... loading ...
حضرت ابراہیم ؑنے اللہ کے حکم سے بیوی اوربچے کے ہمراہ حجرت کی اورریگستانی بے آب وگیاہ چٹیل میدان میں ٹھہرگئے ۔امتحان اسی پرختم نہیں ہوا‘حکم اللہ سے حضرت ابرہیم خلیل اللہ کواسی ریگستان میںبیوی بچے کوچھوڑکرملک شام واپس جانا پڑا۔پانی کی تلاش میں حضرت حاجرہؑ کاصفامروہ کی پہاڑیوں میں دوڑنا اللہ کواس قدرپسندآیااسے احکام حج میں لازمی قراردیدیا۔حضرت اسماعیل ؑ کے ایڑیاں رگڑنے سے جاری ہونے والاچشمہ تاقیامت بنی نوح انسان کے لیے نعمت اورشفاکاذریعہ بن گیا۔
ماہِ ذی الحجہ کے شروع ہوتے ہی عید الاضحی کے حوالے سے کئی یادیں ، کئی باتیں ، کئی جذبے اور کئی ولولے فرزندانِ اسلام کے ایمانی نخلستان میں پھلنے پھولنے اور انگڑائیاں لینے لگتے ہیں ، اور لوگ آج سے ہزاروں سال قبل حضرت ابراہیم ، حضرت اسمٰعیل ؑاور حضرت ہاجرہ علیہم السلام کی یاد میں اُن کی قدیم ترین (حج بیت اللہ ، شیطان کو کنکریاں مارنے، اور قربانی جیسی) بے مثال و باکمال اداؤں اور روایات کو دہرانے اور انہیں پورا کرنے کے لئے دُنیائے اسلام کے چپہ چپہ پر دیوانہ وار ہر چہار سو شاداں و فرحاں اور کوشاں نظر آتے ہیں ، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بحکم خداوندی اپنی قوم و وطن کو خیر باد کہہ کر اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر ہجرت کرکے عراق سے ملک شام چلے آئے تھے ؎
آں کس کہ ترا شناخت جاں را چہ کند؟
’’فرزند و عیال ‘‘ و’’خانماں‘‘ را چہ کند؟
ترجمہ:جس شخص نے تجھے پہچان لیا وہ جان کو کیا کرے؟ اہل و عیال کو کیا کرے ، ساز و سامان کو کیا کرے؟مطلب یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت نصیب ہوجاتی ہے پھر وہ اپنی جان و مال، اہل و عیال اور ساز و سامان کو اللہ کے راستہ میں قربان کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم و وطن کو چھوڑ کر ابھی ملک شام میں قیام کیا ہی تھا کہ حکم ہوا کہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور اپنے شیر خوار بچے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ساتھ لے کر اب یہاں سے بھی کوچ کرو! (ابن کثیر)جبرئیل امین آئے اور تینوں کو ساتھ لے کر چلے ، راستہ میں جہاں کہیں کوئی سر سبز جگہ آتی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے کہ یہاں ٹھہرادیا جائے ، حضرت جبرئیل علیہ السلام فرماتے کہ یہاں ٹھہرانے کا حکم نہیں، منزل آگے ہے ، چنانچہ جب وہ خشک پہاڑ اور ریگستان آیا جہاں آگے کسی وقت بیت اللہ کی تعمیر شہر مکہ کی بستی بسانا مقدر تھا ، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اب یہاں ٹھہر جاؤ! چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے پروردگار کی محبت میں مسرور و مگن اس ریگستانی بے آب و گیاہ چٹیل میدان میںاپنی بیوی اور بچے کو لے کر وہاں ٹھہر گئے ، لیکن یہ امتحان اسی پر ختم نہیں ہوا بلکہ اگلا حکم یہ ملا کہ اب بیوی بچے کو یہیں چھوڑ کر خود ملک شام واپس تشریف لے جائیں ! حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا حکم پاتے ہی اُس کی تعمیل میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور واپس ملک شام روانہ ہوگئے اور اس دوران اتنی تاخیر بھی گوارہ نہیں کی کہ بیوی کو یہ اطلاع ہی دے دیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے واپس ملک شام جانے کا حکم دے دیا ہے ، حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے دو تین آوازیں دیں اور عرض کیا کہ ہمیں اس لق دق بیابان صحراء جنگل میں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دینا تو درکنار پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا ، حضرت ہاجرہ علیہا السلام بھی آخر نبی کی بیوی اور نبی کی ماں تھیں اس لئے فوراًسمجھ گئیں کہ لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ، اس لئے عرض کرنے لگیں کہ : ’’کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟‘‘ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :’’جی ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے۔‘‘ حضرت ہاجرہ علیہا السلام فرمانے لگیں: ’’پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں فرمائے گا۔‘‘
اب حضرت ہاجرہ علیہا السلام اپنے شیر خوار بچہ کے ساتھ اس لق دق بیابان جنگل میں اپنا وقت گزارنے لگیں ، جب پیاس کی شدت نے آپ کو پانی تلاش کرنے پر مجبور کیا، تو بچہ کو کھلے میدان میں چھوڑ کر آپ صفا مروہ کی پہاڑیوں پر بار بار اترتی چڑھتی رہیں ، تاکہ پانی کے آثار کہیں نظر آجائیں ، یا کوئی ایسا انسان میسر آجائے جس سے پانی کی معلوم حاصل کرلی جائیں، سات مرتبہ کی اس دوڑ دھوپ کے بعد جب کہیں سے پانی کا کوئی سراغ نہ ملا تو مایوس ہوکر واپس اپنے بچے کے پاس تشریف لے آئیں ، تو کیا دیکھتی ہیں جس جگہ بچہ پیاس کی شدت سے نڈھال ہوکر اپنے ننھی ننھی ایڑیاں رگڑ رہا ہے وہاں سے اللہ تعالیٰ نے پانی کا ایک چشمہ جاری کردیا ہے جسے ’’آب زم زم‘‘ کہا جاتا ہے ۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا پانی کی تلاش میں صفا مروہ کی پہاڑیوں پر سار مرتبہ دوڑنا اس قدر پسند آیا کہ اُسے اللہ تعالیٰ نے تا قیامت حجاج کرام کے لئے ’’احکام حج‘‘ میں ضروری قرار دیا ہے ۔
آب زم زم کو دیکھ کر اوّل جانور آتے ہیں ، پھر جانوروں کو دیکھ کر انسان آتے ہیں اور اس طرح رفتہ رفتہ مکہ مکرمہ کی آبادی کا سامان ہوجاتا ہے اور ضروریات زندگی کی کچھ آسانیاں مہیا ہوجاتی ہیں ۔ زندگی نے وفا کی اور توفیق ایزدی نے ساتھ دیا تو ان شاء اللہ! عید الاضحی کے بعد ’’برکات زمزم‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون لکھ کر قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
بہر حال اس دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام گاہے بگاہے ملک شام سے مکہ مکرمہ آتے جاتے رہتے اور اپنی بیوی بچے کی خیر خیریت معلوم کرتے رہتے ، نومود بچہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے جب اس بے کسی اور بے سرو سامانی اور بہ ظاہر شفقت پدری سے کلیتاً محرومی کے عالم نشو و ونما پالی اور کام کاج کے قابل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میںیہ حکم ملا کہ اب وہ اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو میرے راستہ میں ذبح کردیں ، چوں کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب ہمارے خوابوں کی طرح محض خواب خیال نہیں ہوتے بلکہ اُن کے خواب بھی حقیقت میں وحی ہی ہوتے ہیں اس لئے جب صبح ہوئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اپنا خواب سنایا اور اُنہیں پرکھنے کے لئے اُن سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں اپنے راستہ میں ذبح کردینے کا حکم فرمایا ہے تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ ہونہار بیٹے نے جواب دیا کہ اے میرے ابا! آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے آپ اُسے پورا کیجئے! ؎
یہ ’’ فیضانِ نظر‘‘ تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی؟
چنانچہ صبح کے دھندلکے ہی میں نوجوان بیٹا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اپنے بوڑھے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہمراہ تعمیل ارشاد میںبغیر کسی حیل و حجت اور چوں و چراں کے بیٹا اپنی اُٹھتی جوانی اور انگڑائی لیتی اُمنگوں کی دُنیا اور باپ اپنی سوسالہ دعاؤں اور آرزوؤں کانخل تمنا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قربان کرنے کے لئے شاداں شاداں و فرحاں فرحاں روانہ ہوگئے۔ ؎
غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اِس کی حسین ، ابتداء ہے اسمٰعیل
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل یوں بیان فرمائی ہے: ’’ترجمہ: پھر جب وہ لڑکا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا ، تو انہوں نے کہا: ’’میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں ، اب سوچ کر بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ بیٹے نے کہا: ’’ابا جان! آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے ، انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔‘‘ چنانچہ ( وہ عظیم منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکا دیا ، اور پاب نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا ، اور ہم نے اُنہیں آواز دی کہ : اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ، یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں ۔‘‘ یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اُس بچے کو بچا لیا ، اور جو لوگ اُن کے بعد آئے، اُن میں یہ روایت قائم کی(کہ وہ یہ کہا کریں کہ:) سلام ہو ابراہیم پر، ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں ، یقینا وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھے۔‘‘ (ترجمہ مفتی تقی عثمانی) (سورۃ الصّٰفّٰت: ۱۰۲…۱۱۱)
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ شیطان نے تین مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس موقع پر بہکانے کی کوشش کی ، لیکن آپ نے ہر بار سات کنکریاں مار کر اسے بھگادیا ۔ (تفسیر کبیر)
اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ وفاء اور اداء اس قدر پسند آئی کہ اسے تاقیامت یاد گار کے طور وادیٔ منیٰ میں ہر حاجی کے لئے احکام حج میں ضروری اور لازمی قرا دیا۔
اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا ذبح کراناہرگز مقصود نہ تھا بلکہ اُن کو تو اِن کے ایمان کا امتحان لینا مقصود تھا اور بس! اس لئے فوراً جنت سے ایک مینڈھا اُتار دیا اور فرمایا کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کی قربانی کرو اور اسے ذبح کرو! ؎
صدقِ خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
’’معرکۂ وجود‘‘ میں ’’ بدر و حنین‘‘ بھی ہے عشق
عید الاضحی میں قربانی کی یہ سنت ٗ سنت ابراہیمی اُس وقت سے لے کر آج تک حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کی یاد میں چلی آرہی ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ’’یا رسول اللہؐ! یہ قربانی کیا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تمہارے ابا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ‘‘ … اور فرمایا: ’’استطاعت کے باوجود جو شخص قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کا رُخ بھی نہ کرے ! ان تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی دوسرا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ نہیں ہے۔‘‘
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...
پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...
خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...
ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...