوں کی بحالی اور ان کی حالت بہتر بنانے کیلیے ایشیائی ترقیاتی بینک نے197 ملین یعنی 19کروڑ70 لاکھ ڈالر اور سندھ کے شہروں کی حالت بہتر بنانے کے منصوبوں پر عملدرآمدکے لیے92 ملین یعنی 9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی منظوری بھی دی تھی لیکن ان منصوبوں کی جلد تکمیل ممکن نظر نہیں آتی اور اس طرح یہ منصوبے بھی مشکلات کے شکار منصوبوں کی صف میں شامل ہوچکے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے 900 ملین ڈالر یعنی90 کروڑ ڈالر مالیت کے جام شورو پاور پراجیکٹ کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کانوٹس لیتے ہوئے اس منصوبے کو بھی واچ لسٹ میں شامل کردیاہے ۔اطلاعات کے مطابق ڈھائی سال کاطویل عرصہ گزرجانے کے باوجود متعلقہ حکام ابھی تک اس پراجیکٹ کی تکنیکی باریکیوں کا ہی تعین نہیں کرسکے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے شروع کیے جانے والے جو دیگر بڑے منصوبے تعطل کاشکار ہیں ان میں218 ملین ڈالر یعنی 21کروڑ80 لاکھ ڈالر مالیت کا سیلاب سے بچائو اور روک تھام کے ہنگامی تعمیر نو کا منصوبہ 278 ملین ڈالر یعنی 27 کروڑ80 لاکھ ڈالر مالیت کانیشنل موٹر وے پراجیکٹ اور167 ملین ڈالر یعنی16 کروڑ70 لاکھ ڈالر مالیت کابجلی کی تقسیم کا توسیعی نظام کامنصوبہ شامل ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے شروع کیے جانے والے یہ تمام منصوبے نوعیت کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کو ترجیحی بنیادوں پر مقررہ وقت سے قبل ہی مکمل کیاجاتا لیکن حقائق وشواہد سے ظاہر ہوتاہے کہ ہماری حکومت اور افسر شاہی نے ان اہم منصوبوں کو بھی سرخ فیتے کی نذر کردیاہے جس سے حکومت اور ارباب حکومت کی کارکردگی اوران کے قول وفعل میں موجود تضاد کااندازہ بخوبی لگایاجاسکتاہے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر