... loading ...
آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں 6.5ارب روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری فنڈز کے خرچ میں بے قاعدگیوں ،فراڈ ،خورد برد اوربے اعتدالیوں کے ذریعہ کم وبیش 19کروڑ55 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ رقم ذمہ دار افراد سے وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے صرف 23 فارمیشنز کے آڈٹ کے دوران پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی ) کے پریمیم ، جعلی ڈاک ٹکٹوں ، ملٹری پنشنز کی ادائیگی، پوسٹل پنشن کی ادائیگی اور یوٹلیٹی بلز کی وصولی کی مد میں فراڈ، خورد برد اور گھپلوں کے 140 واقعات کاپتہ چلایا گیا جن میں مجموعی طورپر19 کروڑ40 لاکھ روپے خورد برد کیے گئے ،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس صورت حال کی اطلاع جب پرنسپل اکاؤنٹس افسر اور پاکستان پوسٹ آفس کی انتظامیہ کو دی گئی تو انھوں نے جواب دیا کہ خورد برد کی گئی رقم واپس وصول کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں 4 کروڑ16 لاکھ روپے واپس وصول کیے جاچکے ہیں جبکہ بقیہ رقم کی وصولی کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاہے کہ آڈٹ کے دوران 5 مختلف مقامات پر محکمہ کے بعض افسران کے مبینہ تعاون یا چشم پوشی کے سبب محکمہ کی کم وبیش ایک ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ کررکھا ہے ۔یہ بھی پتہ چلاکہ محکمہ کی املاک پر ناجائز قبضے کی وجہ سے محکمے کو کم وبیش9 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔محکمہ کی جن املاک پر قبضے کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں ملتان روڈ لاہورپرپی اینڈ ٹی کالونی کابنگلہ نمبر D-3یہ بنگلہ پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کو الاٹ کیاگیا لیکن اس افسر نے بعد میں بنگلہ خالی کردیاتھا اور بعض لوگوں نے اس پر قبضہ کرلیا،جس سے محکمے کو 9 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا۔جبکہ پاکستان پوسٹ ماسٹر جنرل میٹروپولیٹن سرکل کراچی کی گزری روڈ پر ایک کالونی تھی جس میں 192 کوارٹر تھے لیکن ناجائز قبضوں ،زمینوں کی ناجائز خرید وفروخت اور تجاوزات کی وجہ سے یہ پوری کالونی محکمہ کے ہاتھ سے نکل گئی ۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق گزری روڈ کراچی پر واقع پی اینڈ ٹی کالونی میں موجود116 کوارٹرز 4 مرلہ یعنی کم وبیش 100 مربع گز زمین فی کوارٹر کے حساب سے تعمیر کیے گئے ہیں جن کی کم از کم قیمت 16 کروڑ روپے ہے۔پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ نے ان کوارٹرز اور زمین پر ناجائز قبضے کے حوالے سے اطلاع پر جواب دیاکہ یہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالتی فیصلے کے بعد ہی اس حوالے سے کچھ کیاجاسکے گا۔آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے اور بروقت کارروائی نہ کرنے والے متعلقہ افسران کاتعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
آڈٹ کے دوران قواعد وضوابط پر عملدرآمد نہ کرنے کے 15 اور معاملات کا پتہ چلایاگیا جس سے محکمہ پوسٹ آفس کو 3 ارب 40 کروڑ روپے کانقصان پہنچا، جبکہ محکمہ جاتی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے محکمے کو ہونے والے 55 کروڑ ایک لاکھ 97 ہزار کے 3 معاملات کاپتہ چلایاگیا۔ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران نے 2015-16 کے بجٹ میں سے 2.2 بلین روپے یعنی2 ارب 20 کروڑ روپے اضافی خرچ کرلیے جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔جب محکمہ پوسٹ آفسز اورپرنسپل اکاؤنٹ افسر کی توجہ ان بے قاعدگیوں کی جانب مبذول کرائی گئی تو انھوں نے کہا کہ یہ اخراجات ناگزیر نوعیت کے تھے اور ان کو ملتوی نہیں کیاجاسکتاتھا۔تاہم آڈیٹر جنرل نے اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیاہے کیونکہ سپلیمنٹری گرانٹ کی درخواست بہت تاخیر سے یعنی دسمبر 2015 کے بجائے اپریل 2016 میں کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ محکمہ کی جانب سے غیر قانونی طورپر اعزازیہ اورتجدید کے کمیشن کی ادائی کیے جانے کابھی انکشاف ہواہے۔ یہی نہیں بلکہ اندرون ملک کے لیے ٹکٹوں اورانویلپس یعنی لفافوں کی غیر قانوی طباعت کرائی گئی جس سے محکمے کو 12 کروڑ10 لاکھ روپے کانقصان پہنچا۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں محکمہ ڈاک خانے میں ہونے والی بے قاعدگیوں ،بد انتظامیوں ، اور خورد برد کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کاتعین بھی کردیاہے اب یہ کام اعلیٰ حکام کاہے کہ وہ متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ محکمہ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرائیں بلکہ محکمہ کو اس طرح کے راشی، نااہل اور غیر ذمہ دار افسران سے پاک کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس دن بدن دم توڑتے محکمے کو آئندہ اس طرح کے نقصانات سے بچایاجاسکے۔جب تک راشی اور بدعنوان افسران کی سختی سے سرکوبی نہیں کی جائے گی اس وقت تک سرکاری محکموں میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا اور محض سخت اقدام کی وارننگ کے ذریعے اس طرح کے نقصانات سے بچنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔
توقع کی جاتی ہے کہ ارباب حکومت آڈیٹر جنرل کی رپورٹوں کو محض ایک خانہ پری تصور کرتے ہوئے طاق کی زینت بنانے کے بجائے اس کے مندرجات پر توجہ دینے کارویہ اختیار کریں گے اور ان رپورٹوں میں جن خامیوں ،بد عملیوں اور بد انتظامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے انھیں دور کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے تمام محکموں کو بدعنوانیوں اور بد انتظامیوں سے پاک کیا جاسکتاہے۔یہ صحیح ہے کہ ان رپورٹوں پر عمل کے دوران ارباب حکومت کو اپنے کچھ من پسند لوگوں کو بھی اعلیٰ عہدوں سے فارغ کرنا پڑسکتاہے لیکن ملک کے وسیع تر مفاد کے تحت چند ایسے من پسند افراد کی قربانی کوئی بہت مہنگا اور برا سودا نہیں ہے ۔
٭٭
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...