وجود

... loading ...

وجود

پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ , 6.5 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ،ایک ارب چالیس کروڑ کی زمینوں پر قبضے

منگل 05 ستمبر 2017 پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ , 6.5 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ،ایک ارب چالیس کروڑ کی زمینوں پر قبضے

آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں 6.5ارب روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری فنڈز کے خرچ میں بے قاعدگیوں ،فراڈ ،خورد برد اوربے اعتدالیوں کے ذریعہ کم وبیش 19کروڑ55 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ رقم ذمہ دار افراد سے وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے صرف 23 فارمیشنز کے آڈٹ کے دوران پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی ) کے پریمیم ، جعلی ڈاک ٹکٹوں ، ملٹری پنشنز کی ادائیگی، پوسٹل پنشن کی ادائیگی اور یوٹلیٹی بلز کی وصولی کی مد میں فراڈ، خورد برد اور گھپلوں کے 140 واقعات کاپتہ چلایا گیا جن میں مجموعی طورپر19 کروڑ40 لاکھ روپے خورد برد کیے گئے ،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس صورت حال کی اطلاع جب پرنسپل اکاؤنٹس افسر اور پاکستان پوسٹ آفس کی انتظامیہ کو دی گئی تو انھوں نے جواب دیا کہ خورد برد کی گئی رقم واپس وصول کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں 4 کروڑ16 لاکھ روپے واپس وصول کیے جاچکے ہیں جبکہ بقیہ رقم کی وصولی کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاہے کہ آڈٹ کے دوران 5 مختلف مقامات پر محکمہ کے بعض افسران کے مبینہ تعاون یا چشم پوشی کے سبب محکمہ کی کم وبیش ایک ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ کررکھا ہے ۔یہ بھی پتہ چلاکہ محکمہ کی املاک پر ناجائز قبضے کی وجہ سے محکمے کو کم وبیش9 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔محکمہ کی جن املاک پر قبضے کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں ملتان روڈ لاہورپرپی اینڈ ٹی کالونی کابنگلہ نمبر D-3یہ بنگلہ پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کو الاٹ کیاگیا لیکن اس افسر نے بعد میں بنگلہ خالی کردیاتھا اور بعض لوگوں نے اس پر قبضہ کرلیا،جس سے محکمے کو 9 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا۔جبکہ پاکستان پوسٹ ماسٹر جنرل میٹروپولیٹن سرکل کراچی کی گزری روڈ پر ایک کالونی تھی جس میں 192 کوارٹر تھے لیکن ناجائز قبضوں ،زمینوں کی ناجائز خرید وفروخت اور تجاوزات کی وجہ سے یہ پوری کالونی محکمہ کے ہاتھ سے نکل گئی ۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق گزری روڈ کراچی پر واقع پی اینڈ ٹی کالونی میں موجود116 کوارٹرز 4 مرلہ یعنی کم وبیش 100 مربع گز زمین فی کوارٹر کے حساب سے تعمیر کیے گئے ہیں جن کی کم از کم قیمت 16 کروڑ روپے ہے۔پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ نے ان کوارٹرز اور زمین پر ناجائز قبضے کے حوالے سے اطلاع پر جواب دیاکہ یہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالتی فیصلے کے بعد ہی اس حوالے سے کچھ کیاجاسکے گا۔آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے اور بروقت کارروائی نہ کرنے والے متعلقہ افسران کاتعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
آڈٹ کے دوران قواعد وضوابط پر عملدرآمد نہ کرنے کے 15 اور معاملات کا پتہ چلایاگیا جس سے محکمہ پوسٹ آفس کو 3 ارب 40 کروڑ روپے کانقصان پہنچا، جبکہ محکمہ جاتی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے محکمے کو ہونے والے 55 کروڑ ایک لاکھ 97 ہزار کے 3 معاملات کاپتہ چلایاگیا۔ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران نے 2015-16 کے بجٹ میں سے 2.2 بلین روپے یعنی2 ارب 20 کروڑ روپے اضافی خرچ کرلیے جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔جب محکمہ پوسٹ آفسز اورپرنسپل اکاؤنٹ افسر کی توجہ ان بے قاعدگیوں کی جانب مبذول کرائی گئی تو انھوں نے کہا کہ یہ اخراجات ناگزیر نوعیت کے تھے اور ان کو ملتوی نہیں کیاجاسکتاتھا۔تاہم آڈیٹر جنرل نے اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیاہے کیونکہ سپلیمنٹری گرانٹ کی درخواست بہت تاخیر سے یعنی دسمبر 2015 کے بجائے اپریل 2016 میں کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ محکمہ کی جانب سے غیر قانونی طورپر اعزازیہ اورتجدید کے کمیشن کی ادائی کیے جانے کابھی انکشاف ہواہے۔ یہی نہیں بلکہ اندرون ملک کے لیے ٹکٹوں اورانویلپس یعنی لفافوں کی غیر قانوی طباعت کرائی گئی جس سے محکمے کو 12 کروڑ10 لاکھ روپے کانقصان پہنچا۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں محکمہ ڈاک خانے میں ہونے والی بے قاعدگیوں ،بد انتظامیوں ، اور خورد برد کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کاتعین بھی کردیاہے اب یہ کام اعلیٰ حکام کاہے کہ وہ متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ محکمہ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرائیں بلکہ محکمہ کو اس طرح کے راشی، نااہل اور غیر ذمہ دار افسران سے پاک کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس دن بدن دم توڑتے محکمے کو آئندہ اس طرح کے نقصانات سے بچایاجاسکے۔جب تک راشی اور بدعنوان افسران کی سختی سے سرکوبی نہیں کی جائے گی اس وقت تک سرکاری محکموں میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا اور محض سخت اقدام کی وارننگ کے ذریعے اس طرح کے نقصانات سے بچنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔
توقع کی جاتی ہے کہ ارباب حکومت آڈیٹر جنرل کی رپورٹوں کو محض ایک خانہ پری تصور کرتے ہوئے طاق کی زینت بنانے کے بجائے اس کے مندرجات پر توجہ دینے کارویہ اختیار کریں گے اور ان رپورٹوں میں جن خامیوں ،بد عملیوں اور بد انتظامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے انھیں دور کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے تمام محکموں کو بدعنوانیوں اور بد انتظامیوں سے پاک کیا جاسکتاہے۔یہ صحیح ہے کہ ان رپورٹوں پر عمل کے دوران ارباب حکومت کو اپنے کچھ من پسند لوگوں کو بھی اعلیٰ عہدوں سے فارغ کرنا پڑسکتاہے لیکن ملک کے وسیع تر مفاد کے تحت چند ایسے من پسند افراد کی قربانی کوئی بہت مہنگا اور برا سودا نہیں ہے ۔
٭٭


متعلقہ خبریں


پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر