وجود

... loading ...

وجود

پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ , 6.5 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ،ایک ارب چالیس کروڑ کی زمینوں پر قبضے

منگل 05 ستمبر 2017 پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ , 6.5 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ،ایک ارب چالیس کروڑ کی زمینوں پر قبضے

آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں 6.5ارب روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری فنڈز کے خرچ میں بے قاعدگیوں ،فراڈ ،خورد برد اوربے اعتدالیوں کے ذریعہ کم وبیش 19کروڑ55 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ رقم ذمہ دار افراد سے وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے صرف 23 فارمیشنز کے آڈٹ کے دوران پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی ) کے پریمیم ، جعلی ڈاک ٹکٹوں ، ملٹری پنشنز کی ادائیگی، پوسٹل پنشن کی ادائیگی اور یوٹلیٹی بلز کی وصولی کی مد میں فراڈ، خورد برد اور گھپلوں کے 140 واقعات کاپتہ چلایا گیا جن میں مجموعی طورپر19 کروڑ40 لاکھ روپے خورد برد کیے گئے ،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس صورت حال کی اطلاع جب پرنسپل اکاؤنٹس افسر اور پاکستان پوسٹ آفس کی انتظامیہ کو دی گئی تو انھوں نے جواب دیا کہ خورد برد کی گئی رقم واپس وصول کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں 4 کروڑ16 لاکھ روپے واپس وصول کیے جاچکے ہیں جبکہ بقیہ رقم کی وصولی کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاہے کہ آڈٹ کے دوران 5 مختلف مقامات پر محکمہ کے بعض افسران کے مبینہ تعاون یا چشم پوشی کے سبب محکمہ کی کم وبیش ایک ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ کررکھا ہے ۔یہ بھی پتہ چلاکہ محکمہ کی املاک پر ناجائز قبضے کی وجہ سے محکمے کو کم وبیش9 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔محکمہ کی جن املاک پر قبضے کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں ملتان روڈ لاہورپرپی اینڈ ٹی کالونی کابنگلہ نمبر D-3یہ بنگلہ پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کو الاٹ کیاگیا لیکن اس افسر نے بعد میں بنگلہ خالی کردیاتھا اور بعض لوگوں نے اس پر قبضہ کرلیا،جس سے محکمے کو 9 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا۔جبکہ پاکستان پوسٹ ماسٹر جنرل میٹروپولیٹن سرکل کراچی کی گزری روڈ پر ایک کالونی تھی جس میں 192 کوارٹر تھے لیکن ناجائز قبضوں ،زمینوں کی ناجائز خرید وفروخت اور تجاوزات کی وجہ سے یہ پوری کالونی محکمہ کے ہاتھ سے نکل گئی ۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق گزری روڈ کراچی پر واقع پی اینڈ ٹی کالونی میں موجود116 کوارٹرز 4 مرلہ یعنی کم وبیش 100 مربع گز زمین فی کوارٹر کے حساب سے تعمیر کیے گئے ہیں جن کی کم از کم قیمت 16 کروڑ روپے ہے۔پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ نے ان کوارٹرز اور زمین پر ناجائز قبضے کے حوالے سے اطلاع پر جواب دیاکہ یہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالتی فیصلے کے بعد ہی اس حوالے سے کچھ کیاجاسکے گا۔آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے اور بروقت کارروائی نہ کرنے والے متعلقہ افسران کاتعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
آڈٹ کے دوران قواعد وضوابط پر عملدرآمد نہ کرنے کے 15 اور معاملات کا پتہ چلایاگیا جس سے محکمہ پوسٹ آفس کو 3 ارب 40 کروڑ روپے کانقصان پہنچا، جبکہ محکمہ جاتی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے محکمے کو ہونے والے 55 کروڑ ایک لاکھ 97 ہزار کے 3 معاملات کاپتہ چلایاگیا۔ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران نے 2015-16 کے بجٹ میں سے 2.2 بلین روپے یعنی2 ارب 20 کروڑ روپے اضافی خرچ کرلیے جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔جب محکمہ پوسٹ آفسز اورپرنسپل اکاؤنٹ افسر کی توجہ ان بے قاعدگیوں کی جانب مبذول کرائی گئی تو انھوں نے کہا کہ یہ اخراجات ناگزیر نوعیت کے تھے اور ان کو ملتوی نہیں کیاجاسکتاتھا۔تاہم آڈیٹر جنرل نے اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیاہے کیونکہ سپلیمنٹری گرانٹ کی درخواست بہت تاخیر سے یعنی دسمبر 2015 کے بجائے اپریل 2016 میں کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ محکمہ کی جانب سے غیر قانونی طورپر اعزازیہ اورتجدید کے کمیشن کی ادائی کیے جانے کابھی انکشاف ہواہے۔ یہی نہیں بلکہ اندرون ملک کے لیے ٹکٹوں اورانویلپس یعنی لفافوں کی غیر قانوی طباعت کرائی گئی جس سے محکمے کو 12 کروڑ10 لاکھ روپے کانقصان پہنچا۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں محکمہ ڈاک خانے میں ہونے والی بے قاعدگیوں ،بد انتظامیوں ، اور خورد برد کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کاتعین بھی کردیاہے اب یہ کام اعلیٰ حکام کاہے کہ وہ متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ محکمہ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرائیں بلکہ محکمہ کو اس طرح کے راشی، نااہل اور غیر ذمہ دار افسران سے پاک کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس دن بدن دم توڑتے محکمے کو آئندہ اس طرح کے نقصانات سے بچایاجاسکے۔جب تک راشی اور بدعنوان افسران کی سختی سے سرکوبی نہیں کی جائے گی اس وقت تک سرکاری محکموں میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا اور محض سخت اقدام کی وارننگ کے ذریعے اس طرح کے نقصانات سے بچنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔
توقع کی جاتی ہے کہ ارباب حکومت آڈیٹر جنرل کی رپورٹوں کو محض ایک خانہ پری تصور کرتے ہوئے طاق کی زینت بنانے کے بجائے اس کے مندرجات پر توجہ دینے کارویہ اختیار کریں گے اور ان رپورٹوں میں جن خامیوں ،بد عملیوں اور بد انتظامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے انھیں دور کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے تمام محکموں کو بدعنوانیوں اور بد انتظامیوں سے پاک کیا جاسکتاہے۔یہ صحیح ہے کہ ان رپورٹوں پر عمل کے دوران ارباب حکومت کو اپنے کچھ من پسند لوگوں کو بھی اعلیٰ عہدوں سے فارغ کرنا پڑسکتاہے لیکن ملک کے وسیع تر مفاد کے تحت چند ایسے من پسند افراد کی قربانی کوئی بہت مہنگا اور برا سودا نہیں ہے ۔
٭٭


متعلقہ خبریں


قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

مضامین
دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان وجود اتوار 26 اپریل 2026
لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان

پاکستان اور خوراک کاضیاع وجود اتوار 26 اپریل 2026
پاکستان اور خوراک کاضیاع

مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں وجود اتوار 26 اپریل 2026
مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں

پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر