وجود

... loading ...

وجود

مودی کابینہ میں تین سال میں تیسری توسیع، نئے سوالات نے سر اُٹھا لیے!

جمعه 08 ستمبر 2017 مودی کابینہ میں تین سال میں تیسری توسیع، نئے سوالات نے سر اُٹھا لیے!

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنی کابینہ میں توسیع کی ہے جس کے تحت 4 وزرا ء کو ترقی دے کر وزیر کابینہ بنایا گیا ہے جبکہ 9نئے وزرا ء نے حلف اٹھایا۔جن وزرا ء کے عہدے میں ترقی ہوئی ہے ان میں نائب وزیر دھرمیندر پردھان، پیوش گویل، مختار عباس نقوی اور نرملا سیتارمن شامل ہیں ۔جبکہ نئے وزرا ء میں شیو پرتاپ شکل، اشون کمار چوبے، ڈاکٹر ویرندر کمار، راجکمار سنگھ، ستیہ پال سنگھ، ہردیپ سنگھ پوری، الفانس کنن تھنم، اننت کمار ہیگڑے اور گجیندر سنگھ شیخاوت شامل ہیں ۔ان9 نئے وزرا میں 4 سابق بیوروکریٹ ہیں جن میں سے کے جے الفانس اور ہردیپ سنگھ پوری تو رکن پارلیمان بھی نہیں ہیں جبکہ الفانس کا جھکاؤ بائیں بازو کی جانب بتایا جاتا ہے۔ جبکہ آر کے سنگھ بہار میں ہونے والے انتخابات میں مجرموں کو پیسے دے کر ٹکٹ دیے جانے کا الزام لگا چکے ہیں ۔
مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی یہ سوال اٹھتے رہے ہیں کہ ان کی کابینہ میں اہل اور تجربہ کار لوگوں کی کمی ہے اور جب بھی نریندر مودی نے اپنی کابنیہ میں رود و بدل یا توسیع کی ہے تو یہ سوال سر ابھارتے ہیں اور اب تک تین سال میں تین بار ان کی کابینہ میں توسیع ہوئی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ چار سابق بیوروکریٹس کا کابینہ میں شامل ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی میں اہل لوگوں کی کمی ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں ریلوے حادثات کی وجہ سے ریلوے کے وزیر سریش پربھو پر زبردست دباؤ تھا۔ انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق اس توسیع سے قبل انھوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس وزات سے سبکدوش ہو رہے ہیں لیکن ان کی یادیں اس سے وابستہ رہیں گی۔چار وزرا کے عہدے میں ترقی کی گئی ہے۔آج کی توسیع سے قبل چھ وزرا نے استعفیٰ دیا تھا تاکہ نئے لوگوں کو جگہ دی جائے۔ ان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ انھوں نے اپنے کام کو توقعات کے مطابق نہیں کیے۔نریندر مودی نے اپنے ٹویٹ میں نئے حلف لینے والے افراد کو مبارکباد دی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان کے تجربات کابینہ کے لیے بہت اہم ہوں گے۔جبکہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے وزیروں کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ہے: ‘مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کے جدید ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھیں گے۔
مودی کابینہ میں ردوبدل کے حوالے سے اگرچہ ہمیشہ ہی اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں لیکن نریندرا مودی کی جانب سے نرملا سیتارمن کو وزیر دفاع کا قلمدان دیے جانے کو سب ہی نے حیرت اور تعجب سے دیکھا ہے کیونکہ نرملا سیتارمن کو فوجی امور میں کبھی دلچسپی لیتے نہیں دیکھاگیا ۔ان کا شمار بے جے پی کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین میں ضرور ہوتاہے لیکن فوج اور دفاعی امور سے ان کاکبھی دور کابھی واسطہ نہیں رہا،ان کے بارے میں یہ دلچسپ انکشاف ہواہے کہ برطانیا میں دوران تعلیم وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے بی بی سی کی تامل سروس کے لیے جز وقت خدمات انجام دیتی رہی تھیں ۔
نرملا سیتارمن ملک کی پہلی کل وقتی‘ خاتون وزیر دفاع ہیں حالانکہ اندرا گاندھی جب وزیر اعظم تھیں تو دو مرتبہ کچھ عرصے کے لیے دفاع کا قلمدان انھوں نے اپنے پاس رکھا تھا۔ پہلے 1975 میں ، یہ وہ سال تھا جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی اور پھر 1980 سے 1982 تک، یہ وہ وقت تھا جب پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی پہلی شکست کے بعد وہ اقتدار میں واپس لوٹی تھیں اور خالصتان کی تحریک اپنے عروج کو پہنچ رہی تھی۔
نرملا سیتارمن کا سیاسی سفر بہت حیرت انگیز رہا ہے۔ وہ صرف نو سال پہلے بی جے پی میں شامل ہوئی تھیں ، تین سال پہلے جب نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کی تو وہ پارٹی کے کئی ترجمانوں میں سے ایک تھیں ۔ انہیں وفاقی حکومت میں نائب وزیر کا عہدہ دیا گیا اور وہ خزانہ اور کامرس کی وزارتوں کی ذمہ داری سنبھال چکی ہیں ۔انھوں نے دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد لندن گئیں جہاں انھوں نے ایک ’فری لانسر‘ کی حیثیت سے بی بی سی کی تامل سروس میں کچھ عرصے کام کیا۔ ان کا تعلق تامل ناڈو سے ہے اور تامل ان کی مادری زبان ہے۔
وہ ریڈیو کا دور تھا اور اس وقت 40 سے زیادہ زبانوں میں بی بی سی کے پروگرام لندن کی تاریخی عمارت ’بش ہاؤس‘ سے نشر ہوا کرتے تھے۔ لندن آکر پڑھنے والے بہت سے ایسے طالب علم، جن کی صحافت میں دلچسپی ہوتی اور جنہیں کسی ایسی زبان پر عبور حاصل ہوتا جس میں بی بی سی کے پروگرام نشر کیے جاتے ہوں ، فری لانسر کے طور پر بش ہاؤس میں کام حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔وزارت کاقلمدان سنبھالنے سے قبل سیتا رمن بی جے پی کی ترجمان کے فرائض انجام دیتی رہی تھیں ۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ان کا تعلق بھی دلچسپ ہے۔ گزشتہ دو تین برسوں میں کچھ حلقوں کی جانب سے جے این یو کو قوم مخالف سرگرمیوں کے اڈے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس تاثر اور الزام کو بھی مسترد کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ یونیورسٹی آزاد فکر اور سیکولرزم کا گہوارہ ہے۔ اسی بحث کے دوران یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ کیمپس میں ایک ٹینک رکھا جائے! ان کا خیال تھا کہ ٹینک دیکھ کر طلبہ میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ٹینک کی تجویز کو تو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا لیکن کوئی بات نہیں ، اب جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو اپنی وزیر دفاع مل گئی ہے!


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر