وجود

... loading ...

وجود

پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ , 6.5 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ،ایک ارب چالیس کروڑ کی زمینوں پر قبضے

منگل 05 ستمبر 2017 پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ , 6.5 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ،ایک ارب چالیس کروڑ کی زمینوں پر قبضے

آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں 6.5ارب روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری فنڈز کے خرچ میں بے قاعدگیوں ،فراڈ ،خورد برد اوربے اعتدالیوں کے ذریعہ کم وبیش 19کروڑ55 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ رقم ذمہ دار افراد سے وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے صرف 23 فارمیشنز کے آڈٹ کے دوران پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی ) کے پریمیم ، جعلی ڈاک ٹکٹوں ، ملٹری پنشنز کی ادائیگی، پوسٹل پنشن کی ادائیگی اور یوٹلیٹی بلز کی وصولی کی مد میں فراڈ، خورد برد اور گھپلوں کے 140 واقعات کاپتہ چلایا گیا جن میں مجموعی طورپر19 کروڑ40 لاکھ روپے خورد برد کیے گئے ،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس صورت حال کی اطلاع جب پرنسپل اکاؤنٹس افسر اور پاکستان پوسٹ آفس کی انتظامیہ کو دی گئی تو انھوں نے جواب دیا کہ خورد برد کی گئی رقم واپس وصول کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں 4 کروڑ16 لاکھ روپے واپس وصول کیے جاچکے ہیں جبکہ بقیہ رقم کی وصولی کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاہے کہ آڈٹ کے دوران 5 مختلف مقامات پر محکمہ کے بعض افسران کے مبینہ تعاون یا چشم پوشی کے سبب محکمہ کی کم وبیش ایک ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ کررکھا ہے ۔یہ بھی پتہ چلاکہ محکمہ کی املاک پر ناجائز قبضے کی وجہ سے محکمے کو کم وبیش9 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔محکمہ کی جن املاک پر قبضے کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں ملتان روڈ لاہورپرپی اینڈ ٹی کالونی کابنگلہ نمبر D-3یہ بنگلہ پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کو الاٹ کیاگیا لیکن اس افسر نے بعد میں بنگلہ خالی کردیاتھا اور بعض لوگوں نے اس پر قبضہ کرلیا،جس سے محکمے کو 9 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا۔جبکہ پاکستان پوسٹ ماسٹر جنرل میٹروپولیٹن سرکل کراچی کی گزری روڈ پر ایک کالونی تھی جس میں 192 کوارٹر تھے لیکن ناجائز قبضوں ،زمینوں کی ناجائز خرید وفروخت اور تجاوزات کی وجہ سے یہ پوری کالونی محکمہ کے ہاتھ سے نکل گئی ۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق گزری روڈ کراچی پر واقع پی اینڈ ٹی کالونی میں موجود116 کوارٹرز 4 مرلہ یعنی کم وبیش 100 مربع گز زمین فی کوارٹر کے حساب سے تعمیر کیے گئے ہیں جن کی کم از کم قیمت 16 کروڑ روپے ہے۔پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ نے ان کوارٹرز اور زمین پر ناجائز قبضے کے حوالے سے اطلاع پر جواب دیاکہ یہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالتی فیصلے کے بعد ہی اس حوالے سے کچھ کیاجاسکے گا۔آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے اور بروقت کارروائی نہ کرنے والے متعلقہ افسران کاتعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
آڈٹ کے دوران قواعد وضوابط پر عملدرآمد نہ کرنے کے 15 اور معاملات کا پتہ چلایاگیا جس سے محکمہ پوسٹ آفس کو 3 ارب 40 کروڑ روپے کانقصان پہنچا، جبکہ محکمہ جاتی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے محکمے کو ہونے والے 55 کروڑ ایک لاکھ 97 ہزار کے 3 معاملات کاپتہ چلایاگیا۔ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران نے 2015-16 کے بجٹ میں سے 2.2 بلین روپے یعنی2 ارب 20 کروڑ روپے اضافی خرچ کرلیے جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔جب محکمہ پوسٹ آفسز اورپرنسپل اکاؤنٹ افسر کی توجہ ان بے قاعدگیوں کی جانب مبذول کرائی گئی تو انھوں نے کہا کہ یہ اخراجات ناگزیر نوعیت کے تھے اور ان کو ملتوی نہیں کیاجاسکتاتھا۔تاہم آڈیٹر جنرل نے اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیاہے کیونکہ سپلیمنٹری گرانٹ کی درخواست بہت تاخیر سے یعنی دسمبر 2015 کے بجائے اپریل 2016 میں کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ محکمہ کی جانب سے غیر قانونی طورپر اعزازیہ اورتجدید کے کمیشن کی ادائی کیے جانے کابھی انکشاف ہواہے۔ یہی نہیں بلکہ اندرون ملک کے لیے ٹکٹوں اورانویلپس یعنی لفافوں کی غیر قانوی طباعت کرائی گئی جس سے محکمے کو 12 کروڑ10 لاکھ روپے کانقصان پہنچا۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں محکمہ ڈاک خانے میں ہونے والی بے قاعدگیوں ،بد انتظامیوں ، اور خورد برد کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کاتعین بھی کردیاہے اب یہ کام اعلیٰ حکام کاہے کہ وہ متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ محکمہ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرائیں بلکہ محکمہ کو اس طرح کے راشی، نااہل اور غیر ذمہ دار افسران سے پاک کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس دن بدن دم توڑتے محکمے کو آئندہ اس طرح کے نقصانات سے بچایاجاسکے۔جب تک راشی اور بدعنوان افسران کی سختی سے سرکوبی نہیں کی جائے گی اس وقت تک سرکاری محکموں میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا اور محض سخت اقدام کی وارننگ کے ذریعے اس طرح کے نقصانات سے بچنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔
توقع کی جاتی ہے کہ ارباب حکومت آڈیٹر جنرل کی رپورٹوں کو محض ایک خانہ پری تصور کرتے ہوئے طاق کی زینت بنانے کے بجائے اس کے مندرجات پر توجہ دینے کارویہ اختیار کریں گے اور ان رپورٹوں میں جن خامیوں ،بد عملیوں اور بد انتظامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے انھیں دور کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے تمام محکموں کو بدعنوانیوں اور بد انتظامیوں سے پاک کیا جاسکتاہے۔یہ صحیح ہے کہ ان رپورٹوں پر عمل کے دوران ارباب حکومت کو اپنے کچھ من پسند لوگوں کو بھی اعلیٰ عہدوں سے فارغ کرنا پڑسکتاہے لیکن ملک کے وسیع تر مفاد کے تحت چند ایسے من پسند افراد کی قربانی کوئی بہت مہنگا اور برا سودا نہیں ہے ۔
٭٭


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر