وجود

... loading ...

وجود

عید الاضحی…یوم تجدید عہد ِوفا

هفته 02 ستمبر 2017 عید الاضحی…یوم تجدید عہد ِوفا

حضرت ابراہیم ؑنے اللہ کے حکم سے بیوی اوربچے کے ہمراہ حجرت کی اورریگستانی بے آب وگیاہ چٹیل میدان میں ٹھہرگئے ۔امتحان اسی پرختم نہیں ہوا‘حکم اللہ سے حضرت ابرہیم خلیل اللہ کواسی ریگستان میںبیوی بچے کوچھوڑکرملک شام واپس جانا پڑا۔پانی کی تلاش میں حضرت حاجرہؑ کاصفامروہ کی پہاڑیوں میں دوڑنا اللہ کواس قدرپسندآیااسے احکام حج میں لازمی قراردیدیا۔حضرت اسماعیل ؑ کے ایڑیاں رگڑنے سے جاری ہونے والاچشمہ تاقیامت بنی نوح انسان کے لیے نعمت اورشفاکاذریعہ بن گیا۔
ماہِ ذی الحجہ کے شروع ہوتے ہی عید الاضحی کے حوالے سے کئی یادیں ، کئی باتیں ، کئی جذبے اور کئی ولولے فرزندانِ اسلام کے ایمانی نخلستان میں پھلنے پھولنے اور انگڑائیاں لینے لگتے ہیں ، اور لوگ آج سے ہزاروں سال قبل حضرت ابراہیم ، حضرت اسمٰعیل ؑاور حضرت ہاجرہ علیہم السلام کی یاد میں اُن کی قدیم ترین (حج بیت اللہ ، شیطان کو کنکریاں مارنے، اور قربانی جیسی) بے مثال و باکمال اداؤں اور روایات کو دہرانے اور انہیں پورا کرنے کے لئے دُنیائے اسلام کے چپہ چپہ پر دیوانہ وار ہر چہار سو شاداں و فرحاں اور کوشاں نظر آتے ہیں ، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بحکم خداوندی اپنی قوم و وطن کو خیر باد کہہ کر اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر ہجرت کرکے عراق سے ملک شام چلے آئے تھے ؎
آں کس کہ ترا شناخت جاں را چہ کند؟
’’فرزند و عیال ‘‘ و’’خانماں‘‘ را چہ کند؟
ترجمہ:جس شخص نے تجھے پہچان لیا وہ جان کو کیا کرے؟ اہل و عیال کو کیا کرے ، ساز و سامان کو کیا کرے؟مطلب یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت نصیب ہوجاتی ہے پھر وہ اپنی جان و مال، اہل و عیال اور ساز و سامان کو اللہ کے راستہ میں قربان کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم و وطن کو چھوڑ کر ابھی ملک شام میں قیام کیا ہی تھا کہ حکم ہوا کہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور اپنے شیر خوار بچے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ساتھ لے کر اب یہاں سے بھی کوچ کرو! (ابن کثیر)جبرئیل امین آئے اور تینوں کو ساتھ لے کر چلے ، راستہ میں جہاں کہیں کوئی سر سبز جگہ آتی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے کہ یہاں ٹھہرادیا جائے ، حضرت جبرئیل علیہ السلام فرماتے کہ یہاں ٹھہرانے کا حکم نہیں، منزل آگے ہے ، چنانچہ جب وہ خشک پہاڑ اور ریگستان آیا جہاں آگے کسی وقت بیت اللہ کی تعمیر شہر مکہ کی بستی بسانا مقدر تھا ، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اب یہاں ٹھہر جاؤ! چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے پروردگار کی محبت میں مسرور و مگن اس ریگستانی بے آب و گیاہ چٹیل میدان میںاپنی بیوی اور بچے کو لے کر وہاں ٹھہر گئے ، لیکن یہ امتحان اسی پر ختم نہیں ہوا بلکہ اگلا حکم یہ ملا کہ اب بیوی بچے کو یہیں چھوڑ کر خود ملک شام واپس تشریف لے جائیں ! حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا حکم پاتے ہی اُس کی تعمیل میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور واپس ملک شام روانہ ہوگئے اور اس دوران اتنی تاخیر بھی گوارہ نہیں کی کہ بیوی کو یہ اطلاع ہی دے دیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے واپس ملک شام جانے کا حکم دے دیا ہے ، حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے دو تین آوازیں دیں اور عرض کیا کہ ہمیں اس لق دق بیابان صحراء جنگل میں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دینا تو درکنار پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا ، حضرت ہاجرہ علیہا السلام بھی آخر نبی کی بیوی اور نبی کی ماں تھیں اس لئے فوراًسمجھ گئیں کہ لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ، اس لئے عرض کرنے لگیں کہ : ’’کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟‘‘ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :’’جی ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے۔‘‘ حضرت ہاجرہ علیہا السلام فرمانے لگیں: ’’پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں فرمائے گا۔‘‘
اب حضرت ہاجرہ علیہا السلام اپنے شیر خوار بچہ کے ساتھ اس لق دق بیابان جنگل میں اپنا وقت گزارنے لگیں ، جب پیاس کی شدت نے آپ کو پانی تلاش کرنے پر مجبور کیا، تو بچہ کو کھلے میدان میں چھوڑ کر آپ صفا مروہ کی پہاڑیوں پر بار بار اترتی چڑھتی رہیں ، تاکہ پانی کے آثار کہیں نظر آجائیں ، یا کوئی ایسا انسان میسر آجائے جس سے پانی کی معلوم حاصل کرلی جائیں، سات مرتبہ کی اس دوڑ دھوپ کے بعد جب کہیں سے پانی کا کوئی سراغ نہ ملا تو مایوس ہوکر واپس اپنے بچے کے پاس تشریف لے آئیں ، تو کیا دیکھتی ہیں جس جگہ بچہ پیاس کی شدت سے نڈھال ہوکر اپنے ننھی ننھی ایڑیاں رگڑ رہا ہے وہاں سے اللہ تعالیٰ نے پانی کا ایک چشمہ جاری کردیا ہے جسے ’’آب زم زم‘‘ کہا جاتا ہے ۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا پانی کی تلاش میں صفا مروہ کی پہاڑیوں پر سار مرتبہ دوڑنا اس قدر پسند آیا کہ اُسے اللہ تعالیٰ نے تا قیامت حجاج کرام کے لئے ’’احکام حج‘‘ میں ضروری قرار دیا ہے ۔
آب زم زم کو دیکھ کر اوّل جانور آتے ہیں ، پھر جانوروں کو دیکھ کر انسان آتے ہیں اور اس طرح رفتہ رفتہ مکہ مکرمہ کی آبادی کا سامان ہوجاتا ہے اور ضروریات زندگی کی کچھ آسانیاں مہیا ہوجاتی ہیں ۔ زندگی نے وفا کی اور توفیق ایزدی نے ساتھ دیا تو ان شاء اللہ! عید الاضحی کے بعد ’’برکات زمزم‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون لکھ کر قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
بہر حال اس دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام گاہے بگاہے ملک شام سے مکہ مکرمہ آتے جاتے رہتے اور اپنی بیوی بچے کی خیر خیریت معلوم کرتے رہتے ، نومود بچہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے جب اس بے کسی اور بے سرو سامانی اور بہ ظاہر شفقت پدری سے کلیتاً محرومی کے عالم نشو و ونما پالی اور کام کاج کے قابل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میںیہ حکم ملا کہ اب وہ اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو میرے راستہ میں ذبح کردیں ، چوں کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب ہمارے خوابوں کی طرح محض خواب خیال نہیں ہوتے بلکہ اُن کے خواب بھی حقیقت میں وحی ہی ہوتے ہیں اس لئے جب صبح ہوئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اپنا خواب سنایا اور اُنہیں پرکھنے کے لئے اُن سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں اپنے راستہ میں ذبح کردینے کا حکم فرمایا ہے تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ ہونہار بیٹے نے جواب دیا کہ اے میرے ابا! آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے آپ اُسے پورا کیجئے! ؎
یہ ’’ فیضانِ نظر‘‘ تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی؟
چنانچہ صبح کے دھندلکے ہی میں نوجوان بیٹا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اپنے بوڑھے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہمراہ تعمیل ارشاد میںبغیر کسی حیل و حجت اور چوں و چراں کے بیٹا اپنی اُٹھتی جوانی اور انگڑائی لیتی اُمنگوں کی دُنیا اور باپ اپنی سوسالہ دعاؤں اور آرزوؤں کانخل تمنا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قربان کرنے کے لئے شاداں شاداں و فرحاں فرحاں روانہ ہوگئے۔ ؎
غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اِس کی حسین ، ابتداء ہے اسمٰعیل
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل یوں بیان فرمائی ہے: ’’ترجمہ: پھر جب وہ لڑکا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا ، تو انہوں نے کہا: ’’میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں ، اب سوچ کر بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ بیٹے نے کہا: ’’ابا جان! آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے ، انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔‘‘ چنانچہ ( وہ عظیم منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکا دیا ، اور پاب نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا ، اور ہم نے اُنہیں آواز دی کہ : اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ، یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں ۔‘‘ یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اُس بچے کو بچا لیا ، اور جو لوگ اُن کے بعد آئے، اُن میں یہ روایت قائم کی(کہ وہ یہ کہا کریں کہ:) سلام ہو ابراہیم پر، ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں ، یقینا وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھے۔‘‘ (ترجمہ مفتی تقی عثمانی) (سورۃ الصّٰفّٰت: ۱۰۲…۱۱۱)
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ شیطان نے تین مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس موقع پر بہکانے کی کوشش کی ، لیکن آپ نے ہر بار سات کنکریاں مار کر اسے بھگادیا ۔ (تفسیر کبیر)
اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ وفاء اور اداء اس قدر پسند آئی کہ اسے تاقیامت یاد گار کے طور وادیٔ منیٰ میں ہر حاجی کے لئے احکام حج میں ضروری اور لازمی قرا دیا۔
اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا ذبح کراناہرگز مقصود نہ تھا بلکہ اُن کو تو اِن کے ایمان کا امتحان لینا مقصود تھا اور بس! اس لئے فوراً جنت سے ایک مینڈھا اُتار دیا اور فرمایا کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کی قربانی کرو اور اسے ذبح کرو! ؎
صدقِ خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
’’معرکۂ وجود‘‘ میں ’’ بدر و حنین‘‘ بھی ہے عشق

عید الاضحی میں قربانی کی یہ سنت ٗ سنت ابراہیمی اُس وقت سے لے کر آج تک حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کی یاد میں چلی آرہی ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ’’یا رسول اللہؐ! یہ قربانی کیا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تمہارے ابا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ‘‘ … اور فرمایا: ’’استطاعت کے باوجود جو شخص قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کا رُخ بھی نہ کرے ! ان تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی دوسرا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ نہیں ہے۔‘‘


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی وجود - بدھ 18 فروری 2026

سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت وجود - بدھ 18 فروری 2026

فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان وجود - منگل 17 فروری 2026

وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل وجود - منگل 17 فروری 2026

چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل

مضامین
بھارتی مسلمانوں پر تشدد وجود جمعرات 19 فروری 2026
بھارتی مسلمانوں پر تشدد

سب سے بڑی بغاوت شعور ہے! وجود جمعرات 19 فروری 2026
سب سے بڑی بغاوت شعور ہے!

اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی وجود جمعرات 19 فروری 2026
اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی

خسارے کے شکارسرکاری اِدارے وجود بدھ 18 فروری 2026
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان وجود بدھ 18 فروری 2026
روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر